خوفناک ہمسفر

خوفناک ہمسفر

قسط نمبر 1

رات کے ٹھیک تین بج رہے تھے۔ باہر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی اور بادلوں کی گرج دل دہلا دینے والی تھی۔ عنایہ اپنے نئے کمرے کے بیڈ پر اکیلی بیٹھی خوف سے کانپ رہی تھی۔ ماضی کے تلخ حالات سے بھاگ کر وہ اس پرانے اور سستے مکان میں سکون کی تلاش میں آئی تھی، لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ یہاں کا سکون ایک بھیانک طوفان کا پیش خیمہ ہے۔اچانک کمرے کی کھڑکی زور سے کھلی اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے پورے کمرے کی لائٹ بجھا دی۔ گھپ اندھیرا چھا گیا۔ عنایہ کھڑکی بند کرنے کے لیے جیسے ہی بیڈ سے اتری، اسے اپنے بالکل پیچھے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔اس کا دل حلق میں آ گیا۔ کمرے کا درجہ حرارت اچانک اتنا گر گیا کہ اس کے جسم سے سردی کی لہر گزر گئی۔ عنایہ نے ڈرتے ڈرتے جیسے ہی پیچھے مڑ کر دیکھا، اندھیرے میں ایک لمبا، پراسرار سایہ کھڑا تھا۔ اس کی دو گہری اور چمکتی ہوئی آنکھیں سیدھی عنایہ کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھیں۔وہ خوف سے چیخنے ہی والی تھی کہ ایک مضبوط اور برفیلا ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا گیا۔ وہ کوئی بدروح نہیں تھی، وہ ایک انسان تھا—ایک انتہائی خوبصورت لیکن سحر انگیز اور خوفناک مرد!"خاموش رہو..." اس کی گہری اور مردانہ آواز اندھیرے میں گونجی۔ اس کی گرفت میں ایک عجیب سی مقناطیسی کشش تھی جس نے عنایہ کو وہیں منجمد کر دیا۔ "اگر تم یہاں زندہ رہنا چاہتی ہو، تو کبھی میری اجازت کے بغیر اس کھڑکی کو مت کھولنا۔"اس نے عنایہ کا منہ چھوڑا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ بول پاتی، وہ اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ عنایہ کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، خوف اور ایک انجانی کشش کے درمیان گھری وہ صبح ہونے کا انتظار کرنے لگیصبح کی پہلی کرن جب کھڑکی سے اندر آئی، تو عنایہ کی جان میں جان آئی۔ وہ رات بھر خوف کے مارے سو نہیں سکی تھی۔ کمرے کی روشنیاں اب ٹھیک ہو چکی تھیں، لیکن عنایہ کا ذہن اسی اجنبی مرد اور اس کی برفیلی گرفت کے گرد گھوم رہا تھا۔"وہ کون تھا؟ چور؟ یا کوئی سچ مچ کا آسیب؟" عنایہ نے خود سے سوال کیا۔ لیکن چور کبھی اس طرح منہ بند کر کے کھڑکی بند رکھنے کی تنبیہ نہیں کرتے۔عنایہ ہمت کر کے بیڈ سے اتری اور اس کھڑکی کے پاس گئی جہاں وہ رات کو کھڑا تھا۔ زمین پر بارش کے پانی کے ساتھ کسی کے جوتوں کے گیلے نشانات موجود تھے۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ رات کو جو کچھ ہوا، وہ کوئی خواب یا وہم نہیں بلکہ حقیقت تھی۔اسی وقت عنایہ کی نظر کھڑکی کے پاس پڑے ایک چھوٹے سے کالے پتھر پر پڑی۔ وہ کوئی عام پتھر نہیں تھا، اس پر سرخ رنگ سے کوئی عجیب سا نشان بنا ہوا تھا اور اس سے وہی پراسرار خوشبو آ رہی تھی جو رات کو اس مرد کے قریب ہونے پر عنایہ کو محسوس ہوئی تھی۔عنایہ نے جیسے ہی اس پتھر کو ہاتھ لگایا، اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اس نے گھبرا کر پیچھے دیکھا، لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ مگر کمرے کے آئینے پر دھند جم چکی تھی اور اس دھند پر انگلی سے لکھا ہوا تھا: "میں نے کہا تھا نا، کھڑکی مت کھولنا!"عنایہ کے ہاتھ سے پتھر چھوٹ کر گر گیا اور اس کی ایک تیز چیخ نکل گئی۔چِیخ کی وہ تیز آواز کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر گونج اٹھی، لیکن اس بڑے اور سنسان گھر میں اس کی چِیخ سننے والا کوئی نہیں تھا، کیونکہ وہ یہاں بالکل اکیلی رہتی تھی۔ عنایہ کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی سینے سے باہر آ جائے گا۔ آئینے پر جمی دھند پر لکھے وہ الفاظ "میں نے کہا تھا نا، کھڑکی مت کھولنا!" اب آہستہ آہستہ نیچے کی طرف بہتے پانی کے قطروں میں تبدیل ہو رہے تھے، جیسے وہ پگھل رہے ہوں۔عنایہ نے ہمت کر کے پیچھے قدم بڑھائے تاکہ وہ کمرے کے دروازے کی طرف بھاگ سکے، لیکن جیسے ہی اس نے مڑ کر دیکھا، اس کے قدم وہیں جم گئے۔ دروازے کے پاس، اندھیرے میں کوئی کھڑا تھا۔ ایک لمبا، سحر انگیز سایہ، جس کا چہرہ تو دھندلا تھا، لیکن اس کی دو گہری، جھیل جیسی چمکتی ہوئی آنکھیں سیدھی عنایہ پر ٹکی ہوئی تھیں۔ ان آنکھوں میں کوئی خوف یا غصہ نہیں تھا، بلکہ ایک عجیب سی کشش اور دیوانگی تھی۔اس سائے نے بہت دھیمی، مخملی اور سحر انگیز آواز میں کہا: "تم نے میری بات نہیں مانی، ہمسفر۔۔۔"وہ آہستہ آہستہ عنایہ کی طرف بڑھنے لگا۔ ہر قدم کے ساتھ، کمرے کا خوفناک اندھیرا جیسے ایک رومانوی سحر میں بدلنے لگا۔ اس کے وجود سے صندل اور بارش کی مٹی جیسی ایک دلآویز مہک اٹھ رہی تھی، جو عنایہ کے حواس پر طاری ہونے لگی۔ عنایہ کی پشت اب کھڑکی کے شیشے سے جا لگی تھی، بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، مگر اب وہ بھاگنا چاہتی بھی نہیں تھی۔ اس کی دھڑکنیں تیز تھیں، لیکن اب وہ خوف سے نہیں، بلکہ اس پراسرار وجود کی قربت کی وجہ سے تھیں۔اس سائے نے اپنا ایک نرم اور برف جیسا ٹھنڈا ہاتھ عنایہ کے چہرے کی طرف بڑھایا۔ اس کے چہرے کے اتنے قریب آ کر، عنایہ کو اس کی گرم سانسیں اپنے گالوں پر محسوس ہو رہی تھیں۔ اس نے بہت نرمی سے عنایہ کی زلفوں کی ایک آوارہ لٹ کو اس کے چہرے سے ہٹا کر کان کے پیچھے کیا۔ وہ لمس اتنا مخملی اور مانوس تھا کہ عنایہ کے پورے جسم میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی۔"تم اتنی ڈر کیوں رہی ہو؟" اس نے عنایہ کے بہت قریب جھکتے ہوئے سرگوشی کی، اس کی آواز میں ایک عجیب سا پیار اور اپنائیت تھی، "میں تمہیں نقصان پہنچانے نہیں۔۔۔ تمہارا اکیلا پن دور کرنے آیا ہوں۔"عنایہ نے مدہوشی کے عالم میں اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اس سنسان گھر میں، جہاں وہ ہمیشہ خود کو اکیلا پاتی تھی، آج پہلی بار اسے کسی کی قربت میں ایک عجیب سا سکون اور تحفظ محسوس ہو رہا تھا۔

قسط نمبر 2

عنایہ نے جیسے ہی سکون محسوس کرتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کیں، کمرے کا درجہ حرارت اچانک اتنا گر گیا کہ اس کی سانسیں برف کی طرح جمنے لگیں۔ اس پُرآسرار وجود نے اپنے ہاتھ عنایہ کے چہرے سے ہٹائے بغیر اپنی گرفت کو آہستہ آہستہ مضبوط کرنا شروع کر دیا۔ اس کی آواز، جو پہلے بہت نرم تھی، اب یکایک بھاری اور ایسی گونج دار ہو گئی جیسے ایک ساتھ کئی لوگ بول رہے ہوں، "ہاں عنایہ... اپنی آنکھیں بند ہی رکھو، کیونکہ اگر تم نے مجھے دیکھ لیا، تو تمہاری عقل تمہارا ساتھ چھوڑ دے گی۔"اسی لمحے عنایہ کو محسوس ہوا کہ اس کے اپنے پاؤں زمین چھوڑ رہے ہیں، وہ ہوا میں معلق ہو رہی تھی۔ کمرے میں موجود تمام چیزیں، جیسے پرانی کرسیاں اور میز، خود بخود ہوا میں اڑنے لگیں اور دیواروں پر لگی تصویریں الٹی ہو گئیں۔ سب سے زیادہ خوفناک بات یہ تھی کہ اس وجود کا کوئی مادی جسم نہیں تھا، لیکن اس کی طاقت اتنی شدید تھی کہ عنایہ کا دم گھٹنے لگا۔ وہ چاہ کر بھی اپنی آنکھیں نہیں کھول پا رہی تھی، جیسے کسی نے اس کی پلکوں پر بھاری پتھر رکھ دیے ہوں، اور وہ جن اس کے کان کے بالکل قریب آ کر ہنستے ہوئے بولا، "تم اب اس سنسان گھر سے کبھی باہر نہیں جا سکتیں... تم اب میری ہو۔"

