قسط نمبر 1
مصنفہ سیدہ حورب فاطمہ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی سید ابرار شاہ کے گھر میں زندگی جاگ اٹھی۔ فجر کی اذان کی آواز ہر طرف گونج رہی تھی۔ یہ ایک باوقار، تعلیم یافتہ اور دین دار سید خاندان تھا، جہاں دین، ادب اور اچھے اخلاق کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔
گھر کے سربراہ سید ابرار شاه نرم دل مگر با اصول انسان تھے۔ ان کی اہلیہ سیدہ عائشہ ابرار محبت کرنے والی باحیا اور بہترین تربیت دینے والی ماں تھیں۔ان کی سب سے بڑی بیٹی روح فاطمہ سترہ سال کی ایک ذہین، باحیا اور پُر اعتماد لڑکی تھی۔ وہ عام لڑکیوں سے مختلف تھی، کیونکہ اس کے دل میں ایک ایسا خواب تھا جو ہر کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔
میں پاکستان آرمی کی آفیسر بنوں گی، ان شاء
الله"
یہ خواب اس نے کسی فلم یا کہانی سے نہیں، بلکہ اپنے وطن سے محبت کی وجہ سے دیکھا تھا۔
روح کے دو چھوٹے بہن بھائی بھی تھے۔ حسن جو ہر وقت شرارتوں میں لگا رہتا تھا، اور مریم جو اپنی بڑی بہن کی ہر بات کو اپنا اصول سمجھتی تھی۔ناشتے کی میز پر سب اکٹھے تھے۔
"روح" بیٹا، آج اسکول میں ٹیسٹ ہے نا؟ " ابو نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
جی ابو اور دعا کیجیے میں ہمیشہ کی طرحاچھے نمبر لاؤں۔"
امی نے محبت سے کہا، "اللہ تمہیں دنیا و آخرت کی کامیابیاں عطا کرے۔"
روح نے دل ہی دل میں ایک اور دعا کی۔ "یا اللہ! ایک دن مجھے پاکستان آرمی کی وردی پہننے کی توفیق عطا فرما۔"
اسے معلوم نہیں تھا کہ اس خواب تک پہنچنے کا راستہ آسان نہیں ہوگا ۔ قسمت اس کے لیے ایسے امتحان لکھ چکی تھی جو اس کی ہمت، صبر اور ایمان سب کا امتحان لینے والے تھے...
صبح کی پہلی کرن کھڑکی سے اندر داخل ہوئی تو روح فاطمہ کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے فوراً وضو کیا، فجر کی نماز ادا کی اور کچھ دیر قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول رہی۔ ہر آیت کے ساتھ اس کا دل مزید مطمئن ہوتا جا رہا تھا۔
نماز کے بعد وہ کھڑکی کے پاس کھڑی آسمان کو دیکھنے لگی۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور پرندوں کی چہچہاہٹ فضا کو خوشگوار بنا رہی تھی۔
روح نے آہستہ سے دعا کی۔
"یا اللہ! اگر میرے خواب میں خیر ہے تو مجھے اسے پورا کرنے کی ہمت، صبر اور کامیابی عطا فرما۔"وہ جانتی تھی کہ ایک سید خاندان کی بیٹی ہونے کے ناطے اس پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں، لیکن وہ یہ بھی یقین رکھتی تھی کہ حیا دین اور وطن کی خدمت ایک ساتھ نبھائی جا سکتی ہے۔
ناشتے کی میز پر پورا خاندان موجود تھا۔ ابو اخبار پڑھ رہے تھے، امی ناشتے کی پلیٹیں لگا رہی تھیں، جبکہ دادی جان تسبیح پڑھ رہی تھیں۔
"السلام علیکم! " روح نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "وعليكم السلام، جيتي ربو بیٹا ۔ " دادی جان نے دعا دیتے ہوئے جواب دیا۔
ابو نے اخبار بند کیا اور بولے، "روح بیٹا، آج اسکول میں ٹیسٹ ہے نا؟"
جی ابو اور دعا کیجیے کہ ہمیشہ کی طرحاچھے نمبر آئیں۔ "
Download NovelToon APP on App Store and Google Play