: اپنائیت، انتقام، پھر عشق*
*صفحہ 1*
عالیہ کو لگتا تھا وہ عام سی لڑکی ہے۔ مڈل کلاس گھر، دو بہنیں، ایک ماں باپ۔ باپ رکشہ چلاتے تھے، ماں گھروں میں کام کرتی تھی۔ عالیہ سب سے چھوٹی تھی۔ پر فرق تھا۔ اس کے چہرے کے نقش، اس کی آنکھوں کا رنگ، اس کی قدوقامت... گھر والوں سے بالکل مختلف۔
اس نے کبھی پوچھا نہیں۔ پوچھتی بھی کیسے؟ جنہوں نے پالا، وہی ماں باپ تھے نا۔
دوسری طرف محید ایف۔ 28 سال۔ شہر کا سب سے بڑا بزنس مین۔ F Group کا مالک۔ چہرے پر سختی، آنکھوں میں حساب۔ اس کے دادا کا قتل ہوا تھا۔ اور پولیس کی فائل کے مطابق... قاتل عالیہ کا باپ تھا۔
محید کی دادی نے قسم کھائی تھی: "قاتل کے گھر کی لڑکی ہمارے گھر کی نوکرانی بن کر رہے گی۔ خون کا بدلہ خون سے لیں گے"۔
بس پھر ایک دن عدالت کا فیصلہ آیا۔ عالیہ کے باپ کو سزا کے بدلے اپنی بیٹی دینی پڑی۔ باپ نے سر جھکا دیا۔ ماں روتی رہی۔ اور عالیہ؟ اسے بتایا گیا: "بیٹا، تمہاری قسمت کھل گئی۔ بڑے لوگوں کے گھر جا رہی ہو"۔
عالیہ کو کیا پتا تھا کہ وہ رحم کی بھیک نہیں... انتقام کی قیمت ہے۔
*صفحہ 2*
محید کا گھر محل تھا۔ پر عالیہ کے لیے وہ جیل تھا۔ دادی... نور جہاں بیگم۔ 70 سال کی، پر آنکھوں میں آگ۔
پہلے دن ہی دادی نے عالیہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: "سن لے قاتل کی بیٹی۔ یہاں تمہارا نام عالیہ نہیں... گناہ ہے۔ صبح 5 بجے اٹھنا ہے۔ پورا گھر صاف کرنا ہے۔ اور ہاں... محید کے سامنے آنکھ اٹھا کر بات کی تو زبان کٹوا دوں گی"۔
عالیہ چپ رہی۔ اس کی ایک بہن، صبا، بھی اس کے ساتھ آئی تھی۔ "سزا کی گارنٹی" کے طور پر۔
محید پہلی بار عالیہ سے ملا لائبریری میں۔ وہ کتابیں صاف کر رہی تھی۔ سر جھکا ہوا، بال بکھرے ہوئے۔
محید نے سرد آواز میں کہا: "سر اٹھاؤ"۔
عالیہ نے آنکھیں اٹھائیں۔ آنسو تھے، پر گرتے نہیں تھے۔ محید ایک لمحے کے لیے ٹھٹھک گیا۔ یہ آنکھیں... قاتل کی بیٹی کی نہیں لگتی تھیں۔
"نام؟"
"عالیہ"۔
"آج سے تمہارا نام 'ع' ہے۔ پورا نام لینے کا حق تم نے کھو دیا ہے"۔
کہہ کر وہ چلا گیا۔ پر دروازے سے مڑ کر ایک بار پھر دیکھا۔
*صفحہ 3*
دن گزرتے گئے۔ دادی کا ظلم بڑھتا گیا۔ برتن دھلوانا، فرش پوچھے لگوانا، کتے نہلوانا۔ صبا کو بھی نہیں چھوڑا۔
عالیہ روتی تھی رات کو، چھت کی طرف دیکھ کر۔ "اللہ، میں نے کیا گناہ کیا؟"
محید دور سے دیکھتا تھا۔ سختی سے منع کرتا تھا نوکروں کو کہ اس سے بات نہ کریں۔ پر خود... خود رات کو چھپ کر اس کی صفائی چیک کرتا تھا۔ ایک بار دیکھا، عالیہ کا ہاتھ برتن دھوتے دھوتے زخمی ہو گیا تھا۔
اگلے دن عالیہ کے کمرے میں مرہم رکھا تھا۔ بغیر نام کے۔
عالیہ نے پوچھا صبا سے: "یہ کس نے رکھا؟"
صبا: "شاید... اللہ نے"۔
دونوں ہنس پڑیں۔ آنسو کے ساتھ۔
*صفحہ 4*
ایک مہینہ بعد۔ محید کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ ہسپتال میں۔ دادی نے حکم دیا: "وہ لڑکی جائے گی۔ منحوس ہے۔ اس کی شکل دیکھے گا تو ٹھیک نہیں ہو گا"۔
پر نرس کم پڑ گئی۔ عالیہ کو زبردستی لے جایا گیا۔
محید بیڈ پر لیٹا تھا۔ سر پر پٹی۔ آنکھیں بند۔ عالیہ نے ڈرے ڈرے ہاتھ سے اس کے ماتھے پر ٹھنڈی پٹی رکھی۔
محید نے آنکھیں کھولیں۔ عالیہ کا چہرہ سامنے تھا۔ قریب۔
"تم؟"
عالیہ نے سر جھکا دیا۔ "معاف کر دیں۔ مجھے جانے دیں"۔
محید نے کمزور ہاتھ سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "مت جاؤ"۔
بس اتنا۔ پھر وہ بےہوش ہو گیا۔
پر عالیہ کا دل... پہلی بار دھڑکا تھا۔ ڈر سے نہیں۔ کسی اور وجہ سے۔
*صفحہ 5*
محید ٹھیک ہو گیا۔ پر بدل گیا تھا۔ اب وہ عالیہ کو کام نہیں کہتا تھا۔ بس چھت پر بیٹھا اسے دیکھتا تھا جب وہ پودوں کو پانی دیتی تھی۔
دادی نے نوٹ کر لیا۔ ایک دن عالیہ کو کمرے میں بند کر دیا۔ بغیر کھانے کے۔
"تم نے میرے پوتے پر جادو کر دیا قاتل کی بیٹی؟"
عالیہ 2 دن بھوکی رہی۔ تیسرے دن محید کو پتا چلا۔ وہ طوفان کی طرح آیا۔ دروازہ توڑ دیا۔
"دادی، بس کریں"۔
دادی: "یہ خون ہے محید۔ معاف نہیں ہوتا"۔
محید نے عالیہ کو گود میں اٹھایا۔ پہلی بار۔ "تو میں بھی یہ خون نبھاؤں گا۔ اس کے ساتھ"۔
اس رات محید نے عالیہ کو اپنے کمرے میں رکھا۔ الگ بیڈ پر۔ پر ایک ہی کمرے میں۔
عالیہ نے پوچھا: "آپ مجھ سے نفرت کیوں نہیں کرتے؟"
محید: "کرتا تھا۔ اب... اب سمجھ نہیں آ رہا"۔
*صفحہ 6*
راز کھلنے لگے۔ عالیہ کے باپ کا کیس دوبارہ کھلا۔ انویسٹیگیشن میں پتا چلا... قتل عالیہ کے باپ نے نہیں کیا تھا۔ اسے پھنسایا گیا تھا۔ اصل قاتل کوئی اور تھا۔ محید کے بزنس کا دشمن۔
محید کے ہاتھ پاؤں کانپ گئے۔ اس نے جس لڑکی پر ظلم کیا... وہ بےگناہ تھی۔
وہ دوڑتا ہوا عالیہ کے پاس گیا۔ وہ صحن میں بیٹھی کپڑے دھو رہی تھی۔
"عالیہ"۔
عالیہ نے سر اٹھایا۔ "جی 'ع'؟"
محید گھٹنوں پر بیٹھ گیا۔ پہلی بار۔ ایک بزنس مین، ایک سخت دل آدمی... گھٹنوں پر۔
"معاف کر دو مجھے۔ تمہارے باپ نے قتل نہیں کیا تھا۔ تم قاتل کی بیٹی نہیں ہو"۔
عالیہ کا ہاتھ رک گیا۔ صابن کا جھاگ پانی میں بہہ گیا۔
"تو... تو میں کون ہوں؟"
محید کے پاس جواب نہیں تھا۔
*صفحہ 7*
DNA ٹیسٹ ہوا۔ رزلٹ آیا۔ دھماکہ۔
عالیہ عالیہ کے ماں باپ کی بیٹی نہیں تھی۔ وہ ایڈاپٹڈ تھی۔ بچپن میں اٹھائی گئی تھی ایک امیر گھر سے۔
اور اس کی اصل ماں؟ ملکہ بیگم۔ شہر کی سب سے امیر عورت۔ جس کا شوہر 5 سال پہلے مر چکا تھا۔ اور جس کی اکلوتی بیٹی 20 سال پہلے گم ہو گئی تھی۔
ملکہ بیگم دوڑتی ہوئی آئی۔ عالیہ کو دیکھتے ہی چیخ پڑی: "میری بیٹی... میرے ماتھے کا نشان"۔
عالیہ کے ماتھے پر چھوٹا سا تل تھا۔ بالکل ملکہ بیگم کی بیٹی والا۔
ایک دن میں عالیہ... جھونپڑی سے محل کی وارث بن گئی۔
*صفحہ 8*
دادی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ جس لڑکی کو وہ نوکرانی کہتی تھی... وہ کروڑوں کی وارث تھی۔
ملکہ بیگم نے عالیہ کو گلے لگایا۔ "میں تمہیں لینے آئی ہوں بیٹا"۔
عالیہ نے محید کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں سوال تھا۔
محید خاموش تھا۔ اس کا چہرہ پتھر۔
عالیہ نے آہستہ سے کہا: "امی... میں جانا چاہتی ہوں"۔
ملکہ بیگم: "تو پھر چلو"۔
عالیہ اٹھی۔ محید کے پاس سے گزری۔ رک گئی۔
"آپ نے مجھے 'ع' کہا تھا۔ اب... اب عالیہ کہہ دیں۔ آخری بار"۔
محید نے آنکھیں بند کر لیں۔ آواز نہیں نکلی۔
عالیہ چلی گئی۔
*صفحہ 9*
محید کا گھر سناٹا ہو گیا۔ دادی بیمار پڑ گئی۔ صبا واپس چلی گئی۔
محید روز چھت پر بیٹھتا۔ وہ جگہ جہاں عالیہ پودوں کو پانی دیتی تھی۔
3 مہینے گزر گئے۔ ایک دن خط آیا۔ عالیہ کا۔
"محید صاحب،
میں اب عالیہ ہوں۔ پوری عالیہ۔ میرے پاس سب کچھ ہے۔ ماں، پیسہ، عزت۔
پر ایک چیز نہیں ہے... سکون۔
وہ سکون جو آپ کے خاموش دیکھنے میں تھا۔
آپ نے مجھے ستایا بھی، بچایا بھی۔ نفرت بھی کی، محبت بھی۔
میں آپ سے پوچھنے آئی تھی... کیا آپ کا 'ع' اب بھی زندہ ہے؟
اگر ہے... تو میں واپس آ جاؤں گی۔
عالیہ"۔
*صفحہ 10*
محید نے خط پڑھا۔ اور گاڑی نکال دی۔ بغیر ڈرائیور کے۔
ملکہ بیگم کے محل کے گیٹ پر کھڑا ہو گیا۔ نوکروں نے روکا۔
"میں محید ایف ہوں۔ اور میں اپنی 'ع' کو لینے آیا ہوں"۔
عالیہ سیڑھیوں سے اتری۔ سفید لباس میں۔ بال کھلے ہوئے۔ چہرے پر نور۔
محید نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ "عالیہ"۔
پورا نام۔ پہلی بار۔
عالیہ رک گئی۔ آنسو گر گئے۔
محید: "ہاں۔ میرا 'ع' زندہ ہے۔ اور مرتے دم تک زندہ رہے گا۔ معاف کر دو؟"
عالیہ نے سر ہلا دیا۔
محید نے ہاتھ بڑھایا۔ عالیہ نے تھام لیا۔
*صفحہ 11*
شادی ہوئی۔ سادگی سے۔ دادی بھی آئی۔ وہیل چیئر پر۔ عالیہ نے اس کے پاؤں چھوئے۔
"امی، میں نے آپ کو کبھی دشمن نہیں سمجھا"۔
دادی رو پڑی۔ "بیٹا، میں اندھی تھی"۔
ملکہ بیگم نے محید کا ہاتھ عالیہ کے ہاتھ میں دیا۔ "میرا سب کچھ تمہیں دیا۔ اب اس کی حفاظت کرنا"۔
محید: "یہ میری ذمہ داری نہیں... میری زندگی ہے"۔
*صفحہ 12*
1 سال بعد۔
عالیہ اور محید کا اپنا گھر۔ چھوٹا، پر بھرا ہوا۔
صبا کی شادی ہو گئی۔ دادی اب عالیہ کو "بیٹا" کہتی ہے۔
ایک رات عالیہ نے محید سے پوچھا: "آپ کو مجھ سے کب محبت ہوئی؟"
محید نے اس کا ہاتھ چوما۔ "جس دن تم نے رو کر بھی شکایت نہیں کی تھی۔ جس دن تم نے بھوکے رہ کر بھی مجھے بددعا نہیں دی تھی۔ اس دن سمجھ گیا تھا... یہ قاتل کی بیٹی نہیں۔ یہ فرشتہ ہے۔ جو غلطی سے میرے گھر آ گیا تھا"۔
عالیہ مسکرا دی۔ "اور میں؟ مجھے آپ سے کب محبت ہوئی؟"
"جب؟"
"جس دن آپ نے بغیر نام کے مرہم بھیجا تھا"۔
*صفحہ 13*
عالیہ اب F Group کی CEO ہے۔ محید کے ساتھ۔
وہ ان بچوں کے لیے فاؤنڈیشن چلاتی ہے جو ایڈاپٹڈ ہیں۔ جنہیں ان کی اصل پہچان نہیں پتا۔
اس کا نعرہ ہے: "خون رشتہ نہیں بناتا۔ رشتہ خون بن جاتا ہے"۔
محید اب بھی سخت ہے۔ بزنس میں۔ پر گھر میں؟ گھر میں وہ صرف عالیہ کا محید ہے۔
*صفحہ 14*
دادی کا انتقال ہو گیا۔ مرنے سے پہلے اس نے عالیہ کا ہاتھ پکڑا۔
"بیٹا، میں نے تم پر ظلم کیا۔ پر تم نے مجھے معافی دی۔ یہی اصل اپنائیت ہے"۔
عالیہ نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
جنازے میں پورا شہر تھا۔ اور عالیہ... سب سے آگے کھڑی تھی۔ بیٹی بن کر۔
*صفحہ 15 - آخری صفحہ*
عالیہ ڈائری لکھ رہی ہے۔
"میں سوچتی تھی میں بوجھ ہوں۔ قاتل کی بیٹی ہوں۔ ایڈاپٹڈ ہوں۔
پر اللہ نے مجھے توڑ کر جوڑا۔ تاکہ میں سمجھوں...
اپنائیت نام کی چیز ہوتی ہے۔
محید نے مجھے 'ع' کہا۔ پھر عالیہ کہا۔ پھر اپنی جان کہا۔
خون بہا میں آیا تھا۔ پر عشق بن کر رہ گیا۔
اگر میں ایڈاپٹڈ نہ ہوتی... تو شاید محید سے کبھی نہ ملتی۔
اگر میرے باپ پر الزام نہ لگتا... تو شاید میں کبھی مضبوط نہ بنتی۔
تو شکایت کس سے کروں؟
بس شکر کروں گی۔
کہ میں عالیہ ہوں۔ محید کی عالیہ"۔
محید نے پیچھے سے آ کر ڈائری بند کر دی۔ "بس کرو اب۔ کہانی ختم۔ اب زندگی شروع"۔
عالیہ نے مڑ کر اسے دیکھا۔ اور مسکرا دی۔
باہر بارش تھی۔ بالکل اس دن کی طرح... جب ایک قاتل کی بیٹی... ایک بزنس مین کے گھر آئی تھی۔
*ختم شد*
---
Download NovelToon APP on App Store and Google Play