JANE KHAN♡•
یہ منظر ہے پاکستان کے ایک شہر ایبٹ آباد کا۔ ایک 19 سال کی لڑکی جس نے سفید انارکلی فراک پہنی ہوئی تھی۔۔۔
لمبے بال کھول کر کندھے پر ڈالے، ہلکا سا میک اپ کیے ہوئے جس کی اسے ضرورت نہیں تھی۔۔۔
وہ کہیں جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔
کمرے کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کی امی کی آواز آئی:
"ماہ نور بیٹا تیار ہو گئی آپ۔۔۔؟"
ماہ نور: "جی جانو ہو گئی ریڈی۔۔"
(ماہ نور پیار سے اپنی ماما کو جانو بولتی تھی۔)
رانی بی: "شاباش میری بیٹی، اب جلدی سے گاڑی میں بیٹھ جائیں۔۔ ہمیں نایاب کے نکاح میں جانا ہے۔۔۔"
نایاب رشتے میں ماہ نور کی اچھی دوست اور کزن تھی۔ وہ بہت خوش تھی اس کے نکاح پر۔
سارے راشتہ دار، دوست اور عزیز لوگ اکھٹے تھے۔
آج سید زادوں کے گھر میں رونق چھائی ہوئی تھی۔۔۔
وہ لوگ کہتے ہیں نا:
"جب سید سورنے پر آتے ہیں تو لوگ دیدار کو ترستے ہیں۔۔۔"
وہ سب سید زادے اتنے حسین لگ رہے تھے جیسے آسمان سے اترے ہوئے شہزادے ہوں۔۔۔
جو بھی کہو تھے تو وہ شہزادے ہی تھے۔
نایاب نے گرے کلر کی میکسی پہنی ہوئی تھی۔۔۔
اس کے ساتھ میچنگ جیولری، بالوں کو رول کر کے کندھے پر ڈالے ہوئے۔۔۔
لائٹ میک اپ کے ساتھ وہ بالکل پری لگ رہی تھی۔۔۔
ماہ نور سائیڈ پر کھڑی اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔
نایاب نے کہا:
"ٹھرکی عورت ایسے نا دیکھ مجھے۔۔۔"
• ماہ نور آگے بڑھی تو۔۔۔
نایاب نے ایک دم اپنے سامنے ہاتھ رکھ دیے۔۔۔
مانور سدمے میں چلی گئی۔۔۔
جیسے وہ سچ میں اس کی عزت لوٹ رہی ہو۔۔۔
ماہ نور: "ابے ہٹ نظر اتار رہی تھی تیری۔۔۔ میرا بچہ کتنا پیارا لگ رہا ہے۔۔۔"
(اس نے اسے دیکھتے ہوئے پیار سے کہا۔)
نایاب: "ماہ نور تم نے شادی کر لی اور مجھے بلایا نہیں۔۔۔ اور تیرا بچہ بھی ہے جاو یہاں سے مجھے بات نہیں کرنی تم سے۔۔۔"
یہ سن کر ماہ نور کا دل کیا۔۔۔ یا اس کا سر پھاڑ دے یا اپنا۔۔۔
ماہ نور: "میری ماں میں نے کوئی شادی نہیں کیییییی اس نے 'کی' پر زور ڈالا۔۔۔"
نایاب: "تو پھر تیرا بچہ کہاں سے آیا۔۔۔"
(اس نے اپنی ساری عقل کا استعمال کیا۔۔۔)
ماہ نور: "یا اللہ جی مجھے صبر دے۔۔۔"
(ماہ نور کی آہ نکلی)
اور نایاب دانت نکال کر ہنسنے لگی۔۔۔
نایاب بہت خوش تھی آخرکار اس کی پسند سے نکاح تھا۔۔۔
سب ہال میں پہنچ چکے تھے۔۔۔ نایاب، ماہ نور، تہذیب جو ماہ نور کی طرح ہی کزن اور دوست تھی۔۔۔
یہ تینوں ایک دوسرے کی بہت اچھی دوستیں تھیں۔۔۔
یہ تینوں حیدر (جو نایاب کا بھائی تھا) کے ساتھ ہال پہنچی۔۔۔
نکاح کی تقریب شروع ہو گئی۔۔۔
"نایاب ولد سید الیاس حسین شاہ۔۔۔
آپ کا نکاح سید کبریال حسین شاہ ولد سید امجد حسین شاہ سے 5 لاکھ حق مہر کے ساتھ مقرر وقت پر ادا کیا جاتا ہے۔۔۔"
"کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟؟"
"جی قبول ہے۔۔"
(نایاب نے شرماتے ہوئے جواب دیا۔)
اسی طرح کبریال سے بھی پوچھا گیا۔۔۔
"جی قبول ہے۔۔"
نکاح کی تقریب کے بعد سب نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔۔۔
ماہ نور نے نایاب کو پیار سے گلے لگایا۔۔۔
اور اسے اس کی نئی زندگی کی بہت مبارک باد دی۔۔۔
سب گھر واپس آ چکے تھے۔۔۔
لاونج میں بیٹھ کر ساری نوجوان نسل گپیں ہانک رہی تھی۔۔۔
نایاب: "مانو پانی لا دو نا۔۔۔"
مانو: "نہیں میں نہیں جا سکتی نا۔۔۔"
(اس نے منہ بنا کر کہا)
نایاب نے بیچارگی سے ہاتھ جوڑ کر کہا اور (رونے والی شکل بنا لی)
ماہ نور: "ابے جا رہی ہوں اور ایکٹنگ کی دوکان۔۔۔"
ماہ نور اٹھ کر کچن کی طرف بڑھی تھی کہ۔۔۔
اتنے میں۔۔۔؟؟
"جاری ہے ۔۔۔۔ "
اتنے میں دروازے سے ۔۔
شان و شوکت کے ساتھ وہ داخل ہوا ۔۔
(6.5 فٹ قد کا مالک کالے سوٹ کے ساتھ کالی ہی کھڑیا پہنے۔۔ بالوں کو سیٹ کیے ہوئے وہ 24 سال کا پٹھان لڑکیوں کے دلوں پر کہربرسا رہا تھا ۔۔اور وہ تو تھا بھی اپنے قبیلے کا سردار غصہ بھی ججتا تھا اس پر۔)
ماہ نور کچن سے گلاس اٹھاتے باہر کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔
اتنے میں اسکا پیر ایک کیلے کے چھلکے پر آگیا۔۔۔
اور ہماری ماہ نور ٹھا کر کے نیچے گر گئی ۔۔۔
اور وہ پاس کھڑے ہو کر دانت نکال رہا تھا ۔۔۔۔
ماہنور:"سالاررررر بھائی۔۔۔۔
(وہ چیخی )
سالار:" ہاہاہاہاہا 😂۔۔
بچاکتنی بار کہا ہے۔۔
دیکھ کر چلو نا۔۔۔
اور میں کوئی بھائی نہیں ہوں آپ کا آئی سمجھ۔۔۔"
( اس نےبازو چھاتی پر باندھتےہوئے کہا اور آئی برو اچکایا۔)
اب ماہ نور کو کہاں پتا تھا وہ ان جناب کے دل پر قبضہ کر کے بیٹھی ہوئی ہیں ۔۔۔۔
ماہ نور:" اکسکیوز می ۔۔۔"
سالار:" جی اکسکیوز ۔"
(اگر وہ سیر تھی تو وہ سوا سیر تھا ۔۔۔)
ماہنور:" ابے یار اٹھا تو دیں یا میں ساری زندگی آپکے پیروں میں بیٹھی رہو۔۔۔"
سالار:" ارے نہیں۔۔"
اس نے اپنا مضبوط ہاتھ آگے بڑھایا اور کہا:
" آپ سید زادی ہے آپ کی جگہ ہمارے پیروں میں نہیں ۔
آپ تو ہمارے سر کا تاج ہیں ۔۔۔"
(اس نے ادب سے آنکھیں جھکا لی ۔وہ عزت والا تھا۔۔ اسے عزت کرنا آتی تھی ۔)
یقینا اگر قبیلے کے لوگ اگر اپنے سردار کو ایسے نظریں جکائےدیکھتے تو سدمے میں چلے جاتے۔
سب لوگ انکی طرف متوجہ ہوے ۔۔۔
ماہ نور تو نا ڈر تھی ۔۔
وہ کہاں ڈرتی تھی کسی سے۔۔
اور اسکی یہی بات تو ہمارے سردار کو پسند تھی ۔۔۔
وہ اسے اس وقت ایسے گھوررہی تھی جیسے اسے کچا چبا جائے گی ۔۔۔۔
(ہاں اگر اسکے بس میں ہوتا تو وہ اسے کچا چبا ہی جاتی۔۔ بس میں تو ویسے بہت کچھ تھا ۔)
سالار:" بچا مینے تو نہیں گرایا نا آپکو ۔۔۔"
اس نے اسے ایسے دیکھتے ہوے کہا ۔(بچا لفظ اس کی آواز میں سنے سے اتنا پیارا لگ رہا تھا۔۔۔ یقینا اگر کوئی اور ہوتا تو اسے دیکھ کر ہی پگل جاتا۔۔ لیکن یہاں تو ہماری کسی کی بھی طرف نا دیکھنے والی ماہ نور تھی ۔۔۔)
ماہنور:"اوئے میں بچا نہیں ہو مسٹر سالارجان ۔۔۔"
"oh sorry i mean mister salar khan ...."
(ہائے اسکا غلطی سے بھی سالار جان کہنا۔۔
اسکے دل کو چھو گیا ۔۔۔
اسکا دل کیا وہ بار بار یہ سنے لیکن یہ کہاں ممکن تھا ۔۔۔
اسے ایسے لگا وہ یہاں سے ہل نہیں سکے گا ۔)
اتنے میں حیدر انکے پاس آگیا۔۔
سالار حیدر کا دوست تھا۔
"چلو آؤ، لاؤنج میں چلتے ہیں۔" حیدر نے کہا۔
سالار نے وہیں سے بات شروع کی اور کہا، "اگر بچہ نہ کہو تو پھر کیا کہو؟" (اس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔)
فٹافٹ جواب آیا:
"بہن"
سالار کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور باقی سب کے چھت پھاڑ قہقہے گونج اٹھے۔
اس نے لڑکھڑاتی آواز میں جواب دیا:
"کیا بہن؟ نہیں، استغفراللہ! ایسی باتیں نہیں کرتے۔"
اب سالار کی گول گول باتیں ماہ نور کے چھوٹے ذہن میں کہاں آنی تھیں۔ باقی سب کو اس کی باتوں کا مفہوم اچھی طرح معلوم تھا۔
سب تیاریوں میں مصروف تھے کیونکہ کل نایاب کی مہندی تھی، پھر رخصتی اور پھر ایک دن بعد ولیمہ تھا۔ سب بہت خوش تھے اور وہ تینوں گپیں ہانکنے میں لگی ہوئی تھیں۔
آج مہندی تھی۔ رات کو سب دیر سے سوئے تھے۔ ماہ نور، نایاب اور تہذیب نایاب کے کمرے میں ہی سو گئی تھیں۔
ماہ نور کی ماما ان سب کو اٹھانے کی ناکام کوشش کر رہی تھیں۔
"اٹھ جاؤ نا مانو بیٹا، ناشتہ کرو، پھر تم سب کو پارلر بھی تو جانا ہے۔" (انہوں نے اپنی پوری کوشش کی تھی۔)
"امممم 😴 تھوڑا سا سونے دو نا۔"
"اٹھو اور انہیں بھی اٹھاؤ، سب ٹیبل پر ویٹ کر رہے ہیں۔"
سب سے پہلے اس کی آنکھیں کھلیں۔
"کون سب؟" اس نے منہ پھلا کر سوال کیا۔
"آپ کے بابا، تایا ابو، چاچو، آپ کے دونوں بھائی، کزن اور آپ کی تائی امی اور چاچی، بس۔"
"ماما بس یہی لوگ ہیں نا؟" (اس نے یقین دہانی کے لیے پھر پوچھا۔)
"ہاں، بس یہی لوگ ہیں۔"
ماہ نور یہ سن کر خوشی سے اٹھ گئی، جو صرف کچھ پل کی تھی۔
اس نے ان دونوں کو اٹھایا اور فریش ہونے چلی گئی۔
ان کا گروپ ڈائننگ ٹیبل کے پاس پہنچا۔ باقی سب تو نارمل تھا لیکن ہمارے خان کو دیکھ کر اس کے چہرے سے مسکراہٹ ایسے غائب ہوئی جیسے بلی کو دیکھ کر چوہا غائب ہوتا ہے۔
اس نے تمیز کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کو ادب سے سلام کیا اور بیٹھ گئی۔
معصوم شکل کے ساتھ غصہ اتنا اچھا لگ رہا تھا کہ اگر کوئی دیکھتا تو اس ایٹیٹیوڈ پر فدا ہو جاتا۔
(فدا تو کوئی پہلے سے تھا۔)
وہ ٹیبل پر بیٹھے اسے گھورے جا رہی تھی۔ اس بیچارے کے تو گلے میں ہی نوالہ اٹک گیا۔ آخر کو وہ دشمنِ جان اسے ایسے گھور رہی تھی۔
"مانو، اب کچھ کھا بھی لو۔" تہذیب نے عقل مندی سے کہا۔
"آہم۔" اس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
اس کی ساری حرکتیں بچوں والی تھیں۔
(اپنے خان کے لیے تو وہ بچی ہی تھی۔)
"کیا کھاؤ؟"
"زہر۔" نایاب بولی۔
"ارے، میری عمر ہی کیا ہے ابھی۔"
اس کی ڈرامے بازی اسٹارٹ ہو گئی تھی جو بڑوں سے دیکھی نہیں جا رہی تھی، وہ سب اندر چلے گئے اور نئی نسل Gen Z وہیں بیٹھ کر اس چڑیل کے ڈرامے دیکھنے لگی۔
"اگر میں مر گئی تو آپ سب روئیں گے کیا؟"
(پتا نہیں اسے کیا سوجھی، اس نے پوچھ لیا۔)
حیدر: "میں تو بریانی کھاؤں گا۔"
نایاب: "میں سب کو ٹریٹ دوں گی۔"
تہذیب: "میں پارلر سے ریڈی ہو کر آؤں گی۔"
عروج: "میں شکر کروں گی، دنیا کا بوجھ کم ہو گا۔"
سالار چپ تھا۔
(اس کے اس سوال پر سالار کا دل پھٹنے والا تھا۔ وہ کیسے مرنے دے سکتا تھا اسے جس کے لیے وہ جی رہا تھا؟)
"سالار جی، آپ رہ گئے، آپ بھی بول لیں کچھ۔"
(ان سب کے جواب سن کر اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئی تھیں۔)
"بچہ، مرے آپ کے دشمن۔ اللہ پاک آپ کو میری بھی عمر لگا دیں۔"
(اس کا دل پھٹنے لگا۔ کوئی کیسے اس کی جاناں، اس کی گڑیا کے بارے میں ایسے بول سکتا تھا؟ یہ بولتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔ آخر وہ اس سے خاموش محبت کرتا تھا۔)
اتنا بول کر سالار غصے سے کھڑا ہو گیا اور اس نے ایک خطرناک گھوری سے سب کو نوازا اور باہر جانے لگا۔
یہ سن کر ماہ نور حیران ہوئی تھی۔
کیا اتنے بڑے قبیلے کا سردار اس کے لیے ایسا بول سکتا ہے؟ کیا وہ کسی کے لیے اتنی خاص ہو سکتی ہے؟
"خان جی۔" ماہ نور نے سالار کو آواز دی۔
"جی گڑیا۔" (وہ نظریں نیچے کر کے کھڑا ہو گیا۔)
"آپ ہمیں پارلر سے پک کر لیں گے؟"
(اس نے ہونٹوں کو عجیب شکل دیتے ہوئے کہا۔)
"جی بچہ، ضرور۔"
(سالار کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔)
"اہم اوٹے، تھینک یو خان جی۔"
(پہلی بار خان جی کہنے پر لڑائی نہیں ہوئی تھی۔ اور اگر اوکے کو پتا چل جاتا کہ اس کے ساتھ کیا ظلم ہوا ہے، یقیناً وہ الٹا لٹک کر مر جاتا۔)
اس کی بات سنتا ہوا وہ باہر جا چکا تھا۔
"اسلام علیکم مورے جان۔"
"وعلیکم السلام مورے جان کا بچہ۔ آج بڑے خوش لگ رہے ہو، ماشاءاللہ۔"
"مورے، آپ کو پتا ہے ۔۔۔؟؟
" جاری ہے ۔۔۔۔"
سالار کے گھر سے آمنہ بی بی ،حلیمہ خان،اہل خان اور علی خان آئے تھے ۔
ماہ نور کا میسج آگیا تھا ۔سالار انھیں لینے جا چکا تھا۔۔
ماہ نور تیرا فون بج رہا ہے ۔ کہاں ہے ۔ تمہارے پاس ہو گا ۔ یہ رہا ۔ دیکھ کس کی کال آرہی ہے تہذیب ۔ کھڑوس خان کی ۔ ابے یہ کون ہے ؟؟ تم لوگوں کا چہیتا خان کال اٹھاو اور بات کرو ۔ اسلام علیکم سالار بھائی ۔وعلیکم اسلام ۔
یہ ماہ نور کا نمبر ہے نا تہذیب؟؟ اس نے تہذیب کی آواز سنتے ہوئے کہا۔۔ جی سالار بھائی اسی چڑیل کا ہے وہ چینج کرنے گئی ہوئی ہے ۔۔۔۔
او اچھا آپ لوگ ریڈی ہو گئی ۔ جی بس ملکہ عالیہ چینج کر کے آجائے ۔
میں باہر ویٹ کر رہا ہوں جلدی آئیں ۔ اوکے اللہ حافظ ۔
ماشااللہ ماشاللہ آپکی برائیڈ بہت پیاری لگ رہی ہے ۔
آخر کزن کس کی ہے ۔ وہ کیسے کوئی موقع جانے دے سکتی تھی ۔ماہ نور نے ڈریسنگ روم سے باہر آتے کہا ۔۔سب کی نظر اس پر پڑی۔ سب کے منہ سے بے ساختہ ماشااللہ نکلا ۔ مہندی رنگ شرارے پہنے ہوئے بالوں کو جوڑے کی شکل میں قید کیے ہوئے ۔
جوڑے میں گلاب کا پھول لگایا ہوا۔ ہلکا سا میکپ کیے ہوئے وہ نظر لگ جانے کی انتہا تک خوبصورت لگ رہی ہے ۔
ابے آج میری مہندی ہے ۔ہاں تو تیری ہی ہے ۔ تو تم پھر مجھ سے زیادہ پیاری کیوں لگ رہی ہو ۔ 🙈ہائے اللہ میری انی تعریفیں ۔ اسے سچ میں شرم ا گئی ۔۔۔
اب آجائے آپ لوگ ۔سالار جو بچاراباہر کھڑا تھا ۔ سالار جی بس دو منٹ آ رہے ہیں ۔
اسکے منہ سے اپنا نام سن کر ایک عجیب سی مسکراہٹ آئی تھی ۔
جلدی کرو ۔
وہ تینوں چلتے ہوئے باہر آئی۔ سالار فون پر بات کر رہا تھا ۔
نایاب فرنٹ پر بیٹھ گئی تھی کیوں کے اس کے کپڑے ہیوی تھے ۔
تہذیب بیٹھ رہی تھی ۔ اور ماہ نور وہ کچھ دیکھ رہی تھی ۔ لیکن کیا ؟؟
سالار فون بند کر کے انکی طرف متوجہ ہوا ۔
چلیں ۔۔
ہاں چلیں ۔
اس نے گاڑی میں نظر ڈالی تو وہ اسے نہیں دکھی ۔
وہ کہاں ہے ؟؟ (اس نے سپاٹ لہجے میں پوچھا ۔)
ادر ہی ہے باہر وہ دیکھیں ۔
اس نے اس طرف دیکھا جہاں تہذیب نے اشارہ کیا ۔
لیکن جب اس نے وہاں نظر ڈالی تو اسکی نظر ہٹ نہیں رہی تھی وہاں سے ۔
وہ اس قدر پیاری لگ رہی تھی کہ وہ سیدھا اسکے دل میں اتر رہی تھی ۔
معصوم سی صورت پر فکرمندی تھی ۔ وہ ایک بزرگ عورت کو سڑک پار کرا رہی تھی ۔
لو ہو گئی اسکی خدمت خلق شروع ۔نایاب نےاسے دیکھتے کہا۔۔
سالار بھائی لے کر آئیں اسے !
صبر میں لاتا ہوں انھیں ۔ وہ اسکی اس خرکت پر مسکرا رہا تھا ۔ جاناں اسی لیے تو تم اس خان کے دل پر راج کرتی ہو ۔اس نے زیرلب کہا ۔"ماہ نور، چلیں۔"
"ہاں جی، چلیں۔"
وہ دونوں ساتھ میں چل کر آ رہے تھے۔ نایاب اور تہذیب انہیں دیکھ رہی تھیں۔
"ہائے ماشاء اللہ! کتنی پیاری جوڑی ہے ان دونوں کی۔" نایاب نے رشک سے دیکھتے ہوئے کہا۔
"ہاں، ویسے تیری بات تو ٹھیک ہے، جچتے ہیں ایک ساتھ۔"
"اللہ کرے ان دونوں کی شادی ہو جائے۔"
"کتنا مزہ آئے گا۔۔"
"آمین۔" (لگتا ہے وہ وقت قبولیت کا تھا۔)
"لیکن ہمارا خاندان۔۔۔ اور اس کا خاندان بھی سخت ہے۔"
"مجھے پتا ہے سالار بھائی اسے پسند کرتے ہیں، لیکن وہ کبھی نہیں مانے گی۔"
"ہاں، اسے پیار، محبت فضول لگتے ہیں۔"
"وہ بولتی ہے محبت تو وہ ہوتی ہے جو اپنے محرم سے کی جائے۔"
"ہاں، اس لیے۔۔۔ اس نے کبھی کسی سے محبت نہیں کی، بلکہ اپنی محبت کو اپنے محرم کے لیے بچا کر رکھا۔"
"مجھے یقین ہے، تہذیب، وہ سردار سالار خان ہے، وہ اسے پا لے گا۔"
"آمین، ایسا ہی ہو۔"
"ہم تو یہی چاہتے ہیں۔"
"ویسے دیکھ تو، یہ لیلا مجنوں آئے کیوں نہیں ابھی تک۔۔"
وہ دونوں ساتھ میں چل رہے تھے۔ اتنے میں ماہ نور کی نظر سڑک کے پار پڑی۔
وہ ایک دم رک گئی۔ سالار حیران ہو کر پیچھے مڑا۔
اس کی آنکھوں میں خوشی کی لہر تھی۔۔۔ ایک خوبصورت چمک تھی۔
سالار نے اس کی نظر کے زاویے میں دیکھا۔
وہاں گجرے والا تھا۔
(ہائے گجرے! لڑکیوں کا پہلا پیار شاید اس لیے، کیونکہ ان میں سے پیار کی خوشبو آتی ہے۔ وہ نرم ہوتے ہیں، ان کی طرح۔)
"سالارررررررر جی ی ی! وہ دیکھےےےے گجرےےےےے!"
وہ خوشی سے چیخی۔
سالار حیران تھا۔ اتنی خوشی!
اس کی اس چیخ پر وہ کھلکھلا کر ہنسا،
جس سے اس کے ڈمپل آب و تاب سے چمکنے لگے۔
"بچا، آپ کو چاہیے وہ؟"
جواب تو سالار کو پتا تھا،
لیکن وہ اس کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔
"ہاں جی۔۔۔"
وہ خوشی سے چہکی۔
اس نے دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری اور کہا:
"ہائے میرا بچا، ماشاء اللہ۔۔۔"
اس نے 5000 کا نوٹ نکالا اور گجرے والے کو دیا۔۔۔
"بچا، کتنے چاہییں؟"
"امم۔۔۔ دو ہی ہاتھ ہیں میرے، اگر اور ہوتے تو سارے لے لیتی۔"
اس نے معصومیت سے کہا۔
"اوکے، ویٹ فار اے منٹ!"
اس نے دو گجرے لیے۔
"یہ لیں آپ کے باقی پیسے۔"
"نہیں، رکھ لیں آپ۔"
"شکریہ بیٹا، میرے بچوں کا کھانا آ جائے گا۔"
"اللہ تم دونوں کی جوڑی سلامت رکھے۔"
سالار نے اتنی آہستہ آواز میں "آمین" کہا۔۔۔ جو صرف اسے سنائی دی۔
"آپ نے انہیں اتنے پیسے کیوں دیے؟"
"کسی کا صدقہ اتارا ہے، بس وہی تھے۔"
"او، سہی۔"
"ادھر آئیں، آپ کو گجرے پہناؤں۔"
"اممم۔۔۔ میں خود پہن لوں گی۔"
اس نے سوچ کر کہا۔۔۔
"ارے، جو لے کر دیتا ہے وہی پہناتا ہے، پاگل۔"
"ارے، ایسا نہیں ہوتا۔"
"ایسا ہی ہوتا ہے۔"
"لائیں، اپنے ہاتھ آگے کریں۔"
"امممم۔۔۔ اچھا، یہ لیں۔"
اس نے آخرکار ہاتھ آگے کر ہی دیے۔
اس نے پیار سے اس کے نازک ہاتھ تھامے۔
وہ دنیا سے بےخبر ہو گیا۔۔۔
اس کا نازک لمس محسوس کرنے لگا۔
اور ۔۔۔؟؟
" جاری ہے ۔۔۔"
Download NovelToon APP on App Store and Google Play