سحر: حور کی سچی داستان
ســــــحــــــر
حــــــور
یہ داستان بہت لمبی ہے یہی تو میری زندگی ہے۔
میرا گناہ ہو یا نہ ہو، سزا مجھے ہمیشہ ملنی ہے۔ یہ سزا غیروں نے نہیں، اپنوں نے دی ہے۔ یہی تو داستانِ زندگی ہے۔
تو کر لے بھروسا، حور، راہ چلتے انسان پر نہ کر، تو بھروسا ساتھ بیٹھے یار پر۔
نہیں ہے کوئی گلہ مجھے اپنی زندگی سے، نہ جانے کیوں لوگوں کو ہے گلہ میری ہی زندگی سے۔
یہ داستان بہت لمبی ہے، یہی تو میری زندگی ہے۔
یہ داستان نہ ہوگی ختم؛ زندگی کی، غیروں کی، اپنوں کی، شکووں کی...
یہی داستانِ زندگی ہے، اور یہ بہت لمبی ہے
مجھے اپنا بچپن زیادہ یاد نہیں، مگر جتنا یاد ہے، اُس میں بہت سا درد، تکلیف اور ٹراما چھپا ہوا ہے۔
میں بڑی تو ہو گئی ہوں، مگر وہ زخم، وہ تکلیفیں اور وہ یادیں آج بھی میرے ساتھ ہیں۔ کچھ خوبصورت لمحے بھی تھے، مگر اُن کی نسبت تلخ یادیں زیادہ ہیں۔
مجھے آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب میں بہت چھوٹی تھی۔
میرے ابو نے میری امی کو تاروں سے باندھ رکھا تھا۔ میں اپنی امی کے پاس کھڑی پوری کوشش کر رہی تھی کہ اُنہیں کھول دوں۔ میرے ابو میز آگے کر رہے تھے، اور میں زار و قطار رو رہی تھی، چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی:
"ابو! امی کو مت ماریں... ابو، امی کو کچھ نہ کریں..."
مجھے آج بھی وہ منظر نہیں بھولتا۔ وہ میری زندگی کی اُن یادوں میں سے ایک ہے جو شاید کبھی میرے دل سے محو نہ ہو سکے۔
میری امی ایک بہت صبر کرنے والی عورت ہیں۔
میرے امی اور ابو کی محبت کی شادی ہوئی تھی۔ میرے ابو، امی سے تقریباً دس سال بڑے ہیں۔
بچپن میں میرے ابو مجھ سے بہت محبت کرتے تھے۔ وہ مجھے اسکول سے لینے آتے، سخت دھوپ میں میرا انتظار کرتے، میری ہر بات مانتے تھے۔ وہ امی سے بھی بہت محبت کرتے تھے، البتہ اُنہیں بہت جلد غصہ آ جاتا تھا۔
میرے ابو پنجابی ہیں اور میری امی پٹھان ہیں۔
ہم پانچ بہن بھائی ہیں۔
سب سے پہلے میرے دو بڑے بھائی ہیں، پھر میں، اُس کے بعد ایک بھائی، اور سب سے آخر میں میری چھوٹی بہن۔
میرے بڑے بھائیوں کے نام عبداللہ اور زید ہیں، پھر میں حور، اُس کے بعد ارحم، اور سب سے آخر میں ماہین۔
جب میں بہت چھوٹی تھی تو میری کوئی بہن نہیں تھی۔ میں اللہ تعالیٰ سے بہت دعا کیا کرتی تھی۔ میں اکثر روتے ہوئے اللہ سے کہتی تھی:
"یا اللہ! مجھے ایک بہن عطا فرما دیں۔"
اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کی، اور مجھے میری چھوٹی بہن مل گئی۔
بچپن میں میری امی بھی مجھ سے بہت محبت کرتی تھیں۔ میرے بھائی بھی مجھ سے پیار کرتے تھے، اور میں بھی اُن سب سے بے حد محبت کرتی تھی۔
لیکن پھر...
آہستہ آہستہ سب کچھ بدلنے لگا۔
"مجھے اس وقت یہ اندازہ بھی نہیں تھا کہ میری زندگی کا اصل امتحان ابھی شروع ہونا باقی تھا۔ آنے والے دن میری زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدلنے والے تھے۔"
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments