Ishq E Faraib

Ishq E Faraib

--- * عشقِ فریب — قسط نمبر 1 * *ایلاف احمد وسیم*، ایک 18 سالہ شوخ، چنچل مگر

*✨ عشقِ فریب — قسط نمبر 1 ✨*

*ایلاف احمد وسیم*، ایک 18 سالہ شوخ، چنچل مگر بے حد معصوم دل رکھنے والی لڑکی۔ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، جہاں ہر چیز اُس کے اشارے پر موجود ہوتی۔ دو بھائیوں کی لاڈلی اور والدین کی آنکھوں کا تارا۔ زندگی میں اسے کسی چیز کی کمی نہ تھی، لیکن دل میں چھپی خواہش تھی — سچی محبت کی، جو دکھاوا نہ ہو۔

آج گھر میں کچھ خاص رونق تھی۔ مہمان آئے ہوئے تھے۔ ایلاف کو نیچے بلایا گیا۔

"ایلاف بیٹا! ذرا نیچے آنا۔" مما کی آواز دروازے کے پار گونجی۔

ایلاف نیچے پہنچی تو سامنے ایک باوقار شخصیت بیٹھی تھی۔ *ایہان علی زید* — کامیاب بزنس مین، بااعتماد، سنجیدہ مزاج، جو اپنی محنت سے سب کچھ حاصل کر چکا تھا۔ وہ کسی تعارف کا محتاج نہ تھا۔

ایلاف نے جب اسے دیکھا، دل کے کسی کونے میں ہلکی سی ہلچل ہوئی۔

"یہی وہ ہے؟" دل نے سوال کیا، مگر زبان خاموش رہی۔

ایہان نے نظریں اٹھا کر ایلاف کو دیکھا۔ لمحہ بھر کی خاموشی میں جیسے ایک دنیا چھپ گئی ہو۔

"آپ کالج میں پڑھتی ہیں؟"

"جی، B.A کر رہی ہوں۔" ایلاف نے دھیرے سے کہا۔

رسمی باتوں کے درمیان کچھ خاص نہ کہا گیا، لیکن ان چند لمحوں میں ایک ایسی کہانی کا آغاز ہو چکا تھا، جو صرف الفاظ سے نہیں، تقدیر سے لکھی جانے والی تھی…

---رسمی باتوں کے درمیان کچھ خاص نہ کہا گیا، لیکن ان چند لمحوں میں ایک ایسی کہانی کا آغاز ہو چکا تھا، جو صرف الفاظ سے نہیں، تقدیر سے لکھی جانے والی تھی…

------

*✨ عشقِ فریب — قسط نمبر 2 ✨*

مہمانوں کی محفل میں خاموشی کے لمحات بھی کچھ کہہ رہے تھے۔ ایہان علی زید کا انداز اور اس کی شخصیت نے ایلاف کے دل میں ایک خاص جگہ بنا لی تھی، مگر وہ خود اس بات سے انجان تھا۔

ایلاف کی شرارتیں اور معصوم باتیں ایہان کو بے حد پسند آ رہی تھیں، مگر وہ اپنے جذبات کو چھپانے میں ماہر تھا۔ دل چاہتا تھا کہ وہ ایلاف کے قریب ہو، مگر اپنے کاروبار اور ذمے داریوں کی وجہ سے اپنے دل کی بات کہہ نہ سکا۔

ایلاف بھی دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ شاید یہ ملاقات ان کی زندگی کا نیا باب ہو، مگر وہ بھی اس رشتے کی سنجیدگی کو سمجھنے میں ابھی تھوڑی کمزور تھی۔

مہمانوں کی آمد سے گھر کی رونق دو چند ہو گئی تھی، مگر ایہان کی خاموشی اور گہری سوچ نے ماحول کو تھوڑا سا سنبھالا رکھا تھا۔ اس کے دل میں کئی سوالات تھے، مگر وہ انہیں زبان پر لانے سے قاصر تھا۔

"ایلاف، آپ کو کالج کیسا لگ رہا ہے؟" ایہان نے پرسکون انداز میں پوچھا۔

"کالج اچھا ہے، مگر کبھی کبھی پڑھائی میں دقت ہوتی ہے۔" ایلاف نے مسکرا کر جواب دیا۔

یہ مختصر بات چیت دونوں کے دلوں میں ایک نیا جذبہ جگا گئی تھی، جو جلد ہی محبت کی صورت میں پروان چڑھنے والا تھا۔

لیکن یہ محبت آسان نہیں تھی۔ حالات، رشتے، اور خاندان کی توقعات اس راہ میں رکاوٹ بننے والے تھے۔

کیا یہ دو دل اپنی تقدیر خود لکھ سکیں گے؟ یا قسمت کے فیصلے انہیں جدا کر دیں گے؟

یہ کہانی ابھی شروع ہوئی ہے، اور آگے کے صفحات میں راز اور محبت کے نئے رنگ سامنے آئیں گے…

---

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play