English
NovelToon NovelToon

Dil Ke Rishte: A Journey of Love and Destiny

قسط نمبر 1 طلاق

رات کا وقت تھا۔ ایک سنسان سا علاقہ، اور اس کے درمیان ایک گھر۔

آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے، جبکہ تیز بارش مسلسل برس رہی تھی۔ آسمان پر چمکتی بجلی ایک خوفناک منظر پیش کر رہی تھی۔

گھر کی لائٹ بند تھی۔ کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں اور پردے تیز ہوا کے باعث مسلسل ہل رہے تھے۔

گھر کے مرکزی دروازے کے سامنے موجود لاؤنج میں ایک میاں بیوی آپس میں لڑ رہے تھے، جبکہ ایک پانچ سال کا بچہ پردے کے پیچھے چھپ کر یہ سب دیکھ رہا تھا۔

عائشہ روتے ہوئے بولی،

"مشتاق، آپ مجھے طلاق نہیں دے سکتے... پلیز۔ میں نے کیا کیا ہے؟ بولو۔ آپ نے کہا تھا کہ گھر سے بھاگ کر شادی کرتے ہیں، تو میں نے کی۔ جو کچھ بھی میرے نام تھا، وہ سب آپ کے نام کر دیا، یہ سوچ کر کہ شاید آپ بدل جائیں گے اور میری قدر کریں گے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ مجھے گھر سے نکال دیں، مگر طلاق نہ دیں۔"

مشتاق نے عائشہ کی بات سنی تو زور زور سے ہنسنے لگا۔

وہ ہنستے ہوئے دو چار قدم آگے پیچھے چلا، پھر عائشہ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ ماتھے پر ہاتھ مارا اور غصے سے بولا،

"رونا دھونا بند کرو۔ میں نے صرف ایک غلطی کی تھی، تم سے شادی کر کے۔ اب اسی شادی سے تمہیں آزاد کر رہا ہوں۔"

عائشہ مسلسل رو رہی تھی۔

مشتاق نے غصے سے اس کا بازو زور سے پکڑا اور بولا،

"اپنے بھائی کے پاس چلی جاؤ۔ میں نے سنا ہے وہ کافی امیر ہو گیا ہے۔ اور اگر نہیں، تو تمہیں اپنے گھر میں نوکرانی ہی بنا لے گا۔"

یہ کہہ کر وہ دوبارہ ہنسنے لگا۔

عائشہ نے روتے ہوئے کہا،

"خدا کا خوف کرو، مشتاق۔ میں اتنی رات کو غذیان کو لے کر کہاں جاؤں گی؟ میرا نہیں، تو اپنے بیٹے کا ہی خیال کر لو۔"

مشتاق غصے سے چیخا،

"بس... بس... بس...! ایک لفظ اور بولا تو جان سے مار دوں گا۔"

وہ دو منٹ تک خاموشی سے صوفے پر بیٹھا رہا۔

پھر اٹھا، عائشہ کے پاس آیا اور بولا،

"بس، بہت ہو گیا۔ اب اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرتے ہیں۔"

وہ سرد لہجے میں بولا،

"میں، مشتاق احمد ولد محمد احمد، اپنے پورے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں..."

چند لمحے خاموش رہ کر اس نے دوبارہ کہا،

"طلاق دیتا ہوں..."

پھر ہنستے ہوئے تیسری بار بولا،

"طلاق دیتا ہوں۔"

عائشہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

مشتاق نے اس کا ہاتھ پکڑا، پھر غذیان کو ساتھ لیا اور دونوں کو گھر کے مرکزی دروازے تک لے جا کر باہر نکال دیا۔

اگلے ہی لمحے اس نے دروازہ بند کر دیا۔

عائشہ دروازے سے لگ کر زور زور سے روتی رہی۔

کافی دیر بعد اس نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا، اسے سینے سے لگا لیا اور پھر رونے لگی۔

غذیان نے معصومیت سے پوچھا،

"ماں... یہ طلاق کیا ہوتی ہے؟ بابا کیا کہہ رہے تھے؟ بولو نا، ماں... آپ رو کیوں رہی ہیں؟"

عائشہ نے کوئی جواب نہ دیا۔

اس نے خاموشی سے غذیان کا ہاتھ پکڑا اور چلنے لگی۔

چلتے چلتے وہ ایک سڑک کے کنارے آ گئی۔ بارش اب بھی بہت تیزی سے برس رہی تھی۔

جاری ہے...

ایک انجان خبر کا پتہ چلنا

جی، سمجھ گیا۔ 👍

میں اپنی طرف سے کہانی، ڈائیلاگ یا الفاظ نہیں بدلوں گا۔ میں صرف NovelToon کے فارمیٹ کے مطابق لکھوں گا:

✅ آپ کے الفاظ وہی رہیں گے (Word by Word)۔

✅ صرف املا (Spelling) کی معمولی غلطیاں درست ہوں گی۔

✅ پیراگراف، سین بریک، مکالمے اور فارمیٹنگ NovelToon کے مطابق ہوگی۔

❌ کوئی نیا ڈائیلاگ یا منظر شامل نہیں کروں گا۔

❌ اپنی مرضی سے الفاظ تبدیل نہیں کروں گا۔

آپ کا Episode 2 اسی انداز میں:

دل کے رشتے

Episode 2

کراچی۔۔۔ محمد علی سوسائٹی۔۔۔ گھر نمبر 412۔۔۔

ایک خوبصورت سا گھر۔۔۔ کافی ہی بڑا عالی شان نما سا۔۔۔

رات کا وقت ہے۔

کچن کے اندر ایک خاتون ایک کپ اٹھائے اُس کے اندر کافی ڈال کر مسکرا رہی ہے کہ فون کی بیل بجی۔

ٹن۔۔۔ ٹن۔۔۔ ٹن۔۔۔ ٹن۔۔۔ ٹن۔۔۔

کسی نے فون نہیں اٹھایا تو وہ خاتون بولی، جس کا نام تھا فاطمہ علی ملک، جو عائشہ کی بھابھی اور اُس کے بڑے بھائی علی شاہ ملک کی بیوی تھی۔

"زبیدہ۔۔۔ زبیدہ۔۔۔ کہاں ہو؟ فون کب سے بج رہا ہے، اس کو اٹھا لو۔"

زبیدہ فون کے پاس آئی اور بولی۔

"جی بڑی بیگم صاحبہ۔"

پھر فون اٹھایا اور بولی۔

"ہیلو۔۔۔ جی کون؟"

"یہ علی شاہ ملک کے گھر کا نمبر ہے؟"

زبیدہ نے جواب میں کہا۔

"جی ہاں۔۔۔ آپ کون؟"

اُس آدمی نے کہا۔

"میں ڈاکٹر وقاص بات کر رہا ہوں۔ میری علی شاہ سے بات ہو سکتی ہے؟ کافی ہی ضروری کام ہے مجھے۔"

زبیدہ نے کہا۔

"جی ہو سکتی ہے، میں ابھی اُن کو فون دیتی ہوں۔"

پھر وہ فون ساتھ لیے علی کے (Study Room) کی طرف گئی۔

وہ وہاں ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔

زبیدہ نے فون دیا اور چلی گئی۔

علی نے کتاب بند کی اور فون کان سے لگا کر کہا۔

"جی کون۔۔۔؟"

"میں وقاص۔۔۔ ڈاکٹر وقاص۔۔۔"

علی نے کہا۔

"ہاں ہاں، پہچان لیا تم کو وقاص۔۔۔ خیر تو ہے؟ اتنی رات کو فون کیا؟"

وقاص نے کہا۔

"وہ آپ سے یہ بولنا تھا کہ آپ کی چھوٹی بہن عائشہ بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال لائی گئی ہے۔ اُس کی حالت کافی ٹھیک نہیں۔ اگر آپ ہسپتال آ جاتے تو۔۔۔"

علی خاموش ہو گیا۔

پھر ایک سے دو منٹ کے بعد بولا۔

"ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ میں ابھی آیا۔ تم اُس کا علاج بیسٹ ڈاکٹر سے کرواؤ، پلیز۔۔۔ میں ابھی آتا ہوں۔"

پھر فون بند کیا اور فاطمہ کو آواز دی۔

فاطمہ آئی تو ہاتھ میں کافی تھی۔

میز پر رکھی اور کہا۔

"آپ کی کافی۔"

"فاطمہ۔۔۔ وہ عائشہ۔۔۔"

پھر ساری بات بتائی۔

فاطمہ نے کہا۔

"آپ کس کا انتظار کر رہے ہیں؟ چلو جلدی۔۔۔ اُس کو آپ کی، میری ضرورت ہے۔"

علی نے کہا۔

"نہیں۔۔۔ تم ساتھ نہیں آؤ۔ موسم پہلے ہی خراب ہے اور بچیاں گھر میں اکیلی ہیں۔۔۔"

جس پر فاطمہ نے کہا۔

"آپ ایسے ہی فکر کر رہے ہیں۔ زبیدہ ہے نا، وہ بچیوں کے پاس رہے گی۔ میں اُس کو بولتی ہوں، آپ جلدی سے گاڑی نکالیں۔"

موسم کافی خراب تھا۔

دونوں میاں بیوی کافی ٹینشن میں تھے کہ آخر ہوا کیا ہے۔

پھر وہ ہسپتال آ ہی گئے۔

ریسیپشن سے پتا کیا اور آئی۔سی۔یو کی طرف گئے۔

وہاں پر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔

علی نے اندر جانے کی کوشش کی تو وہ آدمی آگے آیا اور بولا۔

"سر پلیز۔۔۔ آپ اندر نہیں جا سکتے۔ آپ کو باہر انتظار کرنا ہو گا۔"

وہ اور فاطمہ آئی۔سی۔یو کے باہر پڑی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔

علی کافی پریشان تھا۔

اُس کی آنکھوں سے آنسو آ رہے تھے کہ یہ سب کیا ہو گیا ہے۔

پھر اُس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور گزرے ہوئے کل میں اپنی اور اپنی بہن کی یادوں کو یاد کرنے لگا کہ کیسے وہ گھر کی رونق تھی اور سب کی لاڈلی تھی۔

اُس کی ایک غلطی نے کیسے سب بدل دیا۔

فاطمہ نے علی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا۔

"آپ فکر مت کریں علی۔۔۔ اللہ سب ٹھیک کرے گا، ان شاء اللہ۔"

کافی دیر کے بعد ڈاکٹر وقاص آئی۔سی۔یو سے آئے۔

علی فوراً اٹھ کر بولا۔

"کیسی ہے میری بہن؟ وہ ٹھیک تو ہے نا؟"

ڈاکٹر وقاص نے کہا۔

"جی۔۔۔ وہ خطرے سے باہر ہے۔ آپ فکر مت کریں۔"

پھر وہ بولا۔

"ہاں، سچ۔۔۔ اِن کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا۔ وہ وہاں اُس سائیڈ پر ہے۔"

فاطمہ گئی اور غذیان کو لے آئی۔

علی غذیان کے سامنے بیٹھ گیا اور اُس کو پیار کرنے کے بعد کہا۔

"بیٹا۔۔۔ میں آپ کا ماموں ہوں۔۔۔ اب یہ بتاؤ کہ آپ کے بابا کہاں ہیں؟"

غذیان نے کہا۔

"وہ بابا نا۔۔۔ ماما کو بار بار بول رہے تھے کہ۔۔۔ میں آپ کو طلاق دیتا ہوں۔۔۔"

یہی سنا تھا کہ دونوں کے ہوش اُڑ گئے۔

دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

اتنے میں ایک نرس آئی اور آ کر کہا۔

"وہ۔۔۔ آپ کے مریض کو ہوش آ گیا ہے۔"

ابھی جاری ہے۔۔ ض

عاشانی کی چال

Episode 3

علی روم میں آیا تو عائشہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی۔ وہ بس ہی بول رہی تھی کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔یہ۔۔وہ۔۔وہ کافی صدمے میں تھی جو بھی اُ س نے ساتھ ہوا تھا۔

علی اپنی بہن کے پاس بیٹھ گیا اور ماضی میں جو ہوا وہ دماغ میں یاد کرنے لگا کہ کیسے سب ہوا تھا۔۔۔آئے ہم بھی ماضی میں چلتے ہے۔

"گھر نے لاؤبج میں دو بھائی آپس میں لڑ رہے ہے کہ۔۔"

"علی بھائی آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔آپ عائشہ کی شادی اس مشاق سے نہیں کروا سکتے اور آپ نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔کیا میں آپ کا چھوٹا بھائی نہیں تھا۔"

دونوں بھائی ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے اور کوئی نہیں تھا لاؤنج میں۔ علی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور ہوتا بھی تو وہ کیا بولتا۔۔مقدر نے کہا۔۔۔

"علی بھائی آج آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ کو میری کوئی ضرورت نہیں۔۔"

اتنے میں فاطمہ نے ہلا کر کہا۔۔۔

"علی عائشہ کو ہوش آ گیا۔۔"

علی نے اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ ا اور کہا۔۔۔

"عائشہ مجھے معاف کر دو میں جانتا تھا کہ وہ ایک اچھا آدمی نہیں پھر بھی تمہاری شادی کر دی اُس سے۔۔میں تمہارا مجرم ہوں۔"

عائشہ نے روتے ہوئے کہا۔۔۔

"نہیں بھائی آپ نے تو میری محبت میں مجبور ہو کر اُس سے شادی کی تھی اور میرا گھر بس جائے اس کے لیے آپ نے مجھے تنہا نہیں چھوڑا۔۔میں پاگل تھی بس ساری غلطی میری ہے صرف میری۔۔؟"

علی نے کہا۔۔۔

"میں وعدہ کرتا ہوں آپ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑو گا۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔"

یہ بول کر وہ کمرے سے باہر چلا گیا اور فاطمہ بھی علی کے پیچھے چلی گئی۔

فاطمہ نے کہا۔۔۔

"علی ہم عائشہ کو گھر جب لے جائے گے تو عشانی تو مقدر کے کان بھرے گی اور وہ تو پہلے بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔۔اب تو وہ پتا نہیں کیا کرئے گی۔"

"ہاں فاطمہ تم ٹھیک بول رہی ہو مگر ہم عا ئشہ تو یوں تنہا نہیں چھوار سکتے گھر تو لے کر جانا ہی ہوگا اور مقدر کا غصہ بھی برداشت کرنا ہوگا۔"

اگلے دن صبح کے دس بجے تھے۔۔عاشانی کچن میں آئی اور دیکھا کہ نوکرانی کافی سارے برتن دھو رہی تھی۔

عاشانی نے دیکھ کر کہا۔۔۔

"یہ برتن آج زیادہ نہیں دھونے والے۔۔۔؟"

نوکرانی نے جواب دیا۔۔۔

"جی چھوٹی بیگم صاحبہ وہ بڑے صاحب کے کوئی جاننے والے ہے کوئی ہسپتال تو اُن کے لیے رات کا کھانا گیا تھا اور اب ناشتہ بھی لے گئے ہے۔"

عاشانی نے فرج کھولی اور اُس میں سے ایک سیب نکالا اور بولی۔۔۔

"اچھا ایسا کون ہے جس کا ہمیں پتہ نہیں۔"

پھر بولی۔۔۔

"اچھا یہ بتاؤ کہ وہ کوئی عورت ہے کہ مرد۔۔۔؟"

نوکرانی نے کہا۔۔۔

"جی وہ ایک خاتون ہے بڑی بیگم صاحبہ تو اُن کے لیے نئے کپڑے بھی لے گئی ہے اب ہسپتال۔۔؟"

علی روم میں آیا تو عائشہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی۔ وہ بس ہی بول رہی تھی کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔یہ۔۔وہ۔۔وہ کافی صدمے میں تھی جو بھی اُ س نے ساتھ ہوا تھا۔

علی اپنی بہن کے پاس بیٹھ گیا اور ماضی میں جو ہوا وہ دماغ میں یاد کرنے لگا کہ کیسے سب ہوا تھا۔۔۔آئے ہم بھی ماضی میں چلتے ہے۔

"گھر نے لاؤبج میں دو بھائی آپس میں لڑ رہے ہے کہ۔۔"

"علی بھائی آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔آپ عائشہ کی شادی اس مشاق سے نہیں کروا سکتے اور آپ نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔کیا میں آپ کا چھوٹا بھائی نہیں تھا۔"

دونوں بھائی ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے اور کوئی نہیں تھا لاؤنج میں۔ علی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور ہوتا بھی تو وہ کیا بولتا۔۔مقدر نے کہا۔۔۔

"علی بھائی آج آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ کو میری کوئی ضرورت نہیں۔۔"

اتنے میں فاطمہ نے ہلا کر کہا۔۔۔

"علی عائشہ کو ہوش آ گیا۔۔"

علی نے اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ ا اور کہا۔۔۔

"عائشہ مجھے معاف کر دو میں جانتا تھا کہ وہ ایک اچھا آدمی نہیں پھر بھی تمہاری شادی کر دی اُس سے۔۔میں تمہارا مجرم ہوں۔"

عائشہ نے روتے ہوئے کہا۔۔۔

"نہیں بھائی آپ نے تو میری محبت میں مجبور ہو کر اُس سے شادی کی تھی اور میرا گھر بس جائے اس کے لیے آپ نے مجھے تنہا نہیں چھوڑا۔۔میں پاگل تھی بس ساری غلطی میری ہے صرف میری۔۔؟"

علی نے کہا۔۔۔

"میں وعدہ کرتا ہوں آپ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑو گا۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔"

یہ بول کر وہ کمرے سے باہر چلا گیا اور فاطمہ بھی علی کے پیچھے چلی گئی۔

فاطمہ نے کہا۔۔۔

"علی ہم عائشہ کو گھر جب لے جائے گے تو عشانی تو مقدر کے کان بھرے گی اور وہ تو پہلے بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔۔اب تو وہ پتا نہیں کیا کرئے گی۔"

"ہاں فاطمہ تم ٹھیک بول رہی ہو مگر ہم عا ئشہ تو یوں تنہا نہیں چھوار سکتے گھر تو لے کر جانا ہی ہوگا اور مقدر کا غصہ بھی برداشت کرنا ہوگا۔"

اگلے دن صبح کے دس بجے تھے۔۔عاشانی کچن میں آئی اور دیکھا کہ نوکرانی کافی سارے برتن دھو رہی تھی۔

عاشانی نے دیکھ کر کہا۔۔۔

"یہ برتن آج زیادہ نہیں دھونے والے۔۔۔؟"

نوکرانی نے جواب دیا۔۔۔

"جی چھوٹی بیگم صاحبہ وہ بڑے صاحب کے کوئی جاننے والے ہے کوئی ہسپتال تو اُن کے لیے رات کا کھانا گیا تھا اور اب ناشتہ بھی لے گئے ہے۔"

عاشانی نے فرج کھولی اور اُس میں سے ایک سیب نکالا اور بولی۔۔۔

"اچھا ایسا کون ہے جس کا ہمیں پتہ نہیں۔"

پھر بولی۔۔۔

"اچھا یہ بتاؤ کہ وہ کوئی عورت ہے کہ مرد۔۔۔؟"

نوکرانی نے کہا۔۔۔

"جی وہ ایک خاتون ہے بڑی بیگم صاحبہ تو اُن کے لیے نئے کپڑے بھی لے گئی ہے اب ہسپتال۔۔؟"

مقدر نے کہا۔۔۔

"بھائی۔۔بھائی۔۔آپ نے مجھ سے اتنا بڑا جھوٹ بولا کہ۔۔آپ ایسا کیسے کر سکتے ہے۔"

علی مقدر کے غصے سے جان گیا تھا کہ اس کو سب پتہ چلا گیا ہے۔

علی نے کہا۔۔۔

"مقدر میری بات سنو۔۔سب اتنا اچانک ہوا کہ میں خود کافی پریشان ہو گیا تھا اور میں کل صبح تم کو بتانے والا تھا سب۔۔؟"

مقدر نے کہا۔۔۔

"بس بھائی بس۔۔سب باتیں ہے آپ کی۔۔جو میری آپ کی عذت کا جنازہ نکال کر گئی تھی آپ اس سے ملنے گئے تھے اور خدمت بھی ہو رہی ہے وہاں۔۔"

اتنے میں وہاں عاشانی بھی آ گئی۔

ابھی جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

Download NovelToon APP on App Store and Google Play

novel PDF download
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play