عشق یا ر
نا ول
از اے آ ر خان
باب اول
السلامُ علیکم! اس نے گھبرا کر پیچھے دیکھا تو اسے ایک شخص اپنے سامنے کھڑا دکھائی دیا اس سے پہلے وہ کچھ بولتی اس شخص نے ایک بیگ اس کی طرف بڑھایا اور کہا آپ کا بیگ نیچے گر گیا تھا ۔
اس نے گھورتے ہوئے اسے دیکھا اور کہا لڑکیوں سے بات کرنے کے بہت اچھے بہا نے ڈھونڈ لیتے ہیں آپ لڑکے تو آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یے میرا بیگ نہیں ہے ۔ اس شخص نے بیگ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کا ہی بیگ ہے میں نے خود دیکھا ہے آپ کے ہاتھ میں تھا ۔
عجیب بت میزی ہے زبردستی مجھے بیگ دینے کی کوشش کر رہے ہو تم تمہاری دال یہاں نہیں گلے گی دفع ہو جاہل کہی کے ۔
اس شخص پر اس کی کسی بات کا اثر نہیں تھا اس نے دوبارہ پھر ایک نا کام کوشش کی ،اس مرتبہ اس نے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا ۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا عنا بیا وہاں آگئی تھی اور اس نے کہا "مہر آپی میں کب سے آپ کو بلا رہی ہوں کے اس شوپ پے چلتے ہیں لیکن آپ نے تو میری آواز بھی نہیں سنی شاید وہ شخص خاموشی سے وہاں سے جا چکا تھا لیکن وہ پیچھے مڑ کڑ اسے گھور رہا تھا اور زبان سے کچھ بول رہا تھا شاید اس کا نام لے رہا تھا اب وہ ہجوم میں غائب ہو گیا تھا ۔ لیکن مہر کے دل سے اس کا خوف نہیں نکل رہا تھا وہ شخص حلیے سے کوئی گنڈا لگ رہا تھا ۔
اور وہ جا تے ہوئے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ وہ عنا بیا کے ساتھ با زار آئی ہوئی تھی ان دونوں نے سیاہ رنگ کے گاؤن پہن رکھے تھے ۔ نقاب میں اس کی آنکھیں بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔ عنابیا اس سے باتیں کر رہی تھی لیکن وہ اس کی باتوں کا کوئی جواب نا دے رہی تھی عنابیا نے جھنجوڑ کر کہا آپی کہاں گم ہیں آپ ، میں آپ سے بات کر رہی ہوں ۔
اسے کوئی جواب نا سو سوجھا تو اس نے کہا کہ میں اب تھک گئی ہوں آ ؤ بس اب گھر چلتے ہیں ۔ اس کے ہاتھ کا نپ رہے تھے یہ سوچ سوچ کے ، کہ پتا نہیں اب وہ شخص کیا
کرے گا ۔ اس نے خود کو تسلی دی کے بس اب میں با زار جا ؤ گی ہی نہیں اور اس کو کون سا میرے گھر کا پتا ہے ۔ یے خیال آتے ہی اس کا دل تھوڑا ہلکا ہوا تھا ۔ ورنہ اب اگر کوئی اس سے بات کرتا تو وہ بنا کچھ بولے ہی رو دیتی وہ واقعی بہت زیادہ ڈر چکی تھی ۔
وہ دونوں گھر پہنچ چکی تھی ۔ امی اور زارا آپی نے ساری پیکنگ کر لی تھی ۔ عنابیا منہ بنا کے کہ رہی تھی امی ! ابو سے کہے نا کہ ہم دو تین دن میں واپس آ جائے گے پورا ایک ہفتہ ہم گاؤں میں کیسے رہے گے ۔
زارا آپی نے بھی اس کی بات پر اتفاق کیا لیکن امی نے کوئی جواب نہ دیا ۔ یے مہر کو کیا ہوا آتے ہی کمرے میں چلی گئی اپنی شو پنگ بھی نہیں دکھائی زارا آپی نے کپڑے بیگ میں ڈالتے ہوئے پوچھا۔
تو عنابیا نے اپنے شانے آ چُکا تے ہوئے کہا پتا نہیں کہ رہی تھیں کے بہت تھگ گئی ہیں ۔
وہ گاؤن اتارا کر باہر آئی تو امی نے آواز لگائی مہر سب کو کھانے کے لیے بلاتی لاؤ ۔ وہ سب کو کھانے کیلئے بلا کر لے آئی تھی سب کھانا کھا چکے تھے زارا آپی نے اس کے کندھے کو ہلا کر کہا کہاں گم ہو مہر کچھ ہوا ہے کیا ؟
اس نے مسکراتے ہوے کہا کچھ بھی نہیں ہوا سو چ رہی ہوں کے ہم گاؤں میں کہاں کہاں جا ئیں گے۔ اس کی یہ بات سن کے امی بہت حیران ہوئی اور بولی ابھی کل تک تم گاؤں جانے کی بات سن کر بیذار ہو جاتی تھی اور آج اچانک سے تمہیں گاؤں گھومنے کی فکر ہو رہی ہے ۔ اس سے پہلے کی عنابیا اور زارا اس کے گرد گھیرا ڈالتی اس نے اپنا دفاع کرنے کیلئے فٹ سے جواب دیا " امی کیا ہی اچھی بات ہوگی کہ ہم اب خوشی خوشی گاؤں جائیں جانا تو ہم نے ہر حال میں ہے تو کیوں نہ ہم خوش ہو کر جائیں اور وہاں مزے کریں "
وہ اپنی بات کرکے جاچکی تھی اور امی نے ان تینوں کی کلاس لی کہ سیکھوں اس سے کچھ جب کہ یے بات زارا تمہیں سب کو سمجھانی چاہیں تم بڑی ہو زوہان اور عنابیا امی کی بات سن کے کانوں میں باتیں کر رہے تھے ۔
یہ کیا کھسر پھسر ہو رہی ہے کچھ نہیں زارا آپی بس یہ زوہان کہ رہا تھا کہ امی کا پارہ ہائی ہے ان کو ٹھنڈا پانی پلاؤ ۔ زارا نے دونوں کو گھورتے ہوئے کہا کہ چپ کر جاؤ اگر امی نے سن لیا تو صحیح خاتر داری کریں گی تم دونوں کی ۔
امی کچن میں برتن دھو رہی تھیں وہ تینوں امی کے پاس آئے اور امی سے معافی مانگی امی نے انہیں ۔
سمجھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں چھ سال ہو گئے ہیں گاؤں گیے ہوے تمہارے چچا نے کتنے پیار سے بلایا ہے، تمہارے بابا بھی کتنے خوش ہیں تو ہم سب کو بھی ان کی خوشی میں خوش ہونا چاہیے ۔
ہمیں فخر ہے کہ ہم آپ کے بچے ہیں امی آپ نہ صرف ایک اچھی ماں ہیں ایک اچھی بیوی بھی ہیں اللہ ہم سب کو ہمیشہ ساتھ رکھے اور ابو اور آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے ۔ مہرکچن میں داخل ہوتی ہے اور ان کو دیکھ کر کہتی ہے کہ مجھے بھی تھوڑا پیار دیا جائے ان کو تو گلے لگایا ہوا ہے ۔
امی اسکو دیکھ کر کہتی ہیں آجاؤ تم تو میری پیاری بیٹی ہو پر میرے بیٹے سے کم ۔
چلو اب سب اپنے کمرے میں جاؤ امی آپ رہنے دیں میں برتن دھو دیتی ہوں آپ اب آرام کریں زارا نے امی کو دیکھتے ہوئے کہا تھا وہ سب اپنے کمرے میں جا چکے تھے جبکہ امی زارا کے پاس ہی کھڑی تھی میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں بیٹا جب تم اپنے گھر چلی جاؤ گی تو میرا کیا ہوگا امی کی آنکھیں بھر آئی تھیں ۔ کیا ہوگیا ہے امی میں کہیں نہیں جاؤ گی آپ سب کو چھوڑ کر ڈونٹ وری اس نے امی کو گلے لگاتے ہوئے کہا تھا ۔
کیا باتیں ہو رہی ہیں ماں بیٹی میں ابو آپ نے آج اتنی دیر کیوں کر دی ہم کب سے انتظار کر رہے ہیں بس وہ کل گاؤں چلے جانا ہے تو سوچا سارے کام صحیح سے کر لوں اچھا کھانا لاؤں آپ کیلئے ۔
نہیں میں کھا کر آیا ہوں فرید صاحب کے ساتھ ،ابو نے سامان رکھتے ہوئے جواب دیا ۔ اچھا امی پھر میں سونے جارہی ہوں عنابیا بھی سوئی نہیں ہوگی میرا موبائل دیکھ رہی ہوگی کل پھر جلدی اٹھنا ہے تو میڈم اٹھے گی نہیں ۔
مہر خود بھی سو جاؤ اور زوہان کو بھی سونے دو زارا نے اپنے کمرے میں جاتے ہوئے مہر اور زوہان کے کمرے میں جھانکتے ہوئے کہا تھا اوکے آپی ہم سو جاتے ہیں اور درواز بند کرلو جلدی جی آپی کر لیتے ہیں اس نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا تھا ۔
وہ سب اسٹیشن پہنچ چکے تھے اسٹیشن پر رش کم تھا ۔
ٹرین کے آنے میں ابھی کافی دیر تھی وہ سب اسٹیشن پر ہی ادھر اُدھر گھوم رہے تھے ۔ اسے زوہان کی آواز آئی جو اونچا اونچا مہر آپی ادھر آ ئیں وہ پیچھے مری تھی اور زوہان کو اشارہ کیا کہ تم جاؤ میں آتی ہوں ۔
وہ گجرے کے سٹال سے گجرے دیکھ رہی تھی اسے اپنے پاس کسی کے کھڑے ہونے کا احساس ہوا وہ مڑنے لگی تو کسی نے اس سے کہا کہ گجرے میں پسند کر دیتا ہوں ۔
وہ بنا کچھ بولے اور بنا اسے دیکھے تیز تیز چلنے لگ گئی
اس شخص نے اس کا راستہ روک لیا تھا ۔ میرا راستہ چھوڑو اس دن کا تھپڑ بھول گئے ہو تم وہ غصے سے اس پر چلائی تھی ۔ وہی تو نہیں بھول پایا میں، دیکھو جی میرا یے اصول ہے کہ میں کسی کا ادھار نہیں رکھتا تے فر تواڈا کیوے رکھدا ، تو سی تا سونے وی بہت جے وہ اس کے گرد چکر لگاتے ہوئے بول رہا تھا ۔ اسے اس کی ان باتوں سے کوفت ہو رہی تھی ۔
تمہارے اصول" مائی فٹ " وہ اسے دہکا دے کر آگے جانا چاہتی تھی مگر اس نے اسے پکڑ لیا تھا ۔ اس کے ہاتھ میں ایک بوتل تھی وہ اس کا ڈھکن کھول رہا تھا مہر کے پاؤں تلے زمین نکل گئی تھی کیونکہ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ اس بوتل میں کیا ہوگا ۔ اچانک ایک لڑکا آیا اور اس سے یوں مخاطب ہوا " تم ابھی ادھر کھڑی ہو میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں " اسکیوزمی مسٹر آپ کا تعارف اس نے حیرانگی سے اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔
بیوی ہے میری ناراض ہے وہ لڑائی ہو گئی تھی ہم دونوں میں اب مائکے جا رہی ہے تو منانے آیا ہوں وہ اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے بول رہا تھا جبکہ وہ اس کی بات پر کنگھ ہو کر کھڑی تھی ۔
یہ تمہاری بیوی ہے وہ سر جھکاتے ہوئے پوچھ رہا تھا " ابے او باؤلی پونچھ " جس لڑکی کے پیچھے پورا دو ہفتہ برباد کیا آخر میں وہ شادی شدہ نکلی ۔ معاف کر دو آج سے تم میری بہن ہو مان جاؤ بہن آپ کا شوہر اچھا انسان ہے تم دونوں ہمیشہ ساتھ رہو تمہاری جوڑی سلامت رہے ۔
ارے میری بات تو سنیں ایسا کچھ نہیں ہے وہ ایسے بول رہی تھی جیسے وہ اپنی صفائی پیش کر رہی ہو آپ جائیے میں اسے سنبھا لوں گا اس نے اس کا کا منہ بند کرتے ہوئے کہا تھا۔
چھوڑو مجھے تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے اپنی بیوی کہنے کی وہ تو غصے سے تپی اس سے پوچھ رہی تھی ۔
ارے ایک تو مدد کی ہے مینے تمہاری شکریہ کہنے ، میری تاریف کرنے کی بجائے تم الٹا مجھ سے لڑ رہی ہو ۔
اچھا جی تو مدد کرنے کے لیے مجھے اپنی بیوی بنانا ضروری تھا کیا ۔
اگر میں کہتا کہ تم میری دوست ہو یا تم میری بہن ہو تو وہ مانتا، تم نے سنا نہیں کہ وہ تمہارا دو ہفتوں سے پیچھا کر رہا تھا میرا دوست یا بھائی کہنے سے وہ آج تو چلا جاتا مگر پھر دوبارہ تمہارا پیچھا کرتا ۔
" تم میری بیوی ہو " وہ شرارتی انداز میں کہ رہا تھا جبکہ وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
میرا مطلب ہے کہ میرے یہ الفاظ کہنے سے وہ ہمیشہ کیلئے تمہیں اپنی بہن بنا گیا ہے اس نے گویا اپنا بچاؤ کیا تھا ۔
اچھا بس ٹھیک ہے بند کرو اپنی تعریف کرنا تمہاری جگہ اگر کوئی اور انسان ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا اور ویسے بھی یے اتنی بوڈی شو ڈی کیا دکھاوے کیلئے بنائی ہے تم اس کو مار بھی سکتے تھے ۔
اس نے وہ بوتل اس کے اوپر پھینکنے کی ایکٹنگ گی تو اس نے فوراً اپنے منہ پہ ہاتھ رکھ لگا ۔جبکہ اس کا قہقہا بلند ہوا تھا ابھی تو بڑی جھانسے کی رانی بن رہی تھی اب کیا ہوا " ڈونٹ وری " یہ ایسڈ نہیں صرف پانی ہے وہ تمہیں بس ڈرا رہا تھا ۔
آپی اب آ بھی جائیں زوہان پھر سے اسے بولا رہا تھا ۔میں آ رہی ہوں اس نے اسے اشارے سے کہا تھا ۔ میری بات سنوں نہیں نہیں اب شکریہ مت کہنا وہ اپنا کارلر سیدھا کرتے ہوئے بول رہا تھا ۔ " او مسٹر مجنوں " میں کہ رہی ہوں کہ آگے سے ہٹو میں نے جانا ہے ۔ پتا نہں ہر وقت کس خوش فہمی میں رہتے ہو ۔ ابھی وقت ہی کتنا ہوا ہے آپ کو میرے ساتھ کھڑے ہوئے وہ مسکرا کر بول رہا تھا ۔
میں اور زیادہ دیر یہاں رکنا بھی نہیں چاہتی ورنہ تمہارے منہ سے تمہاری تعریفیں سن سن کہ میں پاگل ہو جاؤ گی ۔
لیکن میں تو پاگل ہو گیا ہوں ۔کیا مطلب ہے تمہارا ؟ کچھ نہیں اس سے پہلے کہ اس بندہ ناچیز کی توقعات اور بڑھے آپ جائیے ۔
ہاں جیسے مجھے تو بہت شوق ہے یہاں رک کے تمہاری میٹھی میٹھی باتیں سننے کا ۔ وہ منہ بناتی وہاں سے چلی گئی تھی ۔
عجیب لڑکی ہے لیکن لڑائی کرنے میں میرے مقابلے کی ہے وہ اسے دور جاتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔
اس نے مر کر دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ اسے ادھر منہ کرنے کا اشارہ کر کے ٹرین میں داخل ہوگئی تھی وہ اب چائے کے اسٹال پر بیٹھ گیا تھا ۔
وہ اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گئی تھی ۔ امی نے اس سے پوچھا کہ اتنی دیر کیوں لگا دی زوہان کب سے تمہیں بلا رہا تھا ۔ بس وہ گجرے دیکھ رہی تھی لیکن کوئی اچھا ہی نہیں تھا سب ایک جیسے بنے ہوئے تھے ۔
اب بس بھی کرو تم تو تفتیش ہی کرنے لگ گئی ابو نے امی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔ ابھی ٹرین اسٹا رٹ ہو جائے گی کوئی چیز کھانی ہے تو بتا دو میں لے آتا ہو ابو نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔
نہیں بابا ابھی تو گول گپے کھائے ہیں اگلے اسٹیشن سے لیں لے گے جو بھی لینا ہوا ۔ زارا نے جواب دیا تھا ۔
ٹرین اسٹا رٹ ہو چکی تھیں سب مسافر ٹرین پر سوار ہو چکے تھے ۔ ابو اوپر کے برتھ پر لیٹ گئے تھے اب اگلا اسٹیشن ایک گھنٹے کے سفر کے بعد آئے گا میں ذرا سو رہا ہوں پھر مجھے اٹھانا میں کچھ کھانے کیلئے آپ سب کو لا دوں گا ۔ وہ سب لیز نمکو اور بسکٹ وغیرہ کھا رہے تھے جبکہ مہر سوچوں میں گم تھی ۔" کتنا پاگل انسان تھا ہر بات کا الٹا جواب دیتا تھا پر میں نے بھی کوئی کم نہیں کی میں نے بھی اسے صحیح سبق سکھایا ہے " ۔
" جھانسے کی رانی " وہ مسکرا رہی تھی اور اس کے ان الفاظ کو دہرا رہی تھی ۔ ویسے اتنا برا بھی نہیں تھا میں نے ویسے ہی اسے ڈانٹ دیا اب اگر ملا تو اس کا شکریہ ادا کر دوں گی اور سوری بھی کر لوں گی ۔
کیا سوچ رہی ہو مہر زارا آپی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔ کچھ نہیں بس ویسے ہی خاموش بیٹھی ہوں۔ یہ لیں آپی مہر اپنا موبائل زوہان نے اس کی طرف موبائل بڑھاتے ہوئے کہا تھا ۔یاد آگیا کہ یے میرا موبائل ہے اس نے زوہان سے موبائل پکڑنے ہوئے کہا تھا ۔
نہیں وہ نیٹ نہیں چل رہا یہاں ۔ اچھا یہ بات ہے میں بھی سمجھی یہ نظر کرم کیسے ہوگیا ۔
اب انہیں ٹرین میں بیٹھے کافی وقت ہو چکا تھا ۔ امی وہ یہاں نیٹ نہیں چل رہا میں نے مریم کو بتانا ہے کہ ہم گاؤں کے لئے روانہ ہو گئے ہیں تو میں زرہ دروازے کے پاس جا رہی ہوں چلی جاؤ ں امی ؟ اس نے امی سے اجازت لی تھی ۔
ہاں چلی جاؤ مگر جلدی آ جانا ۔ اوکے امی اس نے اٹھتے ہوئے کہا تھا ۔ پتہ نہیں وہ ٹرین میں سوار ہوا ہوگا یا وہ اسٹیشن گھومنے کیلئے آیا ہوا تھا ۔
وہ سوچو میں گم آگے جارہی تھی کہ اس کی کسی سے ٹکر لگی تھی میرا موبائل وہ جلدی سے اپنا موبائل اٹھانے کیلئے نیچے جھکی تھی ۔
" ایم سو سوری " دوسری جانب سے آواز ابھری تھی۔ "کوئی بات نہیں " وہ اوپر اٹھتے ہوئے بول رہی تھی ۔
" تم " وہ دونوں ایک ساتھ بولے تھے ۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ او مس یے ٹرین آپ کی نہیں ہے جس طرح آپ یہاں پر سفر کر رہی ہیں میں بھی ایسے ہی سفر کر رہا ہو ں ۔
"تمہیں پتا میں ابھی کیا سوچ رہی تھی ۔"
" نہیں " اس نے شانے آ چکائے تھے ۔ میں بھی کس پاگل کو سمجھا رہی ہوں " میں کتنے اچھے خیالات لے کے یہاں سے گزر رہی تھی کہ ،تم ملے تو تمہارا شکریہ ادا کرو گی ۔
مگر تمہیں دیکھتے ہی میرا " پارہ ہائی " ہو جاتا ہے میرا دل کرتا ہے کہ کوئی ہتھوڑا ہو اور وہ میں تمہارے سر پہ دے مارو ۔
Download NovelToon APP on App Store and Google Play