عشق کی سولی ──Ishq Ki Soli
لاہور کی ایک امیر زادی، مناہل، جو دولت کے ڈھیروں کے باوجود اپنوں کی توجہ اور گہری تنہائی کا شکار ہے، پنجاب یونیورسٹی کے پرانے کیمپس میں بلوچستان کے ایک سخت گیر اور بااثر سردار گھرانے کے چشم و چراغ، زین سے ٹکراتی ہے۔ زین کا روایتی وقار اور سردارانہ غرور مناہل کی ایک معصوم ہنسی اور اس کی کلائیوں میں کھنکتی سبز اور سرخ چڑیوں کے جادو کے سامنے ڈھیر ہو جاتا ہے، اور کیمپس کے ایک ویران گوشے میں کھڑا پیپل کا درخت ان کی گہری محبت کا واحد گواہ بن جاتا ہے۔ کہانی میں اصل سسپنس اور ڈراما تب جنم لیتا ہے جب زین پر اس کے خاندان کی طرف سے آبائی حویلی میں زبردستی نکاح کا شدید دباؤ آتا ہے اور وہ اپنے عشق کو بچانے اور خاندانی غیرت کے بیچ ایک ایسی جان لیوا کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ مناہل سے شدید بے رخی اختیار کر لیتا ہے۔ زین کا یہ یکدم بدلتا ہوا سرد لہجہ اور پراسرار خاموشی مناہل کو جیتے جی مارنے لگتی ہے، جس کی وجہ سے اس پر اچانک ایک شدید دورہ پڑتا ہے، اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اور اس کی سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں۔ بظاہر سنگ دل بن جانے والا زین اندر سے خود اس قائل کر دینے والی بے وفائی کی آگ میں جل رہا ہے اور اپنی محبت کو سولی پر چڑھا چکا ہے۔
❤️ عشق کی سولی ─ Ishq ki soli 🌹
یونیورسٹی کا وہ پہلا دن مناہل کے لیے کسی خواب جیسا تھا۔ وہ شوخ و چنچل، تیز براؤن چمکدار آنکھوں والی لڑکی،
جو اپنی ہنسی سے پورے ڈیپارٹمنٹ کو سر پر اٹھا لیتی تھی
۔ سفیدے کے درختوں کے بیچ سے چھنتی ہوئی دھوپ جب اس کے چہرے پر پڑتی، تو وہ کسی شہزادی سے کم نہ لگتی تھی۔
پنجاب یونیورسٹی (اولڈ کیمپس) کی رونقوں اور ہجوم سے دور،
ایک ویران سے گوشے میں وہ قدیم پیپل کا درخت ایک سائیڈ پر کھڑا تھا۔ وہاں طلباء کا آنا جانا اکثر کم تھا، اور یہی تنہائی مناہل کو عزیز تھی۔
زین اس دن کینٹین سے نکل کر اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف جا رہا تھا کہ اس کے قدم کیمپس کی ان پرانی سیڑھیوں کے پاس تھم گئے۔
سیڑھیوں کے سامنے کھڑے اس قدیم پیپل کے درخت کے نیچے مناہل اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھڑی تھی۔
ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا جس سے پیپل کے پتے زور سے سرسرائے اور مناہل کی چند آوارہ زلفیں اس کے ماتھے پر آ گئیں
۔ اس نے لاپروائی سے بالوں کو پیچھے ہٹایا اور زور سے کھلکھلا کر ہنسی۔
زین نے اسے دیکھا، اور بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ پہلی نظر کا عشق تھا جو کسی صاعقے کی طرح اس کے دل پر گرا تھا اس کا دل اس کی گرفت میں نہ رہا
۔ زین کے ہاتھ میں موجود فائلیں جیسے وزنی ہو گئیں
اور اسے اپنا آپ ہوا میں معلق محسوس ہوا۔
مناہل کی نظر اچانک زین پر پڑی۔
اس نے دیکھا کہ ایک لڑکا بت بنا اسے گھور رہا ہے۔ اس نے اپنی بھنویں سکیڑیں، ایک مغرورانہ ادا سے اپنی گردن کو جھٹکا دیا اور وہاں سے گزر گئی۔ زین وہیں کھڑا رہ گیا،
مگر اس کے دل کی دھڑکنیں اب اس پیپل کے پتے کی طرح لرز رہی تھیں۔
مناہل کے پاس دولت کی کوئی کمی نہیں تھی۔
اس کا بھائی باہر جا چکا تھا اور گھر میں وہ صرف نوکروں اور خالی دیواروں کی مالکن تھی۔
اس کے ماں باپ نے اسے دنیا کی ہر مہنگی چیز لا کر دے دی تھی، مگر وہ اسے "وقت" دینا بھول گئے تھے۔ اور یہی دُکھ اسے اندر سے کھائے جا رہا تھا
یونیورسٹی میں پیپل کا درخت اسے بہت پسند ہے
وہ کیمپس کے اس خاموش کونے میں جاتی
جہاں وہ پیپل کا درخت ایک سائیڈ پر اپنی شاخیں پھیلائے کھڑا تھا۔ مناہل اس کے نیچے بیٹھ کر اپنی روشن اور چمکدار براؤن آنکھیں بند کر لیتی۔
وہ پیپل کی چھاؤں میں جب سانس لیتی
تو اسے زندگی کا احساس ہوتا تھا
وہ اس درخت کو اپنا وہ بھائی مانتی تھی جو اس کے پاس نہیں تھا، وہ اسے وہ ماں مانتی تھی
جو اسے سینے سے نہیں لگاتی تھی وہ تو۔بس پارٹیاں اٹینڈ کرتی تھی ۔
وہ اسے اپنا جان سے پیارا بابا مانتی تھی
جو اس کے لیے ہر دنیا کی چیز لا کر دیتے تھے مگر وقت جیسی قیمتی چیز
اسے دیے نا پاتے تھے
"تمہیں پتہ ہے؟ آج پھر بابا نے بزنس ڈیل کی خوشی میں،میرا اکاؤنٹ پیسوں سے بھر دیا ہے
مگر مجھے پیسے نہیں ان کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینی تھی،"
اس کی آواز کیا بھیگی اس کی گالوں پہ آنسو بہہ گئے
پتہ ہے مما بابا کو میری پرواہ نہیں وہ سمجھتے ہیں
یہ سبھی کچھ پیسوں سے خریدا جا سکتا ہے میں ان کی محبت کو ترستی رہتی ہوں ۔تم میری باتیں سنتے سنتے خاموش کیوں ہو جاتے ہو
مانا کہ میں تنہا ہوں اداس ہوں مگر تم تو نہ خاموش ہوا کرو
وہ پیپل کی چھال کو چھو کر کہتی۔
اس کی ساز جیسی ہنسی اس سائیڈ والے کونے میں کبھی کبھی اداسی کے ساتھ گونجتی۔
اسے اس یونیورسٹی کے اس گوشے سے اس لیے پیار تھا کیونکہ یہاں کوئی اسے جج کرنے والا نہیں تھا۔
وہ یہاں صرف ایک "امیر زادی" نہیں،
بلکہ ایک عام سی اداس لڑکی بن کر جی سکتی تھی۔
مناہل کی آنکھوں میں بہت گہرائی تھی وہ ایک نظر میں کسی کو بھی متاثر کر سکتی تھی
مناہل: کے لیے دن کے وہ چند گھنٹے ہی زندگی تھے جو وہ پنجاب یونیورسٹی میں گزارتی تھی۔ جیسے ہی گھڑی کی سوئیاں چھٹی کے وقت کی طرف بڑھتیں، اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتیں۔ وہ جانتی تھی کہ اسے اب اس کیمپس کے ایک سائیڈ پر کھڑے پیپل کے درخت کو چھوڑ کر واپس اپنے اس محل نماں گھر جانا ہے جہاں دولت تو ہے، مگر روح نہیں۔
یونیورسٹی کا آخری گھنٹہ:
جب کلاسیں ختم ہو جاتیں اور یونیورسٹی کے گیٹ بند ہونے کا وقت قریب آتا، تو مناہل اکثر بھاگ کر اس کونے میں جاتی
جہاں وہ پیپل کا درخت تھا۔ وہ جلدی جلدی اپنی آخری بات اس سے کہتی، کیونکہ اسے پتہ تھا کہ کل صبح تک وہ اس "اپنے" سے نہیں مل سکے گی۔ اس کی روشن اور چمکدار براؤن آنکھیں اس وقت بوجھل ہو جاتیں جب وہ پیپل کی شاخ کو چھو کر الوداع کہتی۔
یونیورسٹی سے نکلتے ہی مناہل کی وہ ساز جیسی ہنسی خاموش ہو جاتی۔ وہ اپنی قیمتی گاڑی میں بیٹھ کر ڈیفنس کی طرف روانہ ہوتی تو اسے احساس ہوتا کہ اس کے پاس اب صرف اگلے دن کی صبح تک کا انتظار ہے۔ گھر پہنچ کر اس کا استقبال نوکر کرتے، ماں باپ اپنے کمروں میں ہوتے یا کام میں مگن ہوتے، اور بھائی کا کمرہ اسے دیکھ کر چڑاتا کہ وہ بھی یہاں سے بھاگ گیا ہے۔
مناہل کو اسی لیے اس یونیورسٹی سے پیار تھا، کیونکہ وہاں اسے وہ چند گھنٹے ملتے تھے جہاں وہ اپنی مرضی سے جی سکتی تھی۔ وہ اس یونیورسٹی کے ماحول کو اسی لیے پسند کرتی تھی کیونکہ وہاں کی دیواریں اس کی امارت کے بجائے اس کے دکھ کو پہچانتی تھیں۔
زین، جو بلوچستان کے ایک تپتے ہوئے صحرا اور سنگلاخ پہاڑوں والے سردار گھرانے سے تعلق رکھتا ہے،واحد زین تھا جو ان کے خاندان میں پڑھا تھا! اس کے خاندان کے کسی مرد نے تعلیم کی طرف جستجو نہیں کی تھی ۔
جب پنجاب یونیورسٹی پہنچا تو اس کا انداز ایسا تھا کہ جیسے وہ یہاں پڑھنے نہیں بلکہ فتح کرنے آیا ہو۔ اس کی چال میں وہ مخصوص سردارانہ وقار تھا جو اسے عام طلباء سے بالکل الگ تھلگ کر دیتا تھا۔
وہ بلند قامت تھا، اس کے چہرے پر ایک ایسی سنجیدگی تھی جو لوگوں کو اس سے بات کرنے سے پہلے دو بار سوچنے پر مجبور کر دیتی تھی۔زین کو اپنی روایات اور اپنی سرداری پر بہت فخر تھا، مگر اسے کیا خبر تھی کہ لاہور کی یہ قدیم یونیورسٹی اور اس کے ایک سائیڈ پر کھڑا وہ پیپل کا درخت اس کے اس غرور کو مٹی میں ملانے والے ہیں۔
زین لائبریری سے اپنے کچھ کاغذات لے کر نکل رہا تھا کہ اس کی نظر کیمپس کے اس سائیڈ والے ویران گوشے پر پڑی۔ وہاں اس نے ایک لڑکی کو دیکھا جو پیپل کے درخت کے تنے سے سر لگائے کھڑی تھی۔ وہ مناہل تھی، جس کی روشن اور چمکدار براؤن آنکھیں اس وقت کسی گہری سوچ میں تھیں۔زین وہیں رک گیا۔ اس نے ایسی لڑکی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی—وہ جتنی حسین تھی، اس سے کہیں زیادہ "پراسرار" لگ رہی تھی۔ جیسے ہی مناہل مڑی اور اس کی نظر زین پر پڑی، اس نے اپنی مخصوص ساز جیسی ہنسی بکھیر دی، جو زین کے کانوں میں کسی جادو کی طرح پڑی۔زین کو لگا جیسے اس کا دل اس کے بس سے باہر ہو گیا ہو۔ وہ جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا، آج اس ایک جھلک کے لیے وہیں پتھر کا بت بن گیا۔
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments