محبت، میں اور تم !
دنیا میں تین ہی تو سچ ہیں!
محبت، میں اور تم۔
میرا نام نوکس ہے۔ میری عمر اٹھارہ (18) برس ہے۔ میں سیکنڈ ایئر کا طالب علم ہوں۔ کہتے ہیں جب محبت ہوتی ہے تو موسم دونوں اطراف سے بدلتا ہے۔ محبت یا دو طرفہ ہوتی ہے یا ایک طرفہ۔ لیکن میں مانتا ہوں ایک طرفہ ہو یا دو طرفہ، محبت تو محبت ہوتی ہے۔
میں بھی اپنی محبت کا قصہ سنانے جا رہا ہوں جو پہلے پہل تو ایک طرفہ تھی پر اب رب کے فضل و کرم سے دو طرفہ ہے۔
یہ بات تب کی ہے جب میں چودہ (14) برس کا تھا۔ میں ہشتم جماعت میں پڑھتا تھا۔ روزانہ کی طرح ہی صبح اٹھنا، اسکول کے لیے تیار ہونا، اور جب تک میں تیار ہوتا، ناشتہ بن چکا ہوتا۔ پھر ناشتہ کر کے اسکول کے لیے روانہ ہو جانا۔ میری جماعت میں بہت سے طالب علم تھے۔ میری زیادہ کسی سے بنتی نہیں تھی پر میرا ایک جگری دوست تھا۔ میرے سگے بھائیوں جیسا تھا۔ اس کا نام ابی ہے۔ میں روزانہ اس کے ساتھ ہی بیٹھتا تھا۔ ہماری جماعت میں بہت سی لڑکیاں بھی پڑھتی تھیں۔ لیکن ہماری کسی سے خاص بات نہیں ہوتی تھی۔ اگر کبھی ہوتی بھی تو صرف کام کے سلسلے میں ہوتی۔
ابی اور میری دوستی پوری جماعت میں مشہور تھی۔ حتیٰ کہ مجھے یہ تک پتہ نہیں تھا کہ مجھے میری محبت اسی دوست کی وجہ سے ملے گی، کیونکہ ابی کی سب سے بن جاتی تھی، حتیٰ کہ لڑکیوں سے بھی۔
روزانہ کی طرح ایک عام دن تھا۔ بریک ٹائم چل رہا تھا۔ میں اور ابی کینٹین کے پاس کھڑے تھے۔ اتنے میں ابی نے کسی کو آواز دی "ادھر آؤ"۔ وہ پاس آئی تو میں نے دیکھا ابی نے ایک لڑکی کو آواز دی تھی۔ جب وہ پاس آ گئی تو ابی کہتا ہے، "آؤ آج میں تمہیں اپنے خاص دوست سے ملواؤں"۔ جب میں نے دھیان سے دیکھا تو وہ ہماری ہی جماعت کی لڑکی تھی۔ اتنے میں اس لڑکی نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور دھیرے سے اپنا نام لیا۔ میں نے ہاتھ ملانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا، جیسے ہی میرا ہاتھ اس کے نرم ہاتھ سے ٹکرایا، مانو جیسے دل کی دھڑکن ایک پل کے لیے رک سی گئی ہو۔ جب میری نظریں اس کی نظروں سے ملیں تو میں نے اس کی آنکھوں میں ایک کشش دیکھی جو میرے دل میں اتر گئی۔ مانو جیسے میری دنیا ٹھہر سی گئی ہو۔ اتنے میں اس نے مجھے بلایا اور مجھ سے میرا نام جانا۔ اتنے میں اس کی دوست نے اس کو آواز دی اور وہ خدا حافظ کہہ کر وہاں سے چلی گئی۔ میں وہاں حیران کھڑا تھا۔ اتنے میں ابی نے آواز دی اور کہا "اچھی تھی نہ؟" اور اس کی باتیں کرنے لگا۔ وہ باتیں کر ہی رہا تھا کہ بیل بجی، بریک کا وقت ختم ہو گیا اور ہم جماعت میں چلے گئے۔
