کچھ آوازیں صحراؤں میں ہی دی جاتی ہیں...
جہاں سننے والا کوئی نہیں ہوتا مگر ان کی گونج پوری زندگی ساتھ چلتی ہے.....
"کاش میں اک آزاد پرندہ ہوتا!
تو ہوا کی ٹھنڈی لہروں میں خوب اڑتا۔
کتنا پُرسکون ہوتا ہوگا اڑنا ، کوئی رکاوٹ نہیں بس کھلا آسمان.لیکن میں وہ چیونٹی ہوں جو قطار میں رہتی ہے ...
جانے سے پہلے میں ایک بار شبن کی طرف سے ہو آؤں زرا !
ہاں جاؤ ۔ لیکن یاد رہے کہ تمہارا وقت قریب ہے ۔دیر نہ ہو جاۓ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سمجھ نہیں آ رہا. آج کے دن میں کچھ تو عجیب بات ہے! شبن: اچھا..! تو نے میری نئی تصاویر دیکھیں ہیں ؟
نہیں.. نہیں دیکھیں!
شبن: رکو ۔۔ ابھی دکھاتا ہوں..
رہنے دو..! میرے جانے کا وقت ہو رہا ہے! چلتا ہوں میں!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خیال سے جانا !
تم سے باتیں تو کرنی تھیں چلو پھر اگلی بار کریں گے!
خدا حافظ ۔اللا تمہیں اپنے امان میں رکھے!
اچھا امی! چلتا ہوں میں ۔ خدا حافظ!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بس میں بیٹھا اک سوار جو اپنی ہی سوچ میں الجھا ہے..
(کبھی کبھار منظر سے ہٹ کر سکون ملتا ہے...
زندگی ایک عجیب گتھی ہے جسے آج تک کوئی سلجھا نہیں پایا ۔زندگی کا سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ کل سب ٹھیک ہو جائے گا ۔میں آج ٹھیک ہونا چاہتا ہوں ، بس آج ۔)
اس نے خود سے کہا: میں تھک گیا ہوں یار،ہر روز مسکرانا ،ہر روز سمجھانا ،ہر روز “میں ٹھیک ہوں “ کہنا.....
اور اندر سے تھوڑا اور مرنا ....
باہر اندھیرا چھا رہا تھا ۔
کھڑکی کے باہر گزرتا اندھیرا اس کی زندگی جیسا تھا،
سب گزر رہا تھا لیکن کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔
وہ اکثر خود سے یہ سوال کرتا تھا ؛ میں ایسا کیوں ہوں ؟؟
سڑک بھیگی ہوئی تھی جیسے ہلکی پھلکی بارش ابھی تھمی ہو ۔
اندھیرا پھیل چکا تھا ،سنسان سڑک پر اکیلی گاڑی جو رفتار میں تھی۔
پلُ سے گزرتے ہوئے گاڑی کا پہیہ پھسلا اور ............
تیز چینخ ،زوردار آواز ،اور...
مکمل خاموشی....
جیسے صحرا نے ایک ہی سانس میں سب نگل لیا ہو ۔
بس کی لائٹیں بند ہوئیں اور آہستہ آہستہ وہ پانی میں مکمل اتر گئ۔
پولیس سٹیشن میں گھنٹی بجتی ہے۔
ہائ وے 5 پہ ایکسیڈنٹ ہوا ہے...
بس پانی میں گر گئ ہے..
معلومات کے مطابق کوئی زندہ نہیں بچا!!
___________________________________________
دروازے پہ دستک ہوئی ۔
اتنی صبح کون ا گیا ؟
(دروازہ کھلتا ہے)
بھائی جان کل رات ہائ وے 5 پہ ایکسیڈنٹ ہوا ہے ۔
پتہ چلا ہے کہ اس میں آپ کا بیٹا بھی تھا ۔
یہ سنتے ہی باپ کے پیروں تلے زمین نکل گئی. ' وہ ٹھیک ہے نہ؟ اسے کچھ ہوا تو نہیں؟ بتاتے کیوں نہیں ؟
وہ اصل میں..........
شناخت کے لیے آپ کو ساتھ انا پڑے گا!!
