میں کیوں پیدا ہوئئ تھی
گھر کے صحن میں کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔
ہر کوئی صاف ستھرے کپڑوں میں تھا، جیسے عید ہو۔
لیکن میں؟
میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
امی نے میری کلائی پکڑی اور آہستہ سا کہا:
> "ہونٹ سی لو… لڑکی ہوں تم۔
زیادہ بولنے والی لڑکیوں کی زندگی اچھی نہیں ہوتی۔"
میرے دل نے پہلی بار خود سے پوچھا:
"تو پھر میں پیدا کیوں ہوئی تھی؟"
سامنے وہ لوگ بیٹھے تھے —
ایک فیