خاموش وعدہ
حصہ اول
سردیوں کی ایک دھند بھری صبح تھی۔ سورج کی ہلکی کرنیں بادلوں کے پیچھے سے جھانک رہی تھیں، مگر شہر ابھی پوری طرح جاگا نہیں تھا۔ سڑکوں پر خاموشی تھی اور ہلکی ہلکی ہوا درختوں کے پتوں کو آہستہ آہستہ ہلا رہی تھی۔
اسی شہر کے ایک چھوٹے سے محلے میں عائشہ اپنی والدہ کے ساتھ ایک سادہ سے گھر میں رہتی تھی۔ اس کی عمر بائیس سال تھی۔ وہ نہایت خوبصورت، تعلیم یافتہ اور خوددار لڑکی تھی۔ اس کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ اپنی محنت سے کامیاب بنے اور اپنی ماں کی ہر تکلیف دور کرے۔
عائشہ کے والد کئی سال پہلے ایک حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کے بعد زندگی نے اس خاندان کا ہر امتحان لیا، مگر عائشہ نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ وہ دن میں ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتی اور شام کو بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی۔
دوسری طرف شہر کے مشہور کاروباری خاندان کا وارث زین ملک اپنی کامیابیوں کی وجہ سے ہر جگہ جانا جاتا تھا۔ صرف انتیس سال کی عمر میں اس نے اپنے والد کا کاروبار کئی گنا بڑھا دیا تھا۔ لوگ اس کی ذہانت کی تعریف کرتے تھے، لیکن اس کے سخت مزاج کی وجہ سے اس سے ڈرتے بھی تھے۔
زین کے لیے زندگی صرف کام تھی۔ اس کے نزدیک محبت، جذبات اور خواب وقت کا ضیاع تھے۔
ایک دن عائشہ کو کمپنی کی طرف سے ایک اہم میٹنگ میں شرکت کے لیے بھیجا گیا۔ وہ وقت سے پہلے دفتر پہنچ گئی، لیکن جلدی میں اس کے ہاتھ سے فائلیں گر گئیں۔ اسی لمحے سامنے سے آنے والا شخص بھی رک گیا۔
وہ زین ملک تھا۔
اس نے خاموشی سے جھک کر ایک فائل اٹھائی اور عائشہ کی طرف بڑھا دی۔
"احتیاط سے چلا کریں،" اس نے مختصر لہجے میں کہا۔
عائشہ نے شرمندگی سے جواب دیا، "معاف کیجیے، میری غلطی تھی۔"
زین نے پہلی بار غور سے اس کے چہرے کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی سچائی اور اعتماد تھا۔ وہ کچھ لمحے خاموش رہا، پھر بغیر کچھ کہے آگے بڑھ گیا۔
اس دن کے بعد قسمت نے جیسے دونوں کی راہیں بار بار ملا دیں۔ کبھی لفٹ میں، کبھی کانفرنس روم میں اور کبھی کمپنی کے باغ میں۔
آہستہ آہستہ زین نے محسوس کیا کہ عائشہ باقی لوگوں سے مختلف ہے۔ وہ نہ خوشامد کرتی تھی، نہ کسی سے ڈرتی تھی، بلکہ ہمیشہ سچ بولتی تھی۔
ایک شام کمپنی سے واپسی پر تیز بارش شروع ہو گئی۔ عائشہ بس اسٹاپ پر کھڑی بھیگ رہی تھی۔ اسی وقت ایک سیاہ رنگ کی گاڑی اس کے سامنے آ کر رکی۔
شیشہ نیچے ہوا۔
"بیٹھ جائیں، بارش بہت تیز ہے،" زین نے سنجیدگی سے کہا۔
عائشہ چند لمحے خاموش رہی۔ پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا، جہاں بارش مزید تیز ہو چکی تھی۔
کیا وہ اس پیشکش کو قبول کرے گی؟
یہ فیصلہ صرف اس کی منزل ہی نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی بدلنے والا تھا...
خاموش وعدہ
حصہ اول
سردیوں کی ایک دھند بھری صبح تھی۔ سورج کی ہلکی کرنیں بادلوں کے پیچھے سے جھانک رہی تھیں، مگر شہر ابھی پوری طرح جاگا نہیں تھا۔ سڑکوں پر خاموشی تھی اور ہلکی ہلکی ہوا درختوں کے پتوں کو آہستہ آہستہ ہلا رہی تھی۔
اسی شہر کے ایک چھوٹے سے محلے میں عائشہ اپنی والدہ کے ساتھ ایک سادہ سے گھر میں رہتی تھی۔ اس کی عمر بائیس سال تھی۔ وہ نہایت خوبصورت، تعلیم یافتہ اور خوددار لڑکی تھی۔ اس کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ اپنی محنت سے کامیاب بنے اور اپنی ماں کی ہر تکلیف دور کرے۔
عائشہ کے والد کئی سال پہلے ایک حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کے بعد زندگی نے اس خاندان کا ہر امتحان لیا، مگر عائشہ نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ وہ دن میں ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتی اور شام کو بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی۔
دوسری طرف شہر کے مشہور کاروباری خاندان کا وارث زین ملک اپنی کامیابیوں کی وجہ سے ہر جگہ جانا جاتا تھا۔ صرف انتیس سال کی عمر میں اس نے اپنے والد کا کاروبار کئی گنا بڑھا دیا تھا۔ لوگ اس کی ذہانت کی تعریف کرتے تھے، لیکن اس کے سخت مزاج کی وجہ سے اس سے ڈرتے بھی تھے۔
زین کے لیے زندگی صرف کام تھی۔ اس کے نزدیک محبت، جذبات اور خواب وقت کا ضیاع تھے۔
ایک دن عائشہ کو کمپنی کی طرف سے ایک اہم میٹنگ میں شرکت کے لیے بھیجا گیا۔ وہ وقت سے پہلے دفتر پہنچ گئی، لیکن جلدی میں اس کے ہاتھ سے فائلیں گر گئیں۔ اسی لمحے سامنے سے آنے والا شخص بھی رک گیا۔
وہ زین ملک تھا۔
اس نے خاموشی سے جھک کر ایک فائل اٹھائی اور عائشہ کی طرف بڑھا دی۔
"احتیاط سے چلا کریں،" اس نے مختصر لہجے میں کہا۔
عائشہ نے شرمندگی سے جواب دیا، "معاف کیجیے، میری غلطی تھی۔"
زین نے پہلی بار غور سے اس کے چہرے کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی سچائی اور اعتماد تھا۔ وہ کچھ لمحے خاموش رہا، پھر بغیر کچھ کہے آگے بڑھ گیا۔
اس دن کے بعد قسمت نے جیسے دونوں کی راہیں بار بار ملا دیں۔ کبھی لفٹ میں، کبھی کانفرنس روم میں اور کبھی کمپنی کے باغ میں۔
آہستہ آہستہ زین نے محسوس کیا کہ عائشہ باقی لوگوں سے مختلف ہے۔ وہ نہ خوشامد کرتی تھی، نہ کسی سے ڈرتی تھی، بلکہ ہمیشہ سچ بولتی تھی۔
ایک شام کمپنی سے واپسی پر تیز بارش شروع ہو گئی۔ عائشہ بس اسٹاپ پر کھڑی بھیگ رہی تھی۔ اسی وقت ایک سیاہ رنگ کی گاڑی اس کے سامنے آ کر رکی۔
شیشہ نیچے ہوا۔
"بیٹھ جائیں، بارش بہت تیز ہے،" زین نے سنجیدگی سے کہا۔
عائشہ چند لمحے خاموش رہی۔ پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا، جہاں بارش مزید تیز ہو چکی تھی۔
کیا وہ اس پیشکش کو قبول کرے گی؟
یہ فیصلہ صرف اس کی منزل ہی نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی بدلنے والا تھا...
Download NovelToon APP on App Store and Google Play