یہ الفاظ سنتے ہی باپ وہیں سن پڑ گیا ۔
ماں نے رب سے گلہ کیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ،
اور یوں اس کی موت کا اعلان ہو گیا ۔
پانچ سال بعد ۔۔۔
اس کی موت کو پانچ سال گزر چکے ہیں ۔
اس کے گھر والوں نے آج بھی اس کی چیزوں کو سجا کر رکھا ہوا ہے ۔ یا شاید وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کبھی آۓ گا۔
دسترخوان پہ آج بھی اس کی جگہ رکھی جاتی ہے ۔
وہ ان کی یادوں میں سانس لیتا ہے
ساحر (اس کا اچھا دوست)
اپنی پرانی کتابیں سمیٹ رہا ہے ۔
(ان کتابوں میں اک ڈائیری تھی)
یہ ڈائیری تو سمیر کی ہے۔وہ اسے ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا ۔
وہ ڈائیری کھولتا ہے ۔
پرانے کاغذ پر سیاہی پھیلی ہوئی تھی جیسے اس پر آنسو گرے ہوں۔
وہ ڈائیری پڑھتا ہے:
"آج پھر سوچا اگر کبھی زندگی میں موقع ملا تو میں سب کچھ چھوڑ کر نکل جاؤں گا.....
نہ کوئی فون،نہ نام، نہ وہ یاد جو روز مرے.....
بس میں اکیلا کھلے آسمان تلے بے فقری سے بغیر کسی گھٹن کے سانس لوں....
اور میں وہی جاؤں گا جہاں ہم دونوں جانا چاہتے تھے ،زندگی کی دوڈ سے بریک لے کر.....
جہاں شور نہیں ہوتا ، جہاں صرف ہوا ہوتی ہے اور پہاڑ بات کرتے ہیں......
جہاں ندی ختم ہو کر ختم نہیں ہوتی...
بس پتھر بن جاتی ہے ۔
اور جہاں اک اکیلا دیودار کھڑا ہوا تھا ۔
تمہیں یاد ہے ہم نے کہا تھا: جب دنیا سے دل بھر جائے گا تو یہیں آ کر بیٹھیں گے ۔
(سیاہی یہاں پھیلی تھی.... جیسے ہاتھ کانپ گیا ہو)
یہ وہی جگہ ہو گی جہاں میں زندہ ہو جاؤں گا
وہی سانس لوں گا جو روز گھٹ کر رہ جاتی ہے...
اگر میں کبھی گم ہو جاؤں..
اگر کوئی پوچھے کہ " سمیر کہاں ہے ؟"
تو اسے کہنا کہ میں وہاں ہوں جہاں ندی خاموش ہو جاتی ہے ،جہاں سورج خوبصورتی سے ڈھلتا ہے ، جہاں دیودار اکیلا ہے میں اس کے ساتھ ہوں...."
ساحر ڈائیری پڑھنے کے بعد کچھ دیر کے لیے کسی سوچ میں گم ہو گیا ۔
رات میں بستر پر لیٹتے ہی سو گیا اور خود کو خواب میں دیکھا ۔
(خواب تھوڑا دھندلا تھا)
رات میں بھی چاند کی روشنی سب کچھ روشن کیے ہوئے ہے ،
وہ دیودار کا درخت ابھی بھی اکیلا ہے ، نہیں...وہاں کوئی ہے....
(اتنے میں اس کی آنکھ کھلتی ہے)
وہ اٹھ کر بیٹھتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ کون ہو سکتا ہے.
پھر اچانک آٹھ کھڑا اور اس کے چہرے پر وہ چمک تھی جیسے کوئی چیز کھو جانے کے بعد اک دن خود ہی مل جائے ۔
اک پل کے لیے اس نے سوچا کہ وہ سمیر تھا ،وہ زندہ ہے........
پھر وہی سوال آ گیا کہ وہ زندہ کیسے ہو سکتا ہے ؟
وہ بے چین بیٹھا تھا ، اس نے وہی ڈائیری دوبارا کھولی اور کچھ الگ پڑھا:
اگر یہ دنیا کبھی قبر بن جائے تو میں صحرا میں اپنی خود کی قبر کھود لوں گا ،وہاں آزان میری ہو گی اور موت بھی میری ہو گی.....
(ساحر کا ہاتھ کانپ رہا تھا جیسے اس کے سینے میں کسی نے چاقو اتار دیا ہو)
پانچ سال سے وہ تصور کر رہا تھا سمیر کی قبر پر پھول رکھنے کا......آج سمجھ آیا قبر خالی تھی....
مردے ڈائیری نہیں لکھتے ، مردے صحرا میں آزان نہیں دیتے....
تو پھر سمیر تو زندہ ہے....یا پھر میں پاگل ہو گیا ہوں!؟
(اتنے میں فجر کا وقت ہو تا ہے اور ہر طرف آذانیں بلند ہوتی ہیں)
وہ وضو کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور دعا کچھ یوں مانگتا ہے کہ:
Download NovelToon APP on App Store and Google Play