سردیوں کی یخ ٹھنڈی ہوائیں سارے اطراف میں پھیلی ہوئی تھیں ۔
اس نے آنکھیں بند کر رکھی تھی زلفیں چہرے کا طواف کر ہی تھیں منہ آسمان کی طرف کر رکھا تھا۔ ذہن میں کہیں پرانی یادیں گردش کر رہی تھی
سفید رنگت پتلی ناک جو سردی کی وجہ سے سرخ پڑ رہی تھی یا شاہد اسے فلو تھا۔ اس ٹھنڈے ماحول میں تنہا بھیٹی ہوئی وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔
ا چانک اسکے پاس کوئی آکے بیٹھا مگر سکینہ نے اپنی آنکھیں بند ہی رکھی اسے پتہ تھا کہ کون ہے شاہد ایک امید تھی کہ زینب ہی اسے بھیج سکتی پے۔
"سکینہ خود پرترس کھاؤ یار کیا حالت کر رکھی ہے ."
کبریٰ نے افسوس سے دیکھا اسے عجیب لگتا تھا اسکا برتاؤ
"کیا کروں کبریٰ کبھی کبھی دل کرتا مر جاؤ یا مارڈالوں مگر نہیں یہ میرے بس میں نہیں ہے" ۔ سکینہ نے زکام زدہ سانس اندر کو کھینچی ۔
"مگر جو تم کر رھی رھو وہ بھی تو صحیح نہیں نہ یار مطلب تم سب بھول کر آگے بڑھو "
"بھولا ہی نہیں جاتا زینب نہ ہوتی تو اب تک خود کو مار ڈالتی"۔ سکینہ نے آنکھیں کھول کر کبریٰ کی طرف دیکھا۔
سکینہ کی بات پر کبریٰ مسکرائی زینب کے زکر پر وہ یونہی مسکراتی تھی زینب اسکی بچپن کی دوست تھی اور رہے گی اور وہ زینب کو نہیں چھوڑ سکتی کسی قیمت پہ نہیں
" پتہ ہے کبریٰ زینب کہتی تھی کہ محبت انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑ تی ہے مگر محبت دو طرح کی ہوتی ایک انسان کی انسان سے دوسری انسان کی اپنے رب سے
تب تو میں دیھان نہیں دیتی تھی مگر کبھی کبھار سن لیتی تھی اور میں نے یہ بات مذاق میں اڑادی تھی اور اب جب میں برباد ہوئی ہوں تو بہت سخت ہوئی ایسے کے پوچھو تو بتا نہ سکو نہ پوچھو تو بوجھ دل میں رکھ نہ سکھو ۔" سکینہ نے سارے آنسو اندر کو دکھیلے
" بس کردو سکینہ شکر ادا کرو کہ زینب جیسی دوست میسر ہوئی تمہیں اور یہ ۔۔۔
کبریٰ کی بات بیچ میں رہے گئی جب سکینہ نے ہاتھ کے اشارے سے روکا ۔
" اس نے چاروں طرف دیکھا اس خوبصورت ماحول میں وہ دونوں اکیلی کالج کے گراؤنڈ میں بیٹھی ہوئی تھی اس ماحول میں اسے بہت کچھ یاد آیق تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ناجانے کیا؟ اب سکینہ آٹھ جاتی ہے۔
اجانا کلاس کا ٹائم ہوا جاتا ہے۔
" توبہ توبہ ناول پڑنے والی لڑکی کچھ زیادہ ہی اففففف۔"
کبریٰ چڑ ہی تو گئی تھی اسے روز روز کا ہی تماشا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ نظارہ ایک بہت بڑے بنگلے کا ہے جو لاہور کے سب سے اچھے ایریا پر واقع ہے۔ یہ بنگلا دور سے بھی بے حد خوبصورت نظر آتا اسکی اونچی عمارت انے جانے والوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔
بنگلے کے اندر آؤ تو کسی کی ہیل کی آواز سارے محل میں گھونج رہی ہے۔۔۔۔۔۔ چلتے چلتے اب وہ اطراف میں دیکھتی ہے کچھ چند ملازمین اپنے کام میں مصروف ہیں ۔ اس نے شان سے اس محل کو دیکھا اس نے اک ملازمہ کو آواز دے کر شربت لانے کو کہا اور خود صوفے پر ٹانگ پہ ٹانگ چڑا کہ بیٹھ گئی اس پاس نظر دوڑائی کئی ملازموں نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا مگر اس نے آنکھوں سکیڑا ۔
درمیانہ قد سرخ سفید رنگت گنھیں پلکیں آنکھیں لمبی ، ہونٹ موٹے اور ڑائے شدہ بال کرل کیے ہوئے چہرے پر میک اپ ۔ لگتا ہے ان محترمہ کو سجنے کا بہت شوق ہے۔
اب اس نے میگزین پکڑی ہوئی تھی ۔
" تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے کہ بغیر اجازت نہ آیا کرو میرے گھر میں ۔"
وہ کسی رعب دار آواز سے اچھل پڑی اور میگزین نیچے گر گئی۔
"اففففففف آپ نے تو ڑرا دیا کمی"۔دل پر ہاتھ رکھا گیا۔
سامنے کھڑے مرد نے بال نفاست سے سیٹ کر رکھے تھے بلیک پینٹ کوٹ میں وہ جازب نظر آرہا تھا ۔ گندمی رنگت کالی آنکھیں اور کالے بال لمبا دراز قد ۔
حسین تھا بے حد حسین ماشاءاللہ ۔
معصومہ نے دل ہی دل میں سوچا کہا کچھ نہیں
" معصومہ تمہیں میں نے کتنی بار کہا کہ مت آیا کرو یار کیوں تنگ کر رکھا ہے" ۔ ۔مقابل کو بے حد غصہ آرہا تھا۔
"کمی میں تو بس تمہیں دیکھنے آئی تھی تمہیں بخار تھا نہ ۔" کیا کروں میں اس کا؟ اسکی تو بس ھوگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
" پہلی بات مجھے کمی نہ کہا کرو دوسری بات بخار تھا مر نہیں گیا تھا اور تیسری بات میں اکیلا ہوتا ہوں سوائے ایک بہن اور ایک بھائی کے کوئی نہیں ہوتا ملازمین باتیں بنائیے گے اور ہاں چوتھی اب کہ کمی نے گہرا سانس لیا بات یہ کہ میں کمی نہیں ہوں سید کمیل حسین شاہ نام ہے میرا اور ہاں ایک اور بات آئندہ نہیں انا " ۔ کمیل نے کہ کر کمرے کر طرف رخ کیا ۔
" تمہارے دوست تو تمہیں کمی کہتے ہیں نہ تو میں کیوں نہیں ؟" ۔۔۔ معصومہ نے اپنی بات کہی
"دوست کہتے ہیں باجی آپ دوست نہیں ہیں ۔" یہ کہ کر وہ رکا نہیں اوپر کمرے میں چلا گیا ۔
پیچھے معصومہ غصے سے لال و سرخ ہوگئی ۔ کتنا مغروری ہے پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتا ہے مگر میں بھی معصومہ ہوں حاصل تو کر کہ ہی رہوں گی ۔ ورنہ میرا نام معصومہ نہیں ۔ معصومہ یہ کہ کر باہر چل دی اب ایک منٹ بھی نہیں رکھ سکتی تھی بہت تذلیل جو ہوئی تھی ۔
پیچھے محل کی دیواروں نے سرجھٹکا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور میں شام کا وقت تھا ہر طرف روشنی ہی روشنی تھی لاہور میں لوگ رات دیر تک باہر گھومتے رہتے ہیں اور صبح کو دیر سے اٹھتے شاہ والا میں آؤں تو کمیل الماری میں منہ دیے چیزیں ادھر اُدھر پھینک رھا تھا ۔ اس نے ابھی تک صبح والا کوٹ اور پینٹ پہنی ہوئی تھی ۔ اب تھگ گیا تھا ڈھونڈ ڈھونڈ کہ۔۔۔
" یا اللّٰہ مل کیوں نہیں رہی ہے تم مل جاؤ میں تمہیں سیدھا کرو ۔" کمیل غصہ میں تھا پتہ نہیں کون سی چیز مغروری شہزادی کو نہیں مل رہی ۔
"کیا نہیں مل رہا کمی جی ؟ " کوئی اچانک سے کمرے میں آیا اور بڑی معصومیت سے آنکھیں ٹپٹپا کر پوچھا گیا ۔
کمیل نے جو ہی آواز سنی ایک دم اسکا گریبان پکڑا "تمہاری ہمت بھی کیسی ہوئی شہری ؟" کمیل نے سخت غصے سے کہا
" ابے گریبان چھوڑ میں نے کچھ نہیں کیا سچ بتا رہا ہوں ." شہری نے منت بھرے انداز سے کہا ۔
کمیل نے غورا پھر چھوڑ دیا اور بیڈ پر بیٹھ گیا سر ہاتھوں میں اور شہری صاحب وہ بھی معصوم سا منہ بناکر ان کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ اس کے ایسا کرنے پہ کمیل نے نفی میں سر ہلایا۔
" یار ویسے معصومہ اتنی بری بھی نہیں ہے بس۔۔۔۔" اسکی بات بیچ میں ہی رہے گئی جب کمیل پھر چڑ دوڑا اور وہ ہنس ہنس کے پاگل ھو گیا ۔
" ابے تجھے کس نے کہا کہ یہ بتا کہ مجھے وہ پسند ہے ابے وہ میک اپ کی دکان تجھے میری پسند لگتی ہے ؟"
پھر تو ہی بتا کہ کون ہے تیری پسند ؟ ۔ شہری نے ہنس کر کہا ۔
یہ جانے بغیر کے اس کی بات پر کمیل اسکو چھوڑ کر کچھ سوچنے لگ پڑا ۔ اب پتہ نہیں برخودار کیا سوچ رہے ؟
کبھی گہری سوچیں اسے اب گہر چکی تھی کئی یادیں بن کر ابھری ۔۔۔۔۔ کچھ لوگوں کا ماضی تلخ ہوتا ہے بہت تلخ ۔
ایسے ہی ایک ماضی کمیل حسین شاہ کا بھی تھا جس میں وہ نہ نکل سکا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( ماضی )....
سخت گرمیوں کا موسم اور ایسے میں تین لڑکے سخت دھوپ میں کھڑے تھے ۔ اب ناجانے کیوں کھڑے تھے ؟
" یار سب تیری وجہ سے ہوا ہے کمی تو ہے ہی بڑا بغیرت تو ایسا نہ کرتا نہ ہم سب یہاں نہ کھڑے ہوتے اب دیکھ تیری وجہ سے ہم بھی افففف ۔۔۔۔ "
پہلا دوست سخت غصے میں تھا ۔ اب اسکو غصہ کیوں تھا؟
"اسکو تو میں سیدھا کروں گا اسکول کے باہر بڑا آیا عاشق "۔ لوجی دوسرے نے بھی رائے پیش کی۔
اوئے اب تو مجھے مارے گا شرم نہیں آئے گی؟ درمیان میں کھڑے لڑکے نے غورا ۔
" ہاں ہاں ماروں گا اس وقت تجھے شرم نہیں آئی ھوگی تیرا سال کا ہوتے ہوئے 9 سال کی بچی پہ ڈورے ڈالے "۔ دوست نے دوست کو شرم دلائی۔
