*ناول: "Arfan Khan Sadoun کی محافظ"* _ --- اسلام آباد کی رات اپنا رنگ بدل چکی تھی۔ آسمان پر سیاہ ب
*ناول: "Arfan Khan Sadoun کی محافظ"* _
---
اسلام آباد کی رات اپنا رنگ بدل چکی تھی۔ آسمان پر سیاہ بادل منڈلا رہے تھے اور ہلکی ہلکی بوندیں زمین کو بھگو رہی تھیں۔ سڑکیں سنسان تھیں۔ صرف کبھی کبھار کسی گاڑی کی لائٹ اندھیرے کو چیرتی ہوئی گزر جاتی۔
فرشتہ خان جلدی جلدی قدم بڑھا رہی تھی۔ اس کے کندھے پر ڈانس کا بیگ لٹک رہا تھا اور ہاتھ میں چھتری نہیں تھی کیونکہ پیسے بچانے تھے۔ وہ ایک چھوٹے تھیٹر گروپ میں ڈانسر تھی۔ امی کا علاج چل رہا تھا۔ بابا 2 سال پہلے ایک حادثے میں چلے گئے تھے۔ گھر کا سارا بوجھ 22 سال کی فرشتہ کے کندھوں پر تھا۔
"بس 10 منٹ اور۔ گھر پہنچ جاؤں گی۔" وہ خود سے بڑبڑائی۔
اچانک گلی کے موڑ سے دو لڑکے نکل کر سامنے آ گئے۔ دونوں کے ہاتھ جیب میں تھے اور نظریں فرشتہ پر جمی ہوئی تھیں۔
"اوئے ڈانسر، اتنی رات کو کہاں جا رہی ہو؟" ایک نے آواز کسی۔
فرشتہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے نظریں جھکا کر سائیڈ سے نکلنے کی کوش کی۔
"بات نہیں کرو گی؟ بڑی مغرور ہو۔" دوسرے نے اس کا راستہ روک لیا۔
"راستہ چھوڑیں پلیز۔" فرشتہ کی آواز کانپ رہی تھی۔
"پہلے ڈانس کر کے دکھاؤ۔ پھر چھوڑ دیں گے۔" پہلا لڑکا ہنسا اور آگے بڑھا۔
فرشتہ نے چیخ ماری اور پلٹ کر بھاگی۔ پر گلی میں پانی کی وجہ سے اس کا پاؤں پھسل گیا اور وہ سڑک پر گر پڑی۔ بیگ دور جا گرا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
"چھوڑ دو مجھے۔ اللہ کے واسطے۔" وہ روتے ہوئے بولی۔
لڑکے اور قریب آئے۔
اسی وقت دور سے تیز روشنی آئی۔ ٹائروں کی چرچراہٹ کی آواز گونجی۔ ایک کالی لینڈ کروزر نے اچانک بریک لگائی۔ گاڑی فرشتہ سے صرف 2 فٹ کے فاصلے پر رکی۔
ڈرائیور سائیڈ کا شیشہ نیچے ہوا۔
اندر بیٹھا شخص نہایت پرسکون تھا۔ بلیک تھری پیس سوٹ، سفید شرٹ، ہاتھ میں گھڑی۔ چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں ایسی سردی کہ دیکھنے والا کانپ جائے۔
"مسئلہ کیا ہے؟" اس کی آواز دھیمی تھی پر حکم والی۔
لڑکے گھبرا گئے۔ "سر... کچھ نہیں۔ بس..."
"میں نے پوچھا مسئلہ کیا ہے؟" اب آواز میں سختی تھی۔
دونوں لڑکوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور بغیر کچھ کہے بھاگ گئے۔
گاڑی کا دروازہ کھلا۔ وہ شخص باہر نکلا۔ بارش میں بھیگ گیا پر اسے پرواہ نہیں تھی۔ وہ سیدھا فرشتہ کے پاس آیا جو ابھی تک زمین پر بیٹھی سسک رہی تھی۔
اس نے اپنا بلیک کوٹ اتارا اور فرشتہ کے کندھوں پر ڈال دیا۔ کوٹ سے ہلکی خوشبو آ رہی تھی۔
"چوٹ آئی ہے؟" اس نے پوچھا۔
فرشتہ نے ڈرے ہوئے انداز میں سر ہلایا۔ "ن... نہیں۔"
"اٹھو۔" اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔
فرشتہ نے ایک لمحہ ہچکچاہٹ کے بعد ہاتھ تھام لیا۔ اس کا ہاتھ گرم اور مضبوط تھا۔ اس نے فرشتہ کو آسانی سے اٹھا دیا۔
"گاڑی میں بیٹھو۔ میں گھر چھوڑ دیتا ہوں۔"
"نہیں شکریہ۔ میں چلی جاؤں گی۔" فرشتہ نے انکار کیا۔
اس شخص نے ایک نظر اسے دیکھا۔ "میں نے سوال نہیں کیا۔ میں نے کہا ہے۔"
اس لہجے میں ایسی طاقت تھی کہ فرشتہ نے مزید بحث نہیں کی۔ وہ چپ چاپ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
گاڑی کے اندر بہت سکون تھا۔ ہلکی خوشبو، نرم سیٹیں، اور ہیٹر کی گرمی۔ فرشتہ ابھی تک کانپ رہی تھی۔
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اس شخص نے مرر میں فرشتہ کو دیکھا۔ "نام؟"
"ف... فرشتہ خان۔"
"Arfan Khan Sadoun۔" اس نے اپنا تعارف کروایا۔ "Sadoun Group."
فرشتہ نے سر ہلا دیا۔ وہ جانتی تھی اس نام کو۔ ٹی وی اور اخباروں میں آتا رہتا تھا۔ ایک بہت بڑا بزنس مین۔
راستے بھر کوئی بات نہیں ہوئی۔ صرف بارش کے قطرے شیشے پر گرنے کی آواز آ رہی تھی۔ فرشتہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ دل میں ڈر تھا، شکر بھی تھا، اور ایک انجانا سا سوال بھی۔ یہ شخص اس کی مدد کیوں کر رہا ہے؟
15 منٹ بعد گاڑی ایک چھوٹے سے گھر کے باہر رکی۔ گیٹ پر لائٹ ٹمٹما رہی تھی۔
"یہاں رہتی ہو؟" Arfan نے پوچھا۔
"جی۔" فرشتہ نے دھیرے سے کہا۔
Arfan نے ڈیش بورڈ کھول کر ایک کارڈ نکالا۔ سنہری حروف میں نام لکھا تھا۔
*Arfan Khan Sadoun | CEO, Sadoun Group*
نیچے نمبر بھی تھا۔
"یہ رکھو۔" اس نے کارڈ فرشتہ کی طرف بڑھایا۔ "اگر کل کو کوئی تنگ کرے تو مجھے کال کرنا۔"
فرشتہ نے کارڈ لے لیا۔ "آپ نے میری مدد کیوں کی سر؟"
Arfan نے ایک لمحے کے لیے سوچا پھر بولا: "کیونکہ میں وقت پر پہنچ گیا۔ اور میں دیر سے پہنچنا پسند نہیں کرتا۔"
اس نے ڈرائیور کو اشارہ کیا۔ گاڑی چل پڑی۔
فرشتہ دیر تک اس کارڈ کو دیکھتی رہی۔ بارش میں بھیگے ہوئے کوٹ کو سینے سے لگا لیا۔
---
### *اگلی صبح - 10 بجے*
دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ فرشتہ نے دروازہ کھولا تو باہر دو سیکیورٹی گارڈ کھڑے تھے۔ دونوں بلیک سوٹ میں۔
"میڈم فرشتہ خان؟"
"جی۔"
"Sadoun سر نے آپ کو بلایا ہے۔ گاڑی نیچے کھڑی ہے۔"
فرشتہ گھبرا گئی۔ "کس لیے؟"
"ہمیں نہیں پتہ۔ حکم ہے۔"
مجبوراً فرشتہ تیار ہو کر گئی۔ 30 منٹ بعد وہ اسلام آباد کی سب سے اونچی عمارت کے 35ویں فلور پر تھی۔
آفس بہت بڑا تھا۔ شیشے کی دیواریں، مہنگا فرنیچر، اور سامنے ایک بڑی میز کے پیچھے Arfan بیٹھا فائلیں دیکھ رہا تھا۔
اس نے سر اٹھا کر فرشتہ کو دیکھا۔ "بیٹھو۔"
فرشتہ کرسی پر بیٹھ گئی۔ "جی سر؟"
"تم ڈانسر ہو۔" یہ سوال نہیں تھا۔
"جی۔"
"میری کمپنی کا سالانہ ایونٹ 1 ہفتے بعد ہے۔ تم وہاں پرفارم کرو گی۔"
فرشتہ نے فوراً انکار کیا۔ "سر میں معذرت چاہتی ہوں۔ میں نہیں کر سکتی۔"
"کیوں؟" Arfan نے قلم میز پر رکھا۔
"کیونکہ... کیونکہ میں کسی کے کہنے پر نہیں ناچتی۔"
Arfan نے ایک لمبی سانس لی۔ "ٹھیک ہے۔ مت کرو۔ پر یاد رکھو فرشتہ، کل رات والے لڑکے دوبارہ آئیں گے۔ اور میں ہر بار وقت پر نہیں پہنچ پاؤں گا۔"
فرشتہ چپ ہو گئی۔ امی کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔
Arfan نے دراز سے ایک چیک نکالا اور آگے بڑھا دیا۔ "3 لاکھ۔ ایڈوانس۔ ساتھ میں 24 گھنٹے سیکیورٹی۔ بدلے میں صرف ایک پرفارمنس۔ 10 منٹ کی۔"
فرشتہ نے چیک دیکھا۔ یہ رقم اس کے لیے بہت بڑی تھی۔ امی کا آپریشن اسی سے ہو سکتا تھا۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے چیک پکڑ لیا۔ "ٹھیک ہے۔ میں کروں گی۔"
Arfan کے چہرے پر کوئی مسکراہٹ نہیں آئی۔ وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس چلا گیا۔ پیٹھ کر کے بولا: "شاباش۔ اور ایک آخری بات۔ رات 8 بجے کے بعد تم گھر سے باہر نہیں نکلو گی۔ یہ میرا آرڈر ہے۔"
فرشتہ اٹھ کر جانے لگی۔ دروازے پر پہنچ کر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ "سر... شکریہ۔"
Arfan نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ بس دھیرے سے بولا: "شکریہ کی ضرورت نہیں۔ بس اپنا خیال رکھنا۔"
فرشتہ باہر نکل آئی۔ دل میں عجیب سی جنگ چل رہی تھی۔ غصہ بھی تھا کہ اس نے مجبور کیا۔ شکر بھی تھا کہ اس نے بچایا۔ اور سب سے بڑھ کر... سکون تھا۔
پہلی بار زندگی میں کسی نے کہا تھا: _"تم محفوظ رہو گی"_
شاید یہی تقدیر ہوتی ہے۔
ایک بارش کی رات۔
ایک سخت انسان۔
اور ایک وعدہ جو لفظوں سے نہیں، عمل سے کیا گیا۔
_Some people don't say "I care". They just show up in the rai
-
اسلام آباد کی رات اپنا رنگ بدل چکی تھی۔ آسمان پر سیاہ بادل منڈلا رہے تھے اور ہلکی ہلکی بوندیں زمین کو بھگو رہی تھیں۔ سڑکیں سنسان تھیں۔ صرف کبھی کبھار کسی گاڑی کی لائٹ اندھیرے کو چیرتی ہوئی گزر جاتی۔
فرشتہ خان جلدی جلدی قدم بڑھا رہی تھی۔ اس کے کندھے پر ڈانس کا بیگ لٹک رہا تھا اور ہاتھ میں چھتری نہیں تھی کیونکہ پیسے بچانے تھے۔ وہ ایک چھوٹے تھیٹر گروپ میں ڈانسر تھی۔ امی کا علاج چل رہا تھا۔ بابا 2 سال پہلے ایک حادثے میں چلے گئے تھے۔ گھر کا سارا بوجھ 22 سال کی فرشتہ کے کندھوں پر تھا۔
"بس 10 منٹ اور۔ گھر پہنچ جاؤں گی۔" وہ خود سے بڑبڑائی۔
اچانک گلی کے موڑ سے دو لڑکے نکل کر سامنے آ گئے۔ دونوں کے ہاتھ جیب میں تھے اور نظریں فرشتہ پر جمی ہوئی تھیں۔
"اوئے ڈانسر، اتنی رات کو کہاں جا رہی ہو؟" ایک نے آواز کسی۔
فرشتہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے نظریں جھکا کر سائیڈ سے نکلنے کی کوش کی۔
"بات نہیں کرو گی؟ بڑی مغرور ہو۔" دوسرے نے اس کا راستہ روک لیا۔
"راستہ چھوڑیں پلیز۔" فرشتہ کی آواز کانپ رہی تھی۔
"پہلے ڈانس کر کے دکھاؤ۔ پھر چھوڑ دیں گے۔" پہلا لڑکا ہنسا اور آگے بڑھا۔
فرشتہ نے چیخ ماری اور پلٹ کر بھاگی۔ پر گلی میں پانی کی وجہ سے اس کا پاؤں پھسل گیا اور وہ سڑک پر گر پڑی۔ بیگ دور جا گرا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
"چھوڑ دو مجھے۔ اللہ کے واسطے۔" وہ روتے ہوئے بولی۔
لڑکے اور قریب آئے۔
اسی وقت دور سے تیز روشنی آئی۔ ٹائروں کی چرچراہٹ کی آواز گونجی۔ ایک کالی لینڈ کروزر نے اچانک بریک لگائی۔ گاڑی فرشتہ سے صرف 2 فٹ کے فاصلے پر رکی۔
ڈرائیور سائیڈ کا شیشہ نیچے ہوا۔
اندر بیٹھا شخص نہایت پرسکون تھا۔ بلیک تھری پیس سوٹ، سفید شرٹ، ہاتھ میں گھڑی۔ چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں ایسی سردی کہ دیکھنے والا کانپ جائے۔
"مسئلہ کیا ہے؟" اس کی آواز دھیمی تھی پر حکم والی۔
لڑکے گھبرا گئے۔ "سر... کچھ نہیں۔ بس..."