عنایہ نے ایک دم ایک بھیانک اور دل دہلا دینے والی چیخ ماری اور تڑپ کر اٹھ بیٹھی۔ اس کا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا اور دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے سینے سے باہر آ جائے گا۔ اس نے خوفزدہ نظروں سے چاروں طرف دیکھا۔ کھڑکی سے صبح کی ہلکی اور سرد دھوپ اندر آ رہی تھی، جس نے کمرے کے اندھیرے کو تھوڑا کم کر دیا تھا۔ وہ اپنے اسی پرانے بستر پر موجود تھی، لیکن اس کا خوف کم نہیں ہو رہا تھا۔ حقیقت تو یہ تھی کہ اس وسیع اور بے رحم دنیا میں عنایہ کا اپنا کہنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ بالکل اکیلی تھی اور شہر سے دور اس بڑے، پرانے اور سنسان گھر میں تنہا رہتی تھی، جہاں رات کو صرف ہواؤں کے چلنے کی آوازیں ہی اس کی ساتھی ہوتی تھیں۔اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنے چہرے پر پھیلا پسینہ صاف کیا۔ اگرچہ وہ جانتی تھی کہ یہ صرف ایک سپنا تھا، مگر خواب میں محسوس ہونے والا وہ مخملی لمس اور جن کی وہ بھاری گونجتی آواز اتنی سچی تھی کہ عنایہ کو یوں لگا جیسے وہ اب بھی اسی کمرے میں کہیں چھپا اسے دیکھ رہا ہو۔ اس سنسان گھر کا سناٹا اب اسے پہلے سے کہیں زیادہ ڈراؤنا اور بوجھل محسوس ہو رہا تھا، اور اسے لگ رہا تھا کہ شاید وہ خواب اب حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے

خوف کے اس سائے کو خود سے دور کرنے کے لیے، عنایہ نے سوچا کہ وہ اپنے آپ کو کسی کام میں مصروف کر لے۔ وہ ہمت کر کے بستر سے اٹھی اور کچن میں چلی گئی تاکہ اپنے لیے دوپہر کا کھانا بنا سکے۔ برتنوں کی آوازوں اور چولہے کی آنچ کے باوجود، اس کے ذہن سے وہ خواب نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ پیاز کاٹتے اور سالن چمچ سے ہلاتے ہوئے بھی، اس کے دماغ میں بار بار وہی مخملی لمس، صندل کی خوشبو، اور پھر اچانک جن کی وہ بھاری اور خوفناک گونجتی ہوئی آواز گھوم رہی تھی، جس نے کہا تھا: "تم اب میری ہو۔۔۔"ابھی وہ انہی خیالوں میں گم تھی کہ اچانک کچن کے شور کے پیچھے سے ایک عجیب سی آواز ابھری۔ عنایہ کے ہاتھ وہیں رک گئے اور اس نے سہام کر چمچ سالن کے اندر ہی چھوڑ دیا۔ وہ آواز گھر کے بالکل آخری کونے میں موجود ایک ایسے بند کمرے سے آ رہی تھی، جسے برسوں سے مقفل رکھا گیا تھا اور جہاں کبھی کوئی نہیں جاتا تھا۔ اس بند کمرے کے دروازے کے پیچھے سے کسی کے دھیمے دھیمے گنگنانے، اور پھر صوفے یا بھاری چیز کو گھسیٹنے کی واضح آوازیں کچن تک آ رہی تھیں۔ سنسان گھر کے اس گہرے سناٹے میں وہ آوازیں اتنی صاف تھیں کہ عنایہ کو پکا یقین ہو گیا کہ وہ اب کوئی خواب نہیں دیکھ رہی، بلکہ کوئی واقعی اس بند کمرے کے اندر موجود تھا۔

خوف نے عنایہ کے پورے جسم کو جکڑ لیا تھا، لیکن اس کے اندر کا تجسس اور اکیلے پن کی مجبوری اسے اس بند کمرے کی طرف کھینچنے لگی۔ وہ دھیمے قدموں سے، فرش پر اپنے پاؤں کی آہٹ کو چھپاتی ہوئی، راہداری کے آخری کونے تک پہنچی۔ جیسے جیسے وہ اس مقفل دروازے کے قریب آ رہی تھی، اندر سے آنے والی آوازیں مزید صاف ہوتی جا رہی تھیں۔ اس نے کانپتے ہوئے اپنے کان کو لکڑی کے پرانے دروازے سے ٹکایا۔اندر کوئی اور نہیں، بلکہ وہی جن تھا جس کا خواب اس نے دیکھا تھا، لیکن اس بار اس کی آواز میں وہ خوفناک بھاری پن نہیں بلکہ ایک عجیب سا سحر تھا، اور اس کا نام "آذران" تھا۔ آذران کمرے میں ٹہلتے ہوئے کسی سے کہہ رہا تھا، "تم دیکھنا، وہ لڑکی اب میری ہے۔۔۔ میں نے صدیوں سے اس سنسان گھر میں اس کا انتظار کیا ہے۔ میں اب اسے یہاں سے کبھی جانے نہیں دوں گا، وہ میری دنیا کا حصہ بنے گی۔"ابھی عنایہ یہ سن کر حیرت اور خوف کے جھٹکے سے سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ کمرے کے اندر سے ایک اور آواز ابھری۔ یہ کسی عمر رسیدہ خاتون کی گونجتی ہوئی آواز تھی، جو پہلے تو زور سے ہنسی، اور پھر طنزیہ لہجے میں بولی، "آذران! تم بھول رہے ہو کہ وہ ایک انسان ہے۔۔۔ اور انسان بڑے ظالم ہوتے ہیں۔ وہ تمہاری محبت اور تمہاری اس دنیا کو کبھی قبول نہیں کرے گی، وہ تمہیں صرف دھوکا دے گی۔" یہ سن کر عنایہ کا سانس حلق میں اٹک گیا، کیونکہ اسے اب سمجھ آ رہی تھی کہ وہ جن اس سے کوئی دشمنی نہیں، بلکہ محبت کے بندھن میں باندھنے آیا تھا، مگر وہ دوسری عورت کون تھی؟

یہ سب سن کر عنایہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ خوف کی ایک سرد لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی اور وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹی۔ اس کا دم گھٹ رہا تھا اور وہ اب اس پراسرار گھر میں ایک پل بھی نہیں رکنا چاہتی تھی۔ وہ دوڑتی ہوئی کچن سے گزری اور گھر کا بڑا مرکزی دروازہ کھول کر باہر لان (گارڈن) میں آ گئی۔ باہر کی کھلی اور تازہ ہوا میں سانس لیتے ہی اس کی جان میں جان آئی۔ وہ گارڈن میں لگی ایک پرانی بینچ پر سر پکڑ کر بیٹھ گئی اور گہرے سوچ بچار میں ڈوب گئی کہ آخر وہ کیا کرے؟ وہ اتنے بڑے سنسان گھر کو چھوڑ کر کہاں جائے؟ اور اس جن یعنی آذران کا مقابلہ کیسے کرے؟

قسط نمبر 3

عنایہ گارڈن کی اس پرانی بینچ پر بیٹھی گہری سوچوں میں گم تھی۔ اس کا دماغ سن ہو چکا تھا اور سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ جائے تو کہاں جائے، اور اس سنسان گھر کو اکیلے کیسے چھوڑے؟ اس کے پاس کوئی ایسا سہارا بھی نہیں تھا جس سے وہ مدد مانگ سکتی۔ابھی وہ اسی شش و پنچ کی حالت میں بیٹھی اپنی قسمت پر رو رہی تھی کہ اچانک موسم نے ایک عجیب کروٹ لی۔ دیکھتے ہی دیکھتے نیلے آسمان پر گہرے کالے بادل چھا گئے اور ہر طرف اندھیرا ہونے لگا۔ سرد اور تیز ہوا کے جھونکے چلنے لگے، جنہوں نے گارڈن کے درختوں کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا۔اگلے ہی پل، آسمان پر بجلی زور سے چمکی اور تیز بارش شروع ہو گئی۔ بارش کی موٹی موٹی بوندیں عنایہ کے چہرے اور لباس پر گرنے لگیں، جن کی ٹھنڈک نے اسے ایک بار پھر آذران کے اسی مخملی اور سرد لمس کی یاد دلا دی جو اس نے رات کو محسوس کیا تھا۔ وہ تیز بارش میں بھیگتے ہوئے وہیں بیٹھی رہی، جیسے آسمان بھی اس کے اکیلے پن پر آنسو بہا رہا ہو۔

عنایہ کو بارش ہمیشہ سے بہت پسند تھی۔ بچپن سے ہی بارش کی بوندیں اس کے اداس دل کو خوشی سے بھر دیتی تھیں۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور ایک گہری سانس لے کر سوچا کہ پتا نہیں آگے زندگی میں کیا ہونا ہے، جو ہوگا دیکھا جائے گا، کیوں نہ اس خوبصورت بارش کا مزا لیا جائے! وہ اپنے سارے دکھ اور خوف بھلا کر بینچ سے اٹھی اور کھلکھلا کر ہنستے ہوئے تیز بارش میں ناچنے لگی۔ وہ بھیگتے ہوئے گول گول گھوم رہی تھی، اور اس کی ہنسی کی آواز گارڈن کے سناٹے میں گونج رہی تھی۔وہ اس بات سے بالکل انجان تھی کہ آذران اس بند کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا، اس کی ایک ایک ادا کو کتنی گہری اور دیوانی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ اس کی جھیل جیسی چمکتی آنکھوں میں عنایہ کے لیے غصہ یا خوف نہیں، بلکہ ایک جنون اور بے پناہ محبت تھی، جیسے وہ دنیا کی سب سے خوبصورت چیز کو دیکھ رہا ہو

تیز بارش میں مستی سے ناچتے اور گول گول گھومتے ہوئے عنایہ کا دھیان بالکل نہیں رہا کہ زمین اب گیلی اور پھسلن سے بھرپور ہو چکی ہے۔ اچانک اس کا پاؤں مٹی پر پھسلا اور وہ خود کو سنبھال نہ سکی۔ ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ عنایہ سیدھی نیچے زمین پر گر گئی۔"آہ!" اس کے حلق سے درد بھری چِیخ نکل گئی۔اس کا گھٹنا گارڈن میں پڑے ایک نوکیلے پتھر سے ٹکرا گیا تھا، جہاں سے اب ہلکا ہلکا خون بہنے لگا تھا۔ بارش کا پانی اس زخم پر لگ رہا تھا جس کی وجہ سے درد کی ایک تیز لہر اس کے پورے جسم میں دوڑ گئی۔ وہ اپنے گھٹنے کو پکڑ کر وہیں بیٹھ گئی، اور اس کی آنکھوں میں تکلیف اور بے بسی کے آنسو تیرنے لگے۔ اب وہ اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن چوٹ گہری ہونے کی وجہ سے اس سے پاؤں زمین پر نہیں رکھا جا رہا تھا۔عنایہ کو گرتا دیکھ کر آذران بے چین ہو کر اس کی طرف آنے لگا، لیکن اسی وقت اس بوڑھی عورت کی پراسرار آواز گونجی اور اس نے آذران کو روک دیا۔ عنایہ نے درد سے کراہتے ہوئے ہمت جمع کی اور کسی نہ کسی طرح لنگڑاتی ہوئی واپس گھر کے اندر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ وہ درد سے بے حال تھی اور کمرے میں ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ شاید کوئی پٹی یا مرہم مل جائے۔ اسی دوران اسے کمرے میں اچانک ایک عجیب سی گرمی کا احساس ہونے لگا، جیسے ہوا کا درجہ حرارت یکایک بڑھ گیا ہو۔اس نے دیوار کے ساتھ لگی بند کھڑکی کی طرف دیکھا۔ درد کی شدت اور گھبراہٹ میں وہ اس بات کو بالکل بھول چکی تھی کہ اس جن نے سختی سے تاکید کی تھی کہ اس کھڑکی کو کبھی مت کھولنا۔ وہ پٹی کی تلاش میں جیسے ہی اس کھڑکی کے قریب گئی، پورے کمرے کا ماحول ایک دم بدل گیا۔ سیکنڈوں میں شدید ٹھنڈ ہو گئی، اتنی سردی کہ عنایہ کا پورا جسم کانپنے لگا۔ اسی لمحے اسے اپنے بالکل پیچھے کسی کی موجودگی کا شدید احساس ہوا۔اس نے ڈرتے ڈرتے جیسے ہی پیچھے مڑ کر دیکھا، آذران وہاں کھڑا تھا۔ اس نے اپنا چہرہ کسی کپڑے یا دھند سے ڈھکا ہوا تھا، لیکن اس کی آنکھوں کا غصہ صاف نظر آ رہا تھا۔ اس نے گرجدار اور برہم آواز میں کہا: "بولا تھا نا میں نے۔۔۔ اسے مت کھولنا!"عنایہ نے درد کے مارے اپنا ایک ہاتھ اپنے زخمی گھٹنے پر رکھا ہوا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس نے روتے ہوئے گڑگڑا کر کہا: "مجھے جانے دو۔۔۔ میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ پلیز، خدا کے لیے مجھے یہاں سے جانے دو!"آذران نے اس کی بے بسی کو دیکھا اور دھیمی مگر پراسرار آواز میں کہا: "تم نے میرا کچھ نہیں بگاڑا، لیکن یہاں کسی کو تمہاری ضرورت ہے۔"عنایہ یہ سن کر بری طرح ڈر گئی کہ آخر اس سنسان گھر میں کس کو اس کی ضرورت ہو سکتی ہے؟ آذران نے آہستہ سے اس کی طرف اپنے قدم بڑھائے۔ خوف کے مارے عنایہ دو قدم پیچھے ہوئی، لیکن پشت پر مضبوط دیوار ہونے کی وجہ سے وہ مزید پیچھے نہ جا سکی۔ آذران نے جھک کر اپنا سرد ہاتھ عنایہ کی چوٹ پر رکھا۔ اگلے ہی لمحے، ایک جادوئی تپش کے ساتھ اس کا گہرا زخم اور درد بالکل غائب ہو گیا۔ یہ دیکھ کر عنایہ کو کوئی حیرانی نہیں ہوئی، کیونکہ وہ اب جان چکی تھی کہ وہ کسی انسان کے نہیں بلکہ ایک طاقتور جن کے قبضے میں ہے۔

عنایہ نے ہمت جمع کی، اپنی کانپتی ہوئی آواز کو سنبھالا اور سیدھا آذران کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا: "کس کو۔۔۔ کس کو ضرورت ہے میری اس سنسان گھر میں؟ میں تو یہاں بالکل اکیلی رہتی ہوں، میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ پھر یہاں کون ہے جسے میری ضرورت ہے؟"عنایہ کے اس سوال پر آذران نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کمرے کی برفانی سردی میں جیسے ہر چیز ساکت ہو گئی۔ اس نے اپنے ڈھکے ہوئے چہرے کے پیچھے سے بس ایک گہری اور سحر انگیز نظر عنایہ کی جھیل جیسی آنکھوں میں ڈالی۔ اس کی ان آنکھوں میں ایک ایسا پُراسرار جنون اور کھنچاؤ تھا کہ عنایہ چاہ کر بھی اپنی نظریں ہٹا نہ سکی۔ ابھی وہ اس کی نظروں کا مطلب سمجھنے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ اگلے ہی پل، آذران دھویں کی مانند ہوا میں لہرایا اور دیکھتے ہی دیکھتے عنایہ کی آنکھوں کے سامنے سے غائب ہو گیا، جیسے وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔کمرے میں اب صرف ایک گہرا سناٹا تھا اور صندل کی وہ پُراسرار خوشبو، جو آذران کے جانے کے بعد بھی ہوا میں رچی ہوئی تھی۔عنایہ وہیں دیوار کا سہارا لیے فرش پر بیٹھ گئی۔ اس کا ذہن اب سوالوں کا سمندر بن چکا تھا اور وہ گہری سوچوں میں ڈوب گئی۔"اس نے میری مدد کیوں کی؟" اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے پوچھا۔ "جب میں گارڈن میں گری، مجھے چوٹ لگی، تو اس نے اپنا جادوئی ہاتھ رکھ کر میرا گہرا زخم ایک سیکنڈ میں کیسے ٹھیک کر دیا؟ کیا وہ میرا کچھ لگتا ہے؟ کیا اس کا مجھ سے کوئی پرانا رشتہ ہے، یا پھر۔۔۔ یا پھر وہ مجھ سے کچھ بہت بڑی چیز چاہتا ہے؟"عنایہ کے جسم میں خوف کی ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ اس نے اپنے ٹھیک ہو جانے والے گھٹنے کو دیکھا اور اس کا دل بری طرح گھبرانے لگا۔"نہیں! جو بھی ہے، یہ بہت برا ہو رہا ہے،" اس نے جھرجھری لیتے ہوئے سوچا۔ "ایک جن کا یوں میرے آس پاس ہونا، مجھ پر نظر رکھنا اور میری کھڑکی پر لکھنا۔۔۔ یہ کسی بڑی تباہی کا اشارہ ہے۔ میں یہاں مزید ایک پل بھی نہیں رک سکتی۔ مجھے یہاں سے جانا ہو گا۔۔۔ کسی بھی طرح، ہر حال میں مجھے یہ سنسان گھر چھوڑ کر بھاگنا ہوگا!"

قسط نمبر 4

عنایہ کو اپنے کمرے میں خوف اور الجھن کے سمندر میں چھوڑ کر، آذران وہاں سے غائب ہو کر سیدھا اس بند کمرے میں پہنچا جہاں وہ پراسرار عورت موجود تھی۔ وہ عورت کوئی عام ہستی نہیں، بلکہ آذران کی اپنی سگی بیوی تھی! وہ جنات کی دنیا سے تعلق رکھتی تھی، لیکن اب ایک بوڑھی اور جھرجھریوں زدہ خاتون کا روپ دھار چکی تھی۔ اس کے اس حال کے پیچھے ایک بھیانک گناہ تھا؛ سالوں پہلے اس نے ایک سچے اور پرہیزگار نماز پڑھنے والے بزرگ کا سرِعام مذاق اڑایا تھا اور ان کی عبادت کی توہین کی تھی۔ اس بزرگ نے اسے بددعا دیتے ہوئے کہا تھا: "تو بھلے ہی ایک طاقتور جن ہے، لیکن اللہ تجھے اس گناہ پر کبھی معاف نہیں کرے گا!" اس سچی بددعا کے اثر سے اس کی ساری جادوئی خوبصورتی چھن گئی اور وہ وقت سے پہلے ایک بدصورت بوڑھی عورت میں تبدیل ہو گئی۔اپنی کھوئی ہوئی جوانی کو واپس پانے کے لیے وہ دونوں صدیوں سے ایک بھیانک جادو کی تیاری کر رہے تھے، جس کے لیے انہیں ایک ایسے انسان کی تلاش تھی جو اس دنیا میں بالکل اکیلا ہو، جس کا آگے پیچھے کوئی نہ ہو تاکہ اس کے غائب ہونے پر کوئی شور نہ مچے۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ انسان کوئی اور نہیں بلکہ عنایہ ہی تھی۔ وہ بوڑھی جن زادی عنایہ کو بے دردی سے مار کر، اس کے پاک اور معصوم خون میں کچھ شیطانی جادوئی اجزاء ملا کر پینا چاہتی تھی، تاکہ وہ دوبارہ ہمیشہ کے لیے جوان اور خوبصورت ہو جائے اور آذران کی پسندیدہ بیوی بن کر رہ سکے۔سسپنس کی سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ اس دن جب عنایہ نے چھپ کر اس بند کمرے کے باہر ان دونوں کی گفتگو سنی تھی، جہاں آذران نے کہا تھا کہ "وہ لڑکی اب میری ہے"، تو وہ کوئی اتفاق نہیں تھا! وہ آذران اور اس کی بیوی کی ایک سوچی سمجھی بھیانک چال تھی۔ وہ دونوں اچھی طرح جانتے تھے کہ عنایہ کچن میں موجود ہے اور وہ ان کی باتیں ضرور سنے گی۔ وہ جان بوجھ کر عنایہ کے دل میں محبت اور ہمدردی کا جھوٹا احساس پیدا کر رہے تھے تاکہ وہ خوفزدہ ہو کر گھر سے بھاگنے کے بجائے اسی جال میں پھنسی رہے، جبکہ پسِ پردہ اس کی موت کا کھیل تیار ہو چکا تھا۔وہ دونوں چاہتے تو عنایہ کو کسی بھی وقت آسانی سے مار سکتے تھے، لیکن جنات کی اس برادری کا ایک سخت اور اٹل قانون تھا۔ اس قانون کے مطابق، جب تک کوئی انسان ان پر مکمل یقین نہ کر لے یا ان کی محبت میں گرفتار نہ ہو جائے، وہ اسے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے تھے اور نہ ہی اس کی جان لے سکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آذران عنایہ کے قریب آ کر اس کے دل میں اپنے لیے بھروسا اور رومانوی سحر پیدا کر رہا تھا۔آذران کی اس بوڑھی اور مکار بیوی کا نام "زاغورہ" تھا۔ زاغورہ اپنی جوانی اور حسن کو واپس پانے کے لیے اس قدر اندھی ہو چکی تھی کہ اسے اس بات کا اندازہ تک نہیں تھا کہ کھیل اب بدل چکا ہے۔ وہ جس آذران کو اپنا مہرہ سمجھ رہی تھی، وہ اب اس کا رہنے ہی نہیں والا تھا! عنایہ کی معصومیت اور خوبصورتی نے آذران کے پتھر جیسے دل کو پگھلا دیا تھا اور وہ سچ مچ اس انسان یعنی عنایہ سے سچی محبت کر بیٹھا تھا۔آذران دل ہی دل میں عنایہ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا تھا، لیکن وہ صدیوں پرانے قانون اور اپنی بیوی زاغورہ کے خوف کے آگے مجبور تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ زاغورہ ایک انتہائی سفاک اور حاسد جن زادی ہے۔ اگر اسے ذرا سا بھی پتہ چل گیا کہ آذران ایک معمولی انسان یعنی عنایہ کے عشق میں مبتلا ہو چکا ہے، تو وہ ایک پل کی بھی تاخیر کیے بغیر عنایہ کو اپنے جادو سے تڑپا تڑپا کر مار دے گی۔ آذران اب ایک ایسی آگ میں جل رہا تھا جہاں اسے ایک طرف اپنی بیوی کا بھیانک راز چھپانا تھا اور دوسری طرف اپنی محبت یعنی عنایہ کی جان بچانی تھی۔کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک رات زاغورہ نے آذران کو اپنے پاس بلایا۔ اسے جنات کی برادری میں کسی اہم کام سے کچھ دنوں کے لیے واپس اپنی دنیا میں جانا تھا۔ وہ روانہ ہونے سے پہلے آذران کی آنکھوں میں جھانک کر سرد لہجے میں بولی، "میں جا رہی ہوں، لیکن یاد رہے۔۔۔ اس لڑکی پر کڑی نظر رکھنا۔ اس کا یقین اور محبت جیتنے کا عمل رکنا نہیں چاہیے۔ میرے آنے تک وہ ہمارے جادو کے لیے پوری طرح تیار ہونی چاہیے۔"آذران نے خاموشی سے سر ہلا دیا، اور زاغورہ ایک بھیانک مسکراہٹ کے ساتھ وہاں سے غائب ہو گئی۔ لیکن وہ مکار جن زادی اس بات سے بالکل انجان تھی کہ وہ اپنی برادری کے پاس جا کر اصل میں آذران کو ایک بہت بڑا موقع دے رہی تھی۔ وہ موقع جس کا آذران دل ہی دل میں کب سے خواہش مند تھا—عنایہ کے اور قریب جانے کا موقع۔زاغورہ کے جاتے ہی گھر کا وہ بھاری اور خوفناک دباؤ جیسے کم ہو گیا۔ اب آذران بالکل آزاد تھا کہ وہ بغیر کسی خوف کے عنایہ کے سامنے آ سکے، اس کی حفاظت کر سکے اور اس معصوم لڑکی کے دل میں اپنے لیے محبت کو مزید گہرا کر سکے۔ وہ اب زاغورہ کے شیطانی منصوبے کو ناکام بنانے اور عنایہ کو بچانے کی خفیہ تدبیریں سوچنے لگا تھا۔گھر کی پُراسرار صورتحال اور مسلسل خوف نے عنایہ کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ سارا دن بس یہی سوچتی رہتی کہ اس سنسان گھر سے کیسے بھاگے، اور اسی سوچ سوچ میں اس نے اپنا برا حال کر لیا تھا۔ اکیلے پن کا دکھ اور دماغی دباؤ اتنا بڑھا کہ اسے سخت بخار ہو گیا۔ اس کا پورا جسم آگ کی طرح تپ رہا تھا، مگر اس بڑے گھر میں کوئی ایک انسان بھی ایسا نہیں تھا جو اسے پانی کا ایک گھونٹ ہی پلا دیتا یا اس کی دیکھ بھال کرتا۔شام کے وقت، کمرے میں گہرا اندھیرا پھیل چکا تھا اور عنایہ تیز بخار کی شدت سے مدہوشی کی حالت میں بستر پر نیم بے ہوش پڑی تھی۔ اسی لمحے، کمرے کی ہوا میں صندل کی وہی جانی پہچانی خوشبو ابھری اور آذران خاموشی سے اس کے بستر کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ عنایہ کی یہ حالت دیکھ کر اس کے پتھر جیسے دل میں ایک شدید تڑپ اٹھی۔ اس نے بہت نرمی سے ایک کپڑا ٹھنڈے پانی میں بھگویا اور عنایہ کے تپتے ہوئے ماتھے پر پٹیاں رکھنا شروع کر دیں۔ آذران بغیر ایک پل نظر ہٹائے، پوری رات اس کے سرہانے بیٹھا رہا، کبھی اس کا ہاتھ تھامتا تو کبھی جادوئی لمس سے اس کے بخار کی تپش کو کم کرنے کی کوشش کرتا۔اگلی صبح جب عنایہ کو ہلکا سا ہوش آیا، تو اس نے بھاری پلکیں کھولیں۔ اپنے بالکل قریب آذران کو بیٹھا دیکھ کر خوف کی ایک لہر اس کے پورے وجود میں دوڑ گئی اور وہ ڈر کے مارے فوراً پیچھے ہٹ کر بستر کے دوسرے کونے میں ہو گئی۔عنایہ کو یوں خوفزدہ دیکھ کر آذران کی آنکھوں میں ایک گہرا درد ابھرا۔ اس نے اپنے ہاتھ پیچھے کیے اور انتہائی نرم، مخملی اور تسلی بخش آواز میں کہا: "ڈرو مت، عنایہ۔۔۔ مجھ سے مت ڈرو۔ میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا، اور نہ ہی کبھی کوئی نقصان پہنچاؤں گا۔"عنایہ کی آنکھوں سے انسو بہنے لگے، اس نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر گڑگڑاتے ہوئے کہا: "مجھ جانے دو۔۔۔ پلیز مجھے یہاں سے جانے دو، میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔"عنایہ کی اس بے بسی اور التجا پر آذران نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے پُرکشش چہرے پر ایک گہری خاموشی چھا گئی، جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہو مگر اس کے لب سائل ہو گئے ہوں۔ اس نے بس ایک گہری نظر عنایہ کے کمزور وجود پر ڈالی۔ پھر اس نے ہوا میں آہستہ سے اپنا ہاتھ لہرایا، اور اگلے ہی پل، ایک جادوئی چمک کے ساتھ بستر کے پاس رکھی میز پر لذیذ اور گرما گرم کھانوں سے بھری ایک خوبصورت ٹرے نمودار ہو گئی۔ کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو سے پورا کمرہ مہک اٹھا۔آذران نے وہ ٹرے عنایہ کے قریب کی اور انتہائی دھیمے اور محبت بھرے لہجے میں کہا: "پہلے یہ کھا لو۔ تم رات سے بھوکی ہو اور تمہارا جسم بخار کی وجہ سے بہت کمزور ہو چکا ہے۔"عنایہ نے خوف اور حیرت سے کبھی اس کھانے کو دیکھا تو کبھی آذران کی ان پُراسرار آنکھوں کو، جو اس وقت کسی ظالم جن کی نہیں، بلکہ ایک سچے ہمدرد کی لگ رہی تھیں۔عنایہ نے آذران کے کہنے پر کھانا کھا لیا اور خاموشی سے اس پُرکشش وجود کی طرف دیکھنے لگی جو اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا۔ اتنے میں باہر ایک بار پھر گہرے کتبے جیسے کالے بادل چھانے لگے اور تیز بارش شروع ہو گئی۔ کمرے میں پھیلی خاموشی کے دوران عنایہ کی نظر ایک بار پھر اسی بند کھڑکی پر پڑی۔اپنے تجسس پر قابو نہ پاتے ہوئے اس نے آذران سے پوچھا: "اس کھڑکی کا کیا راز ہے؟ تم نے مجھے اسے کھولنے سے کیوں منع کیا ہے؟"عنایہ کے اس سوال پر آذران نے پہلے تو کوئی جواب نہیں دیا، لیکن جب عنایہ نے اسے غور سے دیکھا تو آذران کا لہجہ اچانک سخت ہو گیا اور اس نے برہمی سے کہا: "مجھ سے زیادہ سوال نہ کیا کرو، لڑکی!"ابھی عنایہ اس کی اس ڈانٹ پر سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ اتنے میں باہر گارڈن سے کسی بھاری چیز کے زور سے گرنے اور ٹوٹنے کی آواز آئی۔ سنسان گھر کے سناٹے میں وہ آواز اتنی ہولناک تھی کہ عنایہ بری طرح ڈر گئی اور اس کے منہ سے نکلا: "یہ۔۔۔ یہ باہر کیا گرا ہے؟"عنایہ تو خوفزدہ تھی، لیکن آذران کو سب معلوم تھا۔ اسے اپنی جادوئی حس سے پتہ چل چکا تھا کہ باہر تیز بارش ہونے کی وجہ سے ایک لڑکا اور لڑکی گارڈن میں تھوڑی دیر کے لیے پناہ لینے آئے ہیں، اور وہ اس بات سے بالکل انجان ہیں کہ اس سنسان اور ویران گھر کے اندر کوئی رہتا بھی ہے یا نہیں۔

قسط نمبر 5

عنایہ کو خوفزدہ دیکھ کر آذران نے اپنی آواز کو نارمل کرنے کی کوشش کی اور الٹے سیدھے بہانے بناتے ہوئے کہا: "کچھ نہیں ہوا، باہر بہت تیز بارش اور ہوا چل رہی ہے، اسی وجہ سے شاید گارڈن میں رکھی کوئی پرانی چیز یا درخت کا کوئی بڑا حصہ نیچے گرا ہے۔ تم پریشان مت ہو اور یہیں بیٹھو۔"لیکن عنایہ کو آذران کی اس بات پر بالکل یقین نہیں آیا۔ اس کا دل کہہ رہا تھا کہ باہر کچھ ایسا ہے جسے آذران اس سے چھپانا چاہتا ہے۔ وہ بخار کی کمزوری کے باوجود ہمت کر کے بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی اور تیز قدموں سے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھنے لگی تاکہ باہر جا کر خود دیکھ سکے۔عنایہ کو یوں باہر جاتے دیکھ کر آذران کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات ابھر آئے۔ اس نے فوراً جادوئی رفتار سے عنایہ کا راستہ روکا اور اسے باہر جانے سے صاف انکار کر دیا۔ آذران دل ہی دل میں بہت اچھے سے جانتا تھا کہ باہر کوئی جاندار چیز نہیں بلکہ ایک لڑکا اور لڑکی موجود ہیں۔ اسے سب سے بڑا ڈر یہ تھا کہ اگر عنایہ نے ان انسانوں کو دیکھ لیا، تو وہ اس سنسان قید خانے اور خوف سے نجات پانے کے لیے ان کے ساتھ جانے کی ضد کرے گی، اور آذران کسی بھی قیمت پر اپنی محبت یعنی عنایہ کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتا تھا۔باہر بارش اور تیز ہوتی جا رہی تھی، اسی دوران وہ لڑکا اور لڑکی گارڈن سے ہوتے ہوئے پناہ ڈھونڈتے ہوئے اس پرانے گھر کے برآمدے سے اندر مرکزی ہال میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ان کے جوتوں اور باتوں کی آوازیں اب عنایہ کے کمرے تک صاف آ رہی تھیں۔وہ دونوں ہال میں کھڑے اپنے کپڑے جھٹک رہے تھے اور آپس میں باتیں کرنے لگے۔ لڑکی نے پریشانی سے کہا، "اف ہو! یہ بارش کب رکے گی؟ ہمیں بہت دیر ہو جائے گی، اب کیا ہوگا؟"لڑکے نے شرارت سے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "اچھا ہے نا، کیوں پریشان ہو رہی ہو؟ دیکھو کتنا پیارا اور رومانوی موسم ہے ہم دونوں کے لیے!"لڑکی نے اسے گھورتے ہوئے تھوڑا چڑ کر کہا، "پلیز یار! مذاق مت کرو، مجھے جلدی گھر جانا ہے، ورنہ سب پریشان ہوں گے۔"کمرے کے اندر بند عنایہ جب ان دونوں انسانوں کی آوازیں سنتی ہے، تو اس کا اداس چہرہ خوشی سے کھل اٹھتا ہے۔ اس بڑے اور خوفناک قید خانے میں اتنے دنوں بعد کسی انسان کی آواز سن کر اس کے مرجھائے ہوئے دل میں ایک نئی امید پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ اب یہاں سے آزاد ہو سکتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں چمک آ جاتی ہے اور وہ پلٹ کر آذران کی طرف دیکھتی ہے۔اس بار اس کی آواز میں خوف نہیں بلکہ ایک عجیب سی ضد اور حوصلہ تھا۔ وہ آذران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتی ہے: "اب میں یہاں ایک پل بھی نہیں رہوں گی! اور تم۔۔۔ تم نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا نا کہ باہر کوئی پرانی چیز گری ہے؟ وہاں باہر لوگ موجود ہیں، میں ان کے ساتھ چلی جاؤں گی!"عنایہ جیسے ہی باہر بھاگنے کے لیے مڑی، آذران کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بے چینی اور غصہ ابھرا۔ وہ اسے کسی بھی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا تھا اور نہ ہی زاغورہ کے غضب کا شکار بنانا چاہتا تھا۔ اس سے پہلے کہ عنایہ کمرے کا دروازہ کھول کر ہال میں موجود اس لڑکے اور لڑکی کے پاس پہنچتی، آذران جادوئی رفتار سے اس کے بالکل سامنے آگیا۔"تمہیں مجھ سے دور جانے کی اجازت نہیں ہے، عنایہ!" آذران نے انتہائی دھیمی مگر گرجدار آواز میں کہا۔عنایہ نے خوف اور غصے سے اسے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی، لیکن آذران نے ہوا میں اپنا دھیما سا ہاتھ لہرایا۔ اس کی انگلیوں سے صندل کی خوشبو والا ایک دھندلا سا جادوئی دھواں نکلا جو عنایہ کے چہرے کے گرد پھیل گیا۔ عنایہ کو لگا جیسے اس کا سر چکرا رہا ہے اور اس کی بھاری پلکیں خود بخود بند ہونے لگی ہیں۔"تم۔۔۔ تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔" عنایہ نے لڑکھڑاتی آواز میں آخری جملہ بولا اور وہیں نڈھال ہو کر نیچے گرنے لگی۔آذران نے آگے بڑھ کر اسے زمین پر گرنے سے پہلے ہی اپنی مضبوط بانہوں میں تھام لیا۔ اس نے بے ہوش عنایہ کو بہت نرمی سے اٹھایا اور لے جا کر بستر پر لیٹا دیا۔ اس کی معصوم اور سوئی ہوئی صورت کو دیکھ کر آذران کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی۔ اس نے عنایہ کے ماتھے سے زلفوں کو ہٹایا اور سرگوشی کی، "مجھے معاف کر دینا لڑکی، لیکن تمہیں بچانے اور اپنے پاس رکھنے کا میرے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔"باہر ہال میں اب بھی اس لڑکے اور لڑکی کے ہنسنے اور باتیں کرنے کی آوازیں آ رہی تھیں، جبکہ آذران کمرے کا دروازہ جادو سے مقفل کر کے عنایہ کے سرہانے بیٹھ کر گہری سوچوں میں گم ہو گیا۔عنایہ کو جب ہوش آیا، تو کمرے میں گہرا سناٹا تھا اور باہر بارش بھی تھم چکی تھی۔ اس نے جھٹکے سے اٹھ کر کمرے کے دروازے اور کھڑکی کی طرف دیکھا، مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ وہ لڑکا اور لڑکی کب کے جا چکے تھے اور ان کے ساتھ ہی عنایہ کی آزادی کی آخری امید بھی ختم ہو چکی تھی۔عنایہ کے دل میں اب خوف سے زیادہ آذران کے لیے ایک شدید نفرت اور غصے کی لہر جاگ اٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں سے بے بسی کے آنسو بہہ نکلے، مگر اس بار وہ رو نہیں رہی تھی بلکہ اس کا خون ابل رہا تھا۔ وہ اس پُرکشش لیکن ظالم جن سے نفرت کرنے لگی تھی، جس نے اس سے جینے کا حق اور اس کی آزادی چھین لی تھی۔اسی لمحے کمرے کے اندھیرے کونے سے صندل کی خوشبو ابھری اور آذران خاموشی سے نمودار ہو گیا۔ اس کے چہرے پر پچھتاوا اور نرمی تھی، لیکن عنایہ نے جیسے ہی اسے دیکھا، وہ غصے سے چِلا اٹھی: "دور رہو مجھ سے! مجھے تمہاری کسی بات پر یقین نہیں ہے۔ تم ایک جابر جن ہو اور میں تم سے سخت نفرت کرتی ہوں! تم نے مجھے دھوکا دیا ہے!"آذران نے اس کی نفرت بھری آنکھوں کو دیکھا، تو اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا، وہ بتانا چاہتا تھا کہ اس نے عنایہ کو زاغورہ کے بھیانک قانون سے بچانے کے لیے بے ہوش کیا تھا، کیونکہ اگر وہ باہر جاتی تو ماری جاتی۔ لیکن وہ خاموش رہا، کیونکہ محبت کی جگہ اب عنایہ کی آنکھوں میں صرف اور صرف نفرت دیکھ کر وہ اندر سے ٹوٹ گیا تھا۔آذران کی خاموشی عنایہ کے غصے کو مزید بڑھا رہی تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ آذران اس کی کسی بات کا جواب نہیں دے رہا اور بس اسے گہری نظروں سے دیکھے جا رہا ہے، تو عنایہ کا حوصلہ ٹوٹ گیا۔ وہ وہیں بیڈ پر بیٹھ کر اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس کی سسکیاں کمرے کے گہرے سناٹے میں گونجنے لگیں۔ وہ اپنی بے بسی اور اس ویران قید خانے کی قسمت پر خون کے آنسو رو رہی تھی۔عنایہ کو یوں زار و قطار روتا دیکھ کر آذران کا دل تڑپ اٹھا۔ وہ اس کی تکلیف برداشت نہیں کر پا رہا تھا، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس وقت اس کا عنایہ کے سامنے رہنا اس کے غصے کو مزید بڑھا دے گا۔ آذران نے ایک آخری درد بھری نظر عنایہ کے روتے ہوئے وجود پر ڈالی، اور پھر بغیر کچھ کہے، صندل کی خوشبو کے ساتھ ہوا میں لہرایا اور وہاں سے خاموشی سے غائب ہو گیا۔کمرے میں اب صرف عنایہ کے رونے کی آواز تھی اور وہ اکیلی اپنے خوفناک مستقبل کے بارے میں سوچ کر کانپ رہی تھی

