English
NovelToon NovelToon

راہِ گمشدہ

راہِ گمشدہ۔۔ از قلم عریشہ شانزے

"یہ۔۔۔ یہ۔۔۔

یہ سب کیا ہوگیا مجھ سے یہ میں نے کیا کردیا مجھے تو ۔۔۔

مجھے تو یہ سب نہیں کرنا تھا ہائے۔۔۔۔۔۔۔

یہ مجھ سے کیا ہوگیا (اس نے روتے ہوا کہا )

یہ میں نے کیا کردیا۔۔۔۔۔

ہہہہ ہہہہہ ہہہہ

آہہہہہہہہہہہ

میری سوچیں مجھے ماردیگی وہ مسلسل مجھے ہی قصور وار ٹھہرا رہی ہے"

وہ اپنے رخسار کو پیٹنا چاہتی تھی پر پھر خود کو روک لیتی پھر غصے سے ہاتھ دیوار پہ دے مارتی وہ یہ سب نہیں کرنا چاہتی تھی پر خود کو اس سب سے روک بھی نہیں پا رہی تھی

وہ رو رہی تھی چیخ چیخ کہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر پارہی تھی

اس کی آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو بہہ رہے تھے

وہ پچھتاوے میں تھی

اس کا ضمیر ان غلطیوں کا بھی زمہ وار اسے ٹھہرا رہا تھا۔۔

جو کہ اس نے کی بھی نہیں تھی

اس وقت وہ اس عذاب سے گذر رہی تھی جس کی اذیت اس کے آس پاس کے لوگ ہر گز سمجھ نہیں سکتے تھے۔۔۔۔

دراصل وہ دنیا کی رنگینیوں میں گم ہو کر اپنے رب کو کھو رہی تھی 'رب کو کھو رہی تھی یعنی اپنا سب کچھ کھو رہی تھی' اور کسی کے لیے بھی جس کے لیے اس کا رب سب کچھ ہو اس کے لیے اس سے بڑا خسارہ کیا ہوگا۔۔۔

*•̩̩͙✩•̩̩͙˚ ˚•̩̩͙✩•̩̩͙˚*

"اڑے۔۔!

یہ کیا میں تو تمہیں اور سمجھی تھی تم تو اور ہی نکلی"

(اس نے حیرت انگیز لہجے میں کہا)

حریم :ہہہہ

(وہ ہلکا سا مسکرائے ہوئے کہنے لگی)

"یاد ہے پارو!

شاید یاد ہو۔۔۔

ایک دن مدرسہ میں ہم مغرب کی نماز پڑھ کر جاء نماز پر بیٹھے تھے تب تم نے مجھے کہا تھا کہ "تم ہم سے زیادہ نیک ہو۔۔ " یاد ہے میں نے جواباً کیا کہا تھا۔۔

"کوئی بھی نیک نہیں ہوتا سب اللہ کا پردہ ہے

اللہ ہمارے گناہوں کو چھپائے رکھتا ہے ہمیں لوگوں کے سامنے شرمندہ نہیں ہونے دیتا "

جانتی ہو کیوں؟؟

کیوں کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے، وہ ہمیں مہلت دیتا رہتا ہے، ڈھیل دیتا جاتا ہے، انتظار کرتا ہے کہ میرا بندہ آج توبہ کریگا، آج میرے پاس آئیگا ابھی آئیگا

پر ہم۔۔۔

ہم اِن سب چیزوں سے غافل لوگ گناہ پہ گناہ کرتے جاتے ہیں ہم کہاں یہ سوچتے ہیں کہ کوئی ہے جو ہم سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے

کوئی ہے جو ہمارا انتظار کرتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے، ہمیں سنتا ہے ہمیں سمجھتا ہے۔۔۔۔

جب دل پھٹنے کو آتا ہے تو پُر سکون کرنے والی ذات بھی اسی کی ہوتی ہے یہاں جو بھی ہوتا سب اللہ کرتا ہے۔

پر ہم۔۔

ہمیں جب کہیں سے حوصلہ ملتا ہے تو کہتے ہیں میں نے فلاں شخص کی باتیں سنی اس سے مجھے حوصلہ آیا حالانکہ ایسا نہیں ہوتا

فلاں شخص کے دل میں باتیں ڈالنے والا بھی میرا رب تھا۔۔۔

ہم میں کوئی طاقت نہیں

ہم کچھ نہیں ہے

سواء خاک کہ

ہم اس دنیا میں ایک مقصد سے بھیجھے گئے ہے جو کہ ہم بھول بیٹھے ہیں

ہمیں نہیں بھولنا چاہیے

ہمیں دین کے معاملے میں لاپرواہی نہیں کرنی چاہیے

اس قدر تو ہرگز نہیں کہ ہم اس رب کو ہی بھول جائیں جو کہ ہمارا اصل ہے

باقی سب تو فانی ہے۔۔۔

ہر چیز فانی ہے کچھ بھی باقی رہنے والا نہیں۔۔۔

ہر چیز کا نعم البدل ہے سوائے اس رب کے جسے ہم گناہوں کی چند لمحوں کی لذت کے عیوض میں بھول جاتے ہیں۔۔

ہم اپنا اصل بھول جاتے ہیں

ہائے افسوس۔۔!

کاش ہم گناہ کرنے سے پہلے یہ یاد کرلے کہ اللہ دیکھ رہا ہے

(اس نے انتہائی ندامت سے یہ جملہ کہا اور سر جھکا دیا۔۔ )

پارو: پر اللہ تو معاف کر دیتا ہے۔۔

حریم: ہاں اللہ معاف کردیتا ہے پر بندے نہیں کرتے۔۔

پارو: تو تم خالق کے بارے میں سوچو مخلوق کا کیوں سوچ رہی ہو۔۔

حریم: ہمممم

(اس نے لمبی سانس لی اور مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلانے لگی۔۔)

پارو: تمہارے لیے یہ کافی ہونا چاہیے کہ وہ رب تمہارے ساتھ ہے معاف کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا، وہ کیسے تمہیں ایسے چھوڑے گا ہرگز نہیں وہ تمہیں ہر گز ٹوٹنے نہیں دیگا

تم اس کے پاس جاؤ وہ تمہیں سمیٹ لیگا )

اس کی یہ باتیں سن کر وہ سکون میں آگئی تھی اس کے ذہن میں جو ہلچل مچی ہوئی تھی وہ اب پرسکون ہو چکی تھی۔

شاید اسے انہیں باتون کی ضرورت تھی۔۔

*•̩̩͙✩•̩̩͙˚ ˚•̩̩͙✩•̩̩͙˚*

میں نے نو عمری سے اسلام پر چلنا چاہا، اور چلنے کی کوشش بھی کی پر معاشرے کو یہ منظور نہیں تھا میں نے سب کچھ نظر انداز کرتے ہوئے ہونٹوں پہ ایک مسکراہٹ رکھتے اپنے رب کی طرف متوجہ ہو گئی، لوگ طعنہ کستے تھے بہت کچھ کہتے تھے "بیٹا جوانی کے دن بار بار نہیں آتے ابھی سے خود کو قید کیوں کیا ہوا ہے تھوڑی ماڈرن بنو کیا چھوٹی سوچ کی مالک بنی بیٹھی ہوں، نظروں میں حیا ہونی چاہیے۔۔" میں خاموشی سے سب سنتی تھی کبھی کبھی کہہ بھی دیتی تھی کہ رب کو منانے کی عمر ہی جوانی ہیں۔ سب صحیح چل رہا تھا میں اپنی سہیلیوں کی بھی اصلاح کرنے کی کوشش کرتی تھی، اور میری کافی سہیلیوں نے پردہ شروع بھی کیا تھا اور کافی سہیلیوں نے یہ کہہ کے مجھے چھوڑ دیا کہ میں پردہ کرتی تھی ان کے حساب سے پرانے خیالات کی مالکن تھی میں اکثر من میں یہ کہہ کر خود کو تسلی دیتی تھی "میں ماڈرن زمانہ کی لڑکی ہوں اس لیے تو پردہ کرتی ہوں زمانہءِ جاہلیت سے ہوتی تو بے پردہ ہوتی۔۔!" یہ لائنس میں نے کہیں پر پڑھی تھی اور تب سے اپنے ذہن پر نقش کرلی آہستہ آہستہ مجھے لوگوں کی باتوں نے متاثر کرنا چھوڑ دیا میں نے خاموشی کو اپنا ہتھیار بنا دیا۔ دوستوں نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا رشتے ناراض ہوگئے سب چھوڑ گئے

تب احساس ہوا کہ کون واقعی میں میرا اپنا ہے

ٹیوشن پر سب مذاق اڑاتے تھے کہتی تھی "اب تو سب نے دیکھ لیا اب کیا فائدہ پردہ کرنے کا" نقاب کھینچتی تھی طعنہ کستی تھی تنگ کرتی تھی پر کچھ لڑکیاں ایسی بھی تھی جو ساتھ دیتی تھی مجھے حوصلہ دیتی تھی۔۔

ایک دن ہم ٹیوشن سے لوٹ رہے تھے تب مجھے اپنی بیسٹ فرینڈ نے کہا "پھر آخر تم پردہ کیوں کر رہی۔!؟" میں حیرت سے اسے تَکنے لگی تھی

میں نے اُس سے اِس سوال کی امید نہیں کی تھی

میں نے جواباً اسے کہا

"جو میرا اپنا ہوگا، یا جس کے لیے میں واقعی اہم ہوں گی وہ مجھے میں جیسی ہوں ویسے قبول کریں گا وہ ہر گز مجھے بدلنے کی کوشش نہیں کرے گا تم کیا چاہتی ہو۔؟!"

میں نے بے ساختہ اس

سے یہ سوال کیا

وہ ہنسنے لگی اور کہا

"میں کیا چاہوں گی تم جیسی بھی ہو بہت اچھی ہو اور میں خود کو بہت خوش نصیب

ہوں کہ تم میری دوست ہو۔۔!"

میں نے کہا "ہممم میں بھی"

تب تک اس کا گھر آگیا

وہ اپنے گھر چلی گئی

میں اپنے

گھر پہنچی تو امی نے کہا تمہاری کزن کا رشتہ پکّا ہوگیا ہے میں نے کہا "ماشاءاللہ یہ تو خوشی کی بات ہے۔"

امی نے کہا ہممم

میں نے ابایا اتارتے ہوئے امی سے کہا

"امی...

میں اس کی شادی پر ابایا پہن کے چل سکتی ہوں۔۔!؟"

امی کہنے لگی "نہیں بیٹا شادی پہ ابایا کون پہنتا ہے"

میں نے کہا

"اچھا تو امی۔۔۔

کیا میں ایسا کر سکتی ہوں کہ ایسے کپڑے پہنوں کہ جس میں ہر شے پوشیدہ ہو کچھ ظاہر نہ ہو"

امی جواباً بولی

"ہاں بیٹا"

میں نے بے ساختہ امی سے کہا "امی اس پر نقاب۔۔۔۔۔۔۔ "

پھر امی نے غصے سے کہا "تم ایسا کرو چلو ہی نہ گھر پر ہی بیٹھی رہنا۔۔۔۔ "

میں چپ ہوگئی

امی نے کہا "دیکھو ابھی بھی وقت ہے شادی میں ابھی ٣ مہینے ہیں سوچ لو "

میں نے کہا "ہممم"

پھر میں نماز پڑھنے چلی گئی

نماز مکمل کر کے اللہ سے دعا کرنے لگی

"اللہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا امی کو سمجھاؤ آپ میں پردے کے بغیر نہیں آسکتی اب سب آپ کے ہاتھ میں ہے آپ کو جو صحیح لگے وہ کریئے گا جو میرے حق میں بہتر ہو وہ کریئے گا"

آہستہ آہستہ وقت گذرنے لگا پھر جب شادی کی شاپنگ کرنے گئے تب امی میرے لیے میرے سوٹ سے میچِنگ نقاب لے کر آئی میری خوشی کا تو کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا میں حیران رہ گئی تھی کہ پہلے جو امی مجھے نقاب پہننے سے منع کررہی تھی وہ کیسے اچانک خود میرے لیے نقاب لے آئی

میں نے بے اختیار امی سے پوچھا "امی پہلے تو آپ منع کر رہی تھی پھر اچانک کیسے۔۔۔"

امی نے سر پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر کہا "پہلے میں نے دنیا کی نظر سے دیکھا تو معاشرے کے چار لوگ کیا کہیں گے یہ خیال آیا

پھر جب میں نے دین کو سامنے رکھ کر سوچا تو خیال آیا کہ آج کل کی نوجوان نسل تو غفلت میں پڑی ہوئی ہے اور والدین تو یہ دعا کرتے ییں کہ ہماری اولاد نیک و صالح ہو اور تم جب بن رہی ہو ہدایت کے رستے پر چل رہی ہو تو میں تمہارا ساتھ دینے کے بجائے تمہیں دنیا کے ڈر سے روک دوں نہ نہ بلکل نہیں"

امی کی یہ باتیں سن کر صرف ایک ہی بات میرے ذہن و دل میں گھوم رہی تھی کہ "یا اللہ یہ سب تیرا کرم ہے بے شک جو اللہ کی طرف رجوع کرتا اللہ اسے اپنی طرف آنے کا رستا دکھاتا ہے۔۔ یا اللہ تیرا شکر ہے" میری آنکھوں میں آنسو آگئے میرے پاس الفاظ نہیں تھے میں نے نماز پڑھی اللہ کا شکر ادا کیا ۔۔

( آج بھی جب بھی یہ قصہ یاد آتا ہے میرے منہ سے بے ساختہ ایک ہی لفظ نکلتا ہے

شکر الحمدللہ۔۔!! )

پھر جب شادی کا وقت قریب آیا تو سبھی رشتے دار ماما کے گھر ملے (جو کبھی نانی کا گھر ہوا کرتا تھا وہاں جہاں میرا بچپن حسین گزرا تھا ) سب ساتھ تھے میرا مدرسہ تھا تو میں مدرسہ گئی ہوئی تھی میری ایک کزن نے امی سے پوچھا "حریم کہاں ہے؟ اور کیا وہ شادی پر بھی نقاب پہنے گی" اس پر امی نے کہا "ہاں وہ نقاب پہنے گی" تو اس پر میری امی کو کہنے لگے

"ہہہہہں اب شادی پر بھی نقاب پہنے گی اس سے اچھا تو شادی پر آئے ہی نہ"

اس پر میری اس کزن نے کہا جس کی شادی تھی "اگر حریم میری شادی پہ نہیں آئی تو میں بھی اس کی شادی پہ نہیں آؤنگی"

امی نے کہا "وہ آئے گی ضرور آئے گی بس نقاب میں"

پھر سب کہنے لگے

"اڑے اڑے۔۔!

کون سے مرد ہونگے جن سے پردہ کرے گی اپنے ہی تو ہونگے"

"اور شادی میں ہی تو دیکھتے ہیں پھر تو رشتہ آتا ہے ایسے تو تمہاری بیٹی کا رشتہ ہی نہیں آئیگا"

"پھر بٹھا کہ رکھنا اسے ساری عمر"

"اور ویسے بھی ابھی تو بچی ہے ابھی سے کیوں پردہ کر رہی ابھی تو بہت ہے زندگی بعد میں کرلے"

"سمجھاؤ اپنی بیٹی کو ابھی چھوٹی ہے وہ ابھی سے اسے ان سب میں قید نہ کرو"

میری کزن(جس کی شادی تھی) : اگر حریم میری شادی میں پردہ کرے گی تو میں بھی اس کی شادی میں پردہ کروں گی میں بھی نقاب لگا کہ بیٹھوں گی"

اس نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔

امی نے کہا

"ہمممم میں کہتی ہوں اسے باقی میں اسے زور نہیں ڈالوں گی وہ اپنے فیصلے خود لے سکتی ہے میں اسے پردہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کرونگی وہ کوئی غلط کام نہیں کر رہی جس سے اسے

روکا جائے وہ ایک نیک کام کر رہی پردہ کررہی ہے۔۔۔"

امی اٹھ کہ چلی گئی

گھر آکر امی نے مجھے سب بتایا

میں نے مسکرا کر کہا

"امی اگر وہ میری شادی پر نقاب پہن کر آئیگی تو یہ تو اچھی بات ہے میری وجہ سے پردہ کرے گی پھر تو مجھے بھی ثواب ملے گا نہیں۔۔۔۔!؟ "

امی ہنسنے لگی اور کہا "ہاں ہاں کیوں نہیں"

میں اس کی شادی میں گئی اور نقاب پہن کے گئی جس پر کافی لوگوں نے اعتراض بھی کیا پر مجھے فرق نہیں پڑا

میں کانفیڈنٹ تھی وہ بھی اپنی ماں کی وجہ سے کیوں کہ وہ میرے ساتھ تھی۔۔

نقاب میں یہ میرا پہلا فنکشن تھا۔۔

سب صحیح تھا میں بہت خوش تھی اور کیوں نہ ہوتی مجھے اللہ جو مل گیا تھا اور جنہیں اللہ کی محبت مل جائیں گویا انہیں سب مل گیا

میری روزمرہ کی زندگی اچھی چل رہی تھی میں اسلام کے بارے میں نئی نئی چیزیں سیکھتی اور ان پر عمل کرتی جاتی۔۔

مدرسہ میں میں حفظ کرتی تھی جو سبق ہوتا تھا اس کا ترجمہ سنتی تھی اور اتنی تفصیل پڑھتی تھی جتنی مجھے آسان لگتی یعنی جتنی میں صحیح سے سمجھ پاتی ترجمہ پورا سنتی تھی تفصیل دو تین آیات کی پڑھتی تھی سمجھ کر

ایک دن میرا سبق سورۃ العنکبوت تھا جس کی دوسری آیت تھی:

"أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ــــ

ترجمہ: کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ اتنی بات پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ (بس) کہہ دیں کہ ہم ایمان لا ئے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟"

اور پھر میرے دماغ یہ بات بیٹھ گئی کہ ایمان تو میں نے بھی لایا کلمہ تو میں نے بھی پڑھا ہے مطلب

مطلب میں بھی آزمائی جاؤں گی اللہ پاک مجھے بھی آزمائے گا

پر کیسے اللہ پاک مجھے کیسے آزمائے گا

دراصل میں ڈرنے لگی تھی اس بات سے کہ جب اللہ مجھے آزمائے گا تو میں اس آزمائش میں پاس ہوگی یا فیل ہاں میں ڈرتی تھی مجھے ڈر لگتا تھا اللہ کو کھونے سے

چار پانچ دن میں اسی ڈر میں رہی وڈیوز دیکھے باجی سے بھی پوچھا آزمائش کے متعلق

جواب کئی ملے پر دل مطمئن نہ ہوا پھر اللہ سے پوچھا

پھر جا کے دل مطمئن ہوا کہ آزمائش اللہ کے قریب کرتی ہے اور اللہ پاک انہیں ہی آزماتا ہے جو اللہ کے پسندیدہ ہو۔۔

آزمائشیں ہمیں توڑنے نہیں بلکہ ہمیں مظبوط بناتی ہے۔ ہمارے اللہ سے تعلق کو مظبوط کرتی ہے

جب ہدایت ملی تو کئی سوال تھے نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ احادیث، عقیدہ، فرقہ واریت یہ وہ بہت کنفیوژن تھی آہستہ اللہ پاک نے مجھے ہر سوال کا جواب دیا اور میں بہتر ہوتی گئی۔ میرے آس پاس کے لوگ بھی مجھے ایسے ہی قبول کرنے لگے جیسی میں تھی جن کو میں ناگوار گذری تھی وہ میرا ہاتھ وہیں چھوڑ کر چل دیئے

خیر۔۔۔!!

آخر تک میرے ساتھ صرف میری ماں رہی باقی سب۔۔۔۔۔ 🙃

حتٰی کہ میری بیسٹ فرینڈ نے بھی

اس نے میرا ساتھ اس وقت چھوڑا جب میں ایک بہت بڑے صدمے سے گذر رہی تھی اور اس کے چھوڑ جانے سے میں مکمل ٹوٹ گئی تھی

ڈپریشن میں چلی گئی تھی بخار اتار نہیں رہا تھا طبیعیت خراب رہنے لگی تھی میں نے اس سے اس صدمے سے نکلنے میں مدد نہیں مانگی تھی۔ نہ ہی میں اس سے یہ امید رکھتی تھی کہ وہ میری اس صدمے سے نکلنے میں مدد کرے گی،

لیکن۔۔۔!!

اس کا ہونا میرے لیے ایک احساس تھا شاید ایک امید یا اس کا میرے لیے ہونا میرے لیے کافی تھا

خیر۔۔۔!!

اس کا مجھے چھوڑنا اور ایسے وقت پہ چھوڑنا مجھے توڑ گیا۔۔۔

جس پر میں نے چند اشعار لکھے تھے کہ۔۔۔۔

چلنے لگی تھی سیدھا اچانک کھائی آگئی

گِری اس میں اور پھر نکل نہ سکی

کوشش تھی جاری اس سے نکلنے کی

جب منزل کو پہنچی تو ایک دوست نے پھر گِرا دیا

تب احساس ہوا کوئی نہیں میرا میرے رب کے سوا

ہاتھ اٹھائے دعا مانگی اور گڑگڑائی اپنے رب کے سامنے

پھر کیا تھا

رب نے پکڑا ہاتھ میرا اور منزل تک پہنچا دیا

عمر تھی چھوٹی لیکن تجربہ بہت ملا

اس ننھی عمر میں مجھے سب نے دھوکا دیا

جب سب ساتھ چھوڑ چکے تھے تو اس رب کے پاس گئی

تب احساس ہوا کہ وہ تو ہمیشہ سے میرے ساتھ تھا

بس میں ہی اندھی تھی کہ جو دوسروں میں خوشیاں ڈھوندتی رہی۔

اس رب نے مجھے کہاں سے کہاں پہنچا دیا

قابل تو نہیں تھی اتنی

جتنا اس نے سنوار دیا

اے رب تیرا شکریہ

اے رب تیرا شکریہ

یہ تسبیحات، یہ نمازیں، یہ سجدے

یہ سب تیرے لیے

اے میرے رب یہ میری جان قربان تیرے لیے۔۔!

◆◇◆◇◆◇◆◇

آہستہ آہستہ مجھے میرے رب نے سنبھال لیا میں ٹھیک ہوگئی بے شک وقت لگا پر ٹھیک ہوگئی پہلے جیسی نہیں بلکہ پہلے سے اور مظبوط، بات بات پر روتی اب بھی تھی بس لوگ مخصوص کرلیے، ہر کسی کے لیے کھلی کتاب بننا بند کردیا آنکھیں پڑھنا سیکھ لیا۔۔۔

چہرے پڑھنا سیکھ لیا

دوسروں کے بجائے خود کو بہتر کرنے میں لگ گئی

ہاں اب میں خوش رہنے لگی تھی

اب میں نے مسکرانا شروع کیا تھا بہت وقت کے بعد ان سب کے بعد میں مسکرانا بھول گئی تھی۔۔

آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہوگیا

واپس اپنے رب کے ساتھ جڑ گئی

سب کچھ صحیح چل رہا تھا

پھر آیا کہانی میں ایک نیا موڑ جس کے بارے میں میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔

جس نے مجھے ہِلا کے رکھ دیا

خود سے نفرت کرنے پر مجبور کردیا، مجھے ذہنی بیمار کردیا، مجھے توڑ دیا مکمل طور پر، مجھے اپنے رب سے دور کردیا میں نے اپنے رب کو کھودیا یعنی میں نے اپنا سب کچھ کھو دیا۔۔

اگر مجھے اپنی زندگی میں سے کچھ مٹانے کا موقع ملے تو میں اس پورے افسانے کو مٹانا چاہوں گی، ہر اس چیز کو جو مجھے اس کی یاد دلائے

ہاں ہاں میں اسے مٹانا چاہتی ہوں، میں جینا چاہتی ہوں اس کے بغیر اس کی یاد کے بغیر۔۔

کاش کہ یہ سب نہ ہوتا

میں فراموش کار ہوں باتیں بھول جاتی ہوں

باتیں بھول جاتی ہوں یکسر اس شخص کو بھی جو مدِ مقابل ہو۔۔

کبھی کبھی تو عزیزِ جاں بھول جاتی ہوں

باتیں یاد نہیں رہتی، میں اپنے کام بھول جاتی ہوں

ابھی جو قصہ سنانے لگی ہوں

پیوند لگائے ہیں اس میں بھی میں نے

اور کچھ باتیں فرضاً کہی ہیں!

خیر چھوڑو۔۔!!

کافی تاخیر ہو گئی

میری چائے بھی ٹھنڈی ہو گئی۔۔

آگے جو کہنا تھا، وہ تو میں بھول گئی

چلو خیر۔۔۔۔۔!!!

آگے کا اب پھر کبھی سناؤں گی۔۔!!

◆◇◆◇◆◇◆◇

 

Download NovelToon APP on App Store and Google Play

novel PDF download
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play