" شہری محبت ہے میری اور محبت میں عمر نہیں دیکھا کرتے ۔" کمیل نے دانتوں کی نمائش کروائی " توبہ ہے کوئی ہال نہیں تیرا میں تو کہتاہوں ۔۔۔۔۔ شہری ابھی بول رہا تھا اتنے میں بل ہوئی ۔ اور تینوں کینٹین کی طرف دوڑ لگائی دوڈ بھی ایسی کہ پتہ نہیں کتنے صدیوں سے بھوکے ہوں ۔
کینٹین کا ماحول رش سے بھر پور تھا اور وہ تین دوست سموسے اور چاٹ سے انصاف کر رہے تھے ۔
" ویسے تو اس کےلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے ؟۔۔۔ مطلب اتنا سب کرتا ہے ایک دن برباد ہو جائے گا اور دیکھ ۔۔۔"
شہری کی بات ابھی بیچ میں تھی کہ کمیل نے ٹوک دی " سید شہریار کمیل کاظمی دیکھ میں اپنی عورت کی بات بھری محفل میں کروں یہ بات کیا ہم کو زیب دیتی ہے "؟ شہریار نے سمجھنے والے انداز سے سر ہلایا ۔ ساتھ اپنی آئی ہنسی کو بھی کنٹرول کیا اب پٹنے کا ارادا جو نہیں تھا۔
اب وہ تینوں کھاتے جا رہے تھے ساتھ ساتھ ہنس ہنس کے پاگل ہو تے تھے آس پاس سب سٹوڈنڈ مڑ مڑ کہ دیکھ رہے تھے کچھ سٹوڈنڈ نے افسوس سے سر ہلایا انکا روز کا جو معمول تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( حال )
ہال میں آؤں تو سید کمیل شاہ اور شہری دونوں خاموش تھے ۔ یادیں مٹ چکی تھی تلخ یادیں ابھی زہن میں تھی ۔
"سب بھول جا کمی سب بھول جا وہ ایک حادثہ تھا اسکا چلے جانا ہی ۔۔۔۔۔"
" تو یہ سب چھوڑ تو کالج جاتا ہے وہ کیسی ہے"؟ سید کمیل نے زکام زدہ سانس اندر کو دکھیلی۔
شہری نے منہ بسورا اپنی یوں بات جو بیچ میں رہ گئی تھی ۔
" اوئے خدا کا خوف کر لڑکیاں مار مار کر کچومر بنادےگی اگر کالج کے اندر گیا" ۔ ابھی وہ کچھ اور بولتا کہ کمی کی ایک غوری سے چپ ہوگیا ۔ کبھی نہیں سدھرے گا نا۔
" اچھا اچھا بتاتا ہوں وہ ٹھیک ہے اب زینب اسکے ساتھ جو ہوتی ہے اور رہے ملک حساس کی بات تو لگتا ہے اب وہ دوبارہ پھر سکینہ کی زندگی میں آنا چاہتا" "وہ نہیں سدھرے گا "۔ شہری ابھی بول رہا تھا کہ کمیل نے غصے سے کہا ۔
" اچھا چل اب وقت آنے پہ اسے بھی دیکھ لیں گے ۔اب چل شام کی پارٹی کی تیاری کر "
اب وہ دونوں مل کر الماری کا کچومر بنا رہے تھے ۔
یہ مرد زات بھی نہ ۔۔۔۔۔۔دیواروں نے سر گوشی
( ماضی )
"بس کردو سکینہ اور بتاؤ کیوں رو رہی ہو ؟ اور مجھ سے کیا بات کرنی ہے"؟ زینب کو جب کبری نے بتایا کہ اسے سکینہ کمپیوٹر لیب میں بلا رہی تب سے زینب کی سانس پھولی ہوئی تھی اور آتے ہی سکینہ سے پوچنے لگی ۔ سکینہ کو یوں دیکھ کر اسے عجیب لگتا دھڑکتے دل سے زینب سکینہ کو پکارتی ہے