"میں نے پوچھا مسئلہ کیا ہے؟" اب آواز میں سختی تھی۔
دونوں لڑکوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور بغیر کچھ کہے بھاگ گئے۔
گاڑی کا دروازہ کھلا۔ وہ شخص باہر نکلا۔ بارش میں بھیگ گیا پر اسے پرواہ نہیں تھی۔ وہ سیدھا فرشتہ کے پاس آیا جو ابھی تک زمین پر بیٹھی سسک رہی تھی۔
اس نے اپنا بلیک کوٹ اتارا اور فرشتہ کے کندھوں پر ڈال دیا۔ کوٹ سے ہلکی خوشبو آ رہی تھی۔
"چوٹ آئی ہے؟" اس نے پوچھا۔
فرشتہ نے ڈرے ہوئے انداز میں سر ہلایا۔ "ن... نہیں۔"
"اٹھو۔" اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔
فرشتہ نے ایک لمحہ ہچکچاہٹ کے بعد ہاتھ تھام لیا۔ اس کا ہاتھ گرم اور مضبوط تھا۔ اس نے فرشتہ کو آسانی سے اٹھا دیا۔
"گاڑی میں بیٹھو۔ میں گھر چھوڑ دیتا ہوں۔"
"نہیں شکریہ۔ میں چلی جاؤں گی۔" فرشتہ نے انکار کیا۔
اس شخص نے ایک نظر اسے دیکھا۔ "میں نے سوال نہیں کیا۔ میں نے کہا ہے۔"
اس لہجے میں ایسی طاقت تھی کہ فرشتہ نے مزید بحث نہیں کی۔ وہ چپ چاپ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
گاڑی کے اندر بہت سکون تھا۔ ہلکی خوشبو، نرم سیٹیں، اور ہیٹر کی گرمی۔ فرشتہ ابھی تک کانپ رہی تھی۔
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اس شخص نے مرر میں فرشتہ کو دیکھا۔ "نام؟"
"ف... فرشتہ خان۔"
"Arfan Khan Sadoun۔" اس نے اپنا تعارف کروایا۔ "Sadoun Group."
فرشتہ نے سر ہلا دیا۔ وہ جانتی تھی اس نام کو۔ ٹی وی اور اخباروں میں آتا رہتا تھا۔ ایک بہت بڑا بزنس مین۔
راستے بھر کوئی بات نہیں ہوئی۔ صرف بارش کے قطرے شیشے پر گرنے کی آواز آ رہی تھی۔ فرشتہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ دل میں ڈر تھا، شکر بھی تھا، اور ایک انجانا سا سوال بھی۔ یہ شخص اس کی مدد کیوں کر رہا ہے؟
15 منٹ بعد گاڑی ایک چھوٹے سے گھر کے باہر رکی۔ گیٹ پر لائٹ ٹمٹما رہی تھی۔
"یہاں رہتی ہو؟" Arfan نے پوچھا۔
"جی۔" فرشتہ نے دھیرے سے کہا۔
Arfan نے ڈیش بورڈ کھول کر ایک کارڈ نکالا۔ سنہری حروف میں نام لکھا تھا۔
*Arfan Khan Sadoun | CEO, Sadoun Group*
نیچے نمبر بھی تھا۔
"یہ رکھو۔" اس نے کارڈ فرشتہ کی طرف بڑھایا۔ "اگر کل کو کوئی تنگ کرے تو مجھے کال کرنا۔"
فرشتہ نے کارڈ لے لیا۔ "آپ نے میری مدد کیوں کی سر؟"
Arfan نے ایک لمحے کے لیے سوچا پھر بولا: "کیونکہ میں وقت پر پہنچ گیا۔ اور میں دیر سے پہنچنا پسند نہیں کرتا۔"
اس نے ڈرائیور کو اشارہ کیا۔ گاڑی چل پڑی۔
فرشتہ دیر تک اس کارڈ کو دیکھتی رہی۔ بارش میں بھیگے ہوئے کوٹ کو سینے سے لگا لیا۔
---
### *اگلی صبح - 10 بجے*
دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ فرشتہ نے دروازہ کھولا تو باہر دو سیکیورٹی گارڈ کھڑے تھے۔ دونوں بلیک سوٹ میں۔
"میڈم فرشتہ خان؟"
"جی۔"
"Sadoun سر نے آپ کو بلایا ہے۔ گاڑی نیچے کھڑی ہے۔"
فرشتہ گھبرا گئی۔ "کس لیے؟"
"ہمیں نہیں پتہ۔ حکم ہے۔"
مجبوراً فرشتہ تیار ہو کر گئی۔ 30 منٹ بعد وہ اسلام آباد کی سب سے اونچی عمارت کے 35ویں فلور پر تھی۔
آفس بہت بڑا تھا۔ شیشے کی دیواریں، مہنگا فرنیچر، اور سامنے ایک بڑی میز کے پیچھے Arfan بیٹھا فائلیں دیکھ رہا تھا۔
اس نے سر اٹھا کر فرشتہ کو دیکھا۔ "بیٹھو۔"
فرشتہ کرسی پر بیٹھ گئی۔ "جی سر؟"
"تم ڈانسر ہو۔" یہ سوال نہیں تھا۔
"جی۔"
"میری کمپنی کا سالانہ ایونٹ 1 ہفتے بعد ہے۔ تم وہاں پرفارم کرو گی۔"
فرشتہ نے فوراً انکار کیا۔ "سر میں معذرت چاہتی ہوں۔ میں نہیں کر سکتی۔"
"کیوں؟" Arfan نے قلم میز پر رکھا۔
"کیونکہ... کیونکہ میں کسی کے کہنے پر نہیں ناچتی۔"
Arfan نے ایک لمبی سانس لی۔ "ٹھیک ہے۔ مت کرو۔ پر یاد رکھو فرشتہ، کل رات والے لڑکے دوبارہ آئیں گے۔ اور میں ہر بار وقت پر نہیں پہنچ پاؤں گا۔"
فرشتہ چپ ہو گئی۔ امی کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔
Arfan نے دراز سے ایک چیک نکالا اور آگے بڑھا دیا۔ "3 لاکھ۔ ایڈوانس۔ ساتھ میں 24 گھنٹے سیکیورٹی۔ بدلے میں صرف ایک پرفارمنس۔ 10 منٹ کی۔"
فرشتہ نے چیک دیکھا۔ یہ رقم اس کے لیے بہت بڑی تھی۔ امی کا آپریشن اسی سے ہو سکتا تھا۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے چیک پکڑ لیا۔ "ٹھیک ہے۔ میں کروں گی۔"
Arfan کے چہرے پر کوئی مسکراہٹ نہیں آئی۔ وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس چلا گیا۔ پیٹھ کر کے بولا: "شاباش۔ اور ایک آخری بات۔ رات 8 بجے کے بعد تم گھر سے باہر نہیں نکلو گی۔ یہ میرا آرڈر ہے۔"
فرشتہ اٹھ کر جانے لگی۔ دروازے پر پہنچ کر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ "سر... شکریہ۔"
Arfan نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ بس دھیرے سے بولا: "شکریہ کی ضرورت نہیں۔ بس اپنا خیال رکھنا۔"
فرشتہ باہر نکل آئی۔ دل میں عجیب سی جنگ چل رہی تھی۔ غصہ بھی تھا کہ اس نے مجبور کیا۔ شکر بھی تھا کہ اس نے بچایا۔ اور سب سے بڑھ کر... سکون تھا۔
پہلی بار زندگی میں کسی نے کہا تھا: _"تم محفوظ رہو گی"_
شاید یہی تقدیر ہوتی ہے۔
ایک بارش کی رات۔
ایک سخت انسان۔
اور ایک وعدہ جو لفظوں سے نہیں، عمل سے کیا گیا۔
_Some people don't say "I care". They just show up in the rain._
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments