دل کے ویرانے میں اب کوئی اجالا رہا نہیں،
تیری یادوں کے سوا کچھ بھی ہمارا رہا نہیں
ہجر کی شب نے بجھا ڈالے مسرت کے چراغ،
اب کسی شے میں بھی جینے کا سہارا رہا نہیں
ہم نے چاہا تھا تجھے ترکِ خودی کی حد تک،
خود سے بڑھ کر بھی کوئی اور گوارا رہا نہیں
اشک آنکھوں میں رہے ضبط کے پردوں میں مگر،
درد ایسا تھا کہ چھپنے کا قرینہ رہا نہیں
تیری قربت بھی عجب کرب کا باعث ٹھہری،
دور ہو کر بھی دل کو کہیں چارہ رہا نہیں
تیرے بعد اس دلِ افسردہ کا عالم یہ ہوا،
کوئی اپنا بھی یہاں اب تو ہمارا رہا نہیں
ہم نے ہنس کے پاگل پن کی انتہا کر دی "وفا"،
جس کو بڑے مان سے اپنا کہا، وہ بھی اپنا رہا نہیں