ناول: "تمہی سے وابستہ ہے زندگی"
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور آسمان پر ہلکے نارنجی اور گہرے بادل ایک دوسرے میں مدغم ہو رہے تھے۔ آیہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی باہر کا منظر دیکھ رہی تھی، لیکن اس کی نظریں کہیں دور ماضی کے کسی جھروکے میں اٹکی ہوئی تھیں۔ وہ ایک سنجیدہ، سمجھدار اور بے حد خوبصورت لڑکی تھی، جس کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک گہرا سکون رہتا تھا، لیکن آج اس سکون کے پیچھے ایک انجانا اضطراب تھا۔
ٹھیک اسی وقت اس کا موبائل فون بج اٹھا۔ اسکرین پر ایک نام چمک رہا تھا جس نے اس کے دل کی دھڑکن کو یکدم تیز کر دیا—"شاہویر"۔
شاہویر، جو کہ اپنے سخت مزاج اور کاروباری دنیا میں اپنے رعب کی وجہ سے جانا جاتا تھا، آیہ کی زندگی کا وہ حصہ تھا جسے وہ کبھی خود سے الگ نہیں کر پائی تھی۔ دونوں کے خاندان ایک دوسرے کے بہت قریب تھے، لیکن شاہویر کا مغرور اور ضدی رویہ ہمیشہ ان کے درمیان ایک دیوار بن جاتا تھا۔
آیہ نے گہرا سانس لیا اور کانپتے ہاتھوں سے فون اٹھایا۔ "ہیلو؟" اس کی آواز دھیمی تھی۔
"تم اب تک تیار کیوں نہیں ہوئیں آیہ؟" دوسری طرف سے شاہویر کی رعب دار اور سرد آواز آئی۔ "میں پانچ منٹ میں تمہارے گھر کے باہر ہوں گا۔ آج کی بزنس پارٹی ہمارے لیے بہت اہم ہے اور میں لیٹ ہونا پسند نہیں کرتا۔"
"میں نے آپ سے کہا تھا شاہویر، میں اس پارٹی میں نہیں جانا چاہتی۔ مجھے ایسی جگہوں پر گھٹن ہوتی ہے،" آیہ نے خود اعتمادی سے اپنا موقف رکھا۔
فون پر کچھ سیکنڈز کے لیے گہری خاموشی چھا گئی، پھر شاہویر کی دھیمی لیکن پرعزم آواز سنائی دی، "تمہاری پسند اور ناپسند کے فیصلے اب میں کروں گا آیہ۔ میں باہر پہنچ رہا ہوں، مجھے گاڑی کے پاس انتظار کروانے کی ضرورت نہیں ہے۔" اس کے ساتھ ہی فون کٹ گیا۔
آیہ نے بے بسی سے فون کو دیکھا۔ وہ جانتی تھی کہ شاہویر سے بحث کرنا فضول ہے۔ اس نے جلدی سے اپنا پسندیدہ ہلکے نیلے رنگ کا لباس پہنا، بالوں کو سلیقے سے سنوارا اور نیچے چلی آئی۔ جیسے ہی وہ گھر سے باہر نکلی، شاہویر اپنی سیاہ چمکتی ہوئی گاڑی کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ سیاہ تھری پیس سوٹ میں وہ ہمیشہ کی طرح بے حد وجیہہ اور پرکشش لگ رہا تھا۔
اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور آیہ بغیر کچھ کہے اندر بیٹھ گئی۔ راستے بھر گاڑی میں ایک عجیب سا تناؤ رہا۔ شاہویر نے ایک نظر آیہ کے معصوم چہرے پر ڈالی، جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کی خاموشی شاہویر کو بے چین کر رہی تھی، لیکن اپنی انا کے باعث وہ کچھ بول نہیں رہا تھا۔
گاڑی جیسے ہی پارٹی ہال کے سامنے رکی، شاہویر نے اترنے سے پہلے آیہ کا ہاتھ نرمی لیکن مضبوطی سے تھام لیا۔ آیہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
"آج رات سب کی نظریں ہم پر ہوں گی۔ بس میرے ساتھ رہنا،" شاہویر کی آنکھوں میں اس وقت ایک عجیب سی چمک اور نرمی تھی جو اس کے مغرور چہرے پر بہت کم دکھائی دیتی تھی۔
آیہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور اسے احساس ہوا کہ اس سخت مزاج انسان کے دل میں کوئی ایسا طوفان ضرور ہے، جس کا راستہ صرف اس کی محبت سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہ پارٹی صرف ایک بزنس میٹنگ نہیں تھی، بلکہ ان دونوں کی زندگیوں کا ایک نیا امتحان بننے والی تھی۔
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments