English
NovelToon NovelToon

بزمِ عشق

ایک نئی شروعات

بزمِ عشق

Written by Rohab Zahra 🌸

“بعض ملاقاتیں تقدیر بدل دیتی ہیں…” ✨

“مہر! اٹھ جاؤ، صبح کے آٹھ بج رہے ہیں!”

امی کی آواز سنتے ہی مہر نے کمبل سے اپنا چہرہ باہر نکالا۔

“کیا؟ آٹھ بج گئے؟!”

وہ فوراً گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔

“امی! آج پھر میں کالج کے لیے لیٹ ہو جاؤں گی!”

امی نے بے نیازی سے کہا،

“ڈرامہ بند کرو اور جلدی سے تیار ہو جاؤ۔ تم نے کون سا رات کو بتایا تھا کہ تمہیں صبح جلدی جانا ہے۔”

مہر نے منہ بنایا۔

“ہر بار غلطی میری ہی ہوتی ہے…”

وہ بڑبڑاتی ہوئی تیار ہونے چلی گئی۔

صرف دس منٹ بعد وہ جلدی جلدی تیار ہو کر باہر آئی۔

ایک ہاتھ میں بیگ تھا اور دوسرے ہاتھ میں بائیک کی چابی۔

“امی میں جا رہی ہوں، اللہ حافظ!”

“ناشتہ تو کرتی جاؤ!”

“نہیں، میں کالج کی کینٹین سے کچھ کھا لوں گی!”

یہ کہتے ہوئے وہ تیزی سے گھر سے نکل گئی۔

صبح کی ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی۔

مہر کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔

مگر اس کی یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔

راستے کے بیچ اچانک اس کی بائیک بند ہو گئی۔

“یا اللہ… ابھی ہونا تھا یہ سب؟”

اس نے کئی بار بائیک اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی مگر سب بےکار۔

اسی دوران اسے دور سے ایک بلیک گاڑی آتی دکھائی دی۔

مہر نے گاڑی کو دیکھا… پھر اپنی خراب بائیک کو…

اور اگلے ہی لمحے اس کے دماغ میں ایک خطرناک خیال آیا۔

“میرے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے…”

اس نے سڑک کنارے پڑا پتھر اٹھایا اور پوری طاقت سے گاڑی کے شیشے پر دے مارا۔

“کریک!”

گاڑی فوراً رک گئی۔

شیشہ نیچے ہوا اور اندر بیٹھے شخص کی سرد نظریں مہر پر جم گئیں۔

“تم نے یہ کیا کیا ہے؟”

اس کی سنجیدہ آواز سن کر مہر نے فوراً معصوم سا چہرہ بنایا۔

“اصل میں یہاں کچھ شرارتی بچے رہتے ہیں… وہ اکثر گاڑیوں کے شیشے توڑ دیتے ہیں۔ میری بائیک بھی خراب ہو گئی ہے…”

پھر اس نے مصنوعی افسوس سے کہا،

“اگر آپ چاہیں تو ہم مل کر انہیں ڈھونڈ سکتے ہیں… لیکن پہلے پلیز مجھے کالج تک لفٹ دے دیں۔ میں بہت لیٹ ہو رہی ہوں۔”

وہ شخص چند لمحے خاموش رہا۔

پھر اس نے گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔

پورے راستے عجیب خاموشی رہی۔

مہر بار بار چوری چھپے اسے دیکھتی اور پھر نظریں چرا لیتی۔

جب گاڑی کالج کے سامنے رکی تو وہ جلدی سے باہر نکلی۔

مگر پھر جیسے اسے کچھ یاد آیا۔

وہ واپس مڑی اور ہلکی سی شرمندگی سے بولی،

“سوری سر… شیشہ میں نے خود توڑا تھا۔ بچوں والی بات جھوٹ تھی…”

اور یہ کہہ کر وہ فوراً وہاں سے بھاگ گئی۔

گاڑی میں بیٹھا شخص چند لمحے خاموش اسے جاتا دیکھتا رہا۔

پھر اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

“عجیب لڑکی ہے… آندھی کی طرح آئی اور طوفان کی طرح چلی بھی گئی…” ✨

“مہر!”

کالج کے اندر داخل ہوتے ہی کسی نے آواز دی۔

مہر نے مڑ کر دیکھا تو سامنے زویا کھڑی تھی۔

“تم کہاں رہ گئی تھی؟ کب کی کلاس شروع ہونے والی ہے، جلدی کرو!”

مہر نے تھکی ہوئی سانس لی۔

“مت پوچھ… صبح سے مصیبتیں ہی مصیبتیں ہو رہی ہیں میرے ساتھ۔”

“اب کیا کر دیا تم نے؟”

“کچھ نہیں… بس ایک گاڑی کا شیشہ توڑ دیا تھا۔”

“کیااا؟!”

زویا نے حیرت سے کہا مگر مہر اسے نظر انداز کرتے ہوئے کلاس کی طرف بڑھ گئی۔

دونوں کلاس میں داخل ہوئیں تو تقریباً سب اسٹوڈنٹس آ چکے تھے۔

زویا جلدی سے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی،

“مہر، تجھے پتہ ہے؟ ہمارے پروفیسر چینج ہو گئے ہیں۔ آج ان کا پہلا دن ہے۔ ابھی پرنسپل سر بتا کر گئے ہیں۔”

“اچھا؟”

اسی لمحے کلاس روم کا دروازہ کھلا۔

اور جو شخص اندر داخل ہوا، مہر کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

“یہ…!”

وہ وہی شخص تھا… جس کی گاڑی کا شیشہ اس نے توڑا تھا۔

مہر فوراً اپنا چہرہ چھپانے لگی۔

ادھر اس شخص کی نظریں بھی سیدھا مہر پر آ کر رک گئیں۔

مہر نے آہستہ سے زویا کی طرف جھک کر کہا،

“کیونکہ… یہ وہی ہیں جن کی گاڑی کا شیشہ میں نے توڑا تھا۔”

“کیااا؟!”

زویا نے حیرت سے تقریباً چیختے ہوئے کہا۔

“آہستہ!” مہر نے فوراً اسے چپ کروایا۔

اسی لمحے وہ شخص کلاس کے سامنے آ کر کھڑا ہوا۔

“Good Morning Class.”

اس کی سنجیدہ آواز پورے کلاس روم میں گونجی۔

“میرا نام ارحم ہے، اور آج سے میں آپ لوگوں کا نیا پروفیسر ہوں۔”

مہر نے فوراً نظریں جھکا لیں۔

دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔

“اب تو گئی میں…” اس نے دل ہی دل میں سوچا۔

ارحم نے پوری کلاس پر ایک نظر ڈالی، پھر سکون سے بولا،

“آج ہم پڑھائی شروع نہیں کریں گے۔ پہلے ہم ایک دوسرے کا introduction لیں گے تاکہ ہم سب ایک دوسرے کو بہتر طریقے سے جان سکیں۔”

کلاس میں ہلکی سی سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔

ایک ایک کر کے سب اسٹوڈنٹس اپنا تعارف کروانے لگے۔

مگر مہر کی پوری توجہ صرف ایک بات پر تھی…

“اگر انہوں نے سب کے سامنے گاڑی والی بات کر دی تو؟”

“سب میرا مذاق اڑائیں گے…”

“یا اللہ، میں نے یہ کیا کر دیا…”

“Next.”

ارحم کی آواز پر مہر چونکی۔

“م… میرا نام مہر ہے،” اس نے ہلکی گھبراہٹ سے کہا۔

ارحم کی نظریں چند لمحے اس پر ٹھہریں۔

ایسا لگا جیسے وہ جان بوجھ کر اسے uncomfortable کر رہا ہو۔

پھر اس نے ہلکے سے سر ہلایا۔

“ٹھیک ہے Miss Mehr… class کے بعد ذرا مجھ سے ملیے گا۔ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔”

مہر کا دل ایک لمحے کے لیے جیسے رک گیا۔

“یہ پکا میری بےعزتی کرے گا…” اس نے گھبرا کر سوچا۔

کچھ دیر بعد introduction session ختم ہوا۔

ارحم نے اپنی فائل بند کرتے ہوئے کہا،

“ٹھیک ہے class، کل سے ہم باقاعدہ پڑھائی شروع کریں گے۔ You may leave now.”

اور یہ کہہ کر وہ کلاس سے باہر چلا گیا۔

باقی تمام کلاسز ختم ہوتے ہوتے شام ہونے لگی تھی۔

مہر کالج کے باہر کھڑی بار بار سڑک کی طرف دیکھ رہی تھی۔

اس کی بائیک اب بھی خراب تھی اور اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ گھر کیسے جائے۔

اتنے میں زویا اس کے پاس آئی۔

“مہر؟ تم ابھی تک یہاں کھڑی ہو؟ گھر نہیں جانا کیا؟”

مہر نے پریشانی سے کہا،

“یار، آج میری بائیک خراب ہو گئی تھی… اور بابا بھی لینے نہیں آ سکتے۔ وہ کام سے گئے ہوئے ہیں۔”

زویا فوراً بولی،

“تو کیا ہوا؟ میں چھوڑ دیتی ہوں تمہیں۔”

“سچ؟ تمہیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا؟”

“بالکل نہیں۔ اب چلو بھی!”

مہر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔

“Thank you…”

زویا اسے گھر چھوڑ کر اپنے گھر چلی گئی۔

جیسے ہی مہر گھر میں داخل ہوئی، اس کی امی فوراً اس کے پاس آئیں۔

“کیسا رہا آج کا دن؟”

مہر نے تھکی ہوئی سانس لی اور صوفے پر بیٹھ گئی۔

“امی… بس مت پوچھیں۔ دعا کریں دوبارہ ایسا دن کبھی نہ آئے…”

امی ہنس پڑیں۔

“اتنا برا تھا کیا؟”

“آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتیں…”

پھر اس نے معصوم سا چہرہ بنا کر کہا،

“پلیز پہلے کچھ کھانے کو دے دیں… مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے…”

ایک انجان سا احساس

بزمِ عشق

Written by Rohab Zahra

صبح صبح مہر غیر معمولی طور پر جلدی اٹھ گئی تھی۔

جیسے ہی وہ کچن میں داخل ہوئی، مسکراتے ہوئے بولی،

“Good Morning امی جان!”

اس کی امی نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“ارے واہ… آج سورج کہاں سے نکلا ہے؟ ہماری بیٹی اتنی صبح صبح اٹھ گئی؟”

مہر نے ہنستے ہوئے کرسی کھینچی۔

“ایسے سمجھ لیں آج معجزہ ہو گیا ہے۔”

امی نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔

“ضرور کوئی بات ہے…”

“نہیں تو!” مہر نے فوراً نظریں چرا لیں۔

اتنے میں اس کے بابا بھی وہاں آ گئے۔

“کیا بات ہے؟ آج ہماری شہزادی بڑی خوش لگ رہی ہے۔”

مہر فوراً ان کے پاس گئی۔

“بابا… آج آپ مجھے کالج چھوڑ دیں گے؟”

“کیوں؟ تمہاری بائیک پھر خراب ہو گئی؟”

“جی…” مہر نے معصوم سا چہرہ بنایا۔

اس کے بابا ہنس پڑے۔

“چلو ٹھیک ہے، میں ویسے بھی آفس جا رہا ہوں۔ تمہیں راستے میں چھوڑ دوں گا۔”

“Thank you بابا!”

راستے بھر مہر خاموشی سے باہر دیکھتی رہی۔

مگر بار بار اس کے ذہن میں صرف ایک ہی شخص آ رہا تھا…

ارحم۔

“یا اللہ… نہ جانے آج کیا ہوگا…”

اس نے دل ہی دل میں سوچا۔

کالج پہنچنے کے بعد اس کے بابا آفس چلے گئے جبکہ مہر اندر آ گئی۔

ابھی کلاس شروع ہونے میں کافی وقت تھا۔

ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔

مہر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے کالج کے باغیچے کی طرف آ گئی۔

وہیں ایک طرف خوبصورت پھولوں کی بیل لگی ہوئی تھی۔

اس کی نظریں چمک اٹھیں۔

“کتنے پیارے پھول ہیں…”

وہ بےاختیار ان کے قریب چلی گئی۔

پھر آہستہ سے ایک پھول توڑ لیا۔

“اگر ایک اور توڑ لوں تو کون سی قیامت آ جائے گی…”

وہ خود ہی بڑبڑائی۔

دوسری طرف ارحم دور کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔

چند لمحے وہ خاموشی سے مہر کو دیکھتا رہا۔

پھر ہلکا سا سر ہلایا۔

“یہ لڑکی سچ میں پاگل ہے…”

وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگا۔

“محترمہ…”

اچانک آواز سن کر مہر چونک گئی۔

وہ فوراً مڑی۔

سامنے ارحم کھڑا تھا۔

مہر کے ہاتھ میں موجود پھول دیکھ کر اس کی نظریں ہلکی سی تنگ ہوئیں۔

“آپ سچ میں پاگل ہیں… یا پاگل ہونے کی acting کرتی ہیں؟”

مہر نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“مطلب؟”

ارحم نے ہاتھ باندھتے ہوئے کہا،

“آپ کو پتہ نہیں کالج کے rules کے مطابق پھول توڑنا allowed نہیں ہے؟”

مہر نے فوراً ہاتھ میں موجود پھولوں کو دیکھا۔

پھر معصوم سا چہرہ بنا کر بولی،

“ہائے اللہ… مجھ سے کیسی غلطی ہو گئی۔”

پھر ڈرامائی انداز میں بولی،

“میں اتنے سال سے یہاں پڑھ رہی ہوں اور مجھے آج تک یہ نہیں پتہ چلا…”

ارحم اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔

اس کی آنکھوں میں واضح شرارت تھی۔

“ایک کام کریں…”

وہ آہستہ سے بولا،

“یہ پھول مجھے دے دیں۔”

“کیوں؟” مہر نے فوراً پھول پیچھے کر لیے۔

“اتنی مشکل سے توڑے ہیں میں نے۔”

ارحم ہنسی روکنے کی کوشش کرنے لگا۔

“آپ ہر وقت اتنی شرارت کیوں کرتی ہیں؟”

“میں شرارت نہیں کرتی!”

“اچھا؟”

ارحم اچانک اس کے قریب آیا اور اس کے ہاتھ سے پھول کھینچ لیے۔

“ارے!”

مہر فوراً اس کے پیچھے بھاگی۔

“واپس کریں میرے پھول!”

اتنے میں سامنے سے پرنسپل سر آتے دکھائی دیے۔

جیسے ہی ان کی نظر ارحم کے ہاتھوں میں موجود پھولوں پر پڑی، وہ فوراً غصے میں آ گئے۔

“Mr. Arham!”

ان کی سخت آواز سن کر مہر فوراً رک گئی۔

پرنسپل سر غصے سے ارحم کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے۔

“آپ کو پتہ نہیں کالج کے rules کیا ہیں؟”

ارحم خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا۔

“کالج میں پھول توڑنا منع ہے۔”

مہر نے فوراً نظریں نیچے کر لیں۔

دل میں عجیب سی گھبراہٹ ہونے لگی۔

“اب تو گئے…”

اس نے دل ہی دل میں سوچا۔

مگر اگلے ہی لمحے ارحم نے سکون سے کہا،

“معذرت سر… غلطی میری تھی۔ میں ابھی نیا ہوں اس لیے مجھے کالج کے rules کا زیادہ اندازہ نہیں تھا۔ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔”

مہر نے حیرت سے فوراً ارحم کی طرف دیکھا۔

“یہ… یہ مجھے بچا کیوں رہے ہیں؟”

پرنسپل سر نے ناراضی سے کہا،

“ایک پروفیسر ہونے کے ناطے آپ کو rules کا خیال رکھنا چاہیے، Mr. Arham.”

“جی سر۔ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔”

پرنسپل سر ناگواری سے سر ہلاتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔

چند لمحوں تک خاموشی چھائی رہی۔

مہر حیرت سے ارحم کو دیکھ رہی تھی۔

“یہ تو آسانی سے میرا نام لے سکتے تھے…”

“پھر کیوں نہیں لیا…?”

وہ ابھی یہی سب سوچ ہی رہی تھی کہ ارحم نے اچانک اس کی طرف دیکھا۔

“کیا سوچ رہی ہو؟”

مہر فوراً چونکی۔

“ک… کچھ نہیں۔”

ارحم نے ہلکے سے بھنویں اٹھائیں۔

“یہی نا… کہ میں نے تمہیں کیوں بچایا؟”

مہر کی آنکھیں فوراً بڑی ہو گئیں۔

“آپ کو کیسے پتہ چلا؟!”

ارحم ہلکا سا مسکرایا۔

“شاید مجھے لوگوں کے دماغ پڑھنے آتے ہیں۔”

مہر فوراً ایک قدم پیچھے ہٹی۔

“کہیں آپ جادو ٹونہ تو نہیں کرتے؟”

ارحم بےاختیار ہنس پڑا۔

“ہاں شاید… اس لیے ذرا دھیان رکھنا کہیں اگلا نمبر تمہارا نہ ہو۔”

“یا اللہ!”

مہر فوراً وہاں سے بھاگ گئی جبکہ ارحم اسے جاتا دیکھ کر ہنسنے لگا۔

“سچ میں پاگل ہے یہ لڑکی…”

اس کے بعد باقی کالج کی classes شروع ہو گئیں۔

مگر مہر کا دھیان کہیں اور ہی تھا۔

بار بار اس کے ذہن میں صبح والا منظر آ رہا تھا۔

“آخر انہوں نے میرا نام کیوں نہیں لیا…؟”

وہ ابھی یہی سوچ رہی تھی کہ اچانک کلاس روم کا دروازہ کھلا۔

اور ارحم اندر داخل ہوا۔

آج بھی اس نے بلیک شرٹ پہنی ہوئی تھی۔

اور نہ جانے کیوں… آج وہ پہلے سے بھی زیادہ اچھا لگ رہا تھا۔

مگر سب سے عجیب بات یہ تھی کہ آج اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ موجود تھی۔

وہ ہمیشہ اتنا serious رہتا تھا…

پھر آج کیا ہوا تھا؟

مہر بےاختیار اسے دیکھتی رہ گئی۔

ارحم نے roll number sheet ڈیسک پر رکھی اور پوری کلاس پر نظر ڈالی۔

مگر جیسے ہی اس کی نظریں مہر پر پڑیں…

اس کے لبوں پر مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔

مہر فوراً چونک گئی۔

“یہ… یہ مسکرا کیوں رہے ہیں؟”

اس نے دل ہی دل میں سوچا۔

“کہیں صبح والا واقعہ یاد کر کے تو نہیں ہنس رہے…?”

مہر نے فوراً نظریں چرا لیں۔

دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔

ادھر زویا خاموشی سے یہ سب notice کر رہی تھی۔

وہ آہستہ سے مہر کے قریب جھکی۔

“مجھے لگ رہا ہے سر کو تم بڑی interesting لگتی ہو…”

مہر نے فوراً اسے گھورا !

To be continued 🫶🏻

نئ دشمنی کی شروعات

زویا شرارتی انداز میں مسکرائی اور آہستہ سے مہر کے کان میں بولی،

"ویسے... مجھے اب بھی لگتا ہے کہ ارحم سر تم میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔"

مہر نے فوراً اسے کہنی ماری۔

"چپ کرو! فضول باتیں بند کرو، ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔"

زویا اپنی ہنسی نہ روک سکی۔

"اچھا بابا... نہیں کہتی۔"

دونوں اپنی باتوں میں اس قدر مگن تھیں کہ انہیں احساس ہی نہ ہوا کب ارحم ان کے قریب آ چکا تھا۔

ارحم نے ہاتھ میں پکڑی فائل بند کی اور سنجیدہ لہجے میں کہا،

"مس زویا... اور مس مہر!"

دونوں چونک کر سیدھی کھڑی ہو گئیں۔

"جی سر!"

ارحم نے دونوں کو دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا،

"آپ دونوں کا دھیان آخر ہے کہاں؟ کلاس ختم ہوئے کافی دیر ہو چکی ہے، آدھا کالج خالی ہو چکا ہے اور آپ دونوں اب بھی اپنی باتوں میں مصروف ہیں۔ امید ہے جتنا دھیان ایک دوسرے کی باتوں پر ہے، اتنا ہی دھیان پڑھائی پر بھی ہوگا۔"

دونوں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔

"معاف کیجیے سر، آئندہ خیال رکھیں گے۔"

ارحم نے اثبات میں سر ہلایا، فائل دوبارہ ہاتھ میں لی اور وہاں سے چلا گیا۔

اس کے جاتے ہی زویا نے مہر کو معنی خیز نظروں سے دیکھا۔

"دیکھا؟ میں نہ کہتی تھی، سر تمہیں ہی نوٹس کرتے ہیں۔"

مہر نے مصنوعی غصے سے اسے گھورا۔

"تم واقعی پاگل ہو۔ ہر بات کا مطلب نکالنا ضروری نہیں ہوتا۔"

زویا ہنسنے لگی۔

"اچھا بابا، نہیں چھیڑتی۔"

دونوں ہنستے ہوئے کالج سے باہر نکل گئیں۔

---

شام ہوتے ہی مہر گھر پہنچ گئی۔

دروازہ کھولتے ہی اس کی امی نے محسوس کیا کہ آج وہ کچھ خاموش ہے۔

"کیا بات ہے مہر؟ آج کچھ پریشان لگ رہی ہو۔ کالج میں سب خیریت تو ہے؟"

مہر نے ہلکی سی مسکراہٹ بنائی۔

"جی امی، سب ٹھیک ہے۔ بس آج تھوڑا زیادہ تھک گئی ہوں۔"

امی نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

"اگر کوئی بات ہے تو مجھے ضرور بتانا، بیٹا۔"

مہر چند لمحے خاموش رہی، پھر ہچکچاتے ہوئے بولی،

"امی... ایک بات پوچھوں؟"

"ہاں بیٹا، پوچھو۔"

"اگر... فرض کریں ہم کسی ایسے شخص کو اچھی طرح نہ جانتے ہوں، لیکن وہ بار بار ہماری طرف دیکھے... اور جب بھی دیکھے تو ہلکا سا مسکرا دے... تو کیا اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ ہمارے لیے کچھ محسوس کرتا ہے؟"

امی ہلکا سا مسکرائیں۔

"نہیں بیٹا، ضروری نہیں۔ ہر مسکراہٹ محبت کی نشانی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان کسی کی معصوم حرکت پر مسکرا دیتا ہے، کبھی کسی کی کوئی بات اچھی لگ جائے تو بھی مسکرا دیتا ہے، اور کئی بار یہ صرف ایک اتفاق ہوتا ہے۔ صرف کسی کے بار بار دیکھنے یا مسکرانے سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ تمہارے لیے کچھ محسوس کرتا ہے۔"

مہر نے اطمینان کا سانس لیا۔

"اچھا... تو میں ہی فضول میں سوچ رہی تھی۔"

امی مسکرا دیں۔

"بالکل، ہر بات کو دل پر نہیں لیا کرتے۔"

مہر بھی ہلکا سا مسکرا دی۔

"شکریہ امی۔"

یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔

بستر پر لیٹتے ہی اس نے خود سے کہا،

"سچ کہتی ہیں امی... زویا تو ہر بات میں کہانی بنا لیتی ہے، اور میں بھی اس کی باتوں میں آ گئی تھی۔ شاید واقعی یہ سب صرف اتفاق تھا۔"

یہ سوچتے سوچتے نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔

---

اگلی صبح...

مہر کی آنکھ کھلی تو گھڑی دیکھ کر گھبرا گئی۔

"یا اللہ! آج تو واقعی دیر ہو گئی!"

وہ جلدی جلدی تیار ہوئی، ناشتہ کیا اور کالج روانہ ہو گئی۔

کالج کے گیٹ پر زویا پہلے ہی اس کا انتظار کر رہی تھی۔

"آخرکار شہزادی تشریف لے ہی آئیں!"

مہر ہنس پڑی۔

"بس بھی کرو، آج واقعی دیر ہو گئی تھی۔"

دونوں باتیں کرتے ہوئے کالج کے اندر داخل ہوئیں۔

ابھی پہلی کلاس شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا، اس لیے دونوں آہستہ آہستہ چل رہی تھیں۔

اچانک کالج کے مرکزی دروازے کے سامنے ایک چمچماتی ہوئی سیاہ رنگ کی لگژری گاڑی آ کر رکی۔

گاڑی رکتے ہی کئی طلبہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے۔

"ارے... سنبل آ گئی!"

"آخر ویکیشن ختم ہوئی، میڈم واپس آ ہی گئیں!"

ڈرائیور نے احترام سے گاڑی کا دروازہ کھولا۔

اونچی ایڑیوں کی ٹک ٹک کے ساتھ سنبل گاڑی سے نیچے اتری۔

مہنگے برانڈ کا لباس، کندھے پر قیمتی برانڈڈ بیگ، پاؤں میں برانڈڈ جوتے، آنکھوں پر سیاہ چشمہ اور ہاتھ میں جدید موبائل...

اس کے چہرے پر غرور صاف جھلک رہا تھا، جیسے اسے یقین ہو کہ ہر نظر صرف اسی پر ٹھہرے گی۔

وہ موبائل کان سے لگائے کسی سے بات کر رہی تھی۔

"ہاں... رات کے کھانے میں میری پسند کی تمام ڈشیں ہونی چاہئیں۔ اور میری ہر چیز وقت سے پہلے تیار ہونی چاہیے، کیونکہ مجھے انتظار کرنا بالکل پسند نہیں۔"

یہ کہتے ہوئے وہ بے پروائی سے آگے بڑھتی رہی...

اسی لمحے سامنے سے زویا اپنی کتابیں سنبھالے آ رہی تھی...

دھڑام!

سنبل کا مہنگا موبائل زمین پر جا گرا جبکہ زویا کی تمام کتابیں فرش پر بکھر گئیں..

سنبل نے فوراً اپنا موبائل اٹھایا اور غصے سے زویا کو گھورا۔

"تمہیں آنکھیں کھول کر چلنا نہیں آتا؟ دیکھو، تم نے میرے موبائل کا کیا حال کر دیا!"

زویا نے بھی اپنی کتابیں سمیٹتے ہوئے جواب دیا،

"یہی سوال میں بھی تم سے کر سکتی ہوں۔ تم موبائل پر بات کر رہی تھیں، اگر سامنے دیکھ کر چلتی تو یہ سب نہ ہوتا۔"

سنبل نے طنزیہ انداز میں ہنکارا بھرا۔

"اوہ! تو اب غلطی میری ہے؟"

"میں نے ایسا نہیں کہا، لیکن غلطی صرف میری بھی نہیں ہے۔"

دونوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔

آس پاس موجود طلبہ بھی رک کر دیکھنے لگے۔

اسی دوران مہر آگے بڑھی۔

"ایک منٹ..."

دونوں اس کی طرف متوجہ ہوئیں۔

مہر نے نہایت سکون سے کہا،

"میرے خیال میں غلطی آپ دونوں کی ہے۔ آپ موبائل پر بات کر رہی تھیں، اور زویا بھی اپنی باتوں میں مصروف تھی۔ اگر آپ دونوں ذرا سا دھیان سے چلتیं تو یہ واقعہ پیش ہی نہ آتا۔"

سنبل نے تیز نظروں سے مہر کو دیکھا۔

"تم کون ہوتی ہو ہمارے درمیان بولنے والی؟"

مہر نے پُرسکون لہجے میں جواب دیا،

"میں صرف حق کی بات کر رہی ہوں۔"

"مجھے تمہارے حق کی کوئی ضرورت نہیں!"

اسی لمحے شور سن کر ایک پروفیسر وہاں آ گئے۔

انہوں نے سخت آواز میں پوچھا،

"یہاں کیا ہو رہا ہے؟ اتنا ہجوم کیوں لگا ہوا ہے؟"

ایک طالب علم آگے بڑھا۔

"سر، ان دونوں کی آپس میں ٹکر ہو گئی تھی، پھر بات بڑھ گئی۔"

پروفیسر نے زویا، سنبل اور مہر کی بات سنی، پھر سنجیدگی سے بولے،

"یہ کالج ہے، تماشہ لگانے کی جگہ نہیں۔ میں نے جو سنا ہے اس کے مطابق دونوں کا دھیان اپنی اپنی طرف نہیں تھا، اس لیے آئندہ احتیاط کرنا۔ اب سب اپنی اپنی کلاسوں میں جائیں۔"

پورے کالج کے سامنے ڈانٹ سن کر سنبل کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔

اسے اپنی ڈانٹ سے زیادہ یہ بات چبھ رہی تھی کہ مہر کی ایک بات نے سب کا رخ بدل دیا۔

وہ جانے لگی، مگر ایک لمحے کے لیے رکی۔

اس نے پلٹ کر مہر کی طرف دیکھا۔

اس کی نظریں خاموش تھیں... مگر ان میں عجیب سی نفرت اور چیلنج صاف دکھائی دے رہا تھا۔

پھر وہ بغیر کچھ کہے سیدھی پرنسپل کے آفس کی طرف بڑھ گئی۔

---

"ڈیڈ!"

سنبل نے غصے سے آفس کا دروازہ کھولا۔

پرنسپل نے چونک کر اسے دیکھا۔

"ارے، سنبل! بیٹا، اتنے دنوں بعد کالج آئی ہو، اور اتنی غصے میں کیوں ہو؟ کیا ہوا؟"

سنبل نے ناراضی سے کہا،

"ڈیڈ! میں اتنے دنوں بعد کالج آئی ہوں، اور آتے ہی آپ کے اسٹاف نے سب کے سامنے میری بے عزتی کر دی۔ ایک عام سی لڑکی میری مخالفت کر رہی تھی، اور سر نے بھی مجھے سب کے سامنے ڈانٹ دیا!"

پرنسپل نے فوراً متعلقہ پروفیسر کو بلوا لیا۔

چند لمحوں بعد پروفیسر آفس میں داخل ہوئے۔

"السلام علیکم، سر۔"

"وعلیکم السلام۔ بتائیے، کیا معاملہ تھا؟"

پروفیسر نے ادب سے جواب دیا،

"سر، مجھے معلوم نہیں تھا کہ سنبل آپ کی بیٹی ہیں۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے بچوں سے پوری بات سنی۔ حالات کو دیکھتے ہوئے میں نے صرف سنبل کو نہیں بلکہ زویا کو بھی سمجھایا تھا۔ میری نظر میں اس وقت دونوں کی غلطی تھی، اس لیے میں نے دونوں کو ہی ڈانٹا۔"

پرنسپل نے سر ہلاتے ہوئے کہا،

"ٹھیک ہے، آئندہ ذرا زیادہ احتیاط کیا کریں۔"

"جی سر۔"

پروفیسر اجازت لے کر باہر چلے گئے۔

پرنسپل نے سنبل کی طرف دیکھ کر لہجہ نرم کیا۔

"بیٹا، کافی پیو گی؟"

سنبل نے بے دلی سے سر ہلایا۔

"نہیں ڈیڈ، میرا دل نہیں ہے۔"

"اچھا، پھر تھوڑا آرام کر لو۔ اگر طبیعت ٹھیک نہ لگے تو آج گھر چلی جاؤ، کل سے باقاعدہ کالج آ جانا۔"

"ٹھیک ہے ڈیڈ۔ ابھی میں اپنی دوستوں کے پاس جا رہی ہوں، بعد میں آ کر آپ سے بات کرتی ہوں۔"

"ٹھیک ہے بیٹا، اپنا خیال رکھنا۔"

سنبل آفس سے باہر نکلی۔

لان میں اس کی نظر دوبارہ مہر پر پڑی، جو زویا کے ساتھ مسکراتے ہوئے کلاس کی طرف جا رہی تھی۔

سنبل کے ہونٹوں پر ہلکی سی معنی خیز مسکراہٹ آئی۔

اس نے دل ہی دل میں کہا،

"کوئی بات نہیں، مہر... آج ہماری پہلی ملاقات تھی۔ لیکن اگلی ملاقات میں حساب ضرور برابر ہوگا۔"

یہ سوچ کر وہ اپنی دوستوں کی طرف بڑھ گئی، جبکہ مہر اس نئی دشمنی سے بالکل بے خبر تھی۔

To be continued 🫶🏻

Download NovelToon APP on App Store and Google Play

novel PDF download
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play