English
NovelToon NovelToon

عشقِ جیدی

EPISODE _ 01 قیدیِ محبت

رات کے دو بج رہے تھے_ شہر کی سڑکیں سنسان تھیں اور بارش مسلسل برس رہی تھی_ مگر شہر کی پرانی جیل کے ایک اندھیرے سیل میں ایک لڑکا خاموشی سے دیوار کے ساتھ بیٹھا تھا_اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں جیل کی بیرک نمبر چار میں خاموش اور ہاتھ میں تصور پکڑے جو لڑکا وہاں بیٹھا تھا_ وہ جیدی تھا_ اٰس کا اصل نام جواد تھا_ پر سب اسے جیدی کے نام سے جانتے تھے_

بڑھی ہوئی داڑھی ٬آنکھوں میں خاموش درد ٬ اور چہرے پر ایسی تھکن جیسے برسوں سے سویا نہ ہو_

بارش کی بوندیں سلاخوں سے ٹکرا رہی تھیں جبکہ جیدی خاموشی سے تصویر کو دیکھ رہا تھا_

تصویر میں جو لڑکی تھی وہ سائمہ تھی سائمہ تصویر میں ہنس رہی تھی-

اچانک جیل کا سپاہی اس کے قریب آیا -

٫٫ہر رات یہ ہی تصویر دیکھتے رہتے ہو ٬٬ کون ہے یہ؟

جیدی ہلکا سا مسکرایا ٬ اور کہا کہ :میری سزا :

سپاہی کچھ سمجھے بغیر وہاں سے چلا گیا_ مگر جیدی ماضی میں کھو چکا تھا_

سات سال پہلے۔۔۔۔۔

جیدی کالج کا سب سے لاپرواہ لڑکا تھا- ہر وقت دوستوں کے ساتھ گومنا ٬ لڑائیاں کرنا اور ہسنا ہی اس کی زندگی تھی- محبت جیسی چیزوں پر وہ کبھی یقین نہہں کرتا تھا_

پھر ایک دن سائمہ اس کی زندگی میں آئی۔۔۔۔

سادہ سی لڑکی ٬ خاموش آنکھیں اور چہرے پر سکون۔۔۔

پہلی ملاقات اٰن دونوں کی کالج میں بارش والے دن ہوئی۔ سائمہ ہاتھ میں کتاب لئے اپنی کلاس کی طرف جارہی تھی دونوں آپس میں ٹکرائے _ سائمہ کے ہاتھوں سے کتابیں زمین پر گر گئی_ جیدی فوراٰٰ نیچے بیٹھا اور کہا ٫٫اتنی تیز رفتار سے کہاں جارہی ہو٬٬ سائمہ نے غصے سے کہا تم سے مطلب ٬ کتابیں چھینی اور چلی گئی_

جیدی بس اٰسے دیکھتا رہ گیا _

اس دن کے بعد نہ جانے کیوں جیدی اسی راستے پر کھڑا ہونے لگ گیا ۔۔۔

آہستہ آہستہ دونوں کی باتیں شروع ہوگئی۔۔۔ اور دوستی نہ جانے کب محبت میں بدل گئی۔۔۔

اب ہر رات دونوں کال پر باتیں کرتے تھے۔

سائمہ اکثر کہتی ؛

:کہ وعدہ کرو تم مجھے چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤ گے:

جیدی ہنس دیتا:

:تمہیں چھوڑا تو ٫ سمجھو سانس چھوڑ دی:

مگر محبت ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔۔۔۔

ایک رات سائمہ نے روتے ہوئے جیدی کو فون کیا۔۔

“جیدی۔۔۔ پلیز آ جاؤ…”

“کیا ہوا؟”

“بھائی کو ہمارے بارے میں پتہ چل گیا ہے…”

جیدی فوراً اس کے گھر پہنچا۔

گھر کے اندر شور تھا۔ سائمہ کا بھائی شدید غصے میں کھڑا تھا۔

“میری بہن سے دور رہو!”

جیدی نے بھی غصے میں جواب دیا،

“میں سائمہ سے محبت کرتا ہوں!”

بات بڑھ گئی۔ لڑائی شروع ہو گئی۔ سائمہ مسلسل دونوں کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔

اچانک دھکم پیل میں میز پر رکھا شیشے کا گلدان نیچے گرا…

اور سائمہ کا بھائی خون میں لت پت زمین پر گر گیا۔

خاموشی۔

سائمہ خوف سے کانپ رہی تھی۔

“یہ… یہ کیا ہو گیا…؟”

جیدی کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔

“میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا…”

مگر چند منٹ بعد پولیس آ گئی۔

بارش اب بھی ویسے ہی برس رہی تھی جب جیدی کو ہتھکڑیاں لگا کر لے جایا جا رہا تھا۔

جاتے جاتے اس نے صرف ایک بار سائمہ کو دیکھا۔

وہ زمین پر بیٹھی رو رہی تھی۔

اور اسی رات جیدی کو احساس ہوا…

کچھ محبتیں انسان کو عاشق نہیں بناتیں…

قیدی بنا دیتی ہیں۔

EPISODE : 02 سزا

بارش اب بھی جیل کی سلاخوں سے ٹکرا رہی تھی۔ ٹپ ٹپ ٹپ... ہر بوند جیدی کے سینے پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھی۔ ہاتھ میں صائمہ کی تصویر تھی۔ 7 سال پرانی، پر اب بھی نئی لگتی تھی۔ جیسے وقت نے اس کے چہرے کو چھونا گناہ سمجھا ہو۔

سپاہی کا سوال اب بھی کانوں میں گونج رہا تھا: "یہ کون ہے؟"

اور میرا جواب: "میری سزا۔"

سزا... ہاں، صائمہ میری سزا تھی۔ وہ سزا جو مجھے جیتے جی مار رہی تھی۔

آنکھ بند کی تو 7 سال پیچھے چلا گیا۔ اسی رات میں... جب فون کی گھنٹی نے سب کچھ بدل دیا تھا۔

"جیدی... پلیز آ جاؤ،" صائمہ کی آواز میں آنسو گھلے تھے۔ "بھائی کو ہمارے بارے میں پتہ چل گیا ہے۔ وہ پاگل ہو رہے ہیں۔"

میں بائیک بھگاتا ہوا اس کے گھر پہنچا تھا۔ دل کہہ رہا تھا کچھ برا ہونے والا ہے۔ اور ہوا بھی وہی۔

گھر کے اندر قیامت کا سامان تھا۔ صائمہ کا بھائی ناصر آگ بگولہ تھا۔ آنکھیں سرخ، ماتھے پر پسینہ۔

"تیری اتنی ہمت؟ میری بہن کو پھنسا رہا ہے؟" وہ دھاڑا۔

میں نے بھی آگے سے جواب دیا۔ جوانی کا جوش، عشق کا نشہ۔ "میں صائمہ سے محبت کرتا ہوں۔ اور اس سے شادی کروں گا۔"

"میری بہن سے دور رہو!" وہ چیخا اور میرا گریبان پکڑ لیا۔

صائمہ بیچ میں آ گئی۔ "بھائی، خدا کا واسطہ ہے۔ جیدی کو چھوڑ دو۔ میں سمجھا دوں گی۔"

پر اس وقت ہم دونوں میں سے کوئی ہوش میں نہیں تھا۔ دھکا مکی شروع ہو گئی۔ میں ناصر کو پیچھے دھکیل رہا تھا کہ اچانک...

دھڑام!

میز پر رکھا شیشے کا بھاری گلدستہ نیچے گرا۔ اور ناصر... وہ اسی کے اوپر جا گرا۔

ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا۔ پھر خون۔ فرش پر خون ہی خون۔ ناصر کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ صائمہ کی چیخ سے پورا گھر گونج اٹھا۔

"بھائی... بھائی اٹھو!" وہ اس کے سینے سے لپٹ کر رو رہی تھی۔

میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ "میں نے... میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا صائمہ... خدا قسم۔"

پر میری کوئی صفائی نہیں تھی۔ محبت کا جنون ایک جان لے چکا تھا۔

10 منٹ بعد پولیس آ گئی۔ کسی پڑوسی نے 15 پر کال کر دی تھی۔ مجھے ہتھکڑی لگ گئی۔

جاتے جاتے میں نے پلٹ کر صائمہ کو دیکھا۔ وہ زمین پر بیٹھی تھی۔ بکھرے بال، سوجی ہوئی آنکھیں، اور ہاتھوں پر بھائی کا خون۔ اس نے میری طرف دیکھا بھی... پر اس نظر میں محبت نہیں تھی۔ نہ نفرت۔ صرف ایک ویرانہ تھا۔ ایک سوال تھا: "یہ کیا کر دیا جیدی؟"

اس دن کے بعد میں اسے کبھی نہ مل سکا۔

آنکھ کھلی تو میں پھر اسی کوٹھری میں تھا۔ بارش اب بھی ہو رہی تھی۔ تصویر پر ایک بوند گری۔ جیسے صائمہ خود رو رہی ہو۔

"کچھ محبتیں انسان کو عاشق نہیں، قیدی بنا دیتی ہیں،" میں نے ہونٹ ہلائے۔

تبھی لوہے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔

داروغہ کی بھاری آواز گونجی: "قیدی نمبر 302، جواد۔ تجھ سے کوئی ملنے آیا ہے۔"

7 سال میں پہلی بار۔

میرا دل سینے سے باہر آنے کو تھا۔ زنجیروں کو گھسیٹتا ہوا میں اٹھا۔

کیا... صائمہ؟

7 سال بعد وہ آئی ہے؟ مجھ سے نفرت کرنے؟ یا معاف کرنے؟

ہر قدم بھاری تھا۔ سلاخوں کے اس پار کون کھڑا ہوگا، میں نہیں جانتا تھا۔ پر اتنا جانتا تھا... آج میری سزا کا دوسرا حصہ شروع ہونے والا ہے۔

...wait for next episode👥...

EPISODE:03 ملاقات

*"پر اتنا جانتا تھا... آج میری سزا کا دوسرا حصہ شروع ہونے والا ہے۔"*

زنجیروں کی جھنکار میرے قدموں کے ساتھ ملاقات والے کمرے تک آئی۔ سات سال میں پہلی بار کوئی ملنے آیا تھا۔ دل میں امید کا دیا ٹمٹما رہا تھا۔ کیا صائمہ آئی ہے؟

*لوہے کا دروازہ کھلا۔ سامنے شیشے کی دیوار۔ اور اس کے پار کرسی پر... *وہ بیٹھی تھی*۔*

صائمہ۔

سات سال نے اسے توڑا نہیں تھا، نکھارا تھا۔ پر آنکھیں... آنکھیں ویران تھیں۔ جیسے کسی قبرستان کا سناٹا ہو۔ اس نے سادہ سا کالا جوڑا پہنا تھا۔ ہاتھ میں تسبیح۔ اور چہرے پر... شرمندگی۔

مجھے دیکھتے ہی اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے کانپتے ہاتھ سے فون اٹھایا۔ "جیدی؟"

میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس اسے دیکھتا رہا۔ سات سال کی پیاس تھی آنکھوں میں۔ سات سال کا سوال تھا زبان پر۔ پر میں خاموش تھا۔ کیونکہ جانتا تھا، ایک لفظ بولا اور میں بکھر جاؤں گا۔

"بولتے کیوں نہیں جیدی؟" وہ رو پڑی۔ "گالی دو، مارو، نفرت کرو... پر خدا کے لیے خاموش مت رہو۔ یہ خاموشی مجھے مار دے گی۔"

میں نے آخرکار فون اٹھایا۔ آواز حلق میں پھنس رہی تھی۔ "سات سال لگ گئے صائمہ؟ میری شکل دیکھنے میں سات سال لگ گئے؟"

"میں آ نہیں سکتی تھی جیدی،" وہ سسکی۔ "مجھے دھمکیاں ملتی تھیں۔ وہ کہتے تھے اگر میں تم سے ملنے آئی... تو تمہیں جیل میں ہی مروا دیں گے۔ میں ڈر گئی تھی۔"

"کس سے ڈر گئی تھی؟" میری آواز میں اب برف تھی۔ "سچ سے؟ یا ان لوگوں سے جن کے کہنے پر تم نے عدالت میں جھوٹ بولا تھا؟"

صائمہ نے میز پر سر رکھ دیا۔ "ہاں میں نے جھوٹ بولا تھا! کیونکہ میں مجبور تھی! ناصر کی موت کے بعد وکیل اشرف میرے گھر آیا تھا۔ اس نے کہا اگر میں نے تمہارے خلاف گواہی نہ دی تو وہ میرے ماں باپ کو ناصر کے قتل میں پھنسا دے گا۔ میرے ابو ہارٹ کے مریض تھے جیدی۔ میں کیا کرتی؟"

وکیل اشرف۔ نام سنتے ہی میری مٹھّیاں بھینچ گئیں۔ وہی وکیل جس نے میرا کیس لڑنے سے انکار کر دیا تھا۔

"تو اب کیوں آئی ہو؟" میں نے پوچھا۔ "سات سال بعد ضمیر جاگ گیا؟"

اس نے سر اٹھایا۔ آنکھوں میں آنسو کے ساتھ آگ بھی تھی۔ "کیونکہ اب وہ میرے پیچھے پڑے ہیں جیدی۔ وکیل اشرف چاہتا ہے میں اس کے بیٹے سے شادی کر لوں۔ کہتا ہے اگر نہ کی تو وہ تمہاری رہائی رکوا دے گا۔ تمہیں عمر قید دلوا دے گا۔"

*میرے اندر کچھ ٹوٹا۔ پر یہ دل نہیں تھا۔ *یہ زنجیر تھی۔ سات سال سے میرے پیروں میں پڑی زنجیر*۔*

میں کھڑا ہو گیا۔ "سپاہی! ملاقات ختم۔"

"جیدی رکو!" صائمہ چلائی۔ "میں تمہاری مدد کے لیے آئی ہوں۔ میرے پاس ثبوت ہے۔ اس رات کی CCTV فوٹیج۔ جس میں صاف نظر آ رہا ہے کہ ناصر خود گلدان سے ٹکرا کر گرا تھا۔ تم نے اسے دھکا نہیں دیا تھا۔ میں یہ عدالت میں دوں گی۔ تمہیں باعزت بری کرواؤں گی۔"

*میں رک گیا۔ آہستہ سے پلٹا۔ اور پہلی بار سات سال میں مسکرایا۔ پر یہ مسکراہٹ محبت کی نہیں تھی۔ *یہ شکار دیکھ کر شیر کی مسکراہٹ تھی*۔*

"ثبوت سنبھال کر رکھو صائمہ،" میں نے کہا۔ "مجھے عدالت سے بری نہیں ہونا۔"

"پھر؟" وہ حیران ہوئی۔

میں شیشے کے بالکل قریب آیا۔ اتنا قریب کہ میری سانس سے شیشہ دھندلا گیا۔ "مجھے وکیل اشرف چاہیے۔ مجھے وہ ہر شخص چاہیے جس نے میری محبت کو گالی بنایا۔ جس نے تمہیں مجبور کیا۔ جس نے ناصر کی موت کا الزام مجھ پر لگایا۔"

"ج..جیدی تم کیا کرنا چاہتے ہو؟" اس کے چہرے پر خوف تھا۔

*"انصاف،"* میں نے ایک لفظ چبا کر کہا۔ *"جو عدالت سات سال میں نہ دے سکی، وہ اب میں خود لوں گا۔ اور ہاں... تم سے کوئی انتقام نہیں ہے صائمہ۔ تم میری محبت تھی، ہو، اور رہو گی۔ پر جنہوں نے ہماری محبت کا قتل کیا... ان کی قبر میں اب کیلیں میں ٹھونکوں گا۔"*

یہ کہہ کر میں مڑ گیا۔ پیچھے صائمہ کی آواز آئی۔ "جیدی! خود کو برباد مت کرنا! پلیز!"

میں نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کیونکہ جانتا تھا، اگر مڑ کر دیکھا تو شاید پھر سے کمزور پڑ جاؤں۔

کوٹھری میں واپس آ کر میں نے دیوار پر تین لکیریں کھینچیں۔ رہائی میں تین دن باقی تھے۔

*محبت سے انتقام نہیں لیا جاتا۔ پر محبت کے قاتلوں کو معاف بھی نہیں کیا جاتا۔*

*وکیل اشرف، تیار رہنا۔ جیدی آ رہا ہے۔ اور اس بار وہ تنہا نہیں ہے۔ اس کے ساتھ سات سال کا قہر ہے۔*

***WAIT FOR NEXT EPISODE🗣️***

Download NovelToon APP on App Store and Google Play

novel PDF download
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play