قسط نمبر 6

باہر رات کا گہرا اندھیرا چھا چکا تھا اور عنایہ روتے روتے اسی طرح بیڈ پر نڈھال ہو کر سو گئی تھی۔ لیکن رات کے کسی آخری پہر، اچانک آسمان پر بادلوں کے گرجنے کی ایک ہولناک اور کانپتی ہوئی آواز گونجی۔ اس تیز کڑک کو سن کر عنایہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ خوف کے مارے اس کا سانس پھول رہا تھا، مگر جیسے ہی اس نے اپنے آس پاس دیکھا، اس کے ہوش اڑ گئے۔وہ اپنے کمرے میں نہیں تھی!عنایہ شدید حیران اور شش و پنچ میں مبتلا ہو کر چاروں طرف دیکھنے لگی۔ وہ بستر جس پر وہ سوئی تھی، اب غائب ہو چکا تھا اور وہ زمین پر لیٹی ہوئی تھی۔ وہاں نہ تو اس کے کمرے کی دیواریں تھیں اور نہ ہی وہ جانی پہچانی بند کھڑکی۔ ہر طرف ایک عجیب سا پُراسرار اندھیرا اور دھند پھیلی ہوئی تھی۔ عنایہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کون سی جگہ ہے اور وہ یہاں کیسے آ گئی؟خوف کے مارے اس کا دل ڈوبنے لگا۔ اس سنسان اور اجنبی جگہ پر اس نے گھبرا کر آذران کو پکارنا شروع کر دیا: "آذران! آذران! تم کہاں ہو؟"عنایہ کی آواز جیسے ہی ہوا میں گونجی، صندل کی وہی جانی پہچانی خوشبو دھند کے پیچھے سے ابھری اور آذران خاموشی سے اس کے سامنے نمودار ہو گیا۔ عنایہ نے جیسے ہی اسے دیکھا، وہ تڑپ کر کھڑی ہوئی اور سیدھا اس کے قریب جا کر غصے اور خوف کے ملے جلے لہجے میں پوچھنے لگی: "یہ کون سی جگہ ہے آذران؟ تم مجھے اپنے ساتھ کہاں لے کر آئے ہو؟ مجھے سچ سچ بتاؤ!"عنایہ کے گھبرائے ہوئے سوال پر آذران نے چند لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھا، پھر اس کی آواز میں ایک گہرا اور سچا احساس ابھرا۔ اس نے انتہائی نرمی سے کہا: "مجھ سے مت ڈرو عنایہ۔ مجھے تم سے پیار ہو گیا ہے اور میں تمہیں اس سنسان گھر سے دور ایک دوسری محفوظ جگہ پر لے آیا ہوں۔ یہاں تمہیں کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔"عنایہ ابھی اس کے اس اچانک اعترافِ محبت پر حیران کھڑی تھی کہ آذران نے ہوا میں اپنا ہاتھ لہرایا۔ اگلے ہی پل، ایک جادوئی چمک کے ساتھ اس خوبصورت وادی میں لکڑی کا ایک چھوٹا اور پیارا سا گھر نمودار ہو گیا۔ آذران نے اس گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "اب سے تم یہیں رہو گی، یہاں کوئی تم تک نہیں پہنچ سکتا۔"عنایہ ابھی کچھ بولنے ہی والی تھی کہ اچانک آذران کا چہرہ سخت ہو گیا اور اس کے کانوں میں جادوئی لہروں کے ذریعے اس کی بیوی زاغورہ کی غصے سے بھری آوازیں گونجنے لگیں۔ اس سے پہلے کہ عنایہ کوئی جواب دیتی، آذران ایک جھٹکے میں وہاں سے غائب ہو گیا اور واپس اسی پرانے سنسان گھر کے بند کمرے میں پہنچ گیا۔وہاں زاغورہ غصے سے پاگل ہو رہی تھی اور کمرے کی چیزیں توڑ رہی تھی۔ آذران کو دیکھتے ہی وہ اس پر چِلا اٹھی: "وہ لڑکی کہاں ہے؟ میں نے تم سے بولا تھا نہ کہ اس پر کڑی نظر رکھنا! وہ اپنے کمرے میں نہیں ہے!"لیکن زاغورہ اس بات سے بالکل انجان تھی کہ آذران اب اس انسان یعنی عنایہ کے عشق میں اس حد تک مبتلا ہو چکا تھا کہ اب اسے جنات کے کسی قانون یا اپنی مکار بیوی کا کوئی خوف نہیں تھا۔ آذران نے زاغورہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور بغیر کسی ڈر کے جھوٹ بولتے ہوئے سرد لہجے میں کہا: "وہ لڑکی یہاں سے چلی گئی ہے، اور مجھے نہیں پتا کہ وہ کہاں گئی ہے!"آذران کا یہ کورا جواب سن کر زاغورہ ایک پل کے لیے بالکل ساکت ہو گئی۔ اس کی بوڑھی، پُر ہول آنکھیں سکڑ گئیں اور اس نے آذران کے چہرے کو بہت غور سے دیکھا۔ اسے آذران کے لہجے کی اس بے باکی اور سرد مہر پر سخت شک ہوا، کیونکہ اس سے پہلے آذران نے کبھی اس طرح اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کی تھی۔ زاغورہ کا مکار ذہن بھانپ گیا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے اور آذران کچھ بہت بڑا چھپا رہا ہے۔لیکن وہ ایک شاطر جن زادی تھی، اس نے اپنے چہرے پر شک کے تاثرات کو فوری طور پر چھپا لیا اور آذران سے کچھ نہیں بولی۔ وہ غصے سے پیر پٹختی ہوئی اس بند کمرے کے اندھیرے کونے کی طرف بڑھ گئی، مگر دل ہی دل میں اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ خاموشی سے آذران کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے گی تاکہ اس لڑکی کا سراغ لگا سکے۔دوسری طرف، لکڑی کے اس نئے اور چھوٹے سے جادوئی گھر میں عنایہ بالکل اکیلی کھڑی تھی۔ وہ اب بھی آذران کے منہ سے سنے الفاظ "مجھے تم سے پیار ہو گیا ہے" کے سحر اور خوف کے مابین جھول رہی تھی۔ اب اس ویران مگر پرسکون جگہ پر اکیلے بیٹھے ہوئے، اس کے دل میں آذران کے لیے ایک عجیب سی کشش اور نرمی کا احساس چپکے سے جنم لے رہا تھا، کیونکہ وہی تو تھا جو اسے اس مکار بوڑھی عورت کے بھیانک منصوبے سے بچا کر یہاں لایا تھا۔عنایہ نے گہری سانس لی اور اس چھوٹے سے لکڑی کے گھر کا پرانا سا دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہو گئی۔ جیسے ہی وہ اندر گئی، اس کے نتھنوں سے صندل اور چمبیلی کی مکس خوشبو ٹکرائی۔ گھر اندر سے انتہائی خوبصورت، صاف ستھرا اور پرسکون تھا۔ وہاں کی ہر چیز میں آذران کے جادو کا ایک ریشمی اور مخملی لمس صاف محسوس ہو رہا تھا۔وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی ہوئی چیزوں کو دیکھنے لگی۔ ہال کے بیچوں بیچ لکڑی کا ایک بستر تھا جس پر سفید رنگ کی نرم چادر بچھی ہوئی تھی، جو بالکل عنایہ کے اپنے پرانے کمرے جیسی تھی۔ دیواروں پر لال گلاب کی جادوئی بیلیں لگی ہوئی تھیں جن کے پتے اور پھول اس اندھیرے میں بھی ہلکا ہلکا چمک رہے تھے۔ میز پر مٹی کے خوبصورت برتنوں میں تازہ پھل اور میٹھے پانی کا ایک جگ رکھا ہوا تھا، جس کی ٹھنڈک باہر تک محسوس ہو رہی تھی۔عنایہ کی نظر کونے میں رکھی ایک چھوٹی میز پر پڑی، جہاں لکڑی کا ایک پُرکشش ڈبہ موجود تھا۔ تجسس کے مارے اس نے آگے بڑھ کر جیسے ہی اس ڈبے کو کھولا، اس کے اندر سے ایک تیز نیلی روشنی نکلی۔ ڈبے کے اندر وہی کالا پتھر چمک رہا تھا جو اس نے پہلی رات اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس دیکھا تھا، لیکن اب اس پتھر پر سُرخ روشنائی سے ایک نیا لفظ لکھا ہوا تھا: "حفاظت"۔یہ سب دیکھ کر عنایہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ سمجھ گئی کہ آذران نے اس کے آرام اور پسند کی ایک ایک چیز کا خیال رکھا ہے۔ اس ویران کائنات میں جہاں وہ ہمیشہ اکیلی تھی، آج ایک جن نے اس کے لیے یہ چھوٹی سی محفوظ دنیا بنا دی تھی۔ اس کے دل میں آذران کے لیے موجود نفرت اب تیزی سے پگھل رہی تھی اور اس کی جگہ ایک عجیب سی مٹھی بھر محبت لے رہی تھی۔عنایہ اس ڈبے کو بند کر کے بیڈ پر بیٹھ گئی اور اس منفرد گھر کو مزید غور سے دیکھنے لگی۔ یہ گھر جادو سے بنا ضرور تھا، لیکن اس میں کسی جادوئی قید خانے جیسا کوئی خوف نہیں تھا، بلکہ ایک سچے انسان کے گھر جیسی اپنائیت اور سکون تھا۔ لکڑی کی دیواروں سے اٹھنے والی دھیمی دھیمی مہک عنایہ کے تھکے ہوئے ذہن کو پرسکون کر رہی تھی۔کھڑکی سے باہر دیکھا تو وہاں کا نظارہ بھی حیران کن تھا۔ باہر نہ تو وہ پرانا سنسان باغ تھا اور نہ ہی کوئی ڈراؤنا منظر۔ وہاں بس ایک دلفریب دھند چھائی ہوئی تھی جس میں سے رنگ برنگے چمکتے ہوئے جگنو اڑتے نظر آ رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے آذران نے عنایہ کو دنیا کے سارے دکھوں، خوف اور اس کی بیوی زاغورہ کی بھیانک نظروں سے چھپانے کے لیے کائنات کے کسی ایسے خفیہ کونے میں لا رکھا ہے جہاں وقت بھی تھم گیا ہو۔عنایہ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنے پر رکھے، جہاں آذران کے لمس سے زخم ٹھیک ہوا تھا، اور گہری سوچ میں ڈوب گئی۔ وہ بچپن سے اکیلی تھی، اس نے کبھی کسی کی محبت یا پرواہ کا ایسا احساس نہیں پایا تھا۔ اس کا دل اب ایک عجیب کشمکش میں تھا؛ وہ جانتی تھی کہ آذران ایک جن ہے، لیکن اس جن نے اس کے آرام کے لیے، اس کی بھوک کے لیے اور اس کی جان بچانے کے لیے جو کچھ کیا تھا، وہ کوئی انسان بھی نہیں کر سکتا تھا۔ عنایہ کو پہلی بار اس تنہائی میں خود پر ایک عجیب سا مان محسوس ہونے لگا کہ کوئی ہے—چاہے وہ دوسری دنیا کا ہی کیوں نہ ہو—جو اس کی ایک مسکراہٹ کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال رہا ہے۔

قسط نمبر 7

عنایہ بیڈ سے اٹھی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ہال کے آخری کونے کی طرف گئی، جہاں دیوار کے ساتھ لکڑی کے خوبصورت فریم میں جڑا ایک بڑا سا پرانا آئینہ لٹک رہا تھا۔ یہ کوئی عام آئینہ نہیں تھا، کیونکہ اس پر جمی دھند خود بخود صاف ہو رہی تھی اور اس کے اندر سے ہلکی نیلی روشنی چھن کر باہر آ رہی تھی۔ تجسس کے مارے عنایہ نے جیسے ہی اپنا ہاتھ اس آئینے کے قریب کیا، اس کا دل دھک سے رہ گیا۔آئینے کے اندر اس کا اپنا عکس نظر آنے کے بجائے، اسی پرانے سنسان گھر کا وہ بند کمرہ دکھائی دینے لگا جہاں وہ پہلے قید تھی۔ آئینے کے جادوئی منظر میں عنایہ صاف دیکھ سکتی تھی کہ آذران کی مکار بیوی زاغورہ غصے سے پاگل ہو کر پورے کمرے میں چکر کاٹ رہی ہے۔ اس کا بھیانک اور جھرجھریوں زدہ چہرہ غیظ و غضب سے کانپ رہا تھا اور وہ اپنے کالے جادو کے زور سے ہوا میں سُرخ لکیریں کھینچ کر عنایہ کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی تھی۔عنایہ نے دیکھا کہ آذران دور کھڑا بالکل خاموش ہے اور اس کی آنکھوں میں زاغورہ کے لیے شدید نفرت ہے۔ آئینے کے ذریعے اسے زاغورہ کی غراہٹ بھی دھیمی دھیمی سنائی دی، جو کہہ رہی تھی: "آذران! تم مجھ سے جتنا چاہو جھوٹ بول لو، لیکن میں اس انسان کی بو پا کر رہوں گی اور اسے مار کر اس کا خون پیوں گی!"یہ بھیانک منظر دیکھ کر عنایہ کا پورا جسم کانپ اٹھا۔ اسے اب سچ مچ آذران کی فکر ہونے لگی تھی کہ وہ اس مکار جن زادی کے سامنے اکیلا کھڑا صرف عنایہ کی جان بچانے کے لیے کتنا بڑا خطرہ مول لے رہا ہے۔ اس جادوئی آئینے نے عنایہ کے دل میں آذران کے لیے محبت اور ہمدردی کو اور زیادہ گہرا کر دیا تھا۔آئینے کے اندر اس خوفناک منظر کو دیکھتے ہی عنایہ کے ذہن میں اچانک ایک دھماکہ سا ہوا، اور اسے ماضی کی وہ ساری باتیں یاد آنے لگیں جو آذران نے اس سے کہی تھیں۔ اسے یاد آیا جب آذران نے اس کے کمرے میں اپنا ڈھکا ہوا چہرہ سامنے لا کر کہا تھا کہ "یہاں کسی کو تمہاری ضرورت ہے"، تو وہ اصل میں اپنی بات نہیں کر رہا تھا۔ اس کی مکار بیوی زاغورہ کو اپنی جوانی واپس پانے کے لیے ایک اکیلے انسان یعنی عنایہ کے خون کی ضرورت تھی!عنایہ پر اب یہ سچائی پوری طرح واضح ہو چکی تھی کہ وہ جن یعنی آذران اس کا دشمن نہیں ہے۔ وہ تو شروع ہی سے اسے اپنی سفاک بیوی کے اس بھیانک اور خونی منصوبے سے بچا رہا تھا۔ آذران نے پہلے دن اسے کھڑکی کھولنے سے اس لیے منع کیا تھا تاکہ زاغورہ کا جادو اس تک نہ پہنچ سکے، اور اب وہ اسے اس خوبصورت لکڑی کے گھر میں چھپا کر خود زاغورہ کے غیظ و غضب کا سامنا اکیلا کر رہا تھا۔یہ سب سوچ کر عنایہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس کے دل میں آذران کے لیے جو تھوڑا بہت ڈر یا شک بچا تھا، وہ اب پوری طرح ختم ہو گیا۔ وہ اس آئینے کے سامنے کھڑی تڑپ اٹھی اور دل ہی دل میں آذران کی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگی، جس نے ایک انسان کی خاطر اپنی ہی برادری اور بیوی سے اتنی بڑی بغاوت کر دی تھی۔عنایہ ابھی آئینے کے سامنے کھڑی آنسو بہا رہی تھی کہ اچانک آئینے کے اندر منظر بدل گیا۔ زاغورہ کو جنات کی برادری کی طرف سے ایک بار پھر کوئی بہت ضروری پیغام ملا، جس کی وجہ سے اسے بادل ناخواستہ فوراً وہاں سے واپس جانا پڑا۔ آذران کو کڑی وارننگ دے کر وہ ایک کالے دھوئیں کی مانند وہاں سے غائب ہو گئی۔زاغورہ کے جاتے ہی آذران نے ایک پل کی بھی تاخیر نہیں کی اور جادو کی رفتار سے غائب ہو کر سیدھا عنایہ کے پاس اس لکڑی کے چھوٹے سے گھر میں پہنچ گیا۔کمرے میں نمودار ہوتے ہی جب آذران کی نظر عنایہ پر پڑی، تو وہ اسے روتا ہوا دیکھ کر شدید بے چین ہو گیا۔ اس کے پُرکشش چہرے پر فکر کے تاثرات ابھر آئے۔ وہ آہستہ سے عنایہ کے قریب آیا اور انتہائی نرم، مخملی آواز میں پوچھا: "عنایہ۔۔۔ کیا ہوا؟ تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا تمہیں یہاں بھی کسی چیز کا ڈر ہے؟"عنایہ نے جیسے ہی آذران کی وہ پیار بھری آواز سنی، اس کے صبر کا بندھن ٹوٹ گیا۔ وہ اب تک کے سارے خوف، سسپنس اور آذران کی اس بے لوث قربانی کے احساس سے اس حد تک مغلوب ہو چکی تھی کہ وہ خود پر قابو نہ رکھ سکی۔ آذران کے جملہ پورا کرنے سے پہلے ہی، عنایہ تڑپ کر آگے بڑھی اور روتے ہوئے سیدھی آذران کے گلے لگ گئی۔آذران ایک لمحے کے لیے بالکل ساکت رہ گیا، جیسے اسے یقین نہ آ رہا ہو کہ جو لڑکی اس سے اتنی نفرت اور ڈر کا اظہار کر رہی تھی، وہ آج خود اس کے حصار میں ہے۔ عنایہ نے اس کے کندھے پر سر رکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیں، اور آذران نے بہت نرمی سے اپنے مضبوط ہاتھ اس کے گرد پھیلا دیے۔ صدیوں کی اس تاریک اور ویران کائنات میں، عنایہ کو اپنی بانہوں میں پا کر آذران کو ایک ایسا انوکھا اور بے پناہ سکون محسوس ہوا جو اس نے پہلے کبھی نہیں پایا تھا۔عنایہ نے آذران کے کندھے سے سر اٹھایا، مگر اس کی آنکھیں اب بھی آنسوؤں سے نم تھیں۔ اس نے آذران کے پُرکشش اور سحر انگیز چہرے کی طرف دیکھا اور روتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی: "مجھے سب پتہ چل گیا ہے آذران۔۔۔ میں نے اس جادوئی آئینے میں سب کچھ دیکھ لیا ہے۔"آذران نے حیرت سے پہلے عنایہ کو اور پھر دیوار پر لٹکے اس پرانے آئینے کو دیکھا۔عنایہ نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بات جاری رکھی: "تم نے مجھ سے کہا تھا نا کہ اس گھر میں کسی کو میری ضرورت ہے۔ وہ تم نہیں تھے، بلکہ تمہاری وہ مکار بیوی زاغورہ تھی جو اپنی جوانی کے لیے میرا خون پینا چاہتی ہے۔ تم تو شروع سے اپنی جان خطرے میں ڈال کر مجھے اس سے بچا رہے تھے۔ تم نے کھڑکی کھولنے سے بھی اسی لیے منع کیا تھا نا؟"عنایہ کے منہ سے یہ سچائی سن کر آذران کی آنکھوں میں ایک گہرا تپش آمیز احساس ابھرا۔ اس نے عنایہ کے چہرے پر پھیلی زلفوں کو بہت نرمی سے پیچھے کیا اور مخملی لہجے میں بولا: "ہاں عنایہ! میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا تاکہ تم خوفزدہ نہ ہو جاؤ۔ زاغورہ ایک سفاک جن زادی ہے، لیکن میں اب اسے تمہیں چھونے بھی نہیں دوں گا۔ میں نے صدیوں کے اس اندھیرے میں صرف تمہارا انتظار کیا ہے، اور اب تم میری زندگی ہو۔"عنایہ نے آذران کی آنکھوں میں اپنے لیے وہ سچی دیوانگی دیکھی، تو اس کا دل مٹھی بھر سکون سے بھر گیا۔ وہ اب جان چکی تھی کہ یہ طاقتور جن اس کی سب سے بڑی ڈھال بن چکا ہے۔ابھی وہ دونوں ایک دوسرے کے احساس میں کھوئے ہوئے تھے کہ اچانک اس پُرکشش وادی کا موسم بدل گیا۔ لکڑی کی چھت پر ٹپ ٹپ کرتی بوندوں کی مٹھی بھر پُراسرار آواز گونجنے لگی۔ باہر تیز اور مسحور کن بارش شروع ہو چکی تھی۔ کھڑکی سے بارش برستی دیکھ کر عنایہ کا اداس چہرہ ایک دم خوشی سے کھل اٹھا، اس کی آنکھوں میں جگنو چمکنے لگے۔ وہ آذران کا ہاتھ پکڑ کر کھلکھلا کر ہنستے ہوئے لکڑی کے گھر سے باہر کھلی وادی میں چلی آئی۔وہ اسی پرانے دن کی طرح بارش کی موٹی موٹی بوندوں میں مست ہو کر گول گول گھومنے اور ناچنے لگی۔ اس کے بھیگے ہوئے بال اس کے چہرے پر بکھر رہے تھے اور وہ اپنی زندگی کا سارا خوف بھول کر اس لمحے کو جی رہی تھی۔ مگر اس بار وہ اکیلی نہیں تھی۔آذران نے اس کے چہرے پر بکھری دیوانگی کو دیکھا، تو اس کا صدیوں پرانا ضبط ٹوٹ گیا۔ وہ دھیمے قدموں سے چلتا ہوا بارش میں بھیگتے ہوئے عنایہ کے بالکل قریب آ گیا۔ اس نے بہت نرمی اور مانوسیت سے اپنا ایک ہاتھ عنایہ کی لچکدار کمر پر رکھا اور دوسرا ہاتھ اس کے نازک ہاتھ میں تھام لیا۔ عنایہ کی دھڑکن ایک پل کے لیے رکی، اور پھر وہ آذران کی جھیل جیسی گہری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ ڈانس کرنے لگی۔بارش کی تیز بوندیں ان دونوں کے وجود کو بھگو رہی تھیں، مگر ان کے درمیان کی تپش اور رومانوی سحر بڑھتا جا رہا تھا۔ آذران نے جادوئی دھیمے ردہم کے ساتھ عنایہ کو اپنی طرف کھینچا، جس سے عنایہ کا بھیگا ہوا وجود سیدھا آذران کے چوڑے سینے سے جا ٹکرایا۔ آذران نے جھک کر انتہائی مخملی اور مدہوش کن آواز میں اس کے کان کے پاس سرگوشی کی: "تم اس بارش سے بھی زیادہ خوبصورت ہو، عنایہ۔"عنایہ نے شرما کر اپنی آنکھیں بند کر لیں اور آذران کی بانہوں کے اس گرم حصار میں خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی محسوس کرنے لگی، جہاں اب خوف کا کوئی سایہ نہیں تھا۔بارش کی مسحور کن بوندیں ان کے چہروں کو چھو کر بہہ رہی تھیں اور وہ دونوں کائنات سے بے خبر ایک دوسرے کے سحر میں ڈوبے رقص کر رہے تھے۔ آذران کی گہری آنکھیں عنایہ کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں، جن میں بے پناہ محبت اور ایک سچا جنون صاف نظر آ رہا تھا۔اسی رومانوی رقص کے دوران، آذران نے جادوئی دھیمے پن کے ساتھ اپنے قدم روکے۔ اس نے عنایہ کا نازک ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھوڑا اور مضبوطی سے تھاما، اس کے چہرے کے اور قریب جھکا، اور انتہائی مخملی، سنجیدہ اور دل پگھلا دینے والے لہجے میں پوچھا:"کیا تم۔۔۔ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی، عنایہ؟"عنایہ نے جیسے ہی یہ لفظ سنے، اس کا دل ایک پل کے لیے دھڑکنا بھول گیا، اور پھر اگلے ہی لمحے اس کا پورا وجود ایک انوکھی خوشی سے بھر گیا۔ اس بڑے اور ویران جہاں میں، جہاں وہ ہمیشہ خود کو بے سہارا اور لاوارث سمجھتی تھی، آج کوئی اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی پوری زندگی بنانے کا وعدہ کر رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ سج گئی اور اس نے شرماتے ہوئے، نم آنکھوں کے ساتھ خوشی سے اپنا سر "ہاں" میں ہلا دیا۔آذران کے لبوں پر بھی ایک سحر انگیز مسکراہٹ ابھر آئی، جیسے اسے کائنات کی سب سے بڑی دولت مل گئی ہو۔ اس نے عنایہ کو ایک بار پھر اپنے سینے سے لگا لیا، اور بارش کے اس خوبصورت شور میں ان دونوں کی دنیا اب ہمیشہ کے لیے ایک ہونے جا رہی تھی۔

قسط نمبر 8

دوسری طرف، جنات کی تاریک اور پراسرار برادری میں ایک پُر ہول ہال کے اندر آذران کی بیوی زاغورہ موجود تھی۔ اس کے سامنے ایک بہت عمر رسیدہ اور خوفناک جادوگر بوڑھا جن بیٹھا ہوا تھا۔ زاغورہ کے چہرے پر شدید غصہ اور بے چینی تھی، اس نے اپنے لمبے ناخنوں کو آپس میں چٹخاتے ہوئے اس بوڑھے سے کہا:"مجھے آذران پر سخت شک ہو رہا ہے۔ وہ اب میرے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھوٹ بولنے لگا ہے۔ اس نے اس انسان یعنی عنایہ کو مارا نہیں ہے، بلکہ اسی نے اس لڑکی کو کہیں بہت محفوظ جگہ پر چھپا کر رکھا ہے۔ تم اپنے علم سے پتا لگاؤ کہ وہ کہاں ہے!"اس خوفناک بوڑھے جن نے قہقہہ لگایا اور اپنی گرجدار آواز میں بولا: "تم فکر نہ کرو زاغورہ! میں ابھی اپنے کالے جادو کی طاقت سے بتاتا ہوں کہ وہ لڑکی اس وقت کائنات کے کس کونے میں چھپی بیٹھی ہے۔"بوڑھے جادوگر نے اپنی آنکھیں بند کیں اور ہوا میں ہاتھ لہرا کر کچھ شیطانی کلمات پڑھنا شروع کر دیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے، ان کے سامنے ہوا میں کالے دھوئیں کا ایک بڑا سا جادوئی دائرہ بن گیا۔جیسے ہی اس دائرے کے اندر کا دھندلا پن صاف ہوا، زاغورہ اور اس بوڑھے کی نظریں اس کے اندر جم گئیں۔ اس جادوئی دائرے کے اندر اس خوبصورت وادی کا منظر چل رہا تھا جہاں تیز بارش ہو رہی تھی، اور آذران مسکراتے ہوئے عنایہ کا ہاتھ تھامے، اس کے ساتھ نہایت رومانوی انداز میں ناچ رہا تھا۔ آذران کی آنکھوں میں عنایہ کے لیے بے پناہ محبت صاف دیکھی جا سکتی تھی۔یہ منظر دیکھ کر زاغورہ کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا اور وہ تپ کر پاگل ہو گئی۔ اس کی آنکھوں سے جیسے شعلے نکلنے لگے اور وہ ہال میں زور سے چِیخ اٹھی: "آذران۔۔۔! تمہاری یہ مجال! ایک معمولی انسان کی خاطر تم نے مجھ سے غداری کی! اب میں تم دونوں کو کبھی معاف نہیں کروں گی!"بارش میں رقص کرنے اور شادی کے اس خوبصورت فیصلے کے بعد، عنایہ لنگڑاتی ہوئی اور خوشی سے جھومتی ہوئی لکڑی کے اس چھوٹے سے گھر کے اندر چلی آئی۔ جیسے ہی وہ ہال میں داخل ہوئی، بستر پر رکھے ایک خوبصورت، چمکدار ڈبے پر اس کی نظر پڑی۔ تجسس کے مارے اس نے آگے بڑھ کر جیسے ہی اس ڈبے کو کھولا، اس کی آنکھیں خوشی سے پھیل گئیں۔ ڈبے کے اندر سُرخ رنگ کا ایک انتہائی خوبصورت اور بھاری عروسی جوڑا (شادی کا جوڑا) رکھا ہوا تھا، جس پر سونے کے تاروں سے پُرکشش کڑھائی کی گئی تھی۔ آذران نے عنایہ کی رضامندی ملتے ہی جادو سے یہ جوڑا اس کے لیے تیار کیا تھا۔ عنایہ اس جوڑے کو چھو کر جذباتی ہو گئی اور اس کے دل میں آذران کے لیے محبت اب حد سے زیادہ بڑھ چکی تھی۔ وہ اس بات سے انجان تھی کہ آذران اس وقت کسی ضروری کام سے وہاں سے جا چکا تھا اور وہ گھر میں بالکل اکیلی تھی۔ابھی وہ اس جوڑے کو دیکھ کر خوش ہو ہی رہی تھی کہ اچانک باہر کی خوبصورت وادی کا درجہ حرارت یکایک گر گیا اور ہر طرف کالا دھواں پھیلنے لگا۔ لکڑی کے گھر کا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹانے، بلکہ یوں کہیے کہ پیٹنے کی ہولناک آواز آنے لگی۔ عنایہ نے گھبرا کر کھڑکی سے باہر دیکھا، تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ باہر آذران کی مکار بیوی زاغورہ کھڑی تھی، اس کا چہرہ غصے اور حسد سے بھیانک ہو رہا تھا اور وہ باہر کھڑی زور زور سے غرا رہی تھی۔عنایہ خوف کے مارے دیوار سے جا لگی، مگر اسی لمحے اس نے ایک عجیب بات دیکھی۔ زاغورہ جتنا بھی جادو کر رہی تھی اور دروازے پر وار کر رہی تھی، وہ گھر کے اندر داخل نہیں ہو پا رہی تھی! جیسے ہی وہ چوکھٹ کی طرف بڑھتی، لکڑی کی دیواروں سے ایک نیلی جادوئی ڈھال ابھرتی اور زاغورہ کو پیچھے دھکیل دیتی۔ عنایہ کو فوراً یاد آیا کہ آذران نے اس لکڑی کے گھر پر اپنی جادوئی طاقت سے ایک مضبوط حفاظتی حصار قائم کیا تھا، جس کی وجہ سے کائنات کی کوئی بھی بری طاقت یا جن اس گھر کی حدود میں قدم نہیں رکھ سکتا تھا۔ زاغورہ باہر کھڑی بے بس ہو کر غصے سے پاگل ہو رہی تھی، جبکہ عنایہ اندر بیٹھ کر آذران کی واپسی کا انتظار کرنے لگی۔

Hot

Comments

sawu

sawu

❤️

2026-08-13

0

See all
Episodes
Episodes

Updated 1 Episodes

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play