English
NovelToon NovelToon

Unwanted Child

unwanted child (ilaaf)

Episode: 1

Novel: Unwanted Child

Writer: Mah-Rukh Mohsin Khan

(کوئی بچہ غیر ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہمیں محبت سمجھنے میں دیر لگتی ہے، مگر ایک بار دل کھل جائے تو وہی “ناپسندیدہ” بچہ ہماری زندگی کی سب سے بڑی نعمت بن جاتا ہے۔)

یتیم خانہ…

وہ بھی کوئی بڑا ادارہ نہیں تھا، بس ایک چھوٹا سا گھر، چند چھوٹے کمرے، ایک تنگ سا صحن اور ٹوٹی سی دیواریں۔ یہ جگہ کسی بڑے فنڈ یا سرکاری مدد سے نہیں چلتی تھی۔

بس کبھی سڑک پر ملنے والی خیرات، کبھی کسی مخیر شخص کا دیا ہوا راشن… تو کبھی پورا دن بغیر کسی خاص کھانے کے بھی گزر جاتا۔

یہاں رہنے والے بچے بھی عام نہیں تھے…

ہر بچے کے پیچھے ایک کہانی تھی، ایک درد، ایک محرومی۔

کوئی ایسا بچہ جسے اس کے ماں باپ نے قبول ہی نہ کیا…

کوئی ایسا جس کے والدین دنیا سے چلے گئے اور وہ تنہا رہ گیا…

کوئی ایسا جس کے ماں باپ زندہ تو تھے مگر علیحدگی کے بعد دونوں نے ہی اسے اپنانے سے انکار کر دیا…

کچھ ایسے بھی تھے جو خود گھروں سے بھاگ آئے تھے…

اور کچھ… وہ معصوم وجود، جو بڑوں کے گناہوں کا نتیجہ تھے، جنہیں دنیا میں لانے والے تو اپنی خواہش پوری کر کے آزاد ہو گئے، مگر سزا ان معصوم بچوں کو ملی… جو پیدا ہوتے ہی “لاوارث” کہلا دیے گئے۔

ایسے ہی معصوم بچوں کے درمیان وہ چھوٹا سا یتیم خانہ سانس لے رہا تھا۔

اس رات بارش بہت تیز تھی۔

آسمان پر بادل گرج رہے تھے اور ہر چند لمحوں بعد بجلی زور سے کڑکتی۔

اسی بارش بھری رات، یتیم خانے کے گیٹ کے باہر ایک ننھی سی بچی چھوڑ دی گئی۔

نہ کوئی پرچی… نہ کوئی پیغام… نہ کوئی وارث۔

وہ بس ایک نومولود بچی تھی…

بارش میں پوری طرح بھیگی ہوئی، سردی سے کانپتی، اور زور زور سے رو رہی تھی۔

“اوو… اوو…”

اس کی رونے کی آواز بارش کے شور میں بھی صاف سنائی دے رہی تھی۔ اس کے ننھے ہاتھ بار بار ہوا میں ہل رہے تھے، جیسے وہ کسی کو پکڑنا چاہتی ہو… کسی کو پکارنا چاہتی ہو… مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔

بجلی زور سے کڑکی۔

وہ خوف سے اور زور سے رونے لگی۔

یتیم خانے کے اندر ایک درمیانی عمر کی عورت نے یہ آواز سنی۔ وہ چونک کر اٹھی۔

“یا اللہ… یہ بچے کی آواز ہے!”

وہ تیزی سے باہر دوڑی۔ دروازہ کھولا تو سامنے بارش میں بھیگی ہوئی وہ ننھی جان کانپ رہی تھی۔ عورت کے دل میں درد کی ایک لہر اٹھی۔

“کس نے چھوڑ دیا اس معصوم کو…؟”

اس نے فوراً بچی کو اٹھا لیا۔ بچی کا جسم برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔ ہونٹ نیلے پڑ رہے تھے۔ وہ فوراً اسے اندر لے آئی۔

بچی کی حالت بہت نازک ہو چکی تھی۔ فوراً ڈاکٹر کو بلایا گیا۔

گرم کپڑے پہنائے گئے، کمبل اوڑھایا گیا، دوائیں دی گئیں۔

رات بھر سب کی نظریں اسی ننھی جان پر ٹکی رہیں۔ کبھی اس کی سانس دھیمی پڑ جاتی، کبھی تیز۔ ہر لمحہ یوں لگتا جیسے وہ موت اور زندگی کے بیچ جھول رہی ہو۔

“دعا کریں… بچی کی حالت critical ہے…” ڈاکٹر نے آہستہ سے کہا۔

وہ پوری رات زندگی سے لڑتی رہی…

اور آخرکار صبح کی پہلی روشنی کے ساتھ اس کی سانسیں بہتر ہونے لگیں۔

وہ موت کے منہ سے واپس آ گئی تھی۔

کچھ دن بعد…

وہ ننھی بچی یتیم خانے کے ایک چھوٹے سے کمرے میں آرام سے سو رہی تھی۔ اب وہ پہلے سے بہتر تھی، مگر اب بھی بہت کمزور۔

یتیم خانے کی منتظمہ نے اسے گود میں لیا، اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔

بڑی بڑی نیلی آنکھیں…

قدرتی سرخ ہونٹ…

خوبصورت ننھی سی ناک…

اور سنہری بال…

بالکل ایک گڑیا جیسی لگتی تھی وہ۔

عورت کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

“اتنی خوبصورت بچی… اور دنیا نے اسے لاوارث چھوڑ دیا…”

کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے آہستہ سے کہا،

“اس کا کوئی نام تو ہونا چاہیے…”

پھر قرآن کی آیت یاد کرتے ہوئے بولی،

“ہم اس کا نام ‘ایلاف’ رکھیں گے…”

ایلاف…

یعنی محبت، اُنسیت اور دلوں کو جوڑنے والی نسبت۔

(قرآن میں “لِإِیلَافِ قُرَیْشٍ” کا ذکر آتا ہے، جس میں ایلاف کا مطلب ہے دلوں کا مانوس ہونا، تعلق اور قربت۔)

یوں اس ننھی لاوارث بچی کو ایک نام مل گیا…

ایلاف۔

وقت گزرتا گیا…

ایک سال… پھر دوسرا سال…

مگر نہ کوئی اسے ڈھونڈنے آیا، نہ کسی نے اس کے بارے میں پوچھا۔

ایلاف اب یتیم خانے ہی کی ہو کر رہ گئی تھی۔

وہ دوسرے بچوں کے ساتھ پلنے لگی، مگر پھر بھی کچھ الگ سی تھی…

بہت خوبصورت، مگر بہت سیہمی ہوئی…

وہ کم بولتی، زیادہ آنکھوں سے بات کرتی۔

یتیم خانے کے صحن میں جب بچے کھیلتے، ہنستے، شور مچاتے…

ایلاف ایک کونے میں بیٹھی خاموشی سے انہیں دیکھتی رہتی۔

اس کی نیلی آنکھوں میں ہمیشہ ایک سوال چھپا ہوتا…

“کیا کوئی مجھے لینے آئے گا…؟”

مگر دروازہ ہر روز کھلتا… بند ہوتا…

کوئی آتا تو بس چند لمحوں کے لیے…

مگر اس کے لیے کبھی کوئی نہ آیا۔

چھوٹے سے یتیم خانے میں، مختلف کہانیوں والے بچے ایک ساتھ پل رہے تھے…

اور انہی کہانیوں کے درمیان، ایک ننھی سی خوبصورت، خاموش اور سیہمی ہوئی بچی…

ایلاف…

اپنی پہچان، اپنے رشتے، اور اپنی جگہ کا انتظار کر رہی تھی۔

Download NovelToon APP on App Store and Google Play

novel PDF download
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play