Zaat-e-Hurr

Zaat-e-Hurr

پہلا قدم

ذاتِ حُر

از قلم:

علشبہ اشرف

انتساب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

"میں، اللہ کے نام سے اس قلمی سفر کا آغاز کر رہی ہوں، جو محض میرے شوق یا شہرت کے لیے نہیں بلکہ حق، سچ، اور ہدایت کے لیے ہے۔

یہ الفاظ جو صفحے پر اتریں گے، وہ میرے رب کی عطا ہوں گے۔

میری تحریر ان دلوں کو چھوئے، جو اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔

میری کہانی روشنی بنے ان کے لیے جو الجھ چکے ہیں اپنے وجود سے."میں اپنی اس تحریر کو اللہ کے نام کرتی ہوں۔

اس رب کے سپرد کرتی ہوں جو دلوں کے حال جانتا ہے،

دھوکہ، خوف، موت، اور سازشوں کے درمیان صرف ایک چیز زندہ رہتی ہے…

اُمید اور ایمان

بیپ ۔۔۔بیپ۔۔۔

میسج کی آواز سن کر نیند میں بھی اسکے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔وہ فوراً اٹھ گئی تھی کیوں کہ آج کا دن اس کے لیے بہت اہم تھا اور آج کا دن وہ اپنی سستی کی نظر تو بلکل نہیں کر سکتی تھی۔

“Best of luck Zim”

میسج دیکھ کر اس کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا

تقریباً 15 منٹ بعد وہ ڈائننگ حال میں موجود تھی وہاں سب اپنی اپنی نشستوں پر موجود ناشتہ کرنے میں محو تھے ساتھ ساتھ تایا اور باباجان کی کُچھ بحث چل رہی تھی اور وہ جانتی تھی اس بحث کا موضوع کون تھا? اسکا دل سہما تھا۔ اُسے اپنے گھر کے مردوں سے ہمیشہ ڈر لگتا تھا۔

السلام و علیکم! گھبراتے دل کے ساتھ اس نے ڈائننگ روم میں قدم رکھتے سب کو مشترکہ سلام کر کے اپنی نشست سنبھالی

وعلیکم السلام!

جواب دادا جان کی طرف سے آیا تھا۔

تایا جان نے ناگواری اسے دیکھا تھا البتہ بابا جان اپنی توجہ ناشتے پر مبذول کر چکے تھے۔

میں تو لڑکیوں کی اتنی آزادی کے حق میں بلکل نہیں ہوں۔ کو۔ ایجوکیشن حاصل کر لی ٹھیک ہے میں نے کوئی اعتراض نہیں کیا مگر اب جاب کی بھلا کیا ضرورت تھی وہ بھی ایک ایسے ادارے میں جو مردوں کے لیے محفوظ نہیں ہے ابھی اس نے ناشتے کا ایک لقمہ ہی منہ میں رکھا تھا جب تایا جان کی سخت آواز نے اس کا حلق خشک کر دیا تھا۔ تایا جان تیز نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔اسکا دل کانپنے لگا تھا۔ زریاب نے کُچھ سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کیا ہو گا۔ تم کیوں پریشان ہو رہے ہو? دادا جان نے تایا جان کو متمحل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس نے چور نظروں سے اپنے باپ کو دیکھا ان کے چہرے پر بھی سخت تاثرات تھے۔

نہیں بابا جان اب آپ خود دیکھیں فریحہ اور ایمن نے اپنی تعلیم مکمل کی اور گھر داری میں خود کو مشغول کر لیا انہوں نے تو ایسے شوق ظاہر نہیں کیے اور اب دیکھئیے گا حریم بھی تو ہے وہ بھی تو پڑھ رہی ہے اسے بھی پتہ ہو گا خاندان کی عزت کس بات میں ہے۔

تایا جان اب بھی مشتعل تھے سب دم سادھے سن رہے تھے اس نے ایک نظر سارے میں دوڑائی اسکی ماں, چچی, تائی اسکی بہنیں سب خاموش تماشائی بنی بیٹھی تھی کوئی نہیں تھا جو بول سکتا یہ مرد اپنے آپ کو حاکم کیوں سمجھ لیتے ہیں ??

مجھے زریاب پر پورا بھروسہ ہے اسکا کوئی بھی فیصلہ ہمارے خاندان کے لیے غلط ثابت نہیں ہو سکتا اور اب کوئی بحث نہیں سب خاموشی سے ناشتا کریں۔

دادا جان نے جیسے بات ختم کی تھی۔تایا جان بھی خاموش ہو گئے تھے لیکن ان کے ماتھے پر تیوری ابھی بھی چڑھی ہوئی تھی۔

سعید ابھی اٹھا نہیں ہے؟

دادا جان نے چچی سے پوچھا۔ نہیں ابھی نہیں اٹھا میں اٹھا کر آئی تھی آنے والا ہی ہو گا

گڈ مارننگ!

چاچی نے جواب دیا ہی تھا جب سعید کی آواز پر سب نے سر اٹھا کر ایک نظر اسے دیکھا۔

آؤ برخوردار-

دادا جان نے خوشگواری سے کہا سعید نے بھی مسکراتے ہوئے اپنی جگہ سنبھالی۔

دانیال ہاشمی کے پروجیکٹ کا کیا ہوا؟ اب بابا جان سعید سے کُچھ پوچھ رہے تھے وہ جواب میں کُچھ بتاتے ہوئے ساتھ ساتھ ناشتہ کر رہا تھا بابا جان اس کی بات پر سر ہلا رہے تھے باقی سب بھی اپنا اپنا ناشتہ ختم کر کے اٹھ رہے تھے تایا جان اور بابا جان بھی اٹھ کر آفس کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔

سعید ناشتہ کر کے زمل کو اس کے آفس چھوڑ دینا۔

دادا جان نے اٹھتے ہوئے ہوئے سعید کو کہا جس پر اس نے سر ہلا دیا تھا۔

کھانے کا میز آہستہ آہستہ خالی ہوتا جا رہا تھا اب بس سعید اور زمل ہی باقی تھے سعید موبائل پر میٹینگ کا شیڈول دیکھ رہا تھا ساتھ ساتھ چائے پی رہا تھا اور زمل انتظار کر رہی تھی۔

ویسے جاب کس ریلیٹڈ ہے تمہاری؟

Investigation journalist سعید کے اچانک موبائل سے نظر ہٹا کر پوچھنے پر وہ چونکی تھی پھر سنمبل کر جواب دیا۔

اوہ اچھا انویسٹیگشن کرو گی تم۔ وہ عجیب سے انداز میں ہنسا تھا۔

*******

صبح کی سنہری روشنی میں پورا لاہور نہایا ہوا تھا ہر سُو گہما گہمی کا عالم تھا۔

لاہور کے اس پوش علاقے میں جہاں سب معمول کے مطابق لوگ دفاتر بچے اپنے اسکول, کالجز میں روانہ ہو رہے تھے اور اپنے دن کا آغاز اپنے اپنے کاموں سے کر رہے تھے وہیں ایک گھر میں جاؤ تو وہاں سب بکھرا ہوا تھا ٹوٹی بکھری چیزیں کسی کے ٹوٹے دل کا پتہ دے رہی تھیں ہر طرف اندھیرا تھا شاید جو بھی یہاں موجود تھا اسے روشنی کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی تھی چھوٹا سا پرانے طرز کا یہ گھر چھوٹے سے لاؤنج اور ایک کمرے پر مشتمل تھا تنگ سی راہداری کو عبور کر کے کمرے میں چلو تو وہاں ایک زرد سی بتی جل رہی تھی۔ اس زرد سی مدھم سی لائٹ میں ایک ہیولہ زمین پر بیٹھا ہوا نظر آرہا تھا سر جھکائے ماتھے پر بال بکھرے ہوئے فرش پر کاغذ کا ٹکڑا پڑا تھا اس کی لمبی مخروطی اُنگلیوں میں ایک پنسل تھی جس سے وہ کاغذ پر کوئی قلم کاری کر رہا تھا نقوش غیرواضح تھے تھوڑا آگے چل کر دیکھو تو کاغذ پر آڑھی ترشی لکیریں اُبھری ہوئی تھی جو اس شخص کے ذہنی انتشار کا پتہ دے رہی تھی

پورے کمرے میں فرنیچر کے نام پر ایک بڑی اسٹڈی ٹیبل ایک کرسی اور ایک بڑے سائز کا کمپیوٹر تھا اردگرد کاغذوں کا انبار تھا کچھ بکھرے پڑے کچھ ٹیبل پر پڑے تھے دیواریں چپسیوں اور سٹیکی نوٹس سے بھری پڑی تھی جن پر تاریخیں درج تھی کچھ پر چھوٹی چھوٹی تحریریں لکھی ہوئی تھی ایک دیوار پر تصویریں لگی ہوئی تھی جن پر ڈوٹس اور کٹ کے نشان تھے

یہ کمرہ کسی کی رہائش گاہ تو نہیں البتہ کسی گہرے راز کی گوہر افشانی ضرور کر رہا تھا اب وہ ہیولہ اٹھ کر کھڑا ہو رہا تھا چند قدم لے کر وہ ٹیبل تک آیا وہاں سے ایک نوٹ پیڈ اٹھا کر اس نے ایک تاریخ درج کی اور سامنے بورڈ پر چپکا دی۔

آج سے 8 ماہ بعد کی تاریخ۔۔۔۔۔

اب وہ ایک دوسری دیوار پر جا کر ایک تصویر پر کراس کا نشان لگا رہا تھا کچھ دیر وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ اس تصویر کے سامنے کھڑا رہا پھر وہ مڑ کر ٹیبل کے پاس آکر رک گیا اپنا موبائل سوئچ آن کیا ٹیبل پر پڑی چابیوں کا گچھا اٹھا کر باہر کی اور چل پڑا۔ اب وہ دروازہ لاک کر رہا تھا۔

دروازہ لاک کرنے کے بعد وہ چل کر چند گلیاں گھوم کر ایک جگہ پر آکر رک گیا۔ سامنے ایک گاڑی کھڑی تھی گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھنے کے بعد اپنے موبائل سے چند ایک میسج کرنے کے بعد گاڑی سٹارٹ کی اور زن سے بھگا لے گیا اب وہ ایک نیا کردار نبھانے کو تیار تھا۔۔۔

******

دفتر کے مرکزی دروازے پر لگے "سرچ لائٹس میڈیا نیٹ ورک" کے بورڈ کو دیکھ کر زمل کے دل میں ہلچل مچ گئی۔ دل کی دھڑکن معمول سے تیز تھی۔ ہاتھوں کی انگلیاں نروس انداز میں اس کے بیگ کی زِپ سے کھیل رہی تھیں۔

عمارت جدید تھی، مگر اندر داخل ہوتے ہی اسے ایک سنجیدہ خاموشی کا احساس ہوا تھا جیسے یہاں انسانوں کا دور دور تک کوئی واسطہ نہ ہو۔

وہ بےحد نروس تھی۔یہ اس کی جاب کا پہلا دن تھا

استقبالیہ پر بیٹھی خاتون نے زمل کو دیکھ کر فوراً پہچان لیا تھا۔ انٹرویو کے دوران جن چند ایک لڑکیوں کو جاب پر رکھا گیا تھا زمل ان میں سے ہی ایک تھی۔

"تیسری منزل، انویسٹی گیٹو ڈیسک۔"

اس کے ساتھ چند جملوں کے تبادلے کے بعد اس عورت نے اسے تیسری منزل کی طرف جانے کا کہا اور دوبارہ اپنی اسکرین پر جھک گئی۔"

لفٹ کے بند ہوتے دروازے میں وہ خود کو تنہا محسوس کر رہی تھی، گھبراہٹ اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔ لفٹ کے آئینے میں اپنی آنکھوں میں جھانک کر اُس نے دل ہی دل میں خود کو ہمت دی۔

تیسری منزل کا ماحول بلکل مختلف تھا۔ بڑی بڑی اسکرینوں پر خبریں، تھمے ہوئے فریموں میں پچھلی تحقیقی رپورٹس کی جھلکیاں، دیواروں پر کیس فائلز سے جُڑے ٹائم لائن چارٹس، اور میزوں پر پھیلے ہوئے اخبار، موبائل، لیپ ٹاپ، اور ریکارڈر۔

ایک کونے میں بیٹھے ایک رپورٹر نے نظر اٹھا کر اُسے دیکھا، پھر کچھ لکھتے ہوئے اسے ایک کمرے کی جانب اشارہ کیا۔ وہ اسی سمت چل پڑی کمرے کے باہر رک کر ایک گہرا سانس لیا۔

May I come in?

پر اعتماد انداز میں اجازت مانگی.

اجازت ملنے پر وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔

کمرہ سادہ مگر سنجیدہ ماحول لیے ہوئے تھا۔ ایک میز، لیپ ٹاپ، فائلوں کا ڈھیر اور سامنے دیوار پر کچھ تصاویر اور سرخ پن لگی ہوئیں تھیں۔ جیسے کسی بڑے کیس کی تفصیلات ہوں۔

وہ شخص لیپ ٹاپ پر جھکا کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔ ایک لمحے کو نظریں اٹھائیں، تیز اور جانچتی ہوئی۔

“Zimal Arman” New comer?

ٹھنڈے لہجے میں استفسار کیا گیا۔

"جی،

زمل نے خود کو سنبھالتے ہوئے جواب دیا۔

"یہاں جذبات سے زیادہ صبر اور عقل کام آتی ہے، یونیورسٹی کے پروجیکٹ نہیں ہیں یہ!"

اُس نے میز سے ایک موٹی سی فائل اٹھائی، اُس کے سامنے رکھی اور سنجیدگی سے دوٹوک انداز میں بولا۔

اسے سمجھ نہیں آئی کہ کیا کہے۔

"یہ پہلا کیس ہے تمہارا۔

زمل نے فائل کی طرف دیکھا، دل میں ہلچل مچی، مگر چہرے پر حوصلے کی چمک آ گئی۔

زمل نے فائل کھولی۔ اندر ایک نوجوان لڑکی کی تصویر چپکی ہوئی تھی، نیچے نام درج تھا: "نائلہ خان۔ گمشدہ، کیس بند"

"یہ کیس تو بند لکھا ہے؟"

زمل نے چونک کر پوچھا:

مقابل نے کرسی سے ٹیک لگا کر گہری سانس لی،

ہاں یہ کیس بند ہے۔اس کیس کے ثبوت نا مکمل تھے۔

"یہ سب بند کیسز ہیں۔ اخباروں میں دفن، فائلوں میں دفن، لوگوں کے ضمیر میں دفن… اگر تمہیں لگتا ہے تم انویسٹیگیشن کے لیے بنی ہو، تو نائلہ کو انصاف دلا کر دکھاؤ۔"وہ اٹھا، اور دیوار پر لگی تصویروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا:

زمل نے ایک لمحے کو اُسے دیکھا۔

اس کی آنکھوں میں کچھ تھا۔ کچھ عجیب سا تاثر۔

وہ خاموشی سے فائل لے کر پلٹی۔

جیسے ہی وہ دروازے سے نکلنے لگی، پیچھے سے آواز آئی:

"زمل ارمان"

وہ رکی، مڑی۔

"اس شہر میں سچ تلاشنے والے یا تو پاگل سمجھے جاتے ہیں… یا ماردیے جاتے ہیں۔ تیار رہو"

ٹھنڈے لہجے میں کہتے ہوئے وہ پھر سکرین کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔

یہ تنبیہہ تھی یا چیلنج وہ سمجھ نہ سکی۔

کمرے سے نکل کر وہ اپنے ڈیسک پر آ چکی تھی بیگ اور فائل ٹیبل پر رکھتے ہوئے وہ کرسی سنمبال کر بیٹھی اور فائل کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔

کون جانتا تھا اس سفر میں وہ سب کچھ کھو دینے والی تھی؟

******

جس وقت وہ گھر میں داخل ہوا اس وقت دوپہر کے 3:00 بج رہے تھے۔ اسے لاؤنج سے چلانے کی آوازیں آ رہی تھی ایک گہری سانس لیتے ہوئے اس نے لاؤنج میں قدم رکھا اور معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا سامنے ہی ڈیڈ غصے سے چلا رہے تھے۔ وہ سامنے صوفے پر بیٹھی سر جھکائے شاید رو رہی تھی۔

دونوں چچیاں بھی لاؤنج میں موجود تھیں۔

ناک کٹوانے کا ارادہ ہے تمہارا؟ اگر نہیں پڑھنا تو بتا دو تمہیں گھر بیٹھا لیتے ہیں

ہاتھ میں پکڑے ایک کاغذ کو وہ لہرا لہرا کر اونچی آواز میں چلا رہے تھے۔

وہ لرزتی ہوئی ہاتھوں کی انگلیوں مروڑتی خاموشی سے سر جھکائے رو رہی تھی۔

کچھ دیر کھڑا وہ خاموشی سے دیکھتا رہا۔ کسی کو بھی اسکے آنے کی خبر نہیں ہوئی تھی۔

السلام وعلیکم!

قدم قدم چلتا ہوا وہ اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا۔ اپنے بازو پر لٹکا کوٹ صوفے کے سرے پر رکھتے ہوئے وہ سامنے متوجہ ہوا۔ وہ مدھم مدھم ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔ کسی کی آواز اور ساتھ بیٹھنے پر وہ سانس روک گئی تھی۔ لیکن سر ابھی بھی جھکا ہوا تھا۔

وعلیکم السلام!

تم کب آئے؟

حیدر صاحب نے جواب دیتے ہوئے خوشگوار حیرت کے ساتھ پوچھا۔

اچانک ہی وہ کوئی اور انسان بن گئے تھے غصہ کہیں دور جا سویا تھا۔

ابھی جب آپ حریم کو ڈانٹ رہے تھے۔ زریاب نے تھکے تھکے انداز میں جواب دیا۔ کوٹ پینٹ میں ملوث بال جیل سے سے سیٹ کیے وہ ہمیشہ کی طرح بظاھر تازہ دم لگ رہا تھا بس سرخ آنکھیں اسکی نامکمل نیند اور تھکن کا پتہ دے رہی تھی۔

اس لڑکی کا مجھے پڑھنے کا کوئی ارادہ نہیں لگ رہا جب سے کالج گئی ہے پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے اسے۔ آج اس کے کالج سے فون آیا تھا اس کی فرسٹ ٹرم کا ایگزام بلکل ٹھیک نہیں آیا اور اسکے ٹیچرز کا کہنا ہے سارا دن یہ کلاس میں خاموش بیٹھی رہتی ہے ناں یہ کوئی سوال کرتی ہے ناں کسی سوال کا جواب دیتی ہے سارا دن گھم سم جانے کونسے خیالوں میں گم رہتی ہے۔

وہ پھر سے بھڑک اٹھے تھے۔

بس اتنی سی بات پر آپ اسے ڈانٹ رہے تھے۔ زریاب نے سکون سے انہیں دیکھا۔

جہاں پر حیدر صاحب کے چہرے پر ناگواری چھائ تھی وہی پر حریم نے بھی سر اٹھا کر اپنی بھیگی عنبر آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ حریم نے جلدی سے اپنی گردن دوبارہ جھکا دی۔ زریاب کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ معدوم ہوئی۔

اتنی سی بات؟ یہ اتنی سی بات ہے۔

وہ غصے سے چلائے۔

انکی عقل کام نہیں کر رہی تھی خاندان کی سب سے ذہین لڑکی تھی وہ۔ ہمیشہ ٹاپ کرنے والی۔ انکا سر فخر سے بلند کرنے والی۔ اچانک اتنا برا رزلٹ دیکھ کر انکا دماغ گھوم کر رہ گیا تھا۔

حریم کا معاملہ میں دیکھ لوں گا آپ اس کی ٹینشن ناں لیں۔

زریاب اب بھی پرسکون تھا۔ حریم کا دل بری طرح دھڑکا تھا۔ وہ ایسا کیوں تھا آخر؟ سب سے الگ سب سے اچھا۔ اس کے رونے میں اضافہ ہوا تھا۔

تم نے ان لڑکیوں کو بگاڑ دیا ہے زریاب۔

حیدر صاحب نے بےبسی سے کہا۔ وہ بےبس ہوئے تھے اور یہ عام بات تھی خاندان کا ہر فرد اس شخص کے سامنے یونہی بےبس ہو جاتا تھا کیوں کہ جب وہ کہتا تھا سب دیکھ لے گا تو وہ سب دیکھ لیتا تھا۔ وہ اپنے خاندان کا "فکسر" تھا۔ خاندان کا مضبوط سرا جسے سب تھامے ہوئے تھے۔ کیوں کہ سب کو معلوم تھا وہ اس شخص کے بغیر نامکمل تھے۔ اس کے بغیر تو سب کچھ ہی ادھورا تھا۔

آپ کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہو جاتے ہیں۔

وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اب پوچھ رہا تھا۔

اور زریاب کی مسکراہٹ پر انہیں اپنی ساری پریشانیاں, ساری فکریں جاتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ اچانک انکے چہرے پر تکلیف اور اضطراب کے تاثرات نمودار ہوئے تھے۔ وہ 9 سال اس سے لاپتہ کیسے رہ لیے تھے اب تو اس کے بغیر ایک لمحہ نہیں کٹتا تھا تکلیف سارے وجود میں پھیل رہی تھی وہ معافی مانگنا چاہتے تھے پر کس منہ سے مانگتے۔

تم تھک گئے ہو گے کچھ دیر آرام کر لو۔

اب انکے لہجے میں صرف ایک باپ کی شفقت اور ماضی کی شکست خوردگی تھی۔ کہتے ساتھ وہ جلدی سے اٹھ گئے تھے اب انکے چہرے پر بےچینی نمایاں تھی۔

زریاب نے سر کو اثبات میں جنبش دی کوٹ اور موبائل اٹھاتے ہوئے وہ خود بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

دو قدم اٹھاتے اس نے رک کر حریم کو دیکھا اسکا سر ابھی بھی جھکا ہوا تھا

ایک جوس کا گلاس اور ایک کافی کا کپ لے کر میرے روم میں آؤ۔

حریم کو کہتے ہوئے وہ جا چکا تھا۔

تقریباً 15 منٹ بعد ہاتھ میں ٹرے پکڑے وہ روم کے باہر تھی۔

جیسے ہی حریم نے دروازہ کھولا، ایک ہلکی سی گرم خوشبو اس کے چہرے سے ٹکرائی شاید مہندی لکڑی اور دارچینی کے ڈفیوزر کی مہک، جو سکون بھی دیتی تھی اور دبدبہ بھی۔

کمرہ بڑا تھا، مگر بے حد منظم۔

فرش پر ڈارک براؤن لکڑی، جس پر ایک خاموش خاکی رنگ کا ترک قالین بچھا ہوا تھا۔ دیواروں پر نہ زیادہ تصویریں، نہ شوخ رنگ۔ بس ایک سائیڈ پر بلیک اینڈ وائٹ کی چند آرٹسٹک پینٹنگز لگی تھیں، جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا کہ یہاں رہنے والا شخص بہت کافی باذوق اور چناؤ والا ہے۔

کمرے کے ایک کونے میں ایک لمبی کتابوں کی الماری تھی، جو مکمل سلیقے سے ترتیب دی گئی تھی۔

سامنے ایک لو لائٹ فلور لیمپ تھا جو بس اتنی روشنی دیتا تھا کہ ماحول دھندلائے بغیر سنجیدہ سا لگے۔

درمیان میں ایک ڈارک ووڈن سینٹرل ٹیبل تھی، اور اس کے ساتھ آف وائٹ رنگ کا لیدر صوفہ۔

پیچھے کی طرف ایک شیشے کی بڑی سلائیڈنگ ونڈو تھی،جس پر ہلکے پردے تھے، جو شام کی دھوپ کو نرم کر کے کمرے میں گھلا رہے تھے۔

زریاب صوفے پر بیٹھا تھا سامنے لیپ ٹاپ رکھا ہوا تھا جس پر کوئی ڈاکیومنٹ اوپن تھا جن پر وہ سرسری سی نظر دوڑا رہا تھا۔

حریم ہاتھ میں کافی کا کپ لیے دروازے پر تھی۔

خاموش نظریں جھکی ہوئیں تھیں،وہ اندر آنے سے ہچکچا رہی تھی۔

زریاب نے لیپ ٹاپ سے نظر ہٹا کر اسے اندر آنے کا اشارہ کیا۔

وہ آہستہ قدموں سے اندر آئی، اور ٹرے اس کے سامنے ٹیبل پر رکھ دی۔

بیٹھ جاؤ۔ زریاب نے کافی کا کپ اٹھاتے ہوئے نرمی سے کہا۔

حریم جھجکتے ہوئے کچھ فاصلے پر خاموشی سے بیٹھ گئی۔

ہاں جی تو اب بتائیں ہماری فیوچر ڈاکٹر کو کیا مشکل پیش آرہی ہے تا کہ ہم اس کا حل ڈھونڈ سکیں۔کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے زریاب نے ہلکے پھلکے انداز میں بات شروع کی۔ وہ خاموشی سے اپنی انگلیاں مڑورتی ہوئی یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔

زریاب نے اسے خاموش دیکھ کر ایک گہرا سانس لیا اور کافی کا کپ ٹیبل پر رکھ کر تھوڑا آگے کو ہو کر بیٹھا۔

اگر کسی وجہ سے دل بھاری ہے…تو اسے اپنی قابلیت کا دشمن مت بننے دو۔

وہ ایک لمحے کو رکا۔ زندگی میں ہم مختلف مراحل سے گزرتے ہیں۔ کبھی کبھی زندگی بہت بری لگنا شروع ہو جاتی ہے بے مقصد, بے معنی بھی۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم گزارنا چھوڑ دیں۔ ہر چیز سے خود کو دور کر لیں۔ یہ کسی مسٔلے کا حل نہیں ہے۔

"اپنی زندگی کا تماشائی خود نہیں بنتے حریم"

وہ دیکھ سکتا تھا وہ پھر سے رونا شروع کر چکی ہے۔

اللّٰہ نے ہر انسان کو بہت وسیع پیدا کیا ہے۔ہر انسان کے اپنے پوشیدہ دکھ ہوتے ہیں جو وہ کسی سے بیان نہیں کر سکتا لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم دنیا سے خود کو جدا کر لیں خود سے روٹھ جائیں۔

اپنے لیے راستے خود تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ میں تم سے کچھ نہیں پوچھو گا بس یہ کہوں گا جو بھی ہے جو تمھیں ڈسٹرب کر رہا ہے یہ سب وقتی ہے یہ سب گزر جائے گا لیکن تم خود کو ضائع مت کرو۔زریاب کا لہجہ متوازن، بےحد مہذب، اور بہت نرمی لیے ہوئے تھا۔

وہ اب خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔

میرا پڑھنے کو دل نہیں کرتا مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا میں کیا کروں۔میرا دل کرتا ہے میں کہیں چھپ جاؤں سب سے دور چلی جاؤں۔ وہ روتی جا رہی تھی اپنے سٹولر سے آنکھیں, ناک صاف کرتی ہوئی وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ آنسو اسے جھنجلاہٹ میں مبتلا کر رہے تھے۔

اس کی بات سن کر زریاب کے دل کو کچھ ہوا تھا۔

ٹھیک ہے تم کچھ مت کرو لیکن جب کچھ عرصے بعد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا تو کیا کرو گی۔اب وہ مدھم لہجے میں پوچھ رہا تھا۔

میری۔۔ زندگی میں۔۔کبھی۔۔ کچھ ٹھیک نہیں ہو گا۔ سر جھکائے آنکھیں رگڑتے ہوئے مایوسی سے جواب دیا۔

ٹھیک ہے یہ بھی مان لیا کچھ ٹھیک نہیں ہو گا بقول تمہارے۔

تو کیا یونہی زندگی کو ضائع کر دو گی؟

اب وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔

حریم نے سارے وقت میں اب سر اٹھایا آنکھیں اور ناک سرخ تھی

میں۔۔میں کیا کروں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی۔ میں ایسا نہیں چاہتی۔ وہ بےبسی سے بولی تھی۔

انسان کو سب سے پہلے اپنے مقاصد دیکھنے چاہیے پھر اپنی خواہشات۔

تمہارا مقصد تو صرف ایک ہی تھا ڈاکٹر بننا۔

اس لیے ہر چیز کو پیچھے چھوڑ دو۔ تمھیں صرف اپنے گولز پر توجہ دینی چاہیے۔

میں اب بہت پیچھے رہ گئی ہوں مجھے کالج میں کُچھ سمجھ بھی نہیں آتی۔

اب وہ مدھم آواز میں بتا رہی تھی۔

یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ زمل ہے, میں ہوں۔ اور میں تمہارے لیے ایک ٹوئیٹر کا بندوبست کر دوں گا۔ بس تم اپنے ذہین سے فضول سوچوں کو نکال پھینکو۔اور اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔ وہ اب چٹکیوں میں اس کے مسائل حل کر رہا تھا۔

حریم نے سر اثبات میں ہلا دیا۔ آنکھیں سرخ اور ہلکی ہلکی سوجی ہوئی تھی چہرہ متورم سا تھا جس کو وہ ابھی بھی رگڑ رہی تھی۔

زریاب نے جوس کا گلاس حریم کی طرف بڑھایا۔

حریم نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

تمہارے لیے ہی منگوایا تھا اتنی انرجی ویسٹ کی ہے تم نے۔ وہ اس کے رونے پر چوٹ کر رہا تھا۔

اسے بےانتہا شرمندگی نے آن گھیرا تھا۔ شرمندہ ہوتے ہوئے اس نے خاموشی سے گلاس تھام لیا۔

اب تمہیں کوئی فضول سوچ نہیں سوچنی بس اپنی اسٹڈی پر فوکس کرنا ہے گاٹ اٹ!

حریم نے سر ہلا دیا۔

******

سفید ماربل کے فلور پر سنہری روشنی کا جادو پھیلا ہوا تھا۔ جھلملاتے جھاڑ فانوس کی کرنیں دیواروں پر لگے آرٹ ورک کو زندہ سا بنا رہی تھیں۔ میز پر رکھی نفیس چینی کے برتنوں میں ہلکی بھاپ اڑاتی خوشبو سارے میں پھیلی ہوئی تھی۔

زریاب ابھی سو رہا ہے؟ دادا جان کی آواز پر کھانا ٹیبل پر سجاتے ملازم نے مؤدب انداز میں جواب دیا۔

جاؤ اسے کھانے کے لیے بلا لاؤ۔ دادا جان کے حکم پر ملازم خاموشی سے وہاں سے رفوچکر ہو گیا۔ اس وقت سب لوگ ڈائننگ ہال میں موجود تھے سوائے زریاب حیدر کے۔

کچھ ہی دیر بعد دروازے کے قریب ہلکی سی آہٹ ہوئی۔سب کی نظریں یکدم وہاں کو مڑ گئیں۔ وہ لمبے قدموں سے اندر آیا… تازہ نیند کی خنکی اب بھی چہرے پر موجود، بال قدرے بکھرے ہوئے لیکن شخصیت میں وہی بے مثال وقار۔ عام سے ٹروزر, شرٹ میں ملبوس بھی وہ دلکش لگ رہا تھا آنکھوں میں نیند کا ہلکا سا سایہ تھا مگر مسکراہٹ۔وہ مسکراہٹ جیسے کمرے کی فضا ہی بدل دے۔

کچھ لمحوں کو جیسے باتوں کا سلسلہ تھم سا گیا، اور پھر ہلکی سی خوشگوار ہلچل پیدا ہوئی۔ دادا جان کی آنکھوں میں پیار،

باقی بڑوں کے انداز میں بے اختیار فخر جھلکنے لگا۔

"السلام علیکم بھاری خوبصورت آواز میں کہتے

دادا جان کے گلے ملنے کے بعد وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔

اب دادا جان اور چچا جان خیریت دریافت کرتے ہوئے لندن میں ہو چکی میٹینگ کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ البتہ بابا جان اور چھوٹے چچا خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے۔ درانی صاحب نے اپنا پروجیکٹ دینے سے منع کر دیا ہے۔ سعید پرتپش لہجے میں اچانک بولا۔ سب نے حیرانگی سے زریاب کو دیکھا تھا یہ شاید نئی بات ہی تھی۔

آپ سب جانتے ہیں میں کسی کو مجبور نہیں کرتا بہرحال یہ پروجیکٹ ہماری کمپنی کو ہی ملے گا۔

زریاب نے ایک نظر سعید کو دیکھا پھر باقی سب کو دیکھتے ہوئے اپنی ازلی مسکراہٹ سے بےنیازی سے مختصر جواب دیتے ہوئے پانی کا گلاس لبوں کو لگا لیا۔

باقی سب کے چہروں پر بھی مسکراہٹ عود آئی تھی۔ کیوں کہ سب جانتے تھے زریاب سب ٹھیک کر دے گا۔ اگر وہ کہہ رہا تھا کہ یہ پروجیکٹ انکی کمپنی کو ہی ملے گا تو سو فیصد ملے گا۔ سعید کی آنکھیں جلنے لگی تھی یہ حسد و رقابت تھی جو زریاب کی اہمیت پر اس کی آنکھوں میں جلنے لگی تھی۔

کل حمدان صاحب کی فیملی آرہی ہے۔

حیدر سارے میں پہلی دفعہ بولے تھے

سب نے حیرانگی سے دیکھا۔

فریحہ کے لیے اپنے بیٹے کا رشتہ لا رہے ہیں۔ اچھا لڑکا ہے

دیکھا بھالا بھی ہے اپنا بزنس ہے مجھے تو یہ رشتہ قابل قبول لگ رہا ہے فریحہ کے لیے۔ آپکا کیا خیال ہے بابا جان۔ حیدر صاحب اب دادا جان سے پوچھ رہے تھے۔

مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

دادا جان اس رشتے سے خوش لگ تھے۔ سب بڑے آپس میں اب اس فیصلے پر نظرثانی کر رہے تھے۔ بس جس کی زندگی کا فیصلہ ہو رہا تھا اس سے نہیں پوچھا گیا تھا اف یہ خاندانی لوگ۔۔۔

******

تم کیا کہتے ہو زریاب؟ تم تو حامد کو جانتے ہو؟ کھانے کے بعد سب لوگ لاؤنج میں بیٹھے چائے پی رہے تھے جب حیدر صاحب نے زریاب کو مخاطب کیا۔

وہ موبائل پر مصروف چائے کے چھوٹے چھوٹے سپ لے رہا تھا بابا جان کی بات پر حیران نظروں سے انہیں دیکھا۔

یہ بات آپ کو مجھ سے پوچھنی چاہیے تھی بابا جان۔

زریاب کے جواب دینے سے پہلے ہی عماد تیز آواز میں بول اٹھا۔

زریاب فریحہ کا بڑا بھائی ہے۔ حیدر صاحب نے عماد کی تیز آواز پر ناگواری سے کہا۔

فریحہ کا صرف ایک ہی بھائی ہے اور وہ میں ہوں۔ عماد کے اس طرح کہنے پر زریاب کی آنکھوں میں تکلیف ابھری تھی۔ زمل جو تھوڑی دور ہی بیٹھی ہوئی تھی عماد کی بات پر افسوس سے اسے دیکھا۔ زمل کو زریاب کے لیے برا لگا تھا۔

تم میرے باپ بننے کی کوشش مت کرو۔ عماد کے اونچی آواز پر حیدر صاحب نے غصے سے ٹوکا۔

اس سب میں زریاب اب بھی خاموش تھا۔ اس نے اپنی نظریں جھکا لی تھی۔

عماد غصے سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ دادا جان افسوس سے عماد کو جاتے دیکھ رہے تھے۔

حیدر صاحب کے اشارے پر تائی جان اس کے پیچھے گئی تھی۔

زریاب تم پریشان نہیں ہو تم تو جانتے ہو ناں کتنا جذباتی ہے وہ۔دادا جان نے زریاب کو کھڑے ہوتے دیکھ کر مدھم آواز میں کہا۔ وہ زریاب کے چہرے پر پھیلی اذیت دیکھ سکتے تھے۔

میں ٹھیک ہوں۔

وہ کمزور سی آواز میں کہتا سڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر کہیں گم ہو گیا تھا۔ پیچھے سارے لاؤنج میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

******

ماہ میں نے کہا تھا ناں کہ 2 سال میں اس لڑکی کا انتظار کروں گا اگر دوبار وہ مجھے نہ ملی تو میں امی کی مرضی سے شادی کر لوں گا۔

وہ مدھم آواز میں ساتھ بیٹھی لڑکی کو بتا رہا تھا جو سیب کھاتے ہوئے عدم توجہی سے اس کی بات سن رہی تھی۔

ہمم۔ اور اب تو تمہارے 2 سال مکمل ہونے والے ہیں شادی کی تیاریاں شروع کر دو اب ممانی جان تمہیں گھوڑی چڑھا کر ہی دم لے گیں۔

لڑکی اپنی بات پر خود ہی ہنسی تھی۔

کچھ دن پہلے میں اس لڑکی سے مل چکا ہوں۔

لڑکی کی پلیٹ سے سیب کی کاش اٹھاتے ہوئے اس نے شاید دھماکا کیا تھا۔

اس کی بات پر لڑکی کی رنگت فق ہوئی تھی۔

وہ لڑکی تو لاہور۔۔

وہ لاہور ٹریپ پر

گئی تھی۔ وہ اسلام آباد کی ہی رہنے والی ہے۔

لڑکا اس کی بات کاٹ کر بولا اسکی آواز میں خوشی بخوبی محسوس کی جا سکتی تھی۔

زیان چاچو آپ کو دادی بلا رہی ہیں۔ابھی وہ لڑکی کچھ کہتی اس سے پہلے ہی 6 سالہ نوریز بھاگتا ہوا زیان کو پیغام دیتا ماہ جبین کے ساتھ بیٹھ گیا۔

میں آتا ہوں۔ زیان مسکرا کر کہتا ہوا نوريز کے ماتھے پر پیار کرتا ہوا روم سے نکل گیا۔

پیچھے ماہ جبین کا دل اسے خالی ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔

******

وہ تمہاری پہلی ماں کا بیٹا ضرور ہے مگر تمہارا بڑا بھائی ہے تمہیں ایسے بات نہیں کرنی چاہیئے تھی عماد۔ تائی جان افسوس سے کہہ رہی تھی۔

امی آپ جانتی ہیں زریاب نے کبھی ہمیں اپنا بہن بھائی سمجھا ہی نہیں ہے۔ کبھی مجھ سے بات بھی نہیں کی۔ صرف ہم آفس کی حد تک بات کرتے ہیں۔ پھر بابا جان کیسے اس کی رائے جان سکتے تھے میری بہن کے بارے میں۔ عماد ابھی بھی شدید ناراض نظر آرہا تھا۔

جو بھی ہے وہ تمہارا بھائی ہے اور تمہیں اسکی عزت کرنی چاہیے تم نے اپنے بابا سے بھی اونچی آواز میں بات کی۔ مجھے تمہارا یہ رویہ بلکل پسند نہیں آیا۔ وہ بےحد مایوسی سے کہہ رہی تھی۔

سوری امی۔ لیکن مجھے بابا جان کی بات پر بہت دُکھ ہوا۔

اب تائی جان اسے سمجھا رہی تھی۔

اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے زریاب کے قدم ان آوازوں پر تھامے تھے۔ آنکھوں میں نمی کی لکیر اُبھری تھی۔

******

ابھی اسے کمرے میں آئے کچھ منٹ ہی ہوئے تھے جب دروازہ ناک ہوا۔

کیا میں اندر آجاؤں؟ وہ دروازے پر دو کپ لیے اجازت مانگ رہی تھی۔

تمہیں اجازت کی ضرورت نہیں؟

ابھی وہ کچھ دیر اکیلا رہنا چاہتا تھا لیکن آنے والی وہ واحد ہستی تھی جسے وہ چاہ کر بھی منع نہیں کر سکتا تھا۔ چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ اپنی اذیت چھپا چکا تھا۔

ایک کپ اسے پکڑاتے وہ کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی۔ زریاب نے غور سے زمل کو دیکھا جو شائد بات شروع کرنے سے پہلے لفظوں کا چناؤ کر رہی تھی۔ وہ کافی الجھن کا شکار لگ رہی تھی۔ وہ شاید اسے دلاسہ دینے آئی تھی یا اس کی اداسی دور کرنے آئی تھی۔وہ اس کی سوچ پر مسکرایا۔

“How was your first day at job…”

اس کی کسی بھی ہمدردی سے پہلے ہی وہ موضوع بدل چکا تھا۔

اس کے غیر متوقع سوال پر زمل نے اسے دیکھا وہ نارمل لگ رہا تھا وہ حیران ہوئی تھی اتنی جلدی کیسے اس نے اپنے احساسات چھپائے شاید وہ اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا زمل نے سوچا۔

So weird…

کچھ دیر بعد زمل نے قدرے جھنجلا کر جواب دیا۔

ہاہاہا۔۔۔

? why's that

زمل کے تاثرات دیکھ کر اسے ہنسی آئی۔

پہلا دن تھا کُچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ مجھے اپنا آپ ایک مشین لگ رہا تھا وہاں۔

اور اوپر سے مجھے ایک بند کیس دے دیا ہے۔

زمل کو اپنے سارے دکھ یاد آئے۔

یہ تو اچھی بات ہے، لگتا ہے انکو کو پہلے ہی دن سمجھ آ گیا کہ یہ کام صرف تم ہی پرفیکٹ کر سکتی ہو۔

زریاب نے اسے ہمت دلائی۔

ابھی تو مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی۔ زمل اس کی بات پر ایمپریس نہیں ہوئی تھی کیوں کہ وہ جانتی تھی اگر وہ زیرو پر بھی ہو گی زریاب تب بھی اسے ہائی پوائنٹس پر ہی ازبر کرے گا۔

I know you can do it.

وہ اٹھ کر اپنی کبڈ تک گیا۔

زمل جواب میں خاموش ہی رہی۔ وہ دیکھ سکتی تھی واپس آتے ہوئے اس کے ہاتھ میں ایک کرسٹل کا ایک پیارا سا باکس تھا۔

Open it۔

زمل کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے آہستگی سے کہا۔

یہ کیا ہے؟ باکس پکڑتے ہوئے زمل نے پرجوش انداز میں پوچھا۔

لندن میں تمہارے لیے مجھے پسند آیا تو میں نے خرید لیا۔

Wow beautiful۔۔

اندر وائٹ گلاب تھا۔اسے دیکھتے ہی بے ساختہ اس نے کہا۔

یہ پھول نہیں ہے الیکٹریکل لیمپ ہے۔ زریاب نے اپنے ہاتھ میں پھول پکڑتے ہوئے اس کی تار کو پلگ پوائنٹ میں لگایا۔

اچانک خوبصورت سی روشنی اردگرد پھیلنے لگی۔

یہ بہت پیارا ہے۔ لیکن اگر اس کی جگہ آپ مجھے ایک اصلی گلاب دیتے تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔ کم از کم خوشبو تو آتی۔

لیمپ کی روشنی کو دیکھتے ہوئے زمل نے کہا۔

میں تمہیں ایک دو دن کی خوشبو کے لیے ایسے پھول بھی نہیں دے سکتا جو مرجھا جائیں۔ وہ عجیب سے لہجے میں بولا تھا۔

ایک تو مجھے آپ کی فلاسفی کی سمجھ نہیں آتی۔

زمل نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔

اس کی بات پر وہ بے ساختہ ہنسا تھا۔

چلو کم از کم میری فلاسفی نے تمہیں سوچنے پر تو مجبور کیا۔ وہ ہنسنے کے درمیان بولا۔ ہنستے ہوئے اسکی کیتھی آنکھیں چھوٹی ہو جاتی تھی۔ وہ ہمیشہ مسکراتا رہتا تھا لیکن ہنستا کبھی کبھار ہی تھا کیا اسے پتہ تھا وہ ہنستے ہوئے کتنا اچھا لگتا تھا؟

تو آپ کے کہنے کا مطلب ہے میں سوچتی نہیں ہوں۔ زمل نے صدمے سے اسے دیکھا۔

میں ایسی گستاخی کر سکتا ہوں بھلا۔ زریاب اب کے سنجیدگی سے بولا۔

زمل نے خاموشی سے اسے دیکھا۔ صد شکر۔ وہ اب ٹھیک لگ رہا تھا۔

آپ کو عماد بھائی کی بات بری لگی۔

زمل نے ہچکیچاتے ہوئے پوچھا۔

نہیں۔ مجھے اسکی بات بری نہیں لگی۔شاید وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ زریاب مدھم آواز میں بولا تھا۔

زمل کا دل بری طرح دکھا۔

آپ اداس نہ ہوں۔

مجھے پتہ ہے آپ بہت اچھے ہیں۔ آپ اپنا دل برا نہ کرے۔ وہ اسے اب سمجھا رہی تھی۔ زریاب نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔ زمل کو فکر تھی اسکے اداس ہونے کی زریاب کو خوشی سی محسوس ہوئی۔

اوکے اب میں چلتی ہوں صبح آفس بھی جانا ہے۔

زمل باکس پکڑتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ زریاب نے سر کو جنبش دی۔

وہ کمرے سے نکل گئی تو سارا کمرہ خاموش ہو گیا,اداس بھی شاید زریاب کا دل بھی۔

******

رات کی ٹھنڈی چاندنی ونیشین بلائنڈز کی پٹیوں سے کمرے میں داخل ہو رہی تھی، جیسے کسی نے اندھیرے کو خاموشی سے چیر دیا ہو۔

حریم کی نظریں اس چاندی سی روشنی پر پڑیں اور وہ ہلکی سی بھنویں چڑھا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

اسے چاند ہمیشہ بےجان سا لگا تھا، ایک خاموش گواہ جو سب دیکھتا ہے مگر کچھ کہتا نہیں۔

وہ آہستہ سے بڑھی اور بلائنڈز کی ڈوری کھینچ دی۔چاندنی کے دھاگے کٹ کر گم ہو گئے، اور کمرہ پھر سے مکمل اندھیرے میں ڈوب گیا… جیسے اس نے باہر کی دنیا کا منہ بند کر دیا ہو۔

واپس بیڈ پر لیٹ کر وہ چھت کو گھورنے لگی۔ آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔ وہ کیا کرے آخر؟

زندگی اتنی بدصورت تو کبھی نہیں لگی تھی۔ دروازے کے کھلنے پر وہ بازو آنکھوں پر رکھ چکی تھی۔

حریم تم ٹھیک ہو؟ وہ پاس آتی اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر چیک کر رہی تھی۔

تم رو رہی ہو؟۔ مقابل پریشان ہوئی تھی۔ حریم اٹھتے اس کے گلے لگ کر رونا شروع ہو چکی تھی۔

کیا ہوا ہے؟ اس نے پریشانی سے پوچھتے اس کی پشت تھپکی۔

زمل کوئی نہیں میرے پاس؟ روتے روتے وہ بہت بےبسی سی بولی تھی۔ زمل کے دل کو بے اختیار کچھ ہوا؟

میں ہوں ناں۔ ادھر دیکھو میری طرف۔ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے زمل نے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔

کیا ہوا ہے مجھے بتاؤ۔ رزلٹ کی وجہ سے پریشان ہو۔ و اب تحمل سے پوچھ رہی تھی۔

مجھے کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔ رات ہوتی ہے تو میرا دل بند ہونا شروع ہو جاتا۔ سارا دن چین نہیں آتا۔ بےبسی اس کی آواز سے بخوبی جھلک رہی تھی۔

مجھے تایا جان نے بہت بری طرح ڈانٹا۔ کسی نے مجھ سے آکر یہ نہیں پوچھا میں ٹھیک تو ہوں۔

ششس۔ ریلکس ہو جاؤ۔ تایا جان برے نہیں ہیں بس وہ تھوڑے سخت مزاج ہیں۔

زمل اب پیار سے اسے سمجھا رہی تھی۔

زمل تم اتنا پوزیٹو کیسے سوچ لیتی ہو۔ وہ اب حسرت سے پوچھ رہی تھی۔

تم پاگل ہو حریم اگر ہم چھوٹی چھوٹی باتیں پکڑ کر بیٹھ جائیں گے تو زندگی کیسے گزرے گی۔

“Be strong”

تم تو ہمارے خاندان کی سب سے ہونہار لڑکی ہو۔ تم سے مجھے یہ امید بلکل نہیں تھی۔ وہ اب پیار سے اسے ڈپٹ رہی تھی۔

اب میں ناکارہ ہو چکی ہوں زمل۔ مجھے کسی کی کوئی بات سمجھ ہی نہیں آتی۔ وہ اب بھی بے حد مایوس نظر آرہی تھی۔

ہم ناکارہ ہوتے نہیں ہیں خود کو خود بناتے ہیں۔

اور یہ تمہاری خام خیالی ہے کہ تم ناکارہ ہو چکی ہو۔ عظیم اور ذہین لوگ کبھی ناکارہ نہیں ہوتے۔ سمجھ آئی۔ وہ مدھم آواز میں شائستگی سے بول رہی تھی۔

حریم کا دل کیا وہ سب کچھ بتا دے زمل کو۔ پھر پھر وہ چپ ہو گئی۔ ایسا کرنے سے وہ زمل کو کھو دے گی اور وہ اپنی بہن کو نہیں کھو سکتی تھی۔ ہاں وہ زمل کو نہیں کھو سکتی تھی۔ دل کا کیا ہے دل ہی تو ہے۔ وہ اداسی سے مسکرائی۔

کوئی بھی بات ہے تو تم مجھے بنا کسی تردد کے بتا سکتی ہو۔ ہم پارٹنرز ہیں اوکے۔

زمل نے اس کا گال چھوتے ہوئے کہا۔

زمل مجھے کچھ بتانا ہے لیکن مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔پتہ نہیں کیسے لیکن وہ کہہ گئی تھی۔

ڈر کس بات کا۔ بتاؤ جو بھی بات ہے کھل کر بتاؤ۔

زمل نے جلدی سے کہا۔

مجھے ڈر لگتا ہے پھر سب کچھ بدل جائے گا۔ میں ابھی تمہیں نہیں بتا سکتی۔ حریم نے بےبسی سے کہا۔ اسے ڈر تھا پھر کہیں زمل ہی نہ بدل جائے۔ پھر تو وہ اکیلی ہو جائے گی۔ اور وہ کبھی اکیلی نہیں ہونا چاہتی تھی۔اسے ڈر لگتا تھا تنہائی سے۔

میں انتظار کروں گی۔ جب تمہیں ٹھیک لگے تب بتا دینا۔ میں ہمیشہ موجود ہوں بس تم ٹھیک ہو جاؤ تم ہمیشہ ہنستی مسکراتی ہی اچھی لگتی ہو۔

حریم نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔ ہاں وہ واقعی زمل کو نہیں کھو سکتی تھی۔وہ بہت اچھی تھی۔

چلو اٹھو نوڈل بناتے ہیں اور پھر آرام کریں گے۔ اسے بازو سے اٹھاتے ہوئے زمل نے کہا۔ کچن میں جاتے ہوئے انکی آوازیں مدھم ہوتی جا رہی تھی۔

******

اگلا دن معمول سے ہٹ کر تھا۔ سارے گھر میں افراتفری کا عالم تھا۔ آج رات مہمان آ رہے تھے۔

تائی جان اور امی جان گن چکر بنی ہوئی تھی۔

لاؤنج کی سڑھیاں چڑھ کر اوپر بنی راہداری میں سب سے پہلے کمرے میں چلو تو وہاں کا ماحول بہت پرسکون تھا۔

کمرے میں ہلکی سی ایرکنڈیشن کی ٹھنڈی ہوا اور کھڑکی سے چھن کر آتی صبح کی روشنی، سب کچھ اس کے انداز میں ایک خاص وقار شامل کر رہے تھے۔

آئینے کے سامنے کھڑا، وہ چارکول گرے تھری پیس سوٹ کے کف لنکس آہستگی سے لگا رہا تھا۔ سفید شرٹ کی چمک اس کے پرکشش نقوش اور دودھیا رنگت کو اور نمایاں کر رہی تھی، گلے میں سلک کی نیوی بلو ٹائی جس پر باریک چاندی کے ڈیزائن جھلملاتے تھے۔چمکتے ہوئے پالش شدہ آکسفورڈ جوتے اور ہاتھ میں وہ گھڑی جس کا ڈائل سلور رنگ میں چمک رہا تھا۔

سامنے ڈریسنگ ٹیبل سے اُس نے ایک کریسٹ والی بوتل اُٹھائی۔ Creed Aventus۔

بوتل کا ڈھکن کھلا اور ایک دھیرے سے خوشبو فضا میں گھل گئی۔دھوئیں کی ہلکی سی تپش، اور عود کی گہری سرگوشی۔وہ خوشبو جیسے کمرے کی دیواروں تک کو اس کے جاذبِ نظر ہونے کا اعلان کر رہی تھی۔آئینے میں ایک آخری نظر ڈالتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری، یہ خود پر فخر کی مسکراہٹ تھی۔ سٹینڈرڈ سے اپنا کوٹ اٹھا کر پہنتے ہوئے پرفیوم کے دو تین سپرے اور کیے۔ موبائل اور کار کیز اٹھاتے ہوئے وہ کمرے سے نکلتا چلا گیا۔

ڈائننگ روم میں اس وقت صرف دادا جان,حریم,زمل اور چھوٹی چچی موجود تھی۔

وہ بے نیازی سے چلتا ہوا آیا دادا جان کے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دیتے ہوئے ان کے قریب ہی بیٹھ گیا۔ دادا جان تو اسے دیکھتے ہی نہار ہو گئے تھے۔

حریم یونیفارم پہنے آج کچھ بہتر لگ رہی تھی۔ زمل عام سے ہی حلیے میں تھی۔

تمہیں آفس نہیں جانا۔ جوس گلاس میں انڈیلتے ہوئے زریاب نے زمل سے پوچھا۔

نہیں مجھے انویسٹیگیشن کے لیے آج ایک جگہ جانا ہے اس لیے تھوڑی دیر تک جاؤں گی۔ زمل نے ایک نظر دادا جان کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ زریاب نے بریڈ پر اسپریڈ لگاتے ہوئے سمجھنے کے انداز میں سر ہلا۔

حریم نے اپنا ناشتہ مکمل کرتے ہوئے بیگ اٹھایا اور اللّٰہ حافظ کہتے ہوئے ڈائننگ روم سے نکل گئی۔

چلو میں تمہیں کالج چھوڑ دیتا ہوں۔ زریاب نے اسے وین کا انتظار کرتے دیکھا تو مسکراتے ہوئے پیشکش کی۔

نہیں میں چلی جاؤں گی بس وین آنے ہی والی ہے۔ حریم نے کچھ ہچکیچاتے ہوئے کہا۔

میں فارمیلٹی نہیں نبھا رہا۔ تمہارا کالج مجھے راستے میں ہی پڑتا ہے چلو۔ زریاب نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو حریم کو مجبوراً چلنا پڑا۔

******

زمل بیٹا آج جانے کی کیا ضرورت تھی۔ کل بھی تم سات بجے گھر پہنچی ہو۔ آج بھی لیٹ ہو گئی تو تمہارے تایا بلا وجہ غصہ ہوں گے۔ اس وقت دو بج رہے تھے۔ زمل جانے کو تیار کھڑی تھی جب امی نے آ کر سمجھایا۔ وہ اس وقت نفیس سے زمرد رنگ کے کرتا شلوار میں ملبوس بہت خوبصورت لگ رہی تھی سٹریٹ لمبے بال چوٹی سے کیچر مقید باقی کھلے چھوڑ رکھے تھے جو کمر تک لہروں کی صورت میں آتے پیارے لگتے تھے۔ دوپٹہ ایک شانے پر تھا۔ آف وائٹ ہینڈ بیگ ہاتھ میں پکڑے۔ پیروں میں پلین آف وائٹ جوتے تھے وہ دراز قد تھی۔ سنہری اور براؤن رنگ کے امتزاج کی آنکھیں, صاف رنگت, خوبصورت نقوش کی حامل وہ بہت پیاری لگتی تھی۔

میں تین گھنٹوں تک واپس آ جاؤں گی۔ اور مہمانوں نے تو نو بجے کے قریب آنا ہے۔ آپ ٹینشن نہیں لیں۔ اب میں چلتی ہوں۔

ماں کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے وہ ڈرائنگ روم عبور کر چکی تھی۔

پیچھے امی آیۃ الکرسی پڑھ کر اس پر پھونک رہی تھی۔

سیدھ میں چلتی اس لڑکی کو نہیں معلوم تھا وہ کتنی بڑی غلطی کر چکی ہے یہ جاب کر کے۔ شاید وہ پوری زندگی اس پر پچھتانے والی تھی؟

اور آج کا دن اس پر کتنا بھاری پڑنے والا تھا۔ (کس کو معلوم)؟

اگلی قسط انشاءاللہ آئندہ ماہ۔۔۔

Episodes
Episodes

Updated 1 Episodes

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play