Zinda Thi… Par Qabool Nahi
گھر میں پہلے ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی…
اور اس دن جیسے خوشیوں نے دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔
ڈھول بجے، ہنسی گونجی، مبارکبادیں دی گئیں…
پورا گھر خوشیوں سے بھر گیا تھا۔
لیکن وقت نے جیسے ایک نیا امتحان لکھ رکھا تھا۔
جب دوسری بار خوشخبری آئی،
تو ہر زبان پر ایک ہی دعا تھی…
“اس بار بیٹا ہو…”
دن گزرے، لمحے بیتے…
اور پھر وہ وقت آ گیا، جب ایک نئی زندگی نے جنم لینا تھا۔
لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا…
وہ بھی ایک بیٹی تھی۔
اس خبر کے ساتھ ہی خوشیوں کا شور،
اچانک ایک گہری خاموشی میں بدل گیا۔
اس بچی کے باپ نے تو ہسپتال آنا بھی ضروری نہ سمجھا…
اسے دیکھنا تک گوارا نہ کیا…
اور اسی دن جماعت کے لیے چلا گیا۔
ماں بے ہوش تھیں…
اور وہ ننھی سی جان…
نہ روئی… نہ سانس لی…
ڈاکٹروں نے سمجھا،
شاید وہ اس دنیا میں آئی ہی نہیں…
شاید وہ چلی گئی…
عجیب دنیا ہے…
جہاں ایک بچی کے پیدا ہونے پر جتنا دکھ تھا
اس کے مر جانے کی خبر میں شاید اس سے زیادہ سکون تھا۔
شام ڈھل رہی تھی،
اور اس بچی کی دادی — شمیم اختر —
اسے کفن میں لپیٹ کر قبرستان لے جانے نکل پڑیں۔
“چلو امان… اسے دفنا دیتے ہیں
ماں کے ہوش میں آنے سے پہلے سب ختم ہو جائے گا جان چھوٹے گی اس سے"…
کسی نے یہ بھی ضروری نہ سمجھا
کہ ماں کے جاگنے کا انتظار کر لیا جائے۔
مگر…
فیصلے ہمیشہ انسان کے نہیں ہوتے۔
اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
راستے میں…
اچانک اس ننھی سی جان نے ہلکی سی حرکت کی۔
ایک نرس کی نظر اس پر پڑی…
وہ چونک گئی…
“ایک منٹ! انٹی یہ بچی حرکت کر رہی ہے…
اسے کفن کیوں پہنایا گیا ہے؟ مجھے دکھائیں!”
وہ فوراً اسے لے گئی،
ڈاکٹروں نے جلدی سے آکسیجن لگائی…
اور پھر…
وہ بچ گئی۔
لیکن اس کی سانسوں کی واپسی پر بھی،
خوشی کے آنسو نہیں تھے…
بلکہ ایک عجیب سا سوال تھا…
“کیوں…؟”
اس کی ماں ایک ہفتے تک بے ہوش رہیں،
اور وہ بچی…
تین دن تک رو بھی نہ سکی۔
پھر ایک دن…
اس نے رونا سیکھ لیا۔
شاید وہ رونا
اس کی زندگی کا پہلا احتجاج تھا…
ایک ایسی زندگی کے خلاف
جہاں اسے صرف “بیٹی” ہونے کی سزا ملنی تھی۔
وہ معصوم سی جان…
جسے ابھی یہ بھی نہیں معلوم تھا،
کہ آگے اس کے راستے میں کتنی ٹھوکریں،
کتنے طعنے،
اور کتنی خاموش تکلیفیں لکھی جا چکی ہیں…
کیونکہ بعض اوقات…
غلطی صرف اتنی ہوتی ہے کہ
انسان ایک ایسے گھر میں پیدا ہو جائے،
جہاں بیٹی کو نعمت نہیں، بوجھ سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔
وہ ننھی سی جان اب تھوڑی بڑی ہو رہی تھی، مگر گھر میں اس کی معصومیت کے باوجود بھی اس کے حصے میں اکثر الزامات ہی آتے تھے۔
چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر بھی سارا قصور اسی کے سر ڈال دیا جاتا، جیسے وہ جان بوجھ کر سب کچھ کر رہی ہو۔
اب وہ پہلی جماعت میں تھی....اور اس کی بڑی بہن تیسری جماعت میں۔
دونوں سب قرآن بھی پڑتی تھی
“اتی، ہم لونوں نے آج ایک جیسے مہنگے پہنے ہیں ہم اتھے گگ لہے نا؟”( اپی ہم دونوں نے آج ایک جیسے لہنگے پہنے ہے ہم اچھے لگ رہے ہے نا "
بڑی بہن مسکرائی۔
“ہاں، بہت اچھے لگ رہے ہیں دونوں!”
چھوٹی نے بھی آہستہ سے سر ہلایا، مگر اس کی ماں آنکھوں میں ایک عجیب سی جھجھک تھی، جیسے وہ اس بچی کو دیکھنے سے بھی ڈر رہی ہو یا دیکھنا چاہتی ہی نہ ہو ۔
“چلو اب جلدی کرو، ورنہ قاری صاحب ڈانٹیں گے!” ماں نے کہا۔
دونوں بہنیں قرآن سینے سے لگائے گھر سے نکلیں۔
ان کے چھوٹے قدم، اور ان کے سادہ سے لہنگے—سب کچھ معصومیت میں ڈوبا ہوا تھا۔
چھوٹی بچی کا سفید رنگ، اس پر ہلکے رنگ کا لہنگا، جیسے وہ کوئی معصوم سی گڑیا ہو جو ہوا میں ہلکے ہلکے چل رہی ہو۔
اس کی خوبصورتی میں سادگی تھی، اور سادگی میں ایک الگ ہی کشش۔
مگر راستے میں ایک سایہ سا ان کے قریب آیا۔
ایک آدمی کھڑا تھا، نظریں بار بار ان بچوں پر آ رہی تھیں۔
“سنیں بچی…”
دونوں رک گئیں۔
“جی انتل؟”(انکل )
“ آپ کے بابا کی دکان کہاں ہے؟ میں راستہ بھول گیا ہوں۔ میں ان کا دوست ہوں…”
چھوٹی نے معصومیت سے جواب دیا:
“میلاا نام للکی نہیں، لوباب ہے… انتل!”(میرا نام لڑکی نہیں روباب ہے)
وہ آدمی مسکرایا اور اس کی مسکراہٹ میں انتہائی غلاظت محسوس ہو رہی تھی
“اچھا روباب بیٹا، چلو مجھے لے چلو اپنے بابا کی دکان پر…”
چھوٹی نے پلٹ کر اپی کی طرف دیکھا۔
“میں لے جاتی ہوں، آپ میرے ساتھ آ جائیں… بابا کی دکان پر۔”
تیتن آتی!.. (لیکن اپی )
لوباب میں کے جاتی ہو آنکھ کی رہے ہے نہ وہ ہاتھ کے دوست ہے۔۔
“جلدی آنا آتی!!. ( اپی)
تم قرآن ساتھ رکھنا روباب!” بڑی بہن نے کہا۔
“ٹھیٹ ہے”(ٹھیک ہے)
اور وہ اس اجنبی کے ساتھ چل پڑی۔
قدم چھوٹے تھے، مگر راستہ لمبا لگ رہا تھا۔
ہوا جیسے بدل رہی تھی… ماحول میں کچھ عجیب سا دباؤ تھا۔
شاید اس دن قسمت کوئی امتحان لکھ رہی تھی…
اور وہ امتحان گھر کی سب سے بڑی بیٹی کے لیے تھا۔
جب اسے احساس ہوا کہ کچھ ٹھیک نہیں…
تو شاید بہت دیر ہو چکی تھی…
اور پھر…
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments