Assalamualaikum
Well come to Nushay writer's
Novel name
Ishq e lahasil
Episode 1
Pat 1
کہانی تین ایسے کرداروں کی جو ایک دوسرے سے مختلف تھے
یہ کہانی ہے ہانیہ شاہ کی اور اس کی بے لوث محبت کی
کہانی زبیر شاہ کی ایک مغرور شہزادہ جیسے ہانیہ نے پاگلوں کی طرح محبت کی تھی یہ کہانی ہے اسامہ شاہ کی جس نے ہانیہ شاہ بے لوث محبت کی تھی
لیکن ہانیہ شاہ اس بات سے بے خبر تھی کہ کوئی اسے دیوانوں کی حد تک چاہتاہے بالکل اسی طرح جس طرح زبیر شاہ اس بات سے بے خبر تھا کہ کوئی اس کی توجہ اس کے پیار اس کے انداز اس کے کردار سے محبت کر بیٹھی ہے
کہانی شروع ہوتی ہے لاہور سے
اور تاریخ گواہ ہے کہ جو کہانی لاہور سے شروع ہوتی ہیں ان کا اختتام کچھ اسی انداز میں ہوتا ہے کہ نہ تو محبت ملتی ہے اور کئی مرتبہ مل کر بھی بچھڑ جاتی ہے
کہانی ہانیہ شاہ کی جو زبیر شاہ کی محبت میں جا نے دے گی
کہانی اسامہ شاہ کی جس کی محبت نے اس کی گود میں اپنی اخری سانسیں لی تھی اس دن اسامہ شاہ کو اپنا اپ خود ختم ہوتا ہوا محسوس ہوا تھا
ہانیہ شاہ اپنے تایا کے گھر ان کے ساتھ رہتی تھی اس کے والدین کی بچپن میں وفات ہوئی تھی
ہانیہ کے تایا نے اپنے بھائی کی اخری نشانی کو بہت سنبھال کے رکھا تھا
شاہ مینشن میں ہانیہ کے تا یا سکندر شاہ ہانیہ کی تائی مسرین شاہ ان کے تین بیٹے رہتے تھے اور ہانیہ کی دادی
زرار شاہ اور زبیر شاہ اور اسامہ شاہ
ہاں نیار میں سب کی لاڈلی تھی گھر کی اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے سب کے پیار اور توجہ کا ایک ہی مرکز تھا
جس کی وجہ سے ہانیہ کافی حساس ہو گئی تھی خاص طور پر زبیر شاہ کے معاملے میں
زرار شاہ کی لاڈلی اپنی ہر بات منوانے والی اور ضد کرنے والی
خاص طور پر زبیر شاہ کے سامنے کیونکہ اسے پتہ تھا یا مان تھا کے اس کی ہر ضد پوری ہو جائے گی
ابھی بھی وہ منہ پلا کر صوفے پر بیٹھی تھی کیونکہ اسے ائس کریم کھانی تھی اور زبیر شاہ نے اسے منع کر دیا تھا وہ اداس سی ہو کر بیٹھی ہوئی تھی جب اسامہ شاہ اس کے پاس اتا ہے کیا ہوا ہے اج میری پری بہت اداس ہے اسامہ شاہ اسے پری ہی کہتا تھا کیونکہ وہ اسامہ شاہ کی پری ہی تھی
مجھے کسی سے بات نہیں کرنی ہانیہ دوسری طرف چہرہ کر کے کہتی ہے اتنے میں زرار شاہ بھی ا کر ان کے پاس بیٹھ جاتا ہے
کیا ہوا ہے بڑی خاموشی ہے اج
مجھے بتائیں اداس کیوں بیٹھی ہیں
مجھے ائس کریم کھانی تھی لیکن زی نے منع کر دیا
اور مجھے ڈانٹا بھی
اور میری گڑیا کو ائس کریم کھانی تھی اس میں اداس ہونے کی کیا بات ہے جا کر کھاتے ہیں اٹھو شاباش
جاری ہے
Wait for next pat
Allha Hafiz take care🥰💞
I hope ap ko achi lagi gi
Assalamualaikum
Well come to Nus hay writer's
Novel name
Ishq e Lahasil Episode 2
پھر ہانیہ زرار شاہ اور اسامہ کے ساتھ ائس کریم کھانے جاتی ہے گاڑی ہانیہ شاہ کے فیورٹ ائس کریم پارلر کے سامنے رکتی ہے پھر وہ سب مل کر ائس کریم کھاتے ہیں کھانے کے بعد گھر واپسی ہوتی ہے
شام کو کھانے کے میز پر سب بیٹھے ہوئے تھے جب زبیر شاہ یہاں سے متوجہ ہوتا ہے
کھانا کھا کر اپنی کتابیں لے کر میرے کمرے میں ا جانا
اسامہ بھائی میں نے بھی اپ سے ایک ٹاپک سمجھنا تھا
زبیر شاہ ٹھیک ہے تم بھی ا جانا پھر کھانے کے بعد ہانیہ اپنی کتابیں لے کر کمرے میں پہنچتی ہے اسامہ پہلے ہی موجود تھا تھوڑی دیر بعد اسامہ اپنا کام ختم کر اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے زبیر شاہ ہانیہ کو ٹاپک سمجھا رہا تھا
کافی دیر بعد وہ دیکھتا ہے کہ ہانیہ کا دھیان کتاب پر نہیں ہے
زبیر شاہ اس کی طرف دیکھتا ہے اس کی آنکھیں لال سرخ ہوئی تھی زبیر فکر مندی سے اس کی طرف بڑھتا ہے
ہانی کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو زبیر اگے بڑھ کر اس کے ماتھے کو ہاتھ لگاتا ہے اسے شدید قسم کا جھٹکا لگتا ہے ہانیہ کا پورا جسم بخار سے تپ رہا تھا
زبیر شاہ تمہیں تو بہت تیز بخار ہے🤒🤒🤒
اتنی دیر میں ہانی بے ہوش ہو کر بستر پر گر جاتی ہے
زبیر شاہ ہ جلدی سے اٹھ کر کچن سے ٹھنڈا پانی لے کر اتا ہے اور اس کی پٹیاں کرتا ہے تقریبا ادھے گھنٹے کے بعد ہانیہ کو کچھ ہو جاتا ہے تو زبیر شاہ اسے سہارا دے کر اس کے کمرے تک چھوڑتا ہے
صبح ہانیا کی انکھ کھلتی ہے تو اٹھ کر فجر کی نماز ادا کرتی ہے اور پھر ناشتے کے لیے نیچے ا جاتی ہے
ناشتے کی ٹیبل پر ا کر سب کو سلام کرتی ہوئی اپنی جگہ پہ بیٹھ جاتی ہے کھانے کو دوران زبیر شاہ ہانیہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے
اب طبیعت کیسی ہے بخار اترا بیٹھ کے بات سن کر میز پر موجود سارے لوگ ہانیہ کی طرف دیکھتے ہیں داد و فکر مندی سے ہانیہ سے پوچھتی ہیں بیٹا کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے نا
ہانیہ جی میں بالکل ٹھیک ہوں کل رات کو تھوڑا سا بخار ہو گیا تھا اب کیسی طبیعت ہے تایا جان فکر مندی سے پوچھتے ہیں
جی بالکل ٹھیک ہے🙂🙂🙂
یہ جو ائس کریم کھائی تھی نا اسی کا نتیجہ ہے اسی لیے میں لے کر نہیں جا رہا تھا زبیر شاہ ہانیہ کی طرف دیکھ کر غصے سے بولتا ہے 😡😡😡😡
پھر کھانا کھا کر ہانیہ اسامہ کے ساتھ یونیورسٹی چلی جاتی ہے یونیورسٹی میں اپنی کلاس لے کر وہ باہر گارڈن میں بیٹھی تھی جب اسامہ اس کے پاس ا کر بیٹھ تا ہے کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھی ہو 🤔🤔🤔
کچھ نہیں بس ایسے ہی بیٹھی تھی اپ کی کلاس ختم ہو گئی تو گھر چلو میرا سر میں درد ہو رہی ہے
اسامہ چلو ٹھیک ہے میری بھی کلاس ختم ہو گئی ہے چلتے ہیں پھر وہ گھر ا جاتے ہیں
جاری Wait for next episode
And please 🙏 response kary ap ko ACHi llagKY Ni
Allha Hafiz take care
Have a good day 🥰💞
Assalamu alaikum
Well come to Nu shay writer's
Novel name
Ishq e lahasil
Episode 3
یونیورسٹی کی واپسی پر ہانیہ کو گول گپے کی ڈیری نظر آتی ہے
تو وہ اسامہ سے کہتی ہے کہ پلیز گاڑی رکیں
اسامہ گاڑی روک کر ہانیہ کی طرف دیکھتا ہے
کیا ہوا پری آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے
ہانیہ جی لیکن میں نے گول گپے کھانے کے پلیز
اسامہ نو پری آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے
ہانیہ پلیز
ہانیہ معصوم سامیہ بنا کر اس کی طرف دیکھتی ہے اسامہ کو اس کے ایکٹ پر ٹو ٹ کر پیار ایا تھا اسامہ
اچھا میں لے کر آتا ہوں
تھوڑی دیر میں گول گپے کھانے کے بعد واپس اپنی گاڑی میں بیٹھے تھے جب ہانیہ اس سے کہتی ہے کہ پلیز گھر نہ بتائیے گا خاص کر کے اپنے بھائی کو ورنہ مجھے ڈانٹ پڑے گی
اسامہ جی پری نہیں بتاؤ گا
اسامہ بلا اپنی پری کو ڈانٹ کھاتے ہیں کیسے دیکھ سکتا تھا وہ بھی ہٹلر سے
زبیر شاہ کے غصے کی وجہ سے اسامہ نے اسے ہٹلر کا خطاب دیا تھا
یونیورسٹی کی واپسی پر گھر ا کر اسامہ اور ہانیہ اپنے کمروں میں چلے جاتے ہیں
فریش ہو کر باہر اتے ہیں اور کھانا کھاتے ہیں کھا کر ہانیہ اپنی دادو کے پاس بیٹھی تھی دادو کی گود سر رکھ کر ان کو سارے دن کی کہانی سنا رہی تھی
تھوڑی دیر بعد وہ دادو کی گود میں چکی تھی نہ تو اسے ارام سے بستر پر لٹاتے ہیں اور پھر عصر کی نماز کے لیے اسے جگاتی ہے
کر نماز پڑھ کر وہ اپنے کمرے میں بیٹھی اپنی کتابوں میں مگن تھی جب رابعہ ا کر اسے شام کے کھانے کے لیے بلاتی ہے
کھانے کی میز پر سب موجود تھے جب زاہد صاحب کہتے ہیں کہ اج بڑی خاموشی ہے
آسیہ بیگم جی میں بھی یہی سوچ رہی تھی
گول گپو ں نے اپنا اثر دکھایا تھا
ہانیہ کا گلا خراب ہو کر گئے تھے
کھانے کے بعد ہانیہ اپنی کتابیں لے کر زبیر شاہ
کے کمرے میں بیٹھی پڑھ رہی تھی
ٹاپک مکمل ہونے کے بعد جب ہانیہ واپس جانے لگے تھے تو زبیر شا ہ اسے کہتا ہے
ویسے وہاں کے گول گپے کافی مزے کے ہوتے ہیں
ہانیہ تو حیرت سے زبیر شاہ کا منہ دیکھ رہی تھی یعنی کہ اس کی چوری پکڑی گئی
میں ایک میٹنگ کے لیے جا رہا تھا جب میں نے راستے میں اپ کو اور اسامہ کو گول گپے کھاتے دیکھا تھا اس کو تو میں پوچھتا ہوں بالکل بھی اپ کی طبیعت کا خیال نہیں ہے
ہانیہ تو اسامہ کے نام سے ہی ڈر گئے تھے کہ اس کی وجہ سے اب اسامہ کو بھی ڈانٹ پڑے گی
تو وہ جلدی سے بولتی ہے کہ اس میں اسامہ کی کوئی غلطی نہیں میں ہی ضد کر رہی تھی
زبیر شاہ ہانیہ کی طرف دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ اب کچھ زیادہ ہی ضد نہیں کرنا شروع ہو گئی مجھے اپ کی فکر ہے اپ کی طبیعت کے لیے کہہ رہا تھا جب طبیعت ٹھیک ہو جاتی تو جا کر کھا لیتے بلکہ میں خود اپ کے ساتھ جاتا🥰🥰
اوکے اب جائیں اپنے کمرے میں اور ارام کریں صبح یونی بھی جانا ہے
ہانیہ تو رہائی ملتے ہی جلدی سے اپنے گرم کمرے کی طرف چلی گئی تھی😋😋😋😋
صبح اٹھ کر ہانیہ فجر کی نماز ادا کرتی ہے اور پھر یونیورسٹی کے لیے تیار ہو کر ناشتے کے لیے ا جاتی ہے ناشتے کے بعد وہ اسامہ کے ساتھ یونیورسٹی چلی جاتی ہے
زبیر زاہد اور زرار بھی افس چلے جاتے ہیں
اپنی کلاسز لینے کے بعد وہ گارڈن میں اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی تھی جب اسامہ اس کے پاس اتا ہے اسامہ کو دیکھ کر اسے زبیر شاہ کی باتیں یاد ائی تھی
تو وہ اس سے پوچھتی ہے اپ کو زیبی نے ڈانٹا تو نہیں ہانیہ کی بات سن کر اس کی طرف دیکھتا ہے
نہیں تو مجھے تو بھائی نے کچھ نہیں بولا کیا ہوا کوئی بات ہوئی تھی
تو ہانیہ اسے پوری داستان سنا دیتی ہے
تو اس کا مطلب ہے کہ اپ کو ڈانٹ پڑے وہ اسامہ کی طرف دیکھ کر دھیرے سے سر ہلاتی ہے
چلو کوئی بات نہیں ایسے چھوٹی
چھوٹی باتیں تو ہوتی رہتی ہیں
ہمیں گھر چلنا چاہیے پھر وہ دونوں گھر ا جاتے ہیں گھر ا کر ہانیہ اپنے کمرے میں ا کر فریش ہوتی ہے اور پھر نماز پڑ کر
اپنی دادو کے روم میں چلی جاتی ہے ان کی گود میں سر رکھے ان سے باتیں کرتی ہے تھوڑی دیر بعد اٹھ کر کچن میں اتی ہے تو سامنے رابعہ اور اسیہ کھانا بنا رہے تھے ہانیہ ان سے پوچھتی ہے کہ اج کیا بن رہا ہے جس پر رابعہ اس کی طرف دیکھتی ہے اور کہتی ہے کہ اج پلاؤ بن رہا ہے پلاؤ کا نام سنتے ہی ہانیہ کے منہ میں پانی اگیا تھا
واؤ پلاؤ🙂🙂🙂
یہ تو میرا اور زیبی کا فیورٹ ہے اج تو مزہ ائے گا کھانے میں جس پر رابعہ ہلکے سے مسکراتی ہے اور ان سے کہتی ہے کہ جاؤ اب باہر کچن میں گرمی ہے پھر بیمار ہو گئی تو تمہارے بھائی مجھے ہی ڈانٹیں گے وہ ہانیہ اٹھ کر باہر ا جاتی ہے اتنے میں زرار اور زبیر شاہ گھر داخل ہوتے ہیں ہانیہ ان کے لیے پانی لے کر اتی ہے اور پھر بعد میں زبیر شاہ ہانیہ کو ایک کتاب دیتا ہے
ہانیہ کو کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا اور زبیر ہر ہفتے اس کے لیے ایک کتاب لے کر اتا تھا کبھی دین کے متعلق تو کبھی زندگی کے دیگر مسائل کے متعلق ہانیہ وہ کتاب لے کر اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے
جاری ہے
Wait for next pat
I hope AP ko pasnd ay GI🤔🤔
Allha Hafiz take care 🥰🥰
Download NovelToon APP on App Store and Google Play