پھر اسکول کی چھٹی ہو گئی۔ میں اور ابی ملے اور خدا حافظ کہہ کر اپنے اپنے گھر کو چل دیے۔ میں گھر پہنچا، امی کو سلام کیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اپنا یونیفارم اتارا، فریش ہوا اور امی سے جا کر کھانا مانگا۔ امی نے کھانا دیا، میں نے کھانا کھایا اور پانی پی رہا تھا۔ میں نے پانی پیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ جا کر وضو کیا اور عصر کی نماز ادا کی۔ پھر میں ہوم ورک کرنے بیٹھ گیا۔ کام کرتے کرتے کب شام ہو گئی، پتہ ہی نہیں چلا۔ میں کام کر کے اٹھ ہی رہا تھا کہ بابا بھی دفتر سے آ گئے۔ میں اپنا سامان سمیٹ کر ان کے پاس گیا۔ ان کو سلام کیا اور حال چال جانا۔ ابو مجھ سے بات کرنے کے بعد اپنے کمرے میں چلے گئے۔
اتنی دیر میں ماما آئیں اور بولیں، "آؤ کھانا لگ گیا ہے۔ اپنے بابا کو بھی بلا لاؤ اور کھانا کھا لو۔" میں ابو کو بلا کر لایا اور سب نے بیٹھ کر کھانا کھایا۔ کھانا کھانے کے بعد تھوڑی دیر ٹی وی دیکھا اور پھر سب اپنے اپنے کمرے میں سونے چلے گئے۔ میں اپنے بیڈ پر جا کے لیٹا اور سوچنے لگ گیا جو کینٹین میں ہوا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ کب آنکھ لگ گئی۔ خیر صبح ہوئی اور میں روزانہ کی طرح اسکول گیا۔ جا کر ابی کے ساتھ بیٹھا۔ ابھی کلاس شروع ہونے میں وقت تھا۔ میں اور ابی باتیں کرنے لگ گئے۔
ہم باتیں کر رہے تھے کہ کسی نے آواز دی، "ذرا سنیے!" میں نے جب اس کی طرف دیکھا تو وہ وہی لڑکی تھی جس سے کل کینٹین میں ملاقات ہوئی تھی۔ یہاں سے میری محبت کی کہانی نے ایک نیا موڑ لیا۔
اس نے بولا، "جہاں میں بیٹھتی ہوں وہاں جگہ نہیں ہے، تو کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟" اتنے میں ابی بولا، "آؤ بیٹھو، یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔" وہ لڑکی میرے ساتھ بیٹھ گئی۔ اور یہاں سے میری اور اس کی دوستی کا آغاز ہوا۔ آہستہ آہستہ اس سے بات ہونا شروع ہوئی۔ اور کب ہم تینوں کا پکا گروپ بن گیا، پتہ ہی نہیں چلا۔ ہماری دوستی پکی ہو چکی تھی۔ اب ہم آپس میں مذاق بھی کرتے تھے۔ وہ باقی لڑکیوں سے الگ تھی۔ معصوم، شرمیلی، لیکن جب وہ مسکراتی تھی تو لگتا تھا جیسے آس پاس سب کچھ مہک سا گیا ہو۔ جیسے جیسے دوستی گہری ہوئی، مجھے وہ اچھی لگنے لگی۔ میں کام کے بہانے بہانے سے اس کو دیکھنے لگا۔ کبھی کبھی تو میں اس کو چھپ کر دیکھتا، اور جب وہ میری طرف دیکھتی تو میں اپنی نظریں کتاب پر جما لیتا۔
پھر اس کے بعد امتحانات (ایگزیمز) کے دن تھے اور ہم تینوں—میں، ابی اور وہ لڑکی—لائبریری میں بیٹھے پڑھ رہے تھے۔ ہر طرف خاموشی تھی، اور اچانک غلطی سے اس کا ہاتھ میز پر رکھے میرے ہاتھوں سے چھو گیا۔ اس نے ہاتھ ہٹایا اور بولی، "آہ نوکس، سوری!" میں نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔ لیکن اس کے ہاتھ کا میرے ہاتھ کو چھونا... میرے دل میں ایک عجیب سی ہلچل مچ گئی تھی۔ اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس کا ہر چھوٹا لفظ، اس کا مسکرانا، اس کی ہر چھوٹی بات میرے دل پر کیا اثر کر رہی تھی۔ ابی پاس بیٹھا سب دیکھ رہا تھا۔ وہ ہر چھوٹی چیز نوٹ کر رہا تھا۔
اس نے ایک کاغذ میری طرف پھینکا جس پر لکھا تھا، "لگتا ہے کسی کو کسی سے پیار ہو گیا ہے!" میں نے اس کو سائیڈ پر بلایا اور کہا، "ایسا کچھ نہیں ہے" اور ہنس کر بات ٹال دی۔ میں خود قبول نہیں کر پا رہا تھا کہ مجھے پیار ہے یا نہیں۔ میں نے خود کو سمجھاتے ہوئے کہا، "نہیں، ایسا کچھ بھی نہیں ہے"۔ پھر ہم نے بیٹھ کر پڑھا اور پھر اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ میں اب ہر وقت اس کے بارے میں سوچتا رہتا۔ میں اس کی ہر بات یاد رکھنے لگا۔ میرا دل کرتا وہ ہر وقت میرے پاس ہو اور میں اس کو مسکراتے ہوئے دیکھتا رہوں۔
اب یہاں سے کہانی نے نیا موڑ لیا۔ میں اب خود محسوس کر رہا تھا کہ مجھے اس سے پیار ہو گیا ہے۔ اب میں سوچ میں کھویا رہتا۔ ابی نوٹ کر رہا تھا۔ اس نے ایک دن پھر مجھے تنگ کرتے ہوئے بولا، "میرے یار کو عشق ہو گیا ہے!" اب میں بھی خود کو روک نہیں پایا۔ میں نے اس کو سب بتایا جو میرے ساتھ چل رہا تھا۔
مجھے اب ڈر لگنے لگا تھا کہ میں اس کو کھو نہ دوں۔ میں اس کو بتانا چاہتا تھا کہ مجھے اس سے پیار ہے، پر کھونے کے ڈر سے بتاتا نہ تھا۔ مجھے یہ ڈر بہت ستانے لگا۔ میں اب اسے دوست کی طرح نہیں بلکہ پیار کی نظر سے دیکھتا تھا، کیونکہ مجھے اس سے پیار ہو گیا تھا تو میرا رویہ بدلنے لگا۔ ایک دن اس نے مجھ سے پوچھا، "تم کچھ بدل سے گئے ہو۔" میں نے کہا، "بس ایگزیمز ہیں نا، تو بس اس کی فکر ہے" اور بات کو گھما دیا۔ پھر اس نے مجھے دلاسا دیتے ہوئے بولا، "فکر مت کرو، محنت کی ہے تو محنت کا صلہ ضرور ملے گا۔"
پھر ہمارے امتحانات (ایگزیمز) ہوئے اور ہم تینوں کے اچھے نمبر آئے۔ ہم تینوں بہت خوش تھے۔ اب ہم نہم جماعت میں ہو چکے تھے، تو ہم نے سیلیبریٹ کرنے کا سوچا۔ شام سات (7) بجے کا وقت طے ہوا۔ ہم نے ایک کیفے بک کیا۔ جانے سے دو گھنٹے پہلے ہی ابی میرے پاس (گھر) آ گیا۔ وہ میرے کمرے میں آیا اور بولا، "نوکس سنو!" اور کہنے لگا، "تم نے مجھے سب بتایا تھا، تو میں سوچ رہا تھا کہ آج موقع اچھا ہے، اظہار کر دو۔" میں خاموش تھا۔ یہ سنتے ہی میں سُن ہو گیا اور خیالات میں کھو گیا کہ کہیں اس کو کھو نہ دوں، وہ کیا سوچے گی، مجھے کیسا سمجھے گی۔ اتنے میں ابی نے مجھے ہلایا اور بولا، "کیا سوچ رہا ہے؟"
میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں نے اس کو سب سمجھایا، تو اس نے مجھے دلاسا دیا اور سمجھانے لگا۔ وہ کہنے لگا، "تم غلط سوچ رہے ہو! ابھی وقت ہے اور موقع بھی ہے۔ بعد میں پچھتاتے پھرو گے اور روتے پھرو گے کہ اظہار بھی نہ کر سکا اور حاصل بھی نہ کر سکا۔" اس نے مجھے بہت سمجھایا، تب میری عقل میں بات آئی اور میں بھی رضامند ہو گیا۔ لیکن مجھ میں ابھی بھی ہمت نہ تھی۔ اب سات بجنے والے تھے اور ہم دونوں گھر سے چل پڑے۔ جب ہم پہنچے تو وہ باہر کھڑی ہمارا انتظار کر رہی تھی۔ پھر ہم تینوں نے اچھے سے سیلیبریٹ کیا۔ سیلیبریشن کے بعد ہمارے جانے کا وقت ہوا۔ اس نے کہا، "آج بہت مزا آیا، میں آج بہت خوش ہوں۔ چلو! اب کل اسکول میں ملیں گے۔" ابی نے مجھے دھکا دیا اور کہا، "بول دے، ابھی موقع ہے!" مجھ میں ابھی بھی ہمت نہیں تھی۔ خیر، میں نے اوکھے سوکھے ہمت جٹائی اور کہا، "روکو، میری بات سنو!" وہ رکی، ٹھہر گئی اور بولی، "جی بولیں!" میں نے کہا، "سائیڈ پر آئیں، ضروری بات کرنی ہے۔"
وہ سائیڈ پر آئی اور کہا، "ہاں جی بولیں!" میں تھوڑی دیر تو خاموش رہا، پھر میں نے کہا، "پہلے وعدہ کریں جیسے ہم ابھی ہیں، ویسے ہی رہیں گے۔" وہ یہ سنتے ہی پریشان سی ہو گئی اور بولی، "سب خیریت ہے نا؟" میں نے ہاں میں سر ہلایا۔ پھر میں نے کہا، "پہلے وعدہ تو کریں۔" اس نے کہا، "جی پکا وعدہ۔" پھر میں نے کانپتے ہوئے کہا، "وہ... وہ... وہ نہ مجھے آپ سے... وہ مجھے نہ آپ سے محبت ہو گئی ہے!" یہ سنتے ہی وہ سُن سی ہو گئی اور چپ چاپ چل پڑی۔ مجھ میں بھی اسے روکنے کی ہمت نہ تھی۔ میں اس کے اس ردِ عمل سے بہت ڈر گیا تھا۔ میری آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔ میں بھی چپ چاپ گھر کو چل پڑا اور ابی سے بنا کچھ کہے وہاں سے نکل گیا۔
میں گھر پہنچا اور بنا کسی سے کچھ کہے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ میں نے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔ امی جان میرے پاس آئیں اور بولیں، "نوکس بیٹا! کیا ہوا ہے؟" میں نے طبیعت کا بہانا بنایا اور بات کو گھما دیا۔ پھر کچھ وقت امی جان کے ساتھ باتیں کیں، پھر وہ سونے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ مجھے اس رات نیند ہی نہیں آئی۔ میں ساری رات سوچتا رہا، بہت پریشان تھا اور میری پوری رات بے چینی میں گزری۔
صبح میں اسکول گیا اور ابی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ رات بھر کی جودوجہد (یا سوچ بچار) اور بے خوابی کی وجہ سے میری آنکھیں سرخ تھیں۔ مجھے نیند تو بہت آ رہی تھی پر آنکھیں کھلنے پر مجبور تھیں۔ ابی نے میری آنکھیں دیکھیں اور پوچھا، "سب ٹھیک تو ہے؟ کل بھی بنا کچھ بتائے چلے گئے تھے۔" میں نے اس کو سب کچھ بتایا۔ اتنے میں وہ لڑکی جماعت میں داخل ہوئی۔ وہ پہلے تو روز ہمارے ساتھ بیٹھتی تھی، مگر آج نہیں بیٹھی اور دوسری لڑکیوں کے ساتھ جا کر بیٹھ گئی۔ اس کے اس روئے (یا رویے) کی وجہ میں اور ابی سمجھ چکے تھے۔ وہ باقی سب سے تو ٹھیک سے بات کرتی، مگر میری طرف دیکھتی بھی نہ تھی۔
اب ہمارے دہم (میٹرک) کے امتحانات ہونے والے تھے۔ میں اور ابی لائبریری میں تیاری کرنے گئے۔ پھر ہمارے امتحانات کے دن آئے اور پیپرز ہوئے۔ میں ہر وقت اس کو دیکھتا رہتا اور اس کے بارے میں ہی سوچتا رہتا۔ میں بھولنے کی بہت کوشش کرتا تاکہ امتحانات اچھے سے ہو جائیں، مگر یہ دل بھولنے کہاں دیتا تھا۔ پھر ہمارے امتحانات ختم ہو گئے۔ آج اسکول میں ہمارا آخری دن تھا...
WRITTEN BY : TOJI نوول نگار : توجی
Download NovelToon APP on App Store and Google Play