وسیع اور کشادہ حال نرم سنہری روشنی میں نہایا ہوا تھا بلند چت سے لٹکتے فانوس اپنی چمک فرش پر بکھیر رہے تھے دیواروں پر نفیس نقش و نگار تھے ہر طرف خاموش سے خوبصورتی محسوس ہو رہی تھی.
وہ صوفے پر بیٹھا فون چلانے میں مصروف ہوتا ہے کہ اس کی نظر سیڑھیوں سے اترتی عزل پر پڑی اوئے چھپکلی تمہیں نظر نہیں ارہا کہ گھر مہمان ائے ہوئے ہیں بندہ سوکھے منہ پوچھ ہی لیتا ہے کہ کچھ لینا پسند کریں گے .وہ موبائل ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہتا ہے .
کون سے مہمان اور کہا کہ مہمان مجھے تو کوئی مہمان نظر نہیں ارہا ادھر, اور تم نے یہ چھپکلی کسے کہا ہے, بتانا ذرا تم.!!!. ایزل جو اپنی دھن میں کچن کی طرف جا رہی تھی رک کر بولی .
اف کورس! میرے سامنے تم ہی کھڑی ہو یا ادھر تمہیں کوئی دوسرا بندہ نظر ا رہا ہے تو تمہیں ہی چھپکلی بولا ہے .وہ ہاتھوں کو نچا نچا کر بڑے مزے سے اسے بتا رہا ہوتا ہے کہ سامنے سے اڑتی ہوئی جوتی اس کے سر پر لگتی ہے تو اس کی چلتی زبان کو بریک لگتی ہے.
یہ کیا بدتمیزی ہے تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے جوتا مارنے کی ابھی میں چاچی کو تمہاری شکایت لگاتا ہوں .
وہ صوفے سے اٹھتے ہوئے بولا.
جس طرح تمہاری ہمت ہوئی مجھے چھپکلی بولنے کی اسی طرح سیم ٹو سیم میں نے بھی تمہیں جوتا مارنے کی ہمت کر لی سمپل, اور جس مرضی کو جا کر بتاؤ تم ,تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہاری دھمکیوں سے ڈر جاؤں گی میرے منہ میں بھی زبان ہے میں بھی تمہارا بتا سکتی ہو.
ازمیر بیٹا تم کب ائے ہو مجھے شور کی اواز ائی ہے تو میں باہر نکلی ہوں مجھے یہ تھا کہ یہ بہن بھائی اپس میں لڑ رہی ہوں گے , ایزل کی امی جو شور کی اواز سن کر کمرے سے باہر نکلی ,ازمیر کو دیکھ کر اس کی طرف اتے ہوئے بولی.
نہیں انٹی اصل میں میں ایزل سے پانی مانگ رہا تھا تو پتہ نہیں پہلے سے ہی لگتا کسی کے ساتھ لڑائی کر کے ائی ہوئی تھی تو سارا غصہ میرے اوپر اتارنے لگی. ازمیر مسکینوں کی طرح منہ بنا کر بتا رہا تھا
جبکہ ایزل کی امی عزل کو غصے سے گھورتی ہیں.
نہیں مام!ا یہ جھوٹ بول رہا ہے وہ ابھی کچھ کہنے کے لیے منہ کھولتی ہے کہ سائرہ بیگم اسے بیچ میں ہی ٹوک دیتی ہیں. بس عزل جس طرح میں تمہیں جانتی نہیں ہوں تمہیں تو میں بعد میں پوچھتی ہوں .جاؤ ازمیر کے لیے فریزر سے کولڈ ڈرنک نکال کر لے کر اؤ اور پھر وہ ازمیر سے مہاتب ہوتی ہیں
بیٹا بُرا مت منانا ,تمہیں پتہ چھوٹی ہے ابھی منہ میں جو اتا ہے بنا سوچے سمجھے کہہ دیتی ہے.
اٹس او کہ انٹی !مجھے پتہ ہے وہ تھوڑی بے وقوف ہے اس وجہ سے میں نے کبھی اس کی باتوں کا مائنڈ نہیں کیا .ازمیر نہایت ہی شریفانہ انداز میں کہتا ہے. اور عزل جو کہ کولڈ ڈرنک لے کر ا رہی ہوتی ہے اپنے لیے بیوقوف کا لفظ اس کے منہ سے سن کر اسے کافی تپ چڑھتی ہے.
اسی لیے اپ نے دیکھا نہیں ہے دوسرے دن منہ اٹھا کر ا جاتا ہے .اگر اتنی سیلف رسپیکٹ ہوتی تو دوسرے دن خود کو اس بے وقوف کے ہاتھوں بے عزت کرنے کہاں اتا ماما جان!!!. وہ گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی .
عزل تمہیں کتنی دفعہ سمجھایا ہے کہ تمیز سے بات کیا کرو ,تمہارا بڑا بھائی ہے اور وہ جب مرضی ائے . اُس کا اپنا گھر ہے. تمہیں کیا مسئلہ ہو رہا ہے؟؟ وہ جب تک چاہتا یہاں رہ بھی سکتا ہے . سوڑی کہو ابھی کہ ابھی ازمیر سے. سائرہ بیگم غصے سے ایزل کو دیکھ کر بولی.
نہیں چاچی! اس کی کیا ضرورت ہے میں نے کہا ہے نا کہ میں اس کی باتوں کابُرا ا نہیں مناتا ,بچی ہے اہستہ اہستہ سمجھ جائے گی اور بہنیں بھائیوں سے معافی مانگتی اچھی لگتی ہیں کیا!!. تو اٹس اوکے جانے دے. ازمیر کولڈرنگ کا گھونٹ بڑھتے بڑے مزے سے انکھوں میں مسکراہٹ سمائے عزل کو دیکھ کر کہتا ہے.
جبکہ ایزل وہاں سے پاؤں پٹکتی اپنے کمرے کی طرف چلی جاتی ہے, یہ شاہ ولہ ہاؤس ہے حیدر شاہ صاحب کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں سب سے بڑا بیٹا اذلان جو کہ لندن میں بزنس سنبھال رہا ہوتا ہے, بڑی بیٹی علمیرا ,جو کہ اپنی سٹڈی مکمل کرنے کے بعد شوکیہ طور پر اپنے باپ حیدر شاہ کا بزنس سنبھالنے میں مدد کر رہی ہوتی ہیں, درمیانی بیٹی کا نام حورین, ہے. جو کہ یونیورسٹی پڑھتی ہے. اس سے چھوٹا بیٹا زین اور سب سے چھوٹی بیٹی عزل جو کہ حد سے زیادہ شرارتی اور منہ پھٹ ہوتے ہیں اور ایک ہی کالج میں پڑھ رہے ہوتے ہیں.
ڈنر کا ٹائم ہو گیا تھا.
ا المیرا کچن میں سائرہ بیگم کے ساتھ ہیلپ کروا رہی ہوتی ہے, حورین کالج کا کام کر رہی ہوتی ہے ,اور زین موبائل پر گیمز کھیلنے پر مصروف ہوتا ہے حیدر صاحب گھر کے اندر داخل ہوتے ہیں سب کو سلام کرتے ہیں, اور ٹیبل پر ڈنر کے لیے انے کو کہتے ہیں .
المیرا جاؤ جا کر عزل کو بلا لاو. پتہ نہیں کمرے میں کیا کر رہی ہے .سائرہ بیگم اس کے ہاتھ سے پلیٹ لے کر ٹیبل پر رکھتی ہوئی کہتی ہیں.
اج معمول کے مطابق کھانے کے وقت خاموشی تھی. ایزل منہ بنائے کھانا کھانے میں مصروف تھی. جبکہ زین وقفے وقفے میں اسے تنگ کرنے کی کوشش کرت,ا لیکن وہ اس کے بدلے میں کوئی رد عمل کا اظہار نہیں کر رہی تھی.
. بھئی !اج خیر تو ہے ہماری پرنسز اج خاموش خاموش بیٹھی ہوئی ہیں. حیدر صاحب نے ٹیبل پر چھائی خاموشی کو توڑا, لیکن ایزل نے تب بھی کوئی جواب نہ دیا.
بابا اپ شکر نہیں ادا کر رہے کہ یہ افت اج خاموش اور سکون سے بیٹھی ہوئی ہے, یہ دن دیکھنے کے لیے میں ترس کر رہ گیا تھا .میں اج سونے سے پہلے دو شکرانے کے نفل پڑھ کر سوؤگا. زین ,ازل کے سامنے پڑا ہوا پانی کا گلاس اٹھا کر کہتا ہے.
ایزل وہی کھانا چھوڑ کر اٹھ کے جانے والی ہی ہوتی ہے کہ حیدر صاحب اٹھ کر اسے اپنے ساتھ لگاتے صوفے پر بیٹھ جاتے ہیں .
جی اب میری پرنسز مجھے بتائیں گی کہ کیا ہوا ہے. حیدر صاحب اسے اپنے ساتھ لگائے پیار سے پوچھتے ہیں.
بابا مجھے اپ کی بیوی بالکل بھی نہیں پسند, ہر وقت مجھے ڈانٹتی رہتی ہے. اور اس لنگور ازمیر کے سامنے مجھے بے عزت کرتی رہتی ہیں .مجھے میری نیو ماما چاہیے. وہ چھوٹے بچوں کی طرح حیدر صاحب کے سینے سے لکی شکایت لگاتی ہے .
زین المیرا اور حورین بھی ڈنر کے بعد ان کے پاس ا کر بیٹھ جاتے ہیں .
بابا ائیڈیا برا تو نہیں ہے مجھے بھی اپ کی یہ والی بیوی سے بہت اعتراضات ہیں. اب اپ کے ہونے والی دوسری بیوی میں اور ایزل مل کر ڈھونڈیں گے زین عزل کی بات سن کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہتا ہے.
تم دونوں کچھ شرم کر لو, ماما نے سن لیا تو دونوں کی وہ کلاس لگنی ہے کہ پوری زندگی یاد رکھو گے .المیرا نے ان دونوں کو شرم دلانے کی کوشش کی .
ازل کی نظر زین کے پاس بیٹھی حورین پر پڑی جو کہ چھپ چھپ کر چاکلیٹ کھانے کا شوگل فرما رہی تھی .ایزل نے زین کو انکھوں ہی انکھوں میں حور سے چاکلیٹ کھینچنے کا اشارہ کیا. زین اس کے اشارے کو سمجھتے ہوئے حوریں کی طرف مڑا, جو کہ کمال مہارت سے چھپ کر چاکلیٹ کا بائٹ لینے لگی, تو اس کی نظر زین پر پڑی جس کا پورا دھیان چاکلیٹ پر ہی تھا ,اس نے سوچنے کا موقع دیے بغیر حور کے ہاتھ سے چاکلیٹ کھینچ کر ایزل کی طرف پھینکی جو کہ ہو پیچھے سے اتی سائرہ بیگم کی سر پر لگی .
حور جو کہ تکیہ اٹھا کر زین کو مارنے والی تھی اپنی ماں کو غصے میں دیکھ کر وہیں تکیہ رکھ دی.
ا یہ کس نے چاکلیٹ پھینکی ہے. وہ غصے سے چاکلیٹ کو نیچے سے اٹھاتے ہوئے کہتی ان کے سر پر ان پہنچی .
مما زین نے پھینکی ہے .میں ارام سے کھا رہی تھی تو اس نے کھینچ کر اپ کی طرف پھینک دی. حور نے موقع دیکھتے ہی جھٹ سے منہ کھولا .
ماما مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا کہ حور چاکلیٹ کھا رہی ہے وہ تو عزل نے مجھے ایسا کرنے کے لیے کہا تھا اب میں نے سوچا کہ بیچاری اگے ہی ازمیر کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار ہوئی ہوئی ہے تو میں تھوڑا سا اسے خوش کر دوں.
ہاں تم نے تو یہاں ہر کسی کو خوش کرنے کا ٹھیکہ اٹھا کر رکھا ہوا ہے. مجھے سمجھ نہیں اتی کہ تم لوگ بڑے کب ہوں گے تم دونوں پورا ایک گھنٹہ وہاں ایک پاؤں پر کھڑے رہو گے .یہ تم دونوں کی سزا ہے. سائرہ بیگم دونوں کو غصے سے گھورتی ہوئی بولی.
ان دونوں نے مسکینوں کی طرح شکل بنائے حیدر صاحب کو دیکھا.
کیا ہو گیا ہے سائیره! بچے ہیں ,غلطی سے اگر پھینک بھی دی ہے تو جانے دو. حیدر صاحب نے ان کی طرف داری کرنے کی کوشش کی.
حیدر اگر اپ نے ان کی طرف داری کرنے کی مزید کوشش کی تو پھر میرے سے برا کوئی نہیں ہو گا . سائرہ بیگم نے انگلی اٹھا کر انہیں وارن کرتے ہوئے کہا .
اپ سے برا کوئی ہے بھی نہیں. حیدر صاحب منہ میں بڑڑاتے ہوئے بولے .
کچھ کہا اپ نے؟؟؟؟ سائرہ بیگم جو کہ جانے کے لیے مڑی ہی تھی حیدر صاحب کی بڑبڑاہٹ پر انہیں غصے سے گھور کر کہا ,
حیدر نے گڑبڑا کر نفی میں سر ہلایا تو وہ زین اور عزل کو لے کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی.
اب حال یہ تھا کہ ازل اور زین ان کے سامنے ایک پاؤں پر کھڑے تھے اور وہ ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی. وہ تھوڑا سا بھی اگر پاؤں نیچے کرتے تو وہ دوبارہ ان کی طرف متوجہ ہو جاتی.
ازی! یار اٹھو کالج سے دیر ہو رہی ہے, اوپر سے اٹھ بج گئے ہیں .تمہیں ناشتہ کرتے ہوئے بھی ادھا گھنٹہ لگ جائے گا, اب اٹھ بھی جاؤ !!!. آیت ازمیر کا کمبل اتارتے اسے کب سے اٹھانے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے .
آیت کی بچی, کیا مسئلہ ہے ؟؟ سونے دو مجھے اب تمہاری اواز نہ ائے. ازمیر کمبل اوپر کرتے ہوئے کہتا ہے .
ایت کو ازمیر کی اس حرکت پر غصہ اتا ہے اور وہ پاس پڑے ٹیبل پر پانی کے جگ میں سے پانی اس کے اوپر گڑاتی ہے. وہ ایک دم ہڑبڑا کر بیٹھتا ہے .
ہاؤ ڈیر یو؟؟؟ 😡. از میر غصے میں کہتا اسے مارنے کے لیے بیڈ سے نیچے اترتا ہے تو اس کا پاؤں نیچے گرے پانی کی وجہ سے پھسلتا ہے, تو وہ ایک دم زور سے نیچے گرتا ہے .اور اس کی کمر بیڈ کی نوک پر لگتی ہے تو وہ ایک دم درد کی شدت سے چیخ.
ا آیت جو کہ ابھی ازمیر سے بچنے کے لیے باگھی ہی تھی کہ ازمیر کی چیخ پر واپس پلٹی تو اسے اس حالت میں دیکھ کر زور سے قہقہے لگانے لگی.
ازمیر نے پاس پڑی جوتی اٹھا کر ایت کی طرف پھینکی. لیکن خوش قسمتی سے وہ نشانے پر نہ لگ سکی, اور آیت تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی نیچے چلی گئی .
یہ ایک چھوٹی سی فیملی تھی جس میں ہاشم صاحب اپنی بیوی ہاجرہ بیگم اور اپنے بچوں کے ساتھ رہتے تھے. ان کا بڑا بیٹا ازمیر جو کہ ماں کا لاڈلا تھا. اور چھوٹی بیٹی آیت جو کہ باپ کی لاڈلی تھی یہ. ایک مکمل خوبصورت گھرانا تھا .
ازمیر پورے ساڑھے اٹھ بجے تیار ہو کر نیچے اتا ہے.
ٹوکری سے سیب اٹھا کر ایت کے بال کھینچتے اسے گاڑی میں انے کا کہتا ہے.
ازمیر بیٹا ناشتہ تو کرتے جاؤ. ہاجرہ بیگم ازمیر کو اواز دیتی ہیں.
نہیں ماما میں کالج میں ہی کچھ لے کر کھا لوں گا, اگے ہی اس چڑیل کی وجہ سے کالج سے دیر ہو گئی ہے. از میر ماں کی پیشانی چومتے ہوئے کہتا ہے.
میری وجہ سے دیر ہوئی ہے کھوتے گھوڑے بیچ کر اپ سو رہے تھے, اور اب کہہ رہے ہیں کہ میں نے دیر کروائی ہے. اور کتنی دفعہ میں نے کہا ہے کہ میرے بال مت کھینچا کریں. ایت غصہ میں کہتی باہر کی جانب چلی گئی, اور پیچھے سے ازمیر بھی باہر نکل جاتا ہے.
...*****************************...
...****************************...
...********************************...
ایزل ارام سے بیٹھی دلچسپی سے سر کا لیکچر سن رہی تھی کہ اس کی نظر دروازے پر کھڑی ایت پر پڑی جو کہ چھپ کے اندر انے کی پوری کوشش کر رہی ہوتی ہے .
جی ایت, روزانہ کی طرح اج بھی اپ کی گاڑی خراب ہو گئی ہوگی؟؟ راستے میں ایکسیڈنٹ ہوتے ہوئے بچا ہوگا ؟؟ یا پھر گاڑی میں پٹرول ختم ہو گیا ہوگا ؟؟؟ سر فرہان نے چپکے سے اندر داخل ہوتی ہوئی ایت کی طرف متوجہ ہو کر کہ.
ا یہ کھڑوس سر کبھی کوئی چیز بھولتا بھی ہے!!!. وہ بڑڑائی .
اپ نے کچھ کہا ؟؟ .سر فرحان نے ایت کو بڑبڑاتے ہوئے دیکھ کر کہا .
نہیں سر وہ اصل میں راستے میں ایک ضعیف ادمی مل گیا تھ,ا اس بیچارے سے چلنے میں مشکل ہو رہی تھی تو ہم نے اسے اپنی گاڑی میں بٹھا کر اس کو اس کے گھر چھوڑ دیا. ایت معصومیت سے منہ بناتے ہوئے بولی.
واہ آیت لگتا ہے ,ساری خدمتیں حلق کرنے کا ٹھیکہ اپ نے ہی اٹھا رکھا ہے . ہم نے تو اپ سے زیادہ خدمتیں خلق کرنے والا اج تک دیکھا ہی نہیں ہے اپ کو تو سپیشل داد دینی چاہیے. سر فرحان نے باقی سٹوڈنٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا.
پوری کلاس میں دبی دبی ہنسی کی اواز گونجتی ہے.
سر فرحان غصے میں پوری کلاس کو خاموش رہنے کا کہتے . اور ایت کو کلاس سے نکلنے کا کہہ کر نصیحت کرتے کہ اگلی بار اگر ہو سکے تو اس سے اچھا بہانہ ڈھونڈ کر لائیے گا.
ایت منہ بناتی ہوئی کلاس سے باہر نکل گئی اس کی نظر تھوڑے فاصلے پر کھڑے ازمیر پر پڑی. وہ بھی لیٹ انے کی وجہ سے کلاس سے باہر کھڑا تھا .دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر غصے سے منہ موڑ لی.
ا یہ پورا گروپ اب کینٹین میں بیٹھا تھا. زین اور روحان کینٹین سے کچھ کھانے کے لیے لینے گئے تھے . آیت منہ بنا کر سرفرہان کی نکلے اتار کر انہیں بتا رہی تھی . ایزل احمد اور ماہین اس کے عجیب و غریب منہ بنانے پر قہقہے لگا رہے تھے.
Download NovelToon APP on App Store and Google Play