English
NovelToon NovelToon

"تم پکارو تو سہی"

قسط نمبر 1: بارش کا پہلا قطرہ

تیز بارش اور طوفانی ہواؤں نے کراچی شہر کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا。 سڑکوں پر پانی جمع ہو چکا تھا اور گاڑیوں کی رفتار مدہم پڑ گئی تھی۔ زارا اپنی چھتری سنبھالنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی، لیکن تیز ہوا کے تھپیڑے اس کی چھتری کو الٹا کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ اس کے ہاتھ میں موجود ڈرائنگ شیٹس اور کچھ اہم کاغذات بارش کے پانی سے گیلے ہونے لگے تھے۔ وہ ایک فیشن ڈیزائننگ اسٹوڈنٹ تھی اور آج اس کا فائنل پروجیکٹ تھا، جس کے لیے اس نے دن رات ایک کر کے اسکیچز تیار کیے تھے。 اگر یہ کاغذات مزید گیلے ہو جاتے تو اس کی مہینوں کی محنت سیکنڈوں میں برباد ہو جاتی۔ وہ کسی محفوظ سائے کی تلاش میں تیز قدموں سے فٹ پاتھ پر بھاگ رہی تھی۔

اسی دوران، سڑک کے کنارے ایک چمکتی ہوئی سیاہ لگژری گاڑی آ کر رکی۔ گاڑی کا شیشہ آہستہ سے نیچے ہوا اور اندر سے ایک گہری، رعب دار آواز آئی، "اندر آ جاؤ، ورنہ تمہارے سارے کاغذات خراب ہو جائیں گے۔"

زارا جھجک کر رک گئی۔ اس نے دیکھا کہ گاڑی میں ایک انتہائی وجیہہ، سنجیدہ اور مغرور تاثرات والا نوجوان بیٹھا تھا۔ وہ دانیال تھا، جو شہر کا ایک معروف اور امیر ترین بزنس مین تھا۔ وہ عام طور پر کسی کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا تھا، لیکن زارا کی بے بسی اور اس کے ہاتھوں میں موجود کاغذات کو بچانے کی تڑپ دیکھ کر نہ جانے کیوں اس کے دل میں عجیب سی ہلچل ہوئی تھی۔

"میں اجنبیوں کی گاڑی میں نہیں بیٹھتی،" زارا نے سردی سے کانپتے ہوئے اور خود دار لہجے میں جواب دیا۔

دانیال کے چہرے پر ایک ہلکی سی تلخ مسکراہٹ ابھری۔ "اگر تم ابھی اس گاڑی میں نہیں بیٹھیں، تو تمہاری یہ خود داری اور تمہاری یہ محنت دونوں اس بارش میں بہہ جائیں گے۔ فیصلہ تمہارا ہے۔"

بارش مزید تیز ہو گئی تھی۔ زارا نے اپنے گیلے ہوتے ہوئے اسکیچز کو دیکھا اور پھر بادل نخواستہ گاڑی کا دروازہ کھول کر پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ گاڑی کے اندر کا ماحول باہر کے طوفان سے بالکل مختلف تھا—وہاں ایک دھیمی اور مسحور کن خوشبو پھیلی ہوئی تھی اور ہلکی سی میوزک چل رہی تھی۔ زارا نے سکون کا سانس لیا، لیکن وہ اب بھی دانیال سے فاصلہ برقرار رکھے ہوئے تھی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔

دانیال نے فرنٹ مرر (آئینے) سے زارا کے معصوم اور بھیگے ہوئے چہرے کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا خوف اور سچائی تھی جو دانیال کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی۔ دانیال نے ٹشو باکس اس کی طرف بڑھایا اور بغیر اس کی طرف دیکھے کہا، "اپنے ہاتھ صاف کر لو، اور مجھے بتاؤ تمہیں کہاں جانا ہے؟"

زارا نے ٹشو لیتے ہوئے دھیمی آواز میں اپنے کالج کا پتہ بتایا۔ دانیال نے ڈرائیور کو اشارہ کیا اور گاڑی اپنی منزل کی طرف بڑھ گئی۔ پورے راستے دونوں کے درمیان ایک گہری خاموشی رہی، لیکن یہ خاموشی کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ معلوم ہو رہی تھی۔ زارا کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ بارش اور یہ اجنبی دانیال، اس کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ بننے والے ہیں۔

Download NovelToon APP on App Store and Google Play

novel PDF download
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play