English
NovelToon NovelToon

"روشنی کا سفر"

قسط 1: اندھیرے میں پہلی کرن

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور بستی کے کچے پکے مکانوں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ بارہ سالہ مریم اپنے گھر کے چھوٹے سے صحن میں چٹائی پر بیٹھی ایک پرانی، پھٹی ہوئی کتاب کو اتنے دھیان سے پڑھ رہی تھی جیسے اس کتاب کے ہر لفظ میں کوئی خزانہ چھپا ہو۔ مریم ایک غریب لیکن انتہائی خوددار گھرانے کی بیٹی تھی۔ اس کے والد دن بھر مزدوری کرتے تھے تاکہ گھر کا چولہا جل سکے۔ غربت نے انہیں بہت سی آسائشوں سے محروم کر دیا تھا، لیکن وہ مریم کے دل سے پڑھنے کا شوق نہیں چھین سکی تھی۔

مریم کا ایک ہی خواب تھا: وہ پڑھ لکھ کر اپنے والدین کا سہارا بننا چاہتی تھی اور اپنی اس پسماندہ بستی کے بچوں کے لیے ایک ایسا اسکول کھولنا چاہتی تھی جہاں تعلیم مفت ہو۔ لیکن حالات اس کے خوابوں کے راستے میں سب سے بڑی دیوار تھے۔ بستی میں لڑکیوں کی پڑھائی کو فضول سمجھا جاتا تھا۔

"مریم بیٹا! اب بس کرو، اندھیرا ہو گیا ہے، آنکھیں خراب ہو جائیں گی۔ آؤ، کچن میں روٹی بنانے میں میرا ہاتھ بٹاؤ،" امی نے پیار سے آواز دی۔

مریم نے مسکرا کر کتاب بند کی اور کچن کی طرف دوڑ گئی۔ وہ گھر کے کاموں میں بھی ہمیشہ اول رہتی تھی۔ ابھی وہ روٹی بنا ہی رہی تھی کہ باہر سے اس کے چھوٹے بھائی علی کے رونے کی آواز آئی۔ مریم جلدی سے باہر بھاگی۔ اس نے دیکھا کہ علی کا ہاتھ گلی کے ایک لڑکے نے زور سے پکڑا ہوا تھا اور وہ اسے چھیڑ رہا تھا کیونکہ علی کے جوتے پھٹے ہوئے تھے۔

مریم نے آگے بڑھ کر علی کو اپنے پیچھے کیا اور اس لڑکے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑی سنجیدگی سے کہا، "کسی کی غربت کا مذاق اڑانا بہادری نہیں، کمزوری ہوتی ہے۔ جوتے پھٹے ہوں تو انسان گرتا نہیں ہے، لیکن اگر سوچ چھوٹی ہو تو انسان کبھی کھڑا نہیں ہو پاتا۔" مریم کے لہجے میں ایسا رعب تھا کہ وہ لڑکا شرمندہ ہو کر وہاں سے چلا گیا۔

رات کو جب ابا گھر آئے، تو ان کے چہرے پر گہری تھکن اور پریشانی تھی۔ مریم نے انہیں پانی دیا اور پاس بیٹھ گئی۔ ابا نے مریم کے سر پر ہاتھ رکھا اور بھرائی ہوئی آواز میں بولے، "مریم، دکان کے مالک نے کہہ دیا ہے کہ کل سے کام پر آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اب گھر کا خرچ کیسے چلے گا اور تمہاری اسکول کی فیس کہاں سے آئے گی؟"

یہ سن کر امی کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں، لیکن مریم نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے اپنے ابا کا ہاتھ تھاما اور بولی، "ابا، آپ پریشان نہ ہوں۔ اللہ کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکالے گا۔ ہم غریب ضرور ہیں، لیکن مایوس نہیں ہو سکتے۔"

اس رات مریم سو نہیں سکی۔ وہ کھڑکی کے پاس کھڑی چمکتے ہوئے تاروں کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے دل میں ایک پکا عزم کیا کہ وہ اپنے والدین کو اس پریشانی سے ضرور نکالے گی۔ اس نے اپنی ڈائری نکالی اور اس پر لکھا:

"جب چاروں طرف اندھیرا ہو، تو روتے نہیں ہیں، بلکہ خود ایک شمع بن کر جلتے ہیں۔ میرا سفر کل صبح سے شروع ہوگا، اور میں اس اندھیرے کو ہرا کر رہوں گی۔"

(جاری ہے...)

قسط 2: ٹوٹتی امید اور عزم کی شروعات

اگلی صبح جب مریم کی آنکھ کھلی تو گھر میں عجیب سی خاموشی تھی۔ ابا صحن میں سر جھکائے بیٹھے تھے اور امی کچن میں اداس کھڑی تھیں۔ مریم جانتی تھی کہ ابا کی نوکری چھوٹ جانے کی وجہ سے پورا گھر پریشان ہے۔ اس نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھے، چہرے پر ایک مصنوعی مسکراہٹ سجائی اور ابا کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔

"ابا، آپ نے ہی تو مجھے سکھایا ہے نا کہ صبح کی نئی کرن ہمیشہ اپنے ساتھ ایک نیا راستہ لاتی ہے؟ آپ ہمت کیوں ہار رہے ہیں؟" مریم نے ابا کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔

ابا نے مریم کی طرف دیکھا، ان کی آنکھوں میں بے بسی تھی، "میری بچی، میں ہمت نہیں ہار رہا، لیکن شہر کے حالات ایسے ہیں کہ آسانی سے مزدوری نہیں مل رہی۔ مجھے تمہاری پڑھائی کی فکر ہے، اگر اس مہینے فیس نہ دی تو وہ اسکول سے تمہارا نام کاٹ دیں گے۔"

مریم کا دل ایک لمحے کے لیے دھک سے رہ گیا، لیکن اس نے خود کو سنبھالا۔ "ابا، پڑھائی صرف اسکول کی چار دیواری میں نہیں ہوتی۔ اگر نیت سچی ہو تو انسان کہیں بھی سیکھ سکتا ہے۔ آپ فیس کی فکر نہ کریں، اللہ کوئی نہ کوئی سبب ضرور بنائے گا۔"

اسی دوپہر مریم نے ایک فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی بستی کا چکر لگایا۔ اس نے دیکھا کہ بستی کے بہت سے چھوٹے چھوٹے بچے گلیوں میں مٹی سے کھیل رہے تھے، کچھ آپس میں لڑ رہے تھے اور کچھ دکانوں پر بیٹھے فضول وقت ضائع کر رہے تھے۔ ان کے والدین کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ انہیں اسکول بھیج سکیں۔

مریم کے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا۔ اس نے سوچا، "کیوں نہ میں ان بچوں کو اپنے گھر کے صحن میں مفت پڑھانا شروع کر دوں؟ اس سے ان بچوں کا بھلا ہوگا، وہ بری عادتوں سے بچیں گے، اور میرے اپنے علم میں بھی اضافہ ہوگا۔"

وہ بستی کی کچھ ماؤں کے پاس گئی اور ان سے بات کی۔ پہلے تو سب نے اس کا مذاق اڑایا۔ ایک عورت نے طنز کرتے ہوئے کہا، "ارے مریم! تم خود ابھی چھوٹی ہو، تمہارے اپنے گھر کے لالے پڑے ہیں اور تم چلی ہو دوسروں کے بچوں کو سدھارنے؟"

لیکن مریم نے ہار نہیں مانی۔ اس نے بڑے ادب سے جواب دیا، "خالہ، علم بانٹنے سے گھر کا راشن کم نہیں ہوتا، بلکہ برکت آتی ہے۔ آپ اپنے بچوں کو روز شام کو صرف ایک گھنٹے کے لیے میرے پاس بھیجیں، اگر ان میں تبدیلی نہ آئے تو پھر روک لیجیے گا۔"

مریم کے مخلص لہجے کا اثر ہوا اور شام کو بستی کے پانچ چھوٹے بچے مریم کے صحن میں آ کر بیٹھ گئے۔ ان کے پاس نہ کتابیں تھیں نہ پنسلیں، بس وہ حیرت سے مریم کو دیکھ رہے تھے۔

مریم نے زمین پر لکڑی کی ایک چھوٹی سی ٹہنی سے مٹی پر الف، ب، ج لکھنا شروع کیا۔ وہ بچوں کو اتنے پیارے اور دلچسپ انداز میں کہانیاں سنا کر پڑھا رہی تھی کہ جو بچے پانچ منٹ ایک جگہ نہیں بیٹھتے تھے، وہ پورے ایک گھنٹے تک دھیان سے اس کی باتیں سنتے رہے۔

پڑھائی ختم ہوئی تو مریم نے ان سے کہا، "کل ہم ایک نئی کہانی سیکھیں گے، لیکن شرط یہ ہے کہ کل آپ سب صاف ستھرے ہو کر آئیں گے اور کسی سے لڑائی نہیں کریں گے۔" بچوں نے ہنستے ہوئے سر ہلایا اور اپنے گھروں کی طرف بھاگ گئے۔

دور کھڑے ابا یہ سب دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں فخر کے آنسو آ گئے۔ انہوں نے مریم کو اپنے پاس بلایا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے، "مریم، آج مجھے سمجھ آیا کہ تم غریب گھر میں پیدا ضرور ہوئی ہو، لیکن تمہاری سوچ کسی بادشاہ سے کم نہیں ہے۔ تم نے اندھیرے کا گلہ کرنے کے بجائے خود کو شمع بنا دیا ہے۔"

رات کو مریم نے اپنی ڈائری میں لکھا:

"آج میری بستی کے پانچ چراغ روشن ہوئے ہیں۔ راستہ مشکل ضرور ہے، لیکن جب ارادے نیک ہوں تو منزل خود بخود قریب آنے لگتی ہے۔ ابھی یہ شروعات ہے، مجھے اس پورے اندھیرے کو روشنی میں بدلنا ہے۔"

(جاری ہے...)

قسط 3: مٹی کے چراغ اور حاسدوں کی دیوار

مریم کا چھوٹا سا صحن اب روز شام کو بچوں کی ہنسی اور پڑھائی کی آوازوں سے گونجنے لگا تھا۔ پانچ بچوں سے شروع ہونے والی اس کلاس میں اب بستی کے بارہ بچے آ چکے تھے۔ مریم ان کے لیے صرف ایک استانی نہیں تھی، بلکہ وہ ان کی سب سے اچھی دوست بن چکی تھی۔ وہ بچوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ بڑوں کا احترام کرنا، سچ بولنا اور صفائی ستھرائی رکھنا بھی سکھاتی تھی۔ بستی کے وہ بچے جو پہلے گلیوں میں لڑتے جھگڑتے تھے، اب ان کے اخلاق بدلنے لگے تھے۔

مریم کی یہ کامیابی بستی کے کچھ ان پڑھ اور حاسد لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ ان میں سب سے آگے بستی کا ایک دکاندار "زمان" تھا، جو بچوں سے اپنے ہوٹل پر سستا کام کرواتا تھا۔ جب سے بچوں نے مریم کے پاس پڑھنا شروع کیا تھا، انہوں نے ہوٹل پر کام کرنے سے منع کر دیا تھا۔

ایک شام، جب مریم بچوں کو مٹی پر لکڑی سے حساب کے سوال حل کرنا سکھا رہی تھی، زمان چند آدمیوں کے ساتھ مریم کے گھر کے باہر آ کر کھڑا ہو گیا اور اونچی آواز میں چلانے لگا۔

"او مریم کے ابا! باہر آؤ ذرا۔ دیکھو تمہاری بیٹی نے ہماری بستی کا ماحول خراب کر رکھا ہے۔ یہ لڑکیوں کا کام ہے بھلا؟ خود تو اسکول جا نہیں پا رہی اور یہاں بڑی پروفیسر بن کر ہمارے بچوں کو بہکا رہی ہے!" زمان نے بدتمیزی سے کہا۔

شور سن کر مریم کے ابا اور امی باہر آ گئے۔ ابا نے بڑے پیار سے کہا، "زمان بھائی، میری بیٹی تو بچوں کو اچھی باتیں سکھا رہی ہے، اس میں ماحول خراب کرنے والی کیا بات ہے؟"

"بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو بابو نہیں بنانا، انہیں کام دھندے پر لگانا ہے۔ کل سے اگر کوئی بچہ اس صحن میں نظر آیا، تو اچھا نہیں ہوگا،" زمان نے دھمکی دی اور وہاں سے چلا گیا۔

بچے ڈر گئے اور مریم کے والدین بھی پریشان ہو گئے۔ امی نے مریم سے کہا، "بیٹا، اب بس کر دو۔ ہم غریب لوگ ہیں، ان جھگڑوں کا سامنا نہیں کر سکتے۔"

مریم کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا، لیکن اس نے اپنی ہمت کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ اس نے بچوں سے کہا، "آپ سب کل اپنے وقت پر آئیں گے۔ جب تک ہمارے ارادے سچے ہیں، کوئی ہمارا راستہ نہیں روک سکتا۔"

اگلے دن، مریم نے ایک بڑا قدم اٹھایا۔ وہ بستی کے ان بچوں کے والدین کے پاس خود گئی جو اس کے پاس پڑھتے تھے۔ اس نے ماؤں کو سمجھایا کہ تعلیم کیوں ضروری ہے۔ اس نے کہا، "اگر آج آپ کے بچے پڑھ گئے، تو کل وہ زمان جیسے لوگوں کے محتاج نہیں رہیں گے اور آپ کا نام روشن کریں گے۔" مریم کی باتوں میں ایسا خلوص تھا کہ سب ماؤں نے مریم کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا۔

شام کو جب زمان دوبارہ اپنے آدمیوں کے ساتھ دھمکی دینے آیا، تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ مریم کے صحن میں صرف بچے ہی نہیں، بلکہ ان کی مائیں بھی لاٹھیاں اور جھاڑو لیے کھڑی تھیں۔

مریم نے آگے بڑھ کر بڑے حوصلے سے کہا، "زمان صاحب! اب میں اکیلی نہیں ہوں، اب پوری بستی کے بچے اور ان کی مائیں علم کی اس روشنی کے ساتھ کھڑی ہیں۔ اگر آپ نے اب کسی بچے کو پڑھنے سے روکا، تو ہم پولیس اسٹیشن جائیں گے۔"

مریم کا یہ روپ دیکھ کر زمان کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ خاموشی سے اپنے آدمیوں کے ساتھ پیچھے ہٹ گیا۔ مریم نے مٹی کے ان چراغوں کو حاسدوں کی آندھی سے بچا لیا تھا۔

رات کو مریم نے اپنی ڈائری میں لکھا:

"آج مجھے معلوم ہوا کہ جب آپ اکیلے سچائی کے راستے پر نکلتے ہیں، تو اللہ لوگوں کے دلوں میں آپ کے لیے محبت اور ہمت ڈال دیتا ہے۔ ابھی تو صرف ایک دکاندار ہارا ہے، مجھے اس بستی کی تقدیر بدلنی ہے۔"

(جاری ہے...)

Download NovelToon APP on App Store and Google Play

novel PDF download
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play