English
NovelToon NovelToon

خاکستر عشق (خاموش عشق)

Episode -01 : تم چلی گئی ہو… مگر گئی نہیں

" تم چلی گئی ہو… مگر گئی نہیں"

کہتے ہیں وقت کسی کا سگا نہیں ہوتا۔

یہ انسان سے اس کی سب سے عزیز چیز بھی چھین لیتا ہے… اور آواز تک نہیں کرتا۔

اور عشق…؟

عشق شاید وہ واحد چیز ہے

جو انسان سے سب کچھ چھین کر بھی

اس کے اندر زندہ رہتا ہے۔

رات حد سے زیادہ سیاہ تھی۔

بادل آسمان پر ایسے پھیلے تھے جیسے کسی نے پورے شہر پر اداسی تان دی ہو۔

ہلکی ہلکی بارش قبرستان کی خاموش زمین پر گر رہی تھی۔

ہر طرف عجب سنّاٹا تھا۔

صرف ہوا کی آواز…

اور کبھی کبھار درختوں کی بھیگی شاخوں کا لرزنا۔

قبرستان کی بھیگی مٹی سے اٹھتی ہوئی مہک ہوا میں ایک بوجھ سا گھول رہی تھی۔

دور کہیں بجلی چمکی۔

ایک لمحے کے لیے پورا قبرستان روشن ہوا…

اگلے ہی لمحے پھر اندھیرے نے سب کچھ نگل لیا۔

قبرستان کے آخری کونے میں ایک شخص خاموش کھڑا تھا۔

سیاہ کوٹ۔

بکھرے ہوئے بھیگے بال۔

آنکھوں میں تھکن۔

اور کانپتی ہوئی انگلیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ایک چاندی کی انگوٹھی۔

ارمغان۔

وہ دیر تک قبر کو دیکھتا رہا…

جیسے وہاں مٹی کے نیچے کوئی سانس لے رہا ہو۔

بارش کی ایک بوند اس کی پلک سے پھسل کر نیچے گری۔

پتہ نہیں وہ بارش تھی…

یا آنسو۔

بارش اس کے چہرے پر گر رہی تھی مگر اسے پرواہ نہ تھی۔

اس نے آہستہ سے قبر پر ہاتھ رکھا۔

سرد مٹی۔

اتنی سرد…

جیسے واقعی کسی نے اپنی حرارت یہاں دفن کر دی ہو۔

“تم چلی گئی ہو…”

اس کی آواز ٹوٹ گئی۔

ارمغان نے ہلکا سا مسکرایا۔

وہ مسکراہٹ درد بھری تھی۔

“یا شاید… تم گئی ہی نہیں۔”

ارمغان ہلکا سا جھکا اور انگوٹھی قبر پر رکھ دی۔

“دیکھو… آج بھی سنبھال کر رکھی ہوئی ہے میں نے۔”

ہوا قبرستان کے خشک درختوں سے ٹکرائی تو سنسان سی آواز اٹھی۔

چند لمحے صرف بارش بولتی رہی۔

“پتہ ہے ملیحہ…؟

آج بھی بارش تم جیسی لگتی ہے۔”

اس کی آواز میں عجب سا سکون تھا۔

ایسا سکون…

جو اکثر بہت زیادہ ٹوٹ جانے کے بعد آتا ہے۔

اس نے مٹی پر انگلیاں پھیریں۔

“تمہیں پتہ ہے…؟

لوگ کہتے ہیں وقت سب کچھ بھلا دیتا ہے…”

وہ چند لمحے خاموش رہا۔

پھر دھیمی آواز میں بولا:

“شاید وقت نے مجھے کبھی بھلانا سکھایا ہی نہیں۔”

ارمغان کی آنکھوں میں عجب سا خلا تھا۔

ایسا خلا…

جیسے اس نے کسی کو کھویا نہیں…

بلکہ خود کو کہیں چھوڑ دیا ہو۔

ارمغان نے جیب سے ایک پرانا خط نکالا۔

کاغذ بارش سے بھیگ چکا تھا۔

اس پر صرف ایک لفظ لکھا تھا:

“ارمغان”

اس نے آنکھیں بند کر لیں۔

ملیحہ کی آواز اس کے کانوں میں گونجی:

“اگر کبھی تم سے دور ہو جاؤں…

تو تم مجھے ڈھونڈنا مت۔”