زینب کی بات سن کر سکینہ نے نظریں اٹھائیں سکینہ کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر زینب کو تکلیف ہوئی ایسا نہیں ہونا چاہیے آپکا پسندیدہ شخص اس حال میں نہیں ہونا چاہیے ورنہ آپ برداشت نہیں کر سکو گے۔
زینب کیا محبت حرام ہوتی ہے؟
زینب نے اسکی بات سن کر اپنا سانس ہوامیں خارج کیا۔ اسے ایک ساتھ بہت کچھ یاد ایا
"دیکھو سکینہ محبت کبھی حرام نہیں ہوتی ہے۔"
اب تم اپنے والدین سے محبت کرتی ہو تو کیا وہ حرام ہوئی نہیں نہ؟ اب تم کہو گی کہ نہیں میں نے تو نامحرم کی بات کی ہے تو سنو ۔"
محبت کا ہونا نہ ہونا یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا ہے بس یہ ہو جاتی ہے محبت کرنا گناہ نہیں ہے مگر اپنے محبوب سے چپ چپ کے ملنا شادی نہ کرنا دوستیاں رکنا سب غلط ہے ۔ دیکھو سکینہ یہ سب ہمیں رسوا کرتی ہیں اور بے سکون بھی ۔"
تو ایسا کیا کروں جو سکون میں مبتلا کردیں؟ سکینہ نے رنج سے زینب کو دیکھا۔
اب میں تمہیں بتاتی ہو ایک محبت ایسی ہے جسے صرف سکون ہے اور اس میں کوئی رسوائی نہیں" ۔
زینب کی بات سن کر سکینہ نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا ۔ اسے زینب کی باتیں سمجھ نہیں آرہی تھی
اسے اس طرح دیکھنے سے زینب مسکرا دی ۔
" میں صحیح کہہ رہی ہوں سکینہ یہ محبت بہت خوبصورت ہے ۔"
"کونسی محبت اور کس کی" ؟ سکینہ نے منہ بنا کہ کہا ۔
" خدا کی محبت " ۔ زینب نے اسکی طرف مسکرا ہٹ سے دیکھ کر کہا۔
خدا کی محبت ؟ سکینہ کو سانس لینے میں دشواری ہوئی بھلا وہ گناہوں میں گری لڑکی اسے خدا سے محبت کیسے ہوگی؟
"ہاں سکینہ خدا کی محبت جو بندے کو سکون دیتی ۔" وہی نرم سی آواز جو زینب کو زینب بناتی تھی۔
"مگر خدا تو ناراض ہے مجھ سے "؟ سکینہ نے نم سے لہجے میں کہا
"کس نے کہا کہ خدا ناراض ہے تم سے ؟ "دیکھو سکینہ خدا اپنے بندے سے ناراض نہیں ہوتا بس وہ انتظار کرتا ہے کہ کب میرا خطاکار بندا میرے پاس آئے اور مجھ سے باتیں کرے معافی مانگے اور دیکھنا سکینہ تم کو خدا ضرور معاف کرےگا وہ تہمارے ساتھ ہے ۔"
اور مجھے کیا کرنا ہوگا کہ مجھے خدا مل جائے ؟ سکینہ نے ایک حسرت سے دیکھا۔
" بس اپنی غلطی کو سدھارنا ھوگا معافی مانگ کے آگے بڑجانا ھوگا ۔" زینب نے مسکرا کر کہا ۔
اور سکینہ بس اسے دیکھتی رہی ۔
" اور ہاں ہر چیز کے لئے محنت کرنا پڑتی ہے سکینہ تم مظبوط بنو گی تو کوئی کچھ نہیں کرسکتا کوئی دوسرا انسان آکے تمہیں مضبوط نہیں بنائے گا تمہیں خود ہی سب کرنا ہوگا ۔" سمجھ رہی ہو نہ میری بات ۔
زینب کے بات پر سکینہ نے صرف سر ہلایا اب پتہ نہیں
Download NovelToon APP on App Store and Google Play