English
NovelToon NovelToon

خوابوں کی اڑان

قسط 1: خوابوں کی دہلیز

رات کے بارہ بج چکے تھے اور پورا محلہ گہری نیند سو رہا تھا، لیکن علیشہ کے کمرے کی کھڑکی سے اب بھی ہلکی سی روشنی باہر آ رہی تھی۔ وہ اپنے پرانے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی تھی، جس کی سکرین پر کوڈنگ کے الفاظ چمک رہے تھے۔ اس کی انگلیاں بڑی تیزی سے کی بورڈ پر چل رہی تھیں، جیسے وہ کوئی جادوئی دھن بجا رہی ہو۔

علیشہ ایک چھوٹے سے شہر کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کے والد، جنہیں وہ پیار سے "ابا" کہتی تھی، ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے اور دن رات محنت کر کے گھر کا خرچ چلاتے تھے۔ علیشہ نے ہمیشہ اپنے ابا کو تھکا ہوا لیکن مسکراتا ہوا دیکھا تھا۔ وہ اپنے والد کے کندھوں کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتی تھی، اور اس کا واحد راستہ اس کا یہ لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر سائنس کی پڑھائی تھی۔

"علیشہ بیٹا! ابھی تک جاگ رہی ہو؟ لائٹ بند کرو اور سو جاؤ، صبح کالج بھی جانا ہے۔" کمرے کا دروازہ ہلکا سا کھولتے ہوئے اس کی امی نے دھیمی آواز میں کہا۔ ان کے چہرے پر علیشہ کے لیے فکر صاف دکھائی دے رہی تھی۔

علیشہ نے مسکرا کر لیپ ٹاپ کی سکرین کو تھوڑا نیچا کیا اور بولی، "بس امی، تھوڑا سا کام باقی ہے۔ میں بس یہ ایک پروگرام مکمل کر لوں، پھر سو جاؤں گی۔ آپ پریشان نہ ہوں اور جا کر سو جائیں۔"

امی نے ایک گہرا سانس لیا اور پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں، "مجھے پتہ ہے تم بہت محنت کر رہی ہو، لیکن اپنی صحت کا بھی خیال رکھا کرو۔ تمہارے ابا بھی تمہاری اس محنت کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں، بس تھوڑا ڈرتے ہیں کہ کہیں میری بیٹی تھک نہ جائے۔"

امی کے جانے کے بعد علیشہ نے دوبارہ سکرین کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں تھکن نہیں، بلکہ ایک عجیب سی چمک تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے خواب بہت بڑے ہیں اور ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے اسے عام لڑکیوں سے زیادہ محنت کرنی ہوگی۔

کچھ ہی دیر میں باہر گلی میں موٹر سائیکل کی آواز آئی۔ علیشہ سمجھ گئی کہ ابا دکان بند کر کے واپس آ گئے ہیں۔ وہ جلدی سے اٹھی اور کچن کی طرف گئی تاکہ ابا کے لیے پانی کا گلاس لا سکے۔

جب وہ پانی لے کر صحن میں پہنچی، تو اس نے دیکھا کہ ابا کرسی پر بیٹھے تھکن سے اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے کی جھریاں ان کی سالہا سال کی محنت کا پتہ دے رہی تھیں۔

علیشہ نے آگے بڑھ کر پانی کا گلاس ان کے ہاتھ میں دیا اور ان کے پاس ہی بیٹھ گئی۔ ابا نے پانی پینے کے بعد پیار سے علیشہ کی طرف دیکھا اور پوچھا، "میری بیٹی نے آج کیا نیا سیکھا؟"

علیشہ نے فخر سے کہا، "ابا! آج میں نے ایک ایسا پروگرام بنانا سیکھا ہے جس سے ہم آپ کی دکان کا سارا حساب کتاب کمپیوٹر پر بہت آسانی سے کر سکتے ہیں۔ اب آپ کو وہ موٹے رجسٹر لکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔"

ابا کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ پھیل گئی۔ انہوں نے علیشہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، "میری بیٹی بہت ذہین ہے۔ بس ہمیشہ یاد رکھنا، کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ محنت کرتے رہو، اللہ تمہارے خوابوں کو ضرور اڑان دے گا۔"

ابا کی یہ بات علیشہ کے دل میں بیٹھ گئی۔ اس نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ وہ اپنی محنت سے اپنے ابا کا سر فخر سے بلند کرے گی اور اس کمپیوٹر کی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائے گی۔

کمرے میں واپس آ کر علیشہ نے لیپ ٹاپ پر اپنی ڈائری کھولی اور اس پر لکھا:

"آج پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ خواب مشکل ضرور ہیں، لیکن ناممکن نہیں۔ میری اڑان ابھی شروع ہوئی ہے۔"

(جاری ہے...)

قسط 2: کالج کا پہلا دن اور نیا عزم

صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی علیشہ کی آنکھ کھل گئی۔ رات کو دیر تک جاگنے کے باوجود اس کے چہرے پر تھکن کا نام و نشان نہیں تھا، بلکہ ایک نئی امنگ تھی۔ آج اس کے نئے کالج کا پہلا دن تھا اور وہ کمپیوٹر سائنس کی کلاسز شروع کرنے کے لیے بہت پرجوش تھی۔

اس نے جلدی سے اپنا نیا یونیفارم پہنا، آئینے میں خود کو دیکھا اور دل ہی دل میں کہا، "علیشہ، آج سے تمہارے خوابوں کا باقاعدہ سفر شروع ہو رہا ہے۔"

جب وہ کمرے سے باہر آئی تو امی کچن میں ناشتہ بنا رہی تھیں اور ابا صحن میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ علیشہ کو دیکھ کر ابا نے اخبار ایک طرف رکھا اور مسکرا کر بولے، "ماشاء اللہ، میری بیٹی کالج کے یونیفارم میں بالکل ایک آفیسر لگ رہی ہے۔"

علیشہ نے ابا کے پاس جا کر ان کے گھٹنوں کو چھو کر دعا لی۔ ابا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور جیب سے کچھ پیسے نکال کر اس کے ہاتھ میں دیے، "یہ رکھو بیٹا، کالج کے پہلے دن کا خرچہ۔ بس دل لگا کر پڑھنا۔"

ناشتہ کرنے کے بعد علیشہ اپنا بیگ کندھے پر لٹکا کر کالج کی طرف روانہ ہوئی۔ کالج کی بڑی عمارت اور وہاں موجود اسٹوڈنٹس کا ہجوم دیکھ کر وہ ایک پل کے لیے گھبرا گئی، لیکن اس نے گہرا سانس لیا اور اپنے ابا کا مسکراتا ہوا چہرہ یاد کر کے آگے بڑھ گئی۔

نوٹس بورڈ پر دیکھ کر وہ اپنی کمپیوٹر لیب کی طرف بڑھی۔ جب وہ لیب میں داخل ہوئی تو وہاں قطار سے رکھے جدید کمپیوٹرز دیکھ کر اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ وہ ایک خالی کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ گئی۔ کچھ ہی دیر میں پروفیسر صاحب کلاس میں داخل ہوئے اور انہوں نے سب کا تعارف لیا۔

کلاس کے دوران پروفیسر صاحب نے کمپیوٹر پروگرامنگ کے بارے میں کچھ بنیادی سوالات پوچھے، جن کا جواب زیادہ تر اسٹوڈنٹس کو معلوم نہیں تھا۔ لیکن علیشہ، جو راتوں کو جاگ کر اپنے پرانے لیپ ٹاپ پر یہ سب پڑھ چکی تھی، نے فوراً اپنا ہاتھ اٹھایا اور بالکل صحیح جواب دیا۔

پروفیسر صاحب نے سب کے سامنے اس کی تعریف کی اور کہا، "بہت اچھے علیشہ! اگر تم اسی طرح محنت کرتی رہیں، تو تم کمپیوٹر سائنس کی فیلڈ میں بہت آگے جاؤ گی۔"

کلاس ختم ہونے کے بعد، جب علیشہ لیب سے باہر نکل رہی تھی، تو اس کی کلاس کی ایک لڑکی سارہ اس کے پاس آئی۔ سارہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور اس کا انداز تھوڑا مغرور تھا۔

سارہ نے علیشہ کے پرانے بیگ اور سادہ جوتوں کی طرف دیکھ کر مسکرا کر کہا، "جواب تو تم نے اچھا دیا علیشہ، لیکن اس کمپیوٹر فیلڈ میں آگے بڑھنے کے لیے صرف کتابی علم کافی نہیں ہوتا، ایک مہنگا لیپ ٹاپ اور آئی فون بھی چاہیے ہوتا ہے۔ کیا تمہارے پاس ہے؟"

سارہ کی بات سن کر علیشہ کا دل ایک لمحے کے لیے اداس ہوا، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے سارہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے اطمینان سے جواب دیا، "سارہ، کمپیوٹر مہنگا ہو یا پرانا، وہ صرف انسان کی کمانڈ (Command) پر چلتا ہے۔ دماغ اور محنت قیمتی ہونی چاہیے، چیزیں تو خود بخود بدل جاتی ہیں۔"

یہ کہہ کر علیشہ وہاں سے مسکرا کر آگے بڑھ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے پاس مہنگا لیپ ٹاپ نہیں ہے، لیکن اس کے پاس وہ سچی لگن ہے جو کسی بازار سے خریدی نہیں جا سکتی۔

جب وہ دوپہر کو گھر واپس آئی، تو وہ سیدھی اپنے کمرے میں گئی اور اپنا پرانا لیپ ٹاپ کھولا۔ سارہ کی باتوں نے اسے اداس کرنے کے بجائے اس کے اندر ایک نئی آگ جلا دی تھی۔ اس نے اپنے نوٹ بک پر لکھا:

"لوگ آپ کے وسائل دیکھتے ہیں، اور اللہ آپ کی نیت اور محنت۔ میں ثابت کروں گی کہ اڑان پروں سے نہیں، حوصلوں سے ہوتی ہے۔"

(جاری ہے...)

قسط 3: عزم کی پہلی جیت

سارہ کی کڑوی باتوں نے علیشہ کو مایوس نہیں کیا تھا، بلکہ اس کے ارادوں کو اور مضبوط کر دیا تھا۔ وہ روزانہ کالج سے آنے کے بعد اپنے پرانے لیپ ٹاپ پر گھنٹوں بیٹھ کر کوڈنگ کی پریکٹس کرتی۔ اس کی بڑی بہن، جسے وہ پیار سے "پیزا" کہتی تھی، اکثر اس کے لیے چائے بنا کر لاتی اور کہتی، "علیشہ، تم اتنی محنت کر رہی ہو، دیکھنا ایک دن تم بہت بڑی سافٹ ویئر انجینئر بنو گی۔" علیشہ اپنی بہن کی بات سن کر مسکرا دیتی اور اس کا حوصلہ اور بڑھ جاتا۔

کالج شروع ہوئے ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ ایک دن نوٹس بورڈ پر ایک بڑا اشتہار لگا، جس نے سب سٹوڈنٹس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ کالج میں ایک "آئی ٹی اور کوڈنگ مقتابلہ" (Coding Competition) ہونے جا رہا تھا، جس میں جیتنے والے کو نہ صرف ایک بہترین سرٹیفکیٹ ملنا تھا، بلکہ ایک انعام بھی دیا جانا تھا۔

علیشہ نے جیسے ہی یہ اشتہار دیکھا، اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ اس نے فوراً اپنا نام مقابلے کے لیے لکھوا دیا۔

جب سارہ کو معلوم ہوا کہ علیشہ نے بھی اس مقابلے میں حصہ لیا ہے، تو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ علیشہ کے پاس آئی اور طنز کرتے ہوئے بولی، "علیشہ، تم اس مقابلے میں حصہ لے رہی ہو؟ یہاں بڑے بڑے امیر گھرانوں کے لڑکے لڑکیاں اپنے مہنگے اور جدید لیپ ٹاپس کے ساتھ آئیں گے۔ تمہارا وہ پرانا اور آہستہ چلنے والا لیپ ٹاپ تو اس مقابلے کا سافٹ ویئر بھی لوڈ نہیں کر پائے گا۔"

علیشہ نے سارہ کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا، بس ایک پرسکون مسکراہٹ کے ساتھ وہاں سے چلی گئی۔ وہ جانتی تھی کہ مقابلہ لیپ ٹاپ کی قیمت کا نہیں، بلکہ دماغ کی صلاحیت کا ہے۔

مقابلے کا دن آ گیا۔ کالج کا بڑا ہال سٹوڈنٹس اور کمپیوٹرز سے بھرا ہوا تھا۔ علیشہ اپنے اسی پرانے لیپ ٹاپ کے ساتھ ایک میز پر بیٹھی تھی۔ سب کے پاس چمکتے ہوئے نئے کمپیوٹرز تھے، جبکہ علیشہ کا لیپ ٹاپ ان کے سامنے بہت معمولی لگ رہا تھا، لیکن علیشہ کا حوصلہ سب سے بلند تھا۔

پروفیسر صاحب نے مقابلے کا آغاز کیا اور سکرین پر ایک بہت مشکل ٹاسک (Task) دیا گیا۔ سب نے تیزی سے ٹائپنگ شروع کر دی۔ سارہ بھی اپنے مہنگے لیپ ٹاپ پر بہت فخر سے کام کر رہی تھی۔

وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد، اچانک ہال میں ایک شور مچا۔ سارہ کا کمپیوٹر ہینگ (Hang) ہو گیا تھا کیونکہ اس نے کوڈنگ میں ایک بہت بڑی غلطی کر دی تھی۔ وہ پریشان ہو گئی اور اس کا چہرہ اتر گیا۔

دوسری طرف، علیشہ بہت پرسکون انداز میں، ایک ایک لائن کو دھیان سے لکھ رہی تھی۔ اس کا پرانا لیپ ٹاپ تھوڑا آہستہ ضرور چل رہا تھا، لیکن علیشہ کا کوڈ بالکل درست تھا۔ اس نے راتوں کو جاگ کر جو محنت کی تھی، وہ آج اس کے کام آ رہی تھی۔

"وقت ختم!" پروفیسر صاحب نے اونچی آواز میں کہا۔ سب نے اپنے ہاتھ کی بورڈ سے ہٹا لیے۔

پروفیسر صاحب اور ججز نے سب کے کوڈز چیک کرنا شروع کیے۔ کچھ ہی دیر بعد، پروفیسر صاحب سٹیج پر آئے اور مائیک ہاتھ میں لے کر بولے، "آج کا یہ مقابلہ بہت سخت تھا، لیکن ایک سٹوڈنٹ نے ایسا زبردست اور پرفیکٹ کوڈ لکھا ہے جس کی ہمیں امید نہیں تھی۔ اس مقابلے کی فاتح ہیں... علیشہ!"

پورے ہال میں تالیوں کی گونج اٹھ گئی۔ علیشہ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ وہ سٹیج پر گئی اور پروفیسر صاحب سے اپنا انعام لیا۔ جب اس نے ہال میں دیکھا، تو سارہ شرمندگی سے نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔

شام کو جب علیشہ گھر پہنچی، تو اس نے اپنا انعام اور سرٹیفکیٹ اپنے ابا کے ہاتھوں میں رکھ دیا۔ ابا نے جب سرٹیفکیٹ دیکھا، تو ان کا سر فخر سے بلند ہو گیا اور ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ انہوں نے علیشہ کو گلے سے لگا لیا اور بولے، "مجھے تم پر فخر ہے میری بیٹی۔ تم نے ثابت کر دیا کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔"

رات کو علیشہ نے اپنے لیپ ٹاپ پر لکھا:

"آج پہلی جیت ملی ہے۔ راستے میں سارہ جیسے لوگ ملیں گے جو آپ کو کمزور سمجھیں گے، لیکن آپ کا جواب آپ کا کام ہونا چاہیے۔ سفر ابھی جاری ہے..."

(جاری ہے...)

Download NovelToon APP on App Store and Google Play

novel PDF download
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play