ارمغان نے قبر کی مٹی کو زور سے مٹھی میں بھرا۔

“تم نے کہا تھا نا…

خاموش محبتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں…”

اس کی سانس بری طرح کانپ رہی تھی۔

اور ہونٹ یوں تھے…

جیسے کسی نے چوم کر زہر بھر دیا ہو۔

اسی لمحے قدموں کی آواز آئی۔

ارمغان پلٹا۔

حمزہ۔

“تم پھر یہاں آ گئے؟”

ارمغان خاموش رہا۔

حمزہ نے قبر کو دیکھا… پھر ارمغان کی طرف۔

“وہ واپس نہیں آئے گی… چلو یہاں سے۔”

کچھ لمحے خاموشی رہی۔

پھر ارمغان نے دھیمی آواز میں کہا:

“پتہ ہے…”

“مگر دل نہیں مانتا۔”

بارش اب تیز ہو چکی تھی۔

قبر کی مٹی بھیگ رہی تھی۔

اور ارمغان…

پہلی بار ٹوٹتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔

“حمزہ…

کیا مردے واقعی چلے جاتے ہیں؟”

حمزہ خاموش ہو گیا۔

وہ جانتا تھا…

کچھ سوالوں کے جواب نہیں ہوتے۔

کاغذ پر “ارمغان” کے علاوہ ایک جملہ اور بھی لکھا تھا:

“میں چلی جاؤں گی…

تو قبر پر مت آنا۔”

ارمغان کی سانس رک گئی۔

یہ وہی جملہ تھا…

جو ملیحہ نے موت سے پہلے کہا تھا۔

مگر اس خط پر آج کی تاریخ نمایاں تھی۔

ارمغان کو اچانک یوسفؑ یاد آئے…

جو کنویں میں ڈال دیے گئے تھے، مگر پھر بھی نہ بھلائے جا سکے۔

وہ ہلکا سا ہنسا۔

“فرق صرف اتنا تھا…

یوسفؑ واپس آ گئے تھے۔”

خاموشی۔

صرف بارش۔

صرف قبر۔

اور صرف ایک ٹوٹا ہوا شخص۔

...----------------...

واپس آتے ہوئے راستہ بالکل سنسان تھا۔

گاڑی کے شیشوں پر بارش مسلسل گر رہی تھی۔

حمزہ ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ ارمغان کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔

“تم ہر بار وہاں کیوں جاتے ہو؟”

کافی دیر بعد حمزہ نے پوچھا۔

ارمغان خاموش رہا۔

پھر آہستہ سے بولا:

“کچھ جگہیں انسان کو زندہ رکھتی ہیں۔”

حمزہ نے اس کی طرف دیکھا مگر کچھ کہا نہیں۔

کیونکہ وہ جانتا تھا…

ارمغان اب پہلے والا ارمغان نہیں رہا تھا۔

رات کے تقریباً دو بج رہے تھے۔

ارمغان اپنے کمرے میں داخل ہوا تو ہمیشہ کی طرح اندھیرا اس کا استقبال کر رہا تھا۔

کھڑکی آدھی کھلی تھی۔

بارش کی ٹھنڈی ہوا پردوں کو ہلا رہی تھی۔

وہ خاموشی سے بیڈ کے کنارے بیٹھ گیا۔

اس نے جیب سے وہی انگوٹھی نکالی۔

کافی دیر تک اسے دیکھتا رہا۔

پھر اچانک…

اس کا فون بجا۔

Unknown Number.

ارمغان چند لمحے اسکرین کو دیکھتا رہا۔

پھر کال اٹھا لی۔

چند سیکنڈ صرف خاموشی سنائی دی۔

پھر ایک لڑکی کی دھیمی آواز آئی:

“بارش میں زیادہ دیر مت رہا کرو ارمغان…”

ارمغان کا دل ایک لمحے کے لیے رک گیا۔

وہ فوراً کھڑا ہوا۔

“ملیحہ…؟”

Call disconnect . .

کمرے میں دوبارہ خاموشی پھیل گئی۔

صرف بارش کی آواز باقی تھی۔

اور ارمغان پہلی بار خوفزدہ دکھائی دیا۔

کیونکہ یہی آواز تھی…

جو وہ پچھلے تین سال سے صرف یادوں میں سنتا رہا تھا۔

کیا خاموش محبتیں واقعی ختم ہو جاتی ہیں…

یا انسان خود انہیں دفن نہیں کر پاتا؟

کیا واقعی ملیحہ اس دنیا میں نہیں تھی…

یا ارمغان ایسے راز میں قید تھا جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پایا تھا؟

...****************...

" تین سال پہلے…." : EPISODE-02

 

کہتے ہیں بعض ملاقاتیں محض اتفاق نہیں ہوتیں…

وہ لوحِ تقدیر پر ویسے ہی ثبت ہوتی ہیں جیسے یوسفؑ کے حسن کا تذکرہ صدیوں کے فاصلے کے باوجود دلوں میں زندہ رہتا ہے۔

اور کچھ لوگ…

زندگی میں آ کر صرف انسان نہیں رہتے،

وہ روح کے اندر اُتر کر انسان کی کمزوری، عادت… بلکہ عبادت بن جاتے ہیں۔

تین سال پہلے…

شام دھیرے دھیرے شہر کے وجود پر یوں اتر رہی تھی جیسے کسی صوفی کی دعا خاموشی سے فضا میں تحلیل ہو جائے۔

بارش ابھی کچھ دیر پہلے تھمی تھی اور سڑک بارش کے پانی سے اس طرح چمک رہی تھی جیسے کسی نے پورے شہر پر melted glass بچھا دیا ہو۔

فضا میں مٹی کی بھیگی ہوئی خوشبو رچی تھی، وہی خوشبو جو انسان کو بےسبب ماضی یاد دلا دیتی ہے۔

ٹھنڈی ہوا درختوں کے بھیگے پتوں کو چُھو کر گزر رہی تھی جبکہ آسمان پر ٹھہرے سرمئی بادل ایسے محسوس ہوتے تھے جیسے کسی اداس شاعر کی نامکمل غزل۔

ارمغان اپنی گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔

سیاہ shirt۔

کلائی پر silver watch۔

ہلکے منتشر بال۔

اور آنکھیں…

وہ آنکھیں جن میں ہمیشہ ایک خاموش قیامت آباد رہتی تھی۔

وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو کم بولتے ہیں…

مگر اپنے اندر پورے سمندر دفن رکھتے ہیں۔

حمزہ برابر والی seat پر بیٹھا مسلسل بولے جا رہا تھا۔

“یار meeting کل ہے اور تمہیں کوئی tension ہی نہیں—”

مگر ارمغان کی سماعت جیسے اُس کی آواز سے محروم ہو چکی تھی۔

کیونکہ اگلے ہی لمحے…

وہ سامنے آئی۔

سفید لباس میں لپٹی،

ہلکے سرمئی دوپٹے کے حصار میں،

بارش سے ذرا بھیگے لمبے سیاہ بال اُس کے کندھوں سے یوں لپٹے تھے جیسے رات نے چاند کو چھو لیا ہو۔

وہ سڑک پار کر رہی تھی۔

بہت آہستہ۔

جیسے اسے دنیا کی جلد بازی، لوگوں کی چیخوں، وقت کی دوڑ… کسی چیز سے کوئی سروکار نہ ہو۔

ارمغان کی نظریں اُس پر جم گئیں۔

اور پھر…

وقت نے خود کو روک لیا۔

بالکل ایسے جیسے موسیٰؑ کے لیے دریا نے راستہ چھوڑ دیا تھا۔

حمزہ نے چونک کر اُسے دیکھا۔

“او بھائی… کہاں کھو گئے؟”

مگر ارمغان شاید پہلی بار واقعی کسی میں کھویا تھا۔

وہ لڑکی چند قدم چل کر رکی۔

پھر آہستہ سے پلٹی۔

بھوری آنکھیں…

خاموش،

مگر اس قدر گہری کہ انسان اگر ایک لمحہ زیادہ دیکھ لے تو شاید خود کو بھول جائے۔

ارمغان کے اندر ایک عجیب سا ارتعاش پیدا ہوا۔

جیسے برسوں سے بند کوئی دروازہ کسی نرم دستک پر کھل گیا ہو۔

یا جیسے کسی ویران مسجد میں اچانک اذان کی آواز گونج اٹھے۔

وہ اُسے دیکھ رہی تھی۔

صرف چند لمحوں کے لیے۔

مگر اُن لمحوں میں ایک عجیب intimacy تھی…

ایک خاموش chemistry…

جیسے دو اجنبی روحیں صدیوں بعد ایک دوسرے کو پہچان گئی ہوں۔

پھر وہ پلٹی…

اور بارش کے بعد دھندلی ہوتی سڑکوں میں گم ہو گئی۔

بس اتنا سا لمحہ تھا۔

مگر ارمغان کی پوری دنیا اپنی axis سے ہٹ چکی تھی۔

“وہ کون تھی…؟”

اس نے پہلی بار دھیمی آواز میں پوچھا۔

حمزہ نے باہر دیکھا۔

“کون؟”

مگر تب تک وہ جا چکی تھی۔

صرف اُس کے perfume کی مدھم خوشبو ہوا میں باقی تھی…

اور ارمغان کے دل میں ایک نامعلوم بےچینی۔

...----------------...

رات۔

ارمغان اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔

کمرے کی lights بند تھیں۔

صرف کھڑکی سے آتی بارش کے بعد کی ٹھنڈی ہوا سفید پردوں کو ہلا رہی تھی۔

سامنے کتاب کھلی تھی…

مگر وہ ایک لفظ بھی نہیں پڑھ پا رہا تھا۔

اُس کے ذہن میں بار بار وہی چہرہ ابھر رہا تھا۔

وہی سفید لباس۔

وہی خاموش آنکھیں۔

وہی پلٹ کر دیکھنے کا انداز…

وہ بےاختیار ہلکا سا مسکرایا۔

“عجیب لڑکی تھی…”

لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ لڑکی عجیب نہیں تھی…

وہ خطرناک تھی۔

کیونکہ کچھ لوگ انسان کے دل میں محبت نہیں…

ہجرت چھوڑ جاتے ہیں۔

اسی لمحے دروازہ کھلا۔

ارمغان کی امی اندر آئیں۔

ہلکے آسمانی dupatta میں لپٹی، اُن کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح نرم شفقت تھی۔

“ارمغان… کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے بیٹا۔”

وہ چونک کر حقیقت میں واپس آیا۔

“جی امی… آ رہا ہوں۔”

امی چند لمحے اُسے غور سے دیکھتی رہیں۔

پھر ہلکا سا مسکرا دیں۔

“آج بڑے خاموش لگ رہے ہو…”

دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا حمزہ فوراً ہنس پڑا۔

“Aunty… آج اِن کا دل کہیں بارش میں رہ گیا ہے۔”

ارمغان نے فوراً اُسے گھورا۔

مگر حمزہ مزید ہنسنے لگا۔

ڈائننگ ٹیبل پر گرم چائے کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔

بارش کے بعد کی سردی میں گھر عجیب حد تک پُرسکون لگ رہا تھا۔

ارمغان کے والد اخبار fold کرتے ہوئے بولے:

“Business meeting کی تیاری مکمل ہے؟”

“جی۔”

مختصر،

سرد،

ہمیشہ کی طرح restrained جواب۔

اُن کے والد اکثر کہا کرتے تھے:

“یہ لڑکا اپنے دل کی بات شاید خود سے بھی نہیں کرتا…”

رات مزید گہری ہو چکی تھی۔

ارمغان دوبارہ اپنے کمرے میں آیا۔

بارش پھر شروع ہو چکی تھی۔

وہ کھڑکی کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا۔

سڑک پر لگے زرد lights بارش کے قطروں میں دھندلے ہو رہے تھے۔

پورا شہر کسی melancholic painting جیسا لگ رہا تھا۔

اور پھر…

اس کا فون vibrate ہوا۔

Unknown Message.

اس نے message کھولا۔

صرف ایک لائن لکھی تھی:

“بارش ہمیشہ اُن لوگوں کو یاد رہتی ہے جن کے اندر کچھ ادھورا رہ گیا ہو…”

ارمغان کے ماتھے پر ہلکی شکن ابھری۔

کیونکہ…

یہ وہی جملہ تھا

جو شام سے اُس کے دل کے کسی تاریک گوشے میں بھٹک رہا تھا۔

اس نے فوراً reply کیا:

“Who are you?”

چند seconds تک typing ظاہر ہوتی رہی۔

پھر message آیا:

“شاید وہ…

جسے تم بارش رکنے کے بعد بھی دیکھتے رہے تھے۔”

ارمغان کا دل بےترتیب دھڑکا۔

وہ فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

ہونٹوں پر بےاختیار ایک مدھم مسکراہٹ ابھری۔

اور پہلی بار…

اُسے محسوس ہوا کہ کسی نے اُس کی خاموشی کو صرف سنا نہیں…

محسوس بھی کیا ہے۔

مگر اُسے کیا خبر تھی کہ بعض عشق لیلیٰ مجنوں کی طرح امر نہیں ہوتے…

کچھ محبتیں صرف جلنے کے لیے پیدا ہوتی ہیں۔

اور جب وہ ختم ہوتی ہیں…

تو اپنے پیچھے صرف

“خاکستر” چھوڑ جاتی ہیں۔

کیا واقعی یہ صرف ایک اتفاقی ملاقات تھی… یا قسمت آہستہ آہستہ ارمغان کو کسی ایسے عشق کی طرف لے جا رہی تھی جو آخر میں صرف “خاکستر” بننے والا تھا…؟

...****************...

EPISODE-03 : نام جو دل میں رہ گیا

کچھ لوگ زندگی میں داخل نہیں ہوتے…

بس آہستہ آہستہ انسان کے اندر اُتر جاتے ہیں.....

اور عجیب بات یہ ہے کہ

ایسے لوگ اکثر پہلی بار ملتے ہی اپنے نہیں لگتے…

بلکہ ایسے محسوس ہوتے ہیں

جیسے ہم انہیں بہت پہلے کسی خواب، کسی ادھورے قصّے… یا کسی ڈراؤنی یاد میں دیکھ چکے ہوں۔

تین سال پہلے…

صبح غیر معمولی حد تک خاموش تھی۔

اتنی خاموش… کہ دور کہیں درختوں کے پتوں سے ٹپکتے پانی کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔

رات بھر بارش ہوئی تھی۔

کالج کی پرانی عمارت نمی سے بھیگی ہوئی کھڑی تھی، اور دیواروں پر جمی ہلکی سی کائی پورے ماحول کو عجیب سا پراسرار رنگ دے رہی تھی۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ جگہ صرف اینٹوں سے نہیں بنی…

بلکہ اپنے اندر سینکڑوں خاموش کہانیاں دفن کیے بیٹھی ہو۔

ارمغان گیٹ کے قریب کھڑا تھا۔

سیاہ shirt۔

ٹھنڈی ہوا میں ہلکے بکھرے بال۔

اور وہی خاموش نظریں…

مگر آج اس کی خاموشی عام نہیں تھی۔

وہ بار بار کالج کی تیسری منزل کی طرف دیکھ رہا تھا۔

وہی abandoned corridor…

جہاں اکثر شام کے بعد کوئی نہیں جاتا تھا۔

لوگ کہتے تھے وہاں کبھی ایک لڑکی گری تھی۔

اور اس کے بعد سے رات کے وقت وہاں قدموں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔

ارمغان ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا تھا…

پھر بھی نہ جانے کیوں،

ہر بار اس corridor کو دیکھ کر اس کے دل میں ایک عجیب بےچینی جاگ اٹھتی تھی۔

اچانک ایک گاڑی آ کر رکی۔

دروازہ کھلا۔

اور وہ باہر نکلی۔

ملیحہ۔

ہلکی نیلی قمیض۔

سفید دوپٹہ۔

کھلے ہوئے سیاہ بال جن پر بارش کے چند قطرے ابھی تک ٹھہرے ہوئے تھے۔

وہ عام لڑکیوں جیسی نہیں تھی۔

اس کے چلنے میں بھی عجیب سا سکون تھا…

جیسے وہ جلدی میں کبھی نہ ہو۔

جیسے اسے دنیا کی کسی چیز سے خوف نہ آتا ہو۔

مگر اس کی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔

وہ عجیب تھیں۔۔۔۔۔۔۔

بظاہر پُرسکون۔۔۔۔۔۔۔

لیکن ان کے اندر کہیں بہت گہرا اندھیرا تھا۔

وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی گیٹ کے اندر داخل ہوئی۔

اور پھر اچانک رک گئی۔

جیسے اسے احساس ہو گیا ہو کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔

اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔

ان کی نظریں ملیں۔۔۔۔۔۔

بس چند سیکنڈ۔۔۔۔۔۔۔

مگر ارمغان کے دل میں ایک عجیب سا احساس اُبھرا…

ایسا جیسے اس نے یہ منظر پہلے بھی کہیں دیکھا ہو۔

بالکل اسی دھند میں۔۔۔۔۔۔

اسی خاموشی میں۔۔۔۔۔۔

اسی لڑکی کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔

اور یہی احساس اسے اندر تک بےچین کر گیا۔

ملیحہ نے چند لمحے اسے دیکھا۔۔۔۔۔

پھر بہت آہستہ نظریں جھکا لیں۔۔۔۔۔

لیکن جاتے جاتے اس کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

بہت مختصر۔۔۔۔۔۔

مگر ارمغان نہ جانے کیوں دیر تک وہی مسکراہٹ سوچتا رہا۔

کلاس روم میں معمول کا شور تھا۔۔۔۔۔

مگر باہر موسم اب بھی بوجھل تھا۔۔۔۔۔

بادل سورج کو مکمل نکلنے نہیں دے رہے تھے، اس لیے پوری کلاس میں ہلکی سی مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔

ارمغان ہمیشہ کی طرح آخری row میں بیٹھا ہوا تھا۔

مگر آج نہ کتاب سمجھ آ رہی تھی، نہ lecture۔

کیونکہ ہر چند لمحوں بعد اس کی نظر بےاختیار دروازے کی طرف اٹھ جاتی تھی۔

اور پھر…

دروازہ کھلا۔

ملیحہ اندر آئی۔۔۔۔۔

اس کے ہاتھ میں چند books تھیں۔

وہ جلدی میں تھی شاید، کیونکہ seat کی طرف جاتے ہوئے اچانک اس کے ہاتھ سے ایک کتاب نیچے گر گئی۔

پورا کلاس روم شور میں مصروف تھا۔

کسی نے توجہ نہیں دی۔

مگر ارمغان فوراً اٹھا۔

اس نے کتاب اٹھا کر اس کی طرف بڑھائی۔۔۔۔۔۔

انگلیاں ایک لمحے کے لیے چھوئیں۔۔۔۔۔

صرف ایک لمحہ۔۔۔۔۔

مگر ارمغان کے دل میں جیسے کسی نے اچانک دھیمی سی گھنٹی بجا دی ہو۔

ملیحہ نے ہلکے سے Thanks کہا۔

پھر چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔

تم… ہمیشہ اتنے serious رہتے ہو؟!

ارمغان ہلکا سا الجھا۔

شاید۔

ملیحہ آہستہ سے مسکرائی۔

پھر تو تمہیں ہنسنا سیکھنا چاہیے۔

خاموش لوگ زیادہ اداس لگتے ہیں۔

وہ اپنی seat کی طرف چلی گئی۔

مگر ارمغان پہلی بار خود کو عجیب طرح سے alive محسوس کر رہا تھا۔

جیسے کسی نے اس کی خاموش دنیا میں ہلکی سی روشنی رکھ دی ہو۔

لیکچر ختم ہونے کے بعد corridor تقریباً خالی ہو چکا تھا۔

بارش دوبارہ شروع ہو رہی تھی۔

ملیحہ کھڑکی کے پاس کھڑی باہر دیکھ رہی تھی۔

ارمغان چند قدم دور رکا رہا۔

پتہ نہیں کیوں۔

جیسے اس کے قریب جانا آسان بھی تھا…

اور خطرناک بھی۔

ہوا کے جھونکے سے ملیحہ کے بال چہرے پر آ گئے۔

اس نے انہیں کان کے پیچھے کیا اور دھیرے سے بولی:

“تم بارش کو غور سے دیکھتے ہو؟”

ارمغان نے پہلی بار بغیر سوچے جواب دیا:

شاید…

کیونکہ بارش میں ہر چیز تھوڑی خوبصورت لگنے لگتی ہے۔”

ملیحہ نے اس کی طرف دیکھا۔

اور اس بار اس کی آنکھوں میں پہلی دفعہ ہلکی سی نرمی اتری۔۔۔۔۔

یا شاید بارش انسان کو اس کی اصل چھپا لینے دیتی ہے…

پھر وہ چند لمحے خاموش رہی۔۔۔۔

بارش کی آواز corridor میں پھیل رہی تھی۔

اچانک ملیحہ بہت آہستہ بولی:

لوگ کہتے ہیں… اناپرستوں سے ڈرنا چاہیے۔

مگر مجھے لگتا ہے ڈرنا خودپرست لوگوں سے چاہیے۔

ارمغان خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔

ملیحہ کی نظریں اب بھی بارش پر تھیں۔

اناپرست تو ضد میں سب ٹھکرا دیتے ہیں…

بعد میں پچھتاتے بھی ہیں۔۔۔۔۔۔

وہ ہلکا سا مسکرائی، مگر اس مسکراہٹ میں عجیب تلخی تھی۔

لیکن خودپرست؟؟؟

وہ اپنے ہوش میں سب چھوڑتے ہیں۔

صرف اپنی عزتِ نفس کے لیے…

اور پھر انہیں نہ کوئی ملال ہوتا ہے… نہ افسوس۔

ارمغان پہلی بار اس کی آواز میں چھپا درد محسوس کر رہا تھا۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی اور کے بارے میں نہیں…

اپنے بارے میں بات کر رہی ہو۔

یہ کہہ کر وہ آہستہ سے corridor میں آگے بڑھ گئی۔

ارمغان دیر تک وہیں کھڑا رہا۔

اسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ لڑکی صرف باتیں نہیں کرتی…

ہر لفظ کے پیچھے کوئی زخم چھپا لیتی ہے۔

Break کے دوران زیادہ تر ۔۔۔۔۔ students cafeteria چلے گئے۔

مگر ملیحہ اکیلی پرانی library کی طرف بڑھ گئی۔

وہ library کالج کے پچھلے حصے میں تھی، جہاں ہمیشہ غیر ضروری خاموشی رہتی تھی۔

ارمغان نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے پیچھے چلا گیا۔

Libraryتقریباً خالی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پرانی لکڑی کی shelves۔۔۔۔۔

کتابوں پر جمی گرد۔۔۔۔۔

اور کھڑکیوں سے اندر آتی مدھم سی روشنی…۔۔۔۔

پورا ماحول ایسا لگ رہا تھا جیسے وقت یہاں آ کر رک گیا ہو۔

ملیحہ ایک shelf کے سامنے کھڑی کسی کتاب کے صفحات پلٹ رہی تھی۔

ارمغان چند قدم دور رک گیا۔

مگر اس بار اس نے فوراً بات نہیں کی۔

وہ صرف اسے دیکھتا رہا۔

نہ جانے کیوں…

ملیحہ کو دیکھتے ہوئے اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ کچھ لوگ صرف خوبصورت نہیں ہوتے،

بلکہ مکمل احساس لگتے ہیں۔

وہ ماتھے پہ چمکتی لکیر جیسی تھی…

کسی خواب کی سچی تعبیر جیسی۔

وہ صبح کی پہلی کرن جیسی…

یا آنگن میں مہکتے چمن جیسی محسوس ہوتی تھی۔

اس کی خاموشی میں بھی عجیب کشش تھی۔

بالکل جھیل کے شفاف پانی جیسی۔

پُرسکون…

مگر اتنی گہری کہ انسان خود کو اس میں ڈوبتا ہوا محسوس کرے۔

کبھی وہ اسے کسی پرانی پریوں کی کہانی جیسی لگتی…

اور کبھی بارش میں بھیگی زمین جیسی۔

وہ دکھنے میں شاید واقعی سب سے حسین تھی…

مگر اس کی اصل خوبصورتی اس کے لہجے میں تھی۔

نرم۔

دھیمی۔

بالکل اردو زبان جیسی۔

اور جب وہ ہلکا سا مسکراتی…

تو ارمغان کو محسوس ہوتا جیسے کسی نے اندھیرے کمرے میں اچانک روشنی جلا دی ہو۔

وہ واقعی ایک لڑکی نہیں لگتی تھی…

بلکہ ادب کی کسی ادھوری کتاب جیسی تھی،

جسے انسان جتنا پڑھتا جائے…

اتنا ہی اس میں کھوتا چلا جائے۔

ملیحہ بہت آہستہ کتاب کے صفحے پلٹ رہی تھی، جیسے جلدی میں ہو ہی نہیں۔۔۔۔۔

پھر اچانک اس نے بنا مڑے کہا:

تم کافی دیر سے خاموش کھڑے ہو۔؟

ارمغان چونکا۔

تمہیں کیسے پتہ چلا میں یہاں ہوں؟

ملیحہ نے آہستہ سے کتاب بند کی۔

پھر اس کی طرف مڑی۔

کیونکہ کچھ لوگوں کی خاموشی بھی آواز دیتی ہے۔

چند لمحوں کی خاموشی۔

پھر ارمغان دھیرے سے بولا:

تم یہاں اکثر آتی ہو؟

ملیحہ نے ہلکا سا سر ہلایا۔

"ہاں۔۔۔۔۔۔

خاموش جگہیں مجھے پسند ہیں۔"

پھر اس نے shelf سے ایک کتاب نکالی۔

گرد اڑ کر ہوا میں پھیل گئی۔

ملیحہ نے کتاب کے cover پر انگلی پھیری اور بہت دھیرے سے بولی:

"وہ محبتیں بھی عجیب ہوتی ہیں…

جو انسان کو مکمل ادب بنا دیتی ہیں۔"

ارمغان خاموشی سے اسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔

ملیحہ نے نظریں جھکا لیں۔

مگر ہر خوبصورت چیز ہمیشہ اچھی نہیں ہوتی، ارمغان…

اس کی آواز آخری لفظ پر مدھم ہو گئی۔

"کچھ چیزیں انسان کو جتنا خوبصورت لگتی ہیں…

اتنا ہی اندر سے توڑ دیتی ہیں۔"

اسی لمحے اوپر والی منزل سے کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی۔

دونوں چونک گئے۔

Library کی خاموشی اچانک بہت بھاری محسوس ہونے لگی۔

ارمغان نے اوپر دیکھا۔...

تیسری منزل۔...

وہی............. abandoned corridor۔

چند لمحوں کے لیے ایسا لگا جیسے وہاں کوئی کھڑا ہو۔

سفید سا دھندلا وجود۔....

مگر اگلے ہی لمحے کچھ نہیں تھا۔

صرف اندھیرا۔

"تم نے دیکھا…؟"

ارمغان نے دھیرے سے پوچھا۔

ملیحہ خاموش رہی۔

مگر پہلی بار اس کے چہرے کا رنگ ہلکا سا اُڑا ہوا تھا۔

شام تک بارش دوبارہ شروع ہو گئی۔

کالج تقریباً خالی ہو چکا تھا۔

ارمغان سیڑھیوں کے قریب کھڑا تھا جب اس نے ملیحہ کو corridor کے آخری کونے میں دیکھا۔

وہ کھڑکی کے پاس کھڑی بارش دیکھ رہی تھی۔

اس کے سفید دوپٹے کا کنارہ ہوا میں ہلکا ہلکا ہل رہا تھا۔

اور نہ جانے کیوں….....

اس لمحے وہ انسان کم،

اور کسی خواب یا وہم کا حصہ زیادہ لگ رہی تھی۔

ارمغان آہستہ آہستہ اس کے قریب گیا۔

"تم بارش کو اتنا کیوں دیکھتی ہو؟"

ملیحہ نے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا:

"کیونکہ بارش میں چیزیں صاف نظر نہیں آتیں…"

پھر اس نے دھیرے سے اس کی طرف دیکھا۔

"اور کچھ سچائیاں دھند میں ہی اچھی لگتی ہیں۔"

ایک لمحے کی خاموشی۔

پھر وہ اچانک بولی:

"ارمغان…

اگر کسی دن تمہیں میرے بارے میں کچھ عجیب پتہ چلے…......

تو کیا تم ڈرو گے؟"

ارمغان ہلکا سا چونکا۔

"کیا مطلب؟"

ملیحہ مسکرائی۔

مگر اس بار اس کی مسکراہٹ میں عجیب اداسی تھی۔

"کچھ نہیں۔

بس ایسے ہی۔"

...----------------...

رات۔

بارش مسلسل ہو رہی تھی۔

ارمغان اپنے کمرے میں بیٹھا تھا جب اس نے پہلی بار ایک نام save کیا۔

“Maliha”.......

اس کے لبوں پر انجانے میں ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔

اسی لمحے فون vibrate ہوا۔

Unknown Message:

"تیسری منزل پر دوبارہ مت جانا۔"

ارمغان کے چہرے کی مسکراہٹ آہستہ آہستہ غائب ہو گئی۔

اس نے فوراً نمبر check کیا۔

No Caller ID.......

اس کے دل میں اچانک وہی سرد احساس لوٹ آیا۔

اور پھر…

فون دوبارہ vibrate ہوا۔

اس بار صرف ایک line تھی:

"ہر کوئی ملیحہ کو پہلی بار نہیں دیکھتا…"

...****************...

Download NovelToon APP on App Store and Google Play

novel PDF download
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play