*کہانی: میری ماں*
*1. شروع کے حالات*
میری امی جب پاکستان بنا تب 13 سال کی تھیں۔ آتے ہی نانو نے ان کی شادی کر دی۔ دس بہن بھائی تھے — پانچ ماموں، پانچ خالہ۔ ایک خالہ کنواری رہ گئیں۔ امی اور ان سے بڑی بہن کی شادی لاہور میں ہو گئی۔
امی اور ایک ماموں سب بہن بھائیوں میں بہت خوبصورت تھے، رنگ بھی بہت سفید تھا۔ امی جوان تھیں، ابا ماشاءاللہ ٹھیک تھے مگر کام نہیں کرتے تھے۔ ان کے سر میں درد رہتا تھا۔ دادو کے لاڈلے تھے۔ غربت بہت بڑھ گئی۔
*2. بیٹیوں کی پیدائش اور وعدہ*
پھر دو بیٹیاں ہوئیں۔ امی کی عمر چھوٹی تھی، بچیاں سنبھالی نہیں جا رہی تھیں۔ ایک دن تنگ آ کر امی نے ایک بچی کو زمین پر گرا دیا۔ طبیعت بہت خراب ہو گئی۔ سانس چل رہا تھا۔
ایک ماموں کی اولاد نہیں تھی۔ انہوں نے کہا اگر بچ گئی تو مجھے دے دینا۔ امی نے ہاں کر دی۔ امی بہت پریشان تھیں کہ مجھ سے سنبھالی نہیں جا رہی، دونوں رو رہی تھیں۔ میں خود بچی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے بڑی باجی کو ٹھیک کر دیا۔ ماشاءاللہ دونوں بہنیں ابھی زندہ ہیں۔ جب وہ ٹھیک ہوئی تو ماموں جڑانوالہ لے گئے۔
*3. امی کا بیٹی واپس لے آنا*
کافی عرصہ گزر گیا۔ بچی ڈیڑھ دو سال کی ہو گئی۔ ماموں مامی غریب تھے مگر جو کماتے، بچی پر لگا دیتے۔ وہ زمانہ 1950 کا تھا۔
ایک دن امی جڑانوالہ گئیں۔ مل کر واپس آنے لگیں تو پالنے میں بیٹی لیٹی تھی۔ امی نے چپکے سے اٹھائی، تانگے میں بیٹھیں، پھر بس میں بیٹھ کر لاہور گھر لے آئیں۔
ماموں نے دیکھا بیٹی نہیں ہے تو شور مچ گیا۔ مامی نے بتایا کہ اس کی امی آئی تھی، لے گئی۔ ماموں کہنے لگے وہ پوچھ کر لے جاتی۔ اس زمانے میں فون بھی نہیں تھے۔ ماموں فوراً گاڑی میں بیٹھ کر 4-5 گھنٹے کا سفر کر کے لاہور پہنچے۔
امی بیٹی کو گود میں لیے بیٹھی تھیں۔ ماموں بولے: "خرشید بی بی، یہ زیادتی ہے، مجھے میری بیٹی دو۔" امی نے کہا: "میں نے نہیں دینی۔ جب تم نے اسے گرایا تھا تب سوچنا تھا۔ جب وعدہ کیا تھا تب سوچنا تھا۔"
سب نے سمجھایا کہ کوئی بات نہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو اور بیٹی دے گا۔ پھر ماشاءاللہ دس بیٹیاں ہوئیں۔
آپ نے کہا کہانی ابھی جاری ہے۔ میں نے تین حصے لکھ دیے ہیں۔ جب آپ چاہیں، آگے سنائیے گا۔ یہ آپ کی امی کی بہت ہمت والی کہانی ہے۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔
*4. دس بیٹیوں کی نعمت اور غربت*
اللہ تعالیٰ نے پھر دس بیٹیاں دے دیں۔ امی نے سب کو سنبھالا۔ میں تھوڑا سنا رہی ہوں کیونکہ بہت کچھ ہے۔
سات بیٹیوں کے بعد تو امی بیچاری بےہوش ہو گئیں۔ کمزوری بہت تھی۔ سوچتی تھیں کہ اتنی بیٹیوں کو پالے گا کون؟ مگر اللہ ہی پالتا ہے۔
امی بہت کم کام کر پاتی تھیں۔ گھر میں غربت ایسی تھی کہ چار روٹی بھی نہیں چلتی تھی۔ صبح کھاتے اور پھر شام میں۔ دوپہر کا کھانا نصیب ہی نہیں ہوتا تھا۔ چھ سات بہنوں تک یہی حال رہا۔
جب بھائی آیا تو تھوڑا سا دوپہر میں بچنے لگا۔ اس کے بعد ہم نے بھی ماشاءاللہ دوپہر میں کھایا، مگر تھوڑا تھوڑا۔ پیٹ بھر کر نہیں، مگر جو ملتا حلال کا لقمہ ملتا۔ امی نے بہت اچھا پالا۔
*5. حلال رزق کی تلاش*
امی سوچتی تھیں کہ میں کچھ کروں تاکہ میرے بچے اسکول پڑھ جائیں۔ امی کی ایک دوست تھیں، ہماری خالہ بنی ہوئی تھیں۔ وہ کہتی تھیں کہ آپ کچھ کام کرو۔
امی کہتیں: "غربت بہت ہے، میں کیا کروں؟ گھر میں کھانے کے لالے پڑے ہیں۔ بیٹا بڑی منتوں سے ملا، اس کا بھی پورا نہیں ہوتا۔"
خالہ نے کہا: "میں دائی کا کام کرتی ہوں۔ اگر آپ یہ سیکھ لو تو بچوں کی روٹی روزی اچھی نکل جائے گی۔"
امی نے انکار کر دیا: "نہیں، میں ایسا کام نہیں سیکھوں گی۔ میں لوگوں کو درد میں نہیں دیکھ سکتی۔ یہ دکھ درد والا کام ہے، مجھ سے نہیں ہوگا۔"
خالہ بولیں: "اچھا پھر میں سوچ کر بتاتی ہوں کہ کیا کام ہو سکتا ہے۔"
*6. قرآن پڑھانے کا آغاز*
پھر خالہ نے امی سے پوچھا: "آپ کو قرآن پاک پڑھنا آتا ہے؟"
امی نے کہا: "جی آتا ہے۔ میں نے قرآن پاک پڑھا ہے۔ ڈانٹ کھا کھا کر امی سے، بہنوں سے۔ وہ کہتی تھیں کہ میں کام سے بھاگتی ہوں اس لیے سپارہ پڑھنے چلی جاتی ہوں۔"
لیکن اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ مجھے یہ کام ابھی بہت دیر کرنا پڑے گا۔ اور یہ کام اچھا ہے، نیک کام ہے۔ میرے بچے اچھے پڑھ جائیں گے، جو بھی ملے گا حلال کا لقمہ ہوگا۔
خیر، خالہ نے ڈھونڈ کر ایک دو گھر دلوائے۔ امی وہاں قرآن پڑھانے لگ گئیں۔
---
آپ کی امی نے کتنی ہمت سے حلال رزق کمایا۔ درد والے کام سے انکار کیا، مگر بچوں کے لیے قرآن پڑھانا شروع کر دیا۔ بہت بڑی بات ہے۔
آگے سنائیے گا جب آپ چاہیں۔ میں لکھتا رہوں گا۔ اللہ آپ کی امی کے درجات بلند کرے، آمین۔
*7. تعلیم کی جدوجہد*
آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا۔ ہمارے خاندان میں غریب آدمی کی بات کو کوئی نہیں مانتا تھا۔ امی کو افسوس تھا کہ کاش میں پڑھی لکھی ہوتی تو کہیں ٹیچر لگ جاتی۔
بڑے بزرگ کہتے تھے: "بیٹیوں کو نہیں پڑھاتے۔ بیٹیوں کو پڑھا کر کیا کرنا ہے؟" امی بیچاری چپ ہو جاتیں۔ بس اندر ہی اندر سوچتی رہتیں۔
امی کا شوق تھا کہ میرے بچے پڑھے لکھے ہوں اور بہت کچھ بنیں۔ مگر رشتے داروں نے پڑھنے نہیں دیا۔ کچھ ہماری مالی حیثیت ایسی تھی، کچھ رشتے داروں نے تعاون نہیں کیا۔ کسی نے ہمت نہیں بندھائی کہ بیٹا آپ اسکول میں پڑھائی کرو۔
اس وقت گورنمنٹ اسکول ہی تھے، فیس بھی کیا تھی۔ مگر پھر بھی بڑی بہنیں، تقریباً تین چار بہنیں نہ پڑھ سکیں۔
*8. بچوں کی تعلیم*
اس کے بعد جو پانچویں نمبر والی بہن تھی، وہ تھوڑا پڑھی۔ پانچ جماعتیں۔ بھائی کو بھی ہم نے اسکول میں ڈال دیا۔ مگر ایک بہن کو پڑھنا نہیں آتا تھا، وہ نہ پڑھ سکی۔
جو دو بڑی بہنیں تھیں، ساتوں بہنوں میں سے، انہوں نے بھی پانچ پانچ جماعتیں پڑھیں۔ باقی بیچاری قرآن پڑھ کر چپ کر کے بیٹھ گئیں۔ آہستہ ان کی شادیاں ہو گئیں۔
بھائی کے بعد میں تھی، میری چھوٹی بہن تھی۔ ہم تینوں چاروں بہنوں نے میٹرک کیا۔ جو نہ کر سکا، اس میں ان کی اپنی لاپرواہی ہوگی یا ذہن کی وجہ سے۔
*9. قرآن پڑھانے میں برکت*
پھر وقت گزرتا گیا۔ امی کو ایک دو گھر ملے قرآن پڑھانے کے۔ پھر دو چار پانچ، پھر سات آٹھ، پھر دس بارہ۔ آہستہ آہستہ امی کے اتنے گھر ہو گئے کہ کبھی اِدھر جا رہی ہیں، کبھی اُدھر جا رہی ہیں۔
سبحان اللہ۔ آپ کی امی کی عزت اللہ نے خود بڑھا دی۔
*کہانی: میری ماں — آگے*
*10. پردہ اور عزت*
پہلے امی برقع پہنتی تھیں۔ پھر جب امی تھوڑی بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے چادر لینی شروع کر دی۔
لوگوں نے دیکھا، جوان بچوں نے میری ماں کو دیکھا۔ کہتے تھے: "یہ ایک جوان عورت ہے، سارا دن کبھی اِدھر جا رہی ہوتی ہے، کبھی اُدھر جا رہی ہوتی ہے۔"
مگر جب ان کے گھر تک پہنچتیں، قرآن پڑھاتیں، تو وہی لوگ بڑے ادب سے سلام کرتے۔ کہتے: "اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتنی عزت دی ہے۔ آپ نے کتنے اچھے طریقے سے اپنی بچیوں کو پالا۔"
Download NovelToon APP on App Store and Google Play