وزیرآباد میرے لیے گھر نہیں تھا،
یہ محض ایک قیام گاہ تھی—
ایسی جگہ جہاں آدمی زیادہ دیر نہیں ٹھہرتا
اور کم باتیں کرتا ہے۔
میں گیسٹ ہاؤس کے کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا۔
سامنے میز،
میز پر چائے کا کپ،
اور اس کے نیچے دبا ہوا آج کا اخبار۔
کھڑکی کے باہر
لوہے کے کارخانے کی بھٹی جل رہی تھی،
دھواں اوپر اٹھتا
اور بغیر نشان چھوڑے بکھر جاتا۔
میں نے اخبار کا پہلا صفحہ نہیں دیکھا۔
وہ خبریں عوام کے لیے ہوتی ہیں،
میرے لیے نہیں۔
اصل خبر
ہمیشہ اندر کے صفحے پر ہوتی ہے—
جہاں الفاظ چھوٹے
اور مطلب بڑا ہوتا ہے۔
تیسرے صفحے کے نچلے حصے میں
ایک خبر میری نظر پر رک گئی۔
“بلوچستان کے غیر رسمی راستوں سے
ایران میں بیرونی خفیہ نیٹ ورکس کی نقل و حرکت—
ذرائع خاموش”
میں نے چائے کا آخری گھونٹ لیا
اور موبائل اٹھایا۔
ایک نمبر تھا
جو میں نے خود محفوظ نہیں کیا تھا،
مگر یاد تھا۔
یہ وہ رابطہ تھا
جو خبر پڑھ کر نہیں،
خبر سمجھ کر کیا جاتا ہے۔
رِنگ جانے میں کچھ لمحے لگے۔
پھر آواز آئی:“اتنے عرصے بعد یاد آیا؟”
میں نے کہا:
“آج خبر نے مجبور کر دیا ہے۔”
وہ ہلکا سا ہنسا۔
“خبر یا نیت؟”
میں نے کھڑکی سے باہر گلی کو دیکھا۔
“دونوں ایک ہی دن جاگے ہیں۔”
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر اس نے کہا:
“وزیرآباد میں ہو؟”
“ہاں۔”
“تو کہیں مت جانا۔
آج تمہیں جانا نہیں،
بلایا جائے گا۔”
فون بند ہو گیا۔
شام تک میں نے خود کو مصروف رکھا اب شام ڈھلنے لگی
تو کمرے کی خاموشی بھاری ہو گئی۔
شام سات بجے
دوبارہ فون آیا۔اور اسنے کہا
“اب تم نکل سکتے ہو
پرانا گودام،
ریلوے لائن کے ساتھ۔”
میں نے پوچھا:
“کس حوالے سے؟”
جواب ایک لفظ کا تھا:
“ایران۔”فون بند ہوا تو
کمرہ پہلے سے زیادہ خاموش ہو گیا۔
ایسی خاموشی جس میں دیواریں بھی سننے لگتی ہیں۔
میں نے جیکٹ اٹھائی۔
جیب میں موبائل رکھا،
دوسری جیب میں نوٹ بک—
وہی نوٹ بک
جس میں میں نام نہیں،
اشارے لکھتا ہوں۔
گیسٹ ہاؤس سے باہر نکلا
تو وزیرآباد کی شام
اپنی اصل صورت میں تھی۔
بازار بند ہونے کو تھا،
چائے کے کھوکھے روشن تھے
اور لوگ
اپنی اپنی فکر کے ساتھ گھروں کو لوٹ رہے تھے۔
میں کسی کا حصہ نہیں تھا۔
نہ اس شہر کا،
نہ اس وقت کا۔
سڑک کنارے ایک رکشہ رکا۔
ڈرائیور نے مجھے نہیں دیکھا،
میں نے اسے آواز دی۔
“ریلوے لائن جانا ہے۔
پرانا گودام۔”
اس نے ایک لمحہ
آئینے میں مجھے دیکھا۔
ایسے جیسے تول رہا ہو
کہ سوال کرے
یا خاموش رہے۔
پھر بولا:
“ٹھیک ہے۔ بیٹھیں۔”
رکشہ چل پڑا۔
انجن کی آواز
میرے خیالوں کو کاٹتی رہی۔
راستے میں
میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
یہ وہی شہر تھا
جہاں لوگ دن گزارنے آتے ہیں—
اور کچھ لوگ
کہانیاں اٹھانے۔
ہر موڑ پر
دل کہہ رہا تھا:
یہ صرف خبر نہیں،
یہ دروازہ ہے۔
ریلوے لائن کے قریب
رکشہ آہستہ ہو گیا۔
ڈرائیور نے خود کہا:
“آگے رکنا ہے؟”
“یہیں۔”
میں نے کرایہ دیا۔
اس نے پیسے گنے بغیر رکھ لیے۔
شاید اسے اندازہ تھا
کہ آج سوال کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔
گودام
دور سے ہی پہچانا جا سکتا تھا۔
زنگ آلود دروازہ،
ٹوٹا ہوا بورڈ،
اور اندر
ہلکی سی پیلی روشنی۔
میں نے قدم آہستہ کیے۔
دروازہ آدھا کھلا تھا۔
اندر داخل ہوا
تو نمی اور تیل کی بو
ایک ساتھ محسوس ہوئی۔
کمرے کے بیچ
لکڑی کی میز تھی۔
اس کے پیچھے
ایک شخص بیٹھا تھا۔
وہ کرسی سے اٹھا۔
ہم نے ہاتھ ملایا۔
ایسی ملاقاتوں میں
سلام دعا آنکھوں سے ہوتی ہے۔
اس نے بس اتنا کہا:
“بیٹھو۔”
میں بیٹھ گیا۔
لکڑی کی کرسی چرچرا اٹھی—
جیسے اسے بھی معلوم ہو
کہ یہاں وزن جسم کا نہیں
فیصلوں کا ہوتا ہے۔
وہ بولا:
“ایران اس وقت
صرف ایک ملک نہیں۔
یہ آئینہ ہے—
جس میں ہر طاقت
اپنا عکس دیکھنا چاہتی ہے۔”
میں نے نوٹ بک کھول لی۔
اسنے کہا“وہاں بہت سے لوگ
حقوقِ انسانی کا نام لے کر
دوسروں کے مفادات نبھاتے ہیں۔
کوئی خود کو محقق کہتا ہے،
کوئی میڈیا نمائندہ—
اور کچھ
خاموشی سے
انٹیلیجنس کے کام کرتے ہیں۔”
اس نے ایک فائل میز پر رکھی۔
بند۔
“یہ نام نہیں،
کردار ہیں۔
اور کردار
ہر سرحد پار کر لیتے ہیں۔”
میں نے پوچھا:
“مجھ سے کیا چاہیے؟”
وہ بولتا رہا:
“ایران کے اندر
کچھ نیٹ ورکس
مدد کے نام پر
نفرت پھیلا رہے ہیں۔
کچھ صحافی بن کر
کہانیاں تراشتے ہیں—
اور کچھ
اسرائیلی مفادات کے لیے
خاموش راستے بناتے ہیں۔”
میں نے کہا:
“اور میں؟”
اس نے ہلکا سا سانس لیا۔
“کہ تم تہران جاؤ۔
صحافی بن کر نہیں—
صحافی رہ کر۔”
میں نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“فرق باریک ہے۔”
وہ سنجیدہ رہا۔اور پھر بولا
“بارڈر بلوچستان سے کراس کرو گے۔
غیر رسمی۔
اگر مسئلہ بنا
تو ہم تمہیں نہیں جانتے۔”
”میں نے مسکرا کرکہا“مجھے کسی بیک اَپ کی ضرورت بھی نہیں
پھرمیں نے پوچھا:
“تو میرا کام صحافت ہے،
لیکن اصل میں؟”
اس نے میری طرف دیکھا، آنکھوں میں شدت، اور بولا:
“صحافی کے موڈ میں جاؤ، باتیں کرو، تصاویر دیکھو، سوال پوچھو،
لیکن بیچ میں تمہیں یہ رپوٹ فائل سنبھالنی ہوگی۔
تمہیں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہے۔
کوئی بھی چھوٹی سی غلطی، کی تو نتائج تمہارے ہاتھ میں نہیں رہیں گے۔
سمجھ گئے؟”میں نے سر ہلایا اور کہا
میں خود دیکھوں گا کہ کس طرح اور کونسے راستے جانا ہےمیں اپنی سمت اور طریقہ کار خود تعین کروں گا۔”
اس نے مسکرا کر کہا:
“اور یہ جو بلوچستان کا راستہ ہے، وہ آسان نہیں تمہیں پہاڑی راستوں سے جانا ہے۔
کوئی ہنگامی صورت میں رکاوٹ آئے تو تمہیں اپنی سوچ، اپنی مہارت اور اپنے رابطے استعمال کرنے ہوں گے۔”
اگر تم ہمارے بتائے ہوئے راستے سے جاؤ گے تو شاید زیادہ آسانی ہوگی،
مگر وہاں بھی خطرہ ہے۔
اور اگر اپنے طریقے سے کسی متبادل راستے پر گئے،
تو وہ فیصلہ تمہاری ذمہ داری ہوگی۔”
میں نے پوچھا:
“اور اگر وہ لوگ پہچان گئے؟”
وہ ہلکا سا ہنسا، مگر ہنسی میں کوئی خوشی نہیں تھی:
“پہچانیں گے تو؟ شاید۔
مگر تمہاری رسائی، تمہاری پوشیدگی اور تمہاری معلومات
وہیں سے نکلیں گی جہاں سب کچھ چھپتا ہے۔
تمہیں ان کے درمیان گھلنا ہے،
لیکن کبھی بھی مکمل طور پر نظر نہ آنا۔”
میں نے فائل دوبارہ دیکھ کر کہا:
“تو یہ سب کچھ… میرے ہاتھ میں ہے؟”
اس نے فائل میری طرف بڑھائی، اور ہاتھ ہٹا کر کہا:
“اب یہ تمہارا کام ہے۔
ہم دونوں کا تعلق یہاں ختم ہوتا ہے۔
وزیرآباد کی شام، یہ گودام، یہ راز—سب تمہارے ساتھ۔
بس یاد رکھو، یہ صحافی کا روپ تمہیں بچائے گا،اور حقیقت کے دروازے تک پہنچائے گا۔”اور اب یہ بتاٶ سفر کب شروع کرو گے
میں نے کہا:
ابھی
وہ چونکا۔
“ابھی؟”
میں نے کہا“ہاں ابھی۔
کیونکہ جو سفر
سوچ کر یا گھر جا کر کیا جائے
وہ اکثر ادھورا رہ جاتا ہے۔”
اس نے فائل بند کی۔
“تو پھر خوش آمدید،
سرحد کے پار۔”
ہماری بات چیت ختم ہوئی۔
پھر آخری سلام کیا، آخری ہاتھ ملایا—
میں نے نوٹ بک جیب میں رکھی، جیکٹ اوڑھی، اور گودام سے باہر نکلا اور واپس گیسٹ ہاؤس اگیا نہ کوئی ٹیم،
نہ کوئی نام،
نہ کوئی شناخت—
صرف ایک ارادہ۔
یہ کوئی مشن آرڈر نہیں تھا،
نہ کسی ادارے کی ہدایت۔
یہ وہ جنگ تھی
جو آدمی خود اپنے اندر شروع کرتا ہے،
اور اکثر
اکیلی ہی لڑنی پڑتی ہے۔
میں جانتا تھا
اگر میں رکا،
تو یہ کہانی
وہیں مر جائے گی
جہاں سے شروع ہوئی ہے
کچھ فیصلے
لکھنے سے پہلے
سوچ مانگتے ہیں۔
میں جانتا تھا
میرا مقصد
واضح ہے—
ایران پہنچنا۔
سوال صرف یہ تھا:
کس بھیس میں؟
کس ہجوم کے ساتھ؟
کس خاموشی میں؟
سب سے پہلا خیال
جہاز کا آیا۔
یہ سب سے آسان راستہ تھا۔
ٹکٹ لو،
بورڈنگ کرو،
اور چند گھنٹوں میں
دوسری زمین۔
مگر یہی آسانی
اصل مسئلہ تھی۔
جہاز
سوال نہیں پوچھتا،
لیکن نظام پوچھتا ہے۔
کہاں جا رہے ہو؟
کیوں جا رہے ہو؟
کتنے دن؟
واپسی کب؟
یہ وہ سوال ہوتے ہیں
جن کا ایک ہی جواب
بار بار نہیں دیا جا سکتا۔
اور پھر
ایک اور بات تھی—
جہاز میں
ہر حرکت ریکارڈ ہوتی ہے۔
ہر نشست،
ہر وقت،
ہر چہرہ۔
میں جانتا تھا
میرا جانا
اتنا سیدھا نہیں
جتنا نظر آتا ہے۔
اسی سوچ میں
ایک خیال
آہستہ سے ابھرا۔
زائرین۔
وہ لوگ
جو ہر سال
نکلتے ہیں،
لَوٹ آتے ہیں،
اور انکے نام
کسی فائل میں درج نہیں ہوتے۔
میں نے خود سے کہا:
شاید یہی راستہ
مجھے وہاں تک لے جائے
جہاں میرا کام ہے۔
فیصلہ
اسی رات ہو گیا۔
اگلی صبح
میں وزیرآباد میں نہیں تھا۔
میں گجرانوالہ کی طرف
نکل چکا تھا۔
گجرانوالہ
میرا شہر نہیں تھا،
مگر یہاں
حرکت زیادہ تھی۔
فضا میں
نمی تھی،
ہلکی سی گرد،
اور لوگوں کے چہروں پر
ایک مخصوص جلدی۔
پہلے دن
میں صرف
دیکھتا رہا۔
کہاں لوگ رکتے ہیں،
کہاں بات کرتے ہیں،
اور کہاں
خاموش ہو جاتے ہیں۔
یہ وزیرآباد کی طرح خاموش نہیں تھا۔
یہاں شہر بولتا ہے۔
بینروں سے، پوسٹروں سے،
اور امام بارگاہوں کے باہر لگے چھوٹے چھوٹے اسٹالوں سے۔
میں نے پہلا پڑاؤ
شیرانوالہ باغ کے قریب کیا۔
وہاں ایک پرانی امام بارگاہ ہے،
جس کے باہر
ہر سال زائرین کے قافلوں کے پوسٹر لگتے ہیں۔
ایک پوسٹر پر میری نظر رک گئی مشہد مقدس — براستہ کوئٹہ
زائرین کی مکمل سہولت
قافلہ ہر پندرہ دن بعد
میں نے پوسٹر کو غور سے دیکھا۔
فون نمبر یاد کیا،
لیکن کال نہیں کی۔
کیونکہ ایسی جگہوں پر
فون کم،
سامنے بیٹھ کر بات زیادہ ہوتی ہے۔
امام بارگاہ کے اندر داخل ہوا۔
اندر قالین بچھے تھے،
کونے میں دو تین لوگ تسبیح پڑھ رہے تھے،
اور ایک طرف
دو آدمی آہستہ آواز میں بات کر رہے تھے۔
میں نے ایک بزرگ سے پوچھا:
“زائرین کے قافلے کا دفتر کہاں ہے؟”
انہوں نے مجھے دیکھا،
میرے چہرے کو نہیں —
میرے ارادے کو۔
پھر آہستہ سے بولے:
“باہر گلی میں
دوسری دکان۔
نیلی شٹر والی۔”
دکان چھوٹی تھی۔
سامنے شیشے کے پیچھے
کربلا اور مشہد کی تصویریں،
اور دیوار پر
پرانے پاسپورٹس کی فوٹو کاپیاں۔
میں اندر داخل ہوا۔
ایک آدمی کرسی پر بیٹھا تھا،
چالیس کے قریب عمر،
داڑھی تراشی ہوئی،
آنکھیں بہت زیادہ دیکھ چکی تھیں۔
اس نے سر اٹھا کر کہا:
“جی؟”
میں نے کہا:
“ایران جانا ہے۔
زائرین کے ساتھ۔”
اس نے فوراً سوال نہیں کیا۔
بس پوچھا:
“پہلی دفعہ؟”
“ہاں۔”
وہ کرسی سے ذرا آگے ہوا۔
اب بات شروع ہو چکی تھی۔
اس نے کہا:
“دیکھیں بھائی،
ہم قافلے میں لے کر جاتے ہیں۔
سب کچھ ہمارے ذمے۔
بس آپ کو ہمارے طریقے پر چلنا ہوگا۔”
میں نے کہا:
“تفصیل؟”
وہ مسکرایا۔
یہ وہ مسکراہٹ تھی
جو صرف ٹریول ایجنسی والوں کے پاس ہوتی ہے۔
“پہلے پیسے۔
پھر کاغذات۔
پھر قافلہ۔”
میں خاموش رہا۔
وہ خود بولتا گیا:
“60000 روپے لگیں گے۔
اس میں سفر، رہائش،
اور بارڈر کراسنگ شامل ہے۔”
میں نے پوچھا:
“کاغذات میں؟”
اس نے انگلیوں پر گننا شروع کیا:
“اصل پاسپورٹ — کم از کم چھ ماہ ویلیڈ
چار تصویریں
شناختی کارڈ کی کاپی
اور ایک ضامن کا نمبر”
میں نے پوچھا:
“ویزہ؟”
وہ ہنسا:
“زائرین کو
ویزہ ہم لگوا دیتے ہیں۔
آپ کو لائن میں نہیں لگنا پڑتا۔”
میں نے پوچھا:
“سفر کیسے ہوگا؟”
اب وہ پوری طرح کھل چکا تھا۔
“بسوں میں۔
گجرانوالہ سے کوئٹہ۔
وہاں ایک دن رکاؤ۔
پھر تفتان بارڈر۔
چیکنگ ہوتی ہے،
لیکن قافلے میں ہو
تو آسانی ہو جاتی ہے۔”
میں نے پوچھا:
“کتنے لوگ ہوتے ہیں؟”
“پچاس سے ساٹھ۔
عورتیں، بوڑھے، بچے۔
اسی لیے کوئی زیادہ پوچھ گچھ نہیں کرتا۔”
میں نے آہستہ سے کہا:
“اور اگر کوئی مسئلہ ہو؟”
وہ سنجیدہ ہو گیا۔
“بھائی،
قافلے میں
الگ سوچنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
جو کہا جائے،
وہی کرنا ہوتا ہے پھر مزید ان سے تھوڑی بات چیت ہوئی او پھر میں واپس اگیا
آٹھ دن گزر گئے تھے۔
گجرانوالہ میں دن لمبے نہیں ہوتے،
بس باتیں لمبی ہو جاتی ہیں۔
میں ہر صبح
کسی نئی امام بارگاہ کے بارے معلومات لیتا
اور ہر شام
کسی نہ کسی ٹریول ایجنسی کے سامنے بیٹھا ہوتا۔
پھر دسویں دن
میں نے خود کو ایک اور دکان میں پایا۔
یہ دکان پہلے والی سے بڑی تھی۔
دیوار پر بڑے بڑے بینر،
میں اندر داخل ہوا۔
سامنے بیٹھا شخص
پچپن کے قریب عمر کا تھا،
چہرے پر عبادت اور کاروبار
دونوں کے نشان تھے۔
اس نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
میں نے کہا:
“مجھے مکمل طریقہ کار جاننا ہے۔
میں جلدی میں نہیں ہوں۔”
وہ مسکرایا۔
“جو جلدی میں آتے ہیں
وہ اکثر راستے میں رہ جاتے ہیں۔”
پھر اس نے بولنا شروع کیا۔
“دیکھو،
قافلہ پچپن بندوں کا ہوتا ہے۔
ہر بندے کی لسٹ بنتی ہے۔
نام، پاسپورٹ نمبر،
گھر کا پتہ،
اور ایک قریبی رشتہ دار کا فون نمبر۔”
میں نے پوچھا:
“یہ لسٹ کہاں جاتی ہے؟”
اس نے لمحہ بھر توقف کیا۔
پھر کہا:
“بارڈر والوں تک۔
اور آگے بھی۔”
یہی وہ جملہ تھا
جس نے میرے اندر
ایک دروازہ بند کر دیا۔
وہ مزید بتاتا گیا:
“ہم کوئٹہ میں دو دن رکتے ہیں۔
وہاں زائرین کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔
پھر بسیں بدلتی ہیں۔
پاسپورٹ عارضی طور پر
ہمارے پاس جمع رہتے ہیں۔”
میں نے چونک کر پوچھا:
“پاسپورٹ کیوں؟”
اس نے عام لہجے میں کہا:
“ڈسپلن کے لیے۔
کوئی بھاگ نہ جائے۔”
میں نے سر ہلایا،
لیکن اندر
میرے قدم رک چکے تھے۔
کیونکہ
جس نے اپنا پاسپورٹ چھوڑ دیا
وہ اپنی شناخت بھی چھوڑ دیتا ہے۔
ایک اور زائر
جو پاس بیٹھا تھا
بات میں کود پڑا:
“بھائی،
ہم تو ہر سال جاتے ہیں۔
کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔”
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
وہ سچ بول رہا تھا۔
لیکن وہ وہ سچ تھا
جو صرف واپس آنے والوں کا ہوتا ہے۔
میں نے اگلے دن
ایک اور ایجنسی کا رخ کیا۔
یہاں بات اور صاف تھی۔
ایجنسی والا بولا:
“آپ مشہد جائیں گے،
پانچ دن رکیں گے،
دو دن اصفہان،
اور پھر واپس۔”
میں نے پوچھا:
“اگر واپس نہ آنا چاہوں تو؟”
اس نے ہنسی روک لی اور کہا
“تو پھر
آپ ہمارے بندے نہیں۔”
بس۔
یہی حقیقت تھی۔
قافلے صرف
جانے کے لیے نہیں ہوتے،
واپس لانے کے لیے ہوتے ہیں۔
اور میں جانتا تھا
میرا سفر
واپسی کے وعدے پر نہیں تھا۔
میں زائر بن کر جا سکتا تھا،
لیکن زائر رہ کر نہیں۔
میرا مقصد
حرم کی حاضری نہیں،
راستوں کی پڑتال تھا۔
اور ان راستوں پر
قافلے کے ساتھ
اکیلا نہیں چلا جا سکتا۔
ایک اور مسئلہ تھا
جو میں سب سے چھپا رہا تھا:
شناخت۔
ہر ایجنسی
کچھ نہ کچھ اپنے پاس رکھتی ہے—
کاپی،
نمبر،
یا پاسپورٹ۔
یہ ان کی حفاظت ہوتی ہے،
لیکن میرے لیے
یہ خطرہ تھا۔
کیونکہ اگر
کہیں بھی میں الگ ہوا،
تو یہی شناخت
میرا تعاقب بن سکتی تھی۔
بارہویں دن کی رات
میں گجرانوالہ کے ایک چھوٹے سے ہوٹل کی چھت پر کھڑا تھا۔
نیچے شہر جاگ رہا تھا۔
اوپر آسمان خاموش تھا۔
میں نے خود سے کہا:
“قافلہ محفوظ ہے،
مگر پابند۔
اور میں پابندی کے لیے نہیں نکلا۔”
اسی لمحے
میرے ذہن میں
ایک اور راستہ ابھرا۔
وہ راستہ
جو نقشوں میں نہیں ہوتا،
خبروں میں دب جاتا ہے،
اور فیصلوں میں
آخری آپشن ہوتا ہے جسے
بلوچستان کہتے ہیں
میں جانتا تھا
وہاں قافلے نہیں ہوتے،
بس فیصلے ہوتے ہیں۔
اور جب میں نے گوادر پورٹ سمندر کے بارے میں سوچا—
تو مجھے احساس ہوا:
ہواٸی جہاز نہیں،
بس نہیں،
قافلہ نہیں—
اب پانی کیونکہ
سمندرکوئی لسٹ نہیں مانگتا
سمندر کا خیال
اچانک نہیں آیا تھا—
یہ وہ خیال تھا
جو تب آتا ہے
جب ہر سیدھا راستہ
اپنی قیمت مانگنے لگے۔
ہواٸی جہاز
سوال کرتا ہے۔
بس
فہرست مانگتی ہے۔
قافلہ
واپسی کا وعدہ لیتا ہے۔
مگر پانی—
نہ نام پوچھتا ہے،
نہ فائل،
نہ ضمانت۔
سمندر
کسی چیک پوسٹ پر نہیں رکتا،
کسی رجسٹر میں درج نہیں ہوتا،
اور کسی واپسی کی تاریخ پر اصرار نہیں کرتا۔
وہ صرف ایک چیز دیکھتا ہے:
ہمت۔
میں جانتا تھا
یہ راستہ آسان نہیں،
یہاں موجیں
سوال نہیں کرتیں،
فیصلہ کرتی ہیں۔
یہاں آدمی
زائر نہیں ہوتا،
مسافر بھی نہیں—
یہاں آدمی
صرف ارادہ بن جاتا ہے۔
گجرانوالہ میں
میں نے وہ رات کسی منصوبے کے ساتھ نہیں گزاری۔
یہ محض ایک وقفہ تھا—
جہاں آدمی سوتا نہیں،
بس آنکھیں بند کر کے
سوچ کو آہستہ کرتا ہے۔
میں نے پہلے ہی
جعفر ایکسپریس کا شیڈول چیک کیا ہوا تھا—
گاڑی شام پانچ بجے
لاہور جنکشن سے روانہ ہوتی تھی۔میں نے بلوچستان ٹرین کے ذریعے ہی جانا تھا
اگر میں اسی رات لاہور چلا جاتا
تو پورا دن
غیر ضروری بھاگ دوڑ میں گزر جاتا،
اور میں جانتا تھا
کہ مجھے اگلے دن
ذہنی طور پر بالکل صاف ہونا ہے۔
اسی لیے
میں نے رات
گجرانوالہ ہی میں گزارنے کا سوچا۔
چھوٹے سے ہوٹل کا کمرہ
کھڑکی کے ساتھ لگا پنکھا،
دیوار پر پرانا کیلنڈر،
اور بستر کے پاس رکھا بیگ—
جو اب خالی نہیں تھا،
فیصلوں سے بھرا ہوا تھا۔
رات زیادہ لمبی نہیں تھی۔
یا شاید
میں نے اسے لمبا ہونے نہیں دیا۔
فجر کی اذان سے کچھ پہلے
آنکھ کھل گئی۔
وضو کیا،
دو رکعت سنت پھر فرض ادا کیے
اور پہلی بار
دل میں یہ بات واضح تھی
کہ اب پیچھے کچھ نہیں رہ گیا نماز کے بعد
ہوٹل سے نکل کر
میں سیدھا
گجرانوالہ بس اسٹینڈ کی طرف گیا۔
صبح کی ہوا میں
ہلکی سی ٹھنڈک تھی،
اور بس اسٹینڈ
اپنی مخصوص حالت میں جاگ رہا تھا۔
چائے والے کے برتن بج رہے تھے،
کنڈیکٹر آوازیں لگا رہے تھے،
اور لوگ
اپنے اپنے وقت کے پیچھے
دوڑ رہے تھے۔
میں نے اسٹینڈ کے ایک کونے میں
ہلکا سا ناشتہ کیا—
ایک انڈا،
ایک پراٹھا،
اور چائے کا کپ۔ناشتے کے بعد
میں ٹکٹ کاؤنٹر کی طرف بڑھا۔
“لاہور؟”
کاؤنٹر والے نے پوچھا۔
میں نے کہا“ہاں۔”
پھر اسنے کہا“فوری نکل رہی ہے۔
اچھی گاڑی ہے۔”
میں نے کرایہ دیا—
زیادہ نہیں،
کم بھی نہیں اور پھر گاڑی میں بیٹھ گیا پانچ منٹ بعد گاڑی چل پڑی۔
گجرانوالہ پیچھے رہ گیا
اور لاہور
آگے آتا گیا۔
راستے میں
کھیت،
چھوٹے قصبے،
اور وہ سڑک
جو ہر روز
ہزاروں فیصلے اٹھا کر
شہر تک پہنچاتی ہے۔
دو گھنٹے بعد
میں لاہور میں تھا۔کچھ چیزیں ایسی تھیں
جو راستے میں نہیں ملتیں،
اور کچھ تیاری ایسی
جو صرف لاہور جیسے شہر میں ممکن ہوتی ہے۔
لاہور پہنچ کر
میں سیدھا کہیں نہیں رکا۔
پہلے شہر کو دیکھا—
اس رفتار کو،
اس بے نیازی کو
جس میں آدمی گم ہو سکتا ہے۔
ضروری سامان لینا تھا۔
ایسا سامان
جو نہ فہرست میں لکھا جاتا ہے
نہ سوال میں آتا ہے۔
میں انارکلی بازار کی طرف گیا۔
یہ وہ جگہ ہے
جہاں ہر چیز عام لگتی ہے
اور اسی لیے
کوئی چیز نمایاں نہیں ہوتی۔
تنگ گلیاں،
اوپر لٹکتے بلب،
اور دکانوں کے شیشوں میں
اپنا عکس بکھرا ہوا۔
میں نے چند چیزیں لیں:
ایک سادہ جیکٹ،
ایک اضافی موبائل چارجر،
دو جوڑے موزے،
ایک چھوٹی سی ٹارچ،
خریداری کے دوران
میں کسی سے زیادہ بات نہیں کر رہا تھا۔
لاہور میں
خاموش رہنا
بھی ایک ہنر ہے۔پھر میں شالمی مارکیٹ گیا۔
وہاں سے
کچھ سامان،خریدا بس وہ سب
جو ایک عام مسافر کے پاس ہو سکتا ہے۔
خریداری کے بعد
میں نے خود کو شہر سے الگ کیا۔
لاہور میں رکنے کا وقت نہیں تھا،
یہاں صرف تیاری ہونی تھی۔
دوپہر ڈھلتے ہی
میں لاہور جنکشن کی طرف روانہ ہوا۔
تقریباً تین بجے
میں اسٹیشن پر تھا۔یہ اسٹیشن نہیں تھا،
یہ ایک پورا شہر تھا
جو دن میں دو بار
اپنی جگہ بدلتا ہے۔
اندر داخل ہوتے ہی
اعلانات کی آوازیں
ایک دوسرے پر چڑھی ہوئی تھیں۔
کبھی کراچی،
کبھی پشاور،
کبھی کوئٹہ۔
لوگ آ رہے تھے،
لوگ جا رہے تھے۔
کوئی ہاتھ میں بیگ لیے
جلدی میں تھا،
کوئی کندھے پر بستر باندھے
آہستہ چل رہا تھا۔
ایک طرف
خاندان بیٹھا تھا—
سامان بکھرا ہوا،
بچے فرش پر لیٹے،
اور عورتیں
وقت کا اندازہ لگاتی آنکھوں سے
بار بار گھڑی دیکھ رہی تھیں۔
دوسری طرف
اکیلا مسافر تھا—
جس کے پاس
سامان کم
اور خاموشی زیادہ تھی۔
میں ٹکٹ کاؤنٹر کی طرف بڑھا۔
لائن لمبی نہیں تھی،
مگر سست تھی۔
میرے آگے کھڑا شخص
بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہا تھا—
شاید ڈر تھا
کہ گاڑی چھوٹ نہ جائے۔
جب میری باری آئی
تو کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھے شخص نے
سر اٹھا کر پوچھا: “کہاں جانا ہے؟”
میں نے بس اتنا کہا: “کوئٹہ۔”
اس نے ایک لمحہ توقف کیا۔ “جعفر ایکسپریس؟”
“ہاں۔”
اس نے دوبارہ پوچھا: “اکانومی یا بزنس؟”
میں نے اردگرد دیکھا۔
شور،
بھیڑ،
اور انتظار کی تھکن۔
پھر کہا: “بزنس کلاس۔”
وہ ٹکٹ نکالتے ہوئے بولا: “شام ساڑھے پانچ بجے نکلے گی۔ پلیٹ فارم نمبر دو۔ سفر لمبا ہے۔”
میں نے ٹکٹ لیا،
قیمت زیادہ تھی
مگر وقت اور سکون
اس سے زیادہ قیمتی تھے۔
ٹکٹ جیب میں رکھا
اور پلیٹ فارم کی طرف چل دیا۔
وہاں منظر اور گہرا تھا۔
چائے والے کی آواز: “گرم چائے… گرم چائے…”
ساموسوں کی خوشبو،
اور انجن سے اٹھتی
ہلکی سی تیل کی باس۔،
میں نے دیکھاایک آدمی
اپنے بیگ جھولی میں دباۓ بیٹھا تھا
جیسے ڈر ہو
کہ کوئی لے نہ جائے۔
ایک بوڑھا
تسبیح پڑھ رہا تھا،
اور ساتھ بیٹھا لڑکا
بار بار موبائل دیکھ رہا تھا
میں بھی وہیں بیٹھ گیا
اور پھر شروع ہوا
انتظار۔
دو گھنٹے
ایسے گزرے
جیسے کوئی خود کو
آہستہ آہستہ
پیچھے چھوڑ رہا ہو۔
لوگ آتے رہے،
جاتے رہے۔
میں بیٹھا رہا۔
نہ کسی سے بات،
نہ کسی کو پہچان۔پلیٹ فارم پر ہر وقت ٹرینیں آتی جاتی رہتی ہیں—
شمال سے آنے والی ایک مسافر ٹرین جو پہلے سے ائی کھڑی تھی ، روانہ ہو گئی۔تھوڑی دیر بعد
جنوب کی جانب سے ایک اور لوکل ٹرین بھی آئی، لوگوں نے سامان اتارا کچھ نئے مسافر سوار ہوئے اور تھوڑی دیر بعد
، پھر وہ بھی چل پڑی،
ہر ٹرین کے ساتھ شہر کی زندگی اور روزمرہ کی مصروفیت محسوس ہوتی رہی،
اسی دوران، عصر کی اذان ہونے لگی۔
میں نے فوراً پلیٹ فارم پر ہی اپنا وضو کیا،
اور چار رکعت نماز فرض ادا کی۔
ہوا میں شہر کی روزمرہ کی خوشبو، اور لوگ اپنے معمولات میں مصروف،
لیکن میں اپنے اندر ایک سکون محسوس کر رہا تھا۔
پھر شام کے قریب
پلیٹ فارم پر حرکت بڑھی اور تھوڑی دیر بعد اعلان ہوا: “جعفر ایکسپریس
کوئٹہ کے لیے
پلیٹ فارم نمبر دو پر ارہی ہے۔”انجن کی آواز
دور سے سنائی دی۔ٹرین تقریبا ہمیشہ وقت پر نہیں چلتی، اور آج بھی معمول کے مطابق لیٹ تھی جیسے ہی ٹرین پلیٹ فارم پر رک گئی،
لوگ اترنے لگے، کچھ چڑھنے لگے،ہر کوئی اپنی رفتار میں، اپنی دنیا میں۔
مسافر، ہاتھ میں بیگ لیے کچھ سر کے اوپر،
بس خاموشی کے ساتھ اپنا راستہ بناتے جا رہے تھے۔
میں بھی خاموشی سے لوگوں کو دیکھتا رہا—
پلیٹ فارم پر پولیس بھائی کھڑے تھے،
چہرے سنجیدہ، ہاتھ میں نوٹ بکیں،
ہر ایک مسافر کا بغور جائزہ لے رہے تھے۔
ٹی ٹی بھی ساتھ چل رہے تھے،
ٹکٹ چیک کر رہے تھے،
اور کبھی کبھار مسافر کو تھوڑا سا جھنجوڑ کر سوال کرتے تھے:
“یہ ٹکٹ کہاں سے؟ کون سا اسٹیشن؟”اندر، صفائی والے جھاڑو لیے،
ہر ڈبے کے فرش کو صاف کر رہے تھے،پانی کے ٹینک بھی بھرے جا رہے تھے۔
ہر ڈبے میں پانی کہاں سے بھرا جاتا، کیسے بھرا جاتا—
یہ عمل اتنا معمول کا تھا کہ کوئی نہیں دیکھتا، کوئی نہیں پوچھتا۔
رُکنا، دیر سے نکلنا،
پلیٹ فارم کی ہلچل،
اور سوال نہ کرنے والا نظام۔
یہاں پوچھنے والا کوئی نہیں،
نہ ہی کوئی جواب مانگتا،
بس سب چلتا رہتا ہے، جیسے سب کچھ پہلے سے طے شدہ ہو۔ہے، ٹرین لیٹ تھی،
لیکن کوئی سوال کرنے والا نہیں تھا—
نہ پلیٹ فارم پر، نہ پولیس، نہ ٹی ٹی۔
کسی نے نہیں پوچھا کہ ٹرین کیوں لیٹ ہے،
اور بیچارے مجبور لوگ بھی—
ان کے پاس سوال کرنے کی کہاں؟میں بھی خیر، کیا کر سکتا تھا؟
یہ تو سارا سسٹم ہی ایسا ہے۔
ٹرین تقریباً 40 منٹ کے لیے رکی رہی انجن کی سیٹی دوبارہ بجی میں پہلے ہی بزنس کلاس میں اپنا سامان رکھ چکا تھا،
میرا ڈبہ نمبر تھا 5،
کیبن نمبر B3،تھا سیٹ آرام دہ، اور ڈبے کی خاموشی میرے لیے درست ماحول بنا رہی تھی۔ٹرین حرکت میں آئی۔
پلیٹ فارم پیچھے ہٹنے لگا،
چہرے دھندلے ہوتے گئے،
اور لاہور شہر اپنے شور کے ساتھ پیچھے رہ گیا ٹرین کی ہر حرکت، ہر دھچکا،
پاکستانی ریلوے کے مزاج کی عکاسی کر رہا تھا مغرب کی نماز ٹرین کے اندر ہی ادا کی
کیبن میں ہم چار لوگ تھے—
چار مسافر،
جن میں سے دو
مجھے پتہ تھا کہ وہ ، کوئٹہ جانے والے ہیں،
اور ایک مسافر نے
جیکب آباد جانا تھا ابتداء میں خاموشی تھی،
ہر کوئی اپنے سفر کی سوچ میں گم۔
پھر آہستہ آہستہ معمول کی باتیں شروع ہو گئیں—
کب سے روانہ ہوئے،
کون سا شہر خوبصورت لگا،
اور کہاں کھانے کا انتظام بہتر تھا۔
“آپ لوگ اکثر کوئٹہ جاتے رہتے ہیں؟”
میں نے پوچھا،
تو ایک مسافر ہنس کر بولا:
“ہاں، تقریباً ہر سال۔ لیکن ہر سال کچھ نیا لگتا ہے ہم تین بلوچستان کے مسافر
خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے،
چند مختصر تبصرے کرتے،
اور پھر سب نے آرام دہ انداز میں بیٹھنا اختیار کیا۔ملتان اسٹیشن ٹرین کچھ دیر کے لیے رکی—
کچھ منٹوں کا ٹھہراؤ،
جو بڑے شہروں کی طرح لمبا نہیں ہوتا،
میں نے ٹرین سے باہر قدم نکالا،
یہاں میں نے عشاء کی نماز ادا کی—
فرش پر، اسٹیشن کی خاموشی میں،
چند مسافر، کچھ دورچند رکشے،
کچھ روشنی کے بلب
اور رات کی ٹھنڈی ہوا
جو ہر زائر کو بلاتی ہو۔
یہ نماز
محض ایک عبادت نہیں تھی،
یہ وہ لمحہ تھا
جب دن بھر کا سفر
ایک ٹھہراؤ کا نام لے رہا تھا—
ایک لمحہ سکون،
جو رات کے اندر چھپا ہوا تھا۔
پھر میں واپس آیا،
کیبن میں بیٹھا،
اور ٹرین پھر سے چل پڑی—
ملتان کی کشیدگی
اپنے پیچھے چھوڑتے ہوئے۔
اب کھڑکی کے باہر
رات کی زمین چلتی جا رہی تھی،
اور اندر
چار لوگ
اپنے اپنے راستے کے بارے میں سوچ رہے تھے—
کچھ خاموش،
کچھ اداس،
کچھ امید میں۔صبح کا آغاز ہوا تو کیبن میں ہلکی روشنی پڑ رہی تھی۔
میں نے سوچا، ناشتہ کر لینا چاہیے تاکہ دن کے سفر کے لیے توانائی ہو۔
ڈائننگ کارڈ کی طرف بڑھا، اور خود ہی ایک چھوٹی سی میز پر بیٹھ گیا۔
ٹکٹ دکھائی، اور حسب معمول ناشتہ منگوایا:
ناشتہ کرتے ہوئے باہر کے مناظر دیکھتا رہا—
کھیت، شہر کے دھندلے سائے، اور چھوٹے اسٹیشن جہاں لوگ اترتے اور نئے مسافر چڑھتے تھے۔
کھانے کے بعد، ڈائننگ کارڈ سے واپس کیبن میں آیا،
سارا سامان ترتیب دیا، اور پھر بیٹھ گیا۔
ٹرین کی ہلکی جھٹکیاں اور انجن کی گڑگڑاہٹ
یہ بتا رہی تھی کہ سفر جاری ہے۔
مسافر اسٹیشنوں سے اترتے، اور کچھ نئے مسافر چڑھتے،
ٹکٹ چیکنگ جاری تھی، صفائی والے ڈبوں میں پانی اور سامان چیک کر رہے تھے،
لیکن کوئی بھی زیادہ سوال نہیں کر رہا تھا—
یہ ہمارا سسٹم ہے، خاموشی میں چلنے والا،
جہاں سب مجبور لوگ بس سفر کرتے رہتے ہیں۔
سفر اسی طرح گزر رہا تھا،
کبھی چھوٹے اسٹیشن، کبھی لمبے اسٹیشن،
اور میں اکیلا، خاموشی سے لوگوں کو دیکھتا رہا آخر کار، کئی گھنٹوں کے بعد، ٹرین ٹپ ٹپ کی رفتار کے ساتھ شام سات بجے کے قریب کوئٹہ پہنچی۔
کھڑکی سے باہر دیکھ کر محسوس ہوا کہ شہر کا منظر بالکل مختلف ہے—
سٹیشن پر ماحول دھندلا سا تھا، لیکن زندگی کی گہما گہمی اپنی جگہ برقرار تھی—
پلیٹ فارم پر چھوٹے چھوٹے اسٹال، چائے کے ڈبے، اور کھانے پینے کی دکانیں۔یہ شہر خاموش بھی تھا اور شور بھرا بھی—
جہاں ہر آدمی اپنی منزل کے لیے کچھ نہ کچھ کر رہا تھا،
اور میں اکیلا، اپنے ارادے کے ساتھ، سٹیشن کے اس ماحول میں قدم رکھ رہا تھا،
جانتا ہوا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے میری اگلی منزل شروع ہوگی۔یہ شہر خاموش بھی تھا اور شور بھرا بھی—
جہاں ہر آدمی اپنی منزل کے لیے کچھ نہ کچھ کر رہا تھا،
اور میں اکیلا، اپنے ارادے کے ساتھ، سٹیشن کے اس ماحول میں قدم رکھ رہا تھا،
جانتا ہوا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے میری اگلی منزل شروع ہوگی۔
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments