ساحر (اس کا اچھا دوست)
اپنی پرانی کتابیں سمیٹ رہا ہے ۔
(ان کتابوں میں اک ڈائیری تھی)
یہ ڈائیری تو سمیر کی ہے۔وہ اسے ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا ۔
وہ ڈائیری کھولتا ہے ۔
پرانے کاغذ پر سیاہی پھیلی ہوئی تھی جیسے اس پر آنسو گرے ہوں۔
وہ ڈائیری پڑھتا ہے:
"آج پھر سوچا اگر کبھی زندگی میں موقع ملا تو میں سب کچھ چھوڑ کر نکل جاؤں گا.....
نہ کوئی فون،نہ نام، نہ وہ یاد جو روز مرے.....
بس میں اکیلا کھلے آسمان تلے بے فقری سے بغیر کسی گھٹن کے سانس لوں....
اور میں وہی جاؤں گا جہاں ہم دونوں جانا چاہتے تھے ،زندگی کی دوڈ سے بریک لے کر.....
جہاں شور نہیں ہوتا ، جہاں صرف ہوا ہوتی ہے اور پہاڑ بات کرتے ہیں......
جہاں ندی ختم ہو کر ختم نہیں ہوتی...
بس پتھر بن جاتی ہے ۔
اور جہاں اک اکیلا دیودار کھڑا ہوا تھا ۔
تمہیں یاد ہے ہم نے کہا تھا: جب دنیا سے دل بھر جائے گا تو یہیں آ کر بیٹھیں گے ۔
(سیاہی یہاں پھیلی تھی.... جیسے ہاتھ کانپ گیا ہو)
یہ وہی جگہ ہو گی جہاں میں زندہ ہو جاؤں گا
وہی سانس لوں گا جو روز گھٹ کر رہ جاتی ہے...
اگر میں کبھی گم ہو جاؤں..
اگر کوئی پوچھے کہ " سمیر کہاں ہے ؟"
تو اسے کہنا کہ میں وہاں ہوں جہاں ندی خاموش ہو جاتی ہے ،جہاں سورج خوبصورتی سے ڈھلتا ہے ، جہاں دیودار اکیلا ہے میں اس کے ساتھ ہوں...."
ساحر ڈائیری پڑھنے کے بعد کچھ دیر کے لیے کسی سوچ میں گم ہو گیا ۔
رات میں بستر پر لیٹتے ہی سو گیا اور خود کو خواب میں دیکھا ۔
(خواب تھوڑا دھندلا تھا)
رات میں بھی چاند کی روشنی سب کچھ روشن کیے ہوئے ہے ،
وہ دیودار کا درخت ابھی بھی اکیلا ہے ، نہیں...وہاں کوئی ہے....
(اتنے میں اس کی آنکھ کھلتی ہے)
وہ اٹھ کر بیٹھتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ کون ہو سکتا ہے.
پھر اچانک آٹھ کھڑا اور اس کے چہرے پر وہ چمک تھی جیسے کوئی چیز کھو جانے کے بعد اک دن خود ہی مل جائے ۔
اک پل کے لیے اس نے سوچا کہ وہ سمیر تھا ،وہ زندہ ہے........
پھر وہی سوال آ گیا کہ وہ زندہ کیسے ہو سکتا ہے ؟
وہ بے چین بیٹھا تھا ، اس نے وہی ڈائیری دوبارا کھولی اور کچھ الگ پڑھا:
اگر یہ دنیا کبھی قبر بن جائے تو میں صحرا میں اپنی خود کی قبر کھود لوں گا ،وہاں آزان میری ہو گی اور موت بھی میری ہو گی.....
(ساحر کا ہاتھ کانپ رہا تھا جیسے اس کے سینے میں کسی نے چاقو اتار دیا ہو)
پانچ سال سے وہ تصور کر رہا تھا سمیر کی قبر پر پھول رکھنے کا......آج سمجھ آیا قبر خالی تھی....
مردے ڈائیری نہیں لکھتے ، مردے صحرا میں آزان نہیں دیتے....
تو پھر سمیر تو زندہ ہے....یا پھر میں پاگل ہو گیا ہوں!؟
(اتنے میں فجر کا وقت ہو تا ہے اور ہر طرف آذانیں بلند ہوتی ہیں)
وہ وضو کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور دعا کچھ یوں مانگتا ہے کہ:
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments