دل کے ویرانے میں اب کوئی اجالا رہا نہیں،
تیری یادوں کے سوا کچھ بھی ہمارا رہا نہیں
ہجر کی شب نے بجھا ڈالے مسرت کے چراغ،
اب کسی شے میں بھی جینے کا سہارا رہا نہیں
ہم نے چاہا تھا تجھے ترکِ خودی کی حد تک،
خود سے بڑھ کر بھی کوئی اور گوارا رہا نہیں
اشک آنکھوں میں رہے ضبط کے پردوں میں مگر،
درد ایسا تھا کہ چھپنے کا قرینہ رہا نہیں
تیری قربت بھی عجب کرب کا باعث ٹھہری،
دور ہو کر بھی دل کو کہیں چارہ رہا نہیں
تیرے بعد اس دلِ افسردہ کا عالم یہ ہوا،
کوئی اپنا بھی یہاں اب تو ہمارا رہا نہیں
ہم نے ہنس کے پاگل پن کی انتہا کر دی "وفا"،
جس کو بڑے مان سے اپنا کہا، وہ بھی اپنا رہا نہیں
دل میں اک زخم سا ہے مگر مسکرا رہی ہوں،
ادھوری سی زندگی کو بھی ہنس کے گزار رہی ہوں
تیری چاہت کا عجب سا حال ہوا ہے مجھ پر،
خود ہی ٹوٹ کے خود ہی کو جوڑ رہی ہوں
چلو مان لیتے ہیں یہ سب شاید قسمت کا لکھا تھا،
نہ جانے پھر بھی کیوں تجھی کو پکار رہی ہوں
تیری یادوں کا کچھ ایسا اثر ہوا مجھ پر،
تجھ کو بھولنے کی کوشش میں خود کو بھول رہی ہوں
کہ تیری تصویر سے آتی ہے پھولوں کی مہک،
جن سے اپنی محبت کی دنیا مہکا رہی ہوں
رات کٹ جاتی ہے تیری یادوں کے سہارے،
نم آنکھوں سے بچھڑنے کے اشک بہا رہی ہوں
اک مدت ہوئی دل کو سکوں میسر نہیں ہے،
اور خود کو ہی خود میں کہیں ڈھونڈ رہی ہوں
میں نے چاہا تھا تجھ کو حد سے بڑھ کر جاناں،
کہ تجھ سے ملنے کے بعد خود کو خود سے جدا دیکھ رہی ہوں
کوئی امید بھی باقی نہیں، نہ رہی خواہش دل میں،
پھر بھی نامِ محبت سے لبوں کو سجا رہی ہوں
مقطع:
اس کی قربت کا اثر کچھ ایسا ہوا ہے "وفا"،
کہ دور رہ کر بھی اس کو خود میں اتار رہی ہوں
ہم نے خود کو سنبھالنا سیکھ لیا ہے،
تیری یادوں سے غافل رہنا سیکھ لیا ہے
دل کو اب تیری یادوں کے بغیر جاناں،
ہم نے خود میں ہی جینا سیکھ لیا ہے
اب نہ تیری طرف کوئی راستہ آتا ہے ہمارا،
کہ اب اکیلے تنہا رہنا ہم نے بھی سیکھ لیا ہے
تیری قسمیں، تیرے وعدے سچے تھے کیا؟
اب ہم نے جھوٹ کو سچ کہنا سیکھ لیا ہے
تم نے چھوڑا تھا ہمیں جن کے خاطر جاناں،
دیکھ اب ہم نے بھی خوش رہنا سیکھ لیا ہے
اب نہ گلے ہیں نہ ہی شکوے ہیں قسمت سے،
ہم نے خود کو آزمانا سیکھ لیا ہے
جو کبھی میری روح کا سکون ہوا کرتے تھے،
ان سے دور رہ کے جینا سیکھ لیا ہے
اب تیرے ذکر سے کوئی فرق نہیں پڑتا ان کو "وفا"،
لگتا ہے باتوں کا ہنر بھی سیکھ لیا ہے
Download NovelToon APP on App Store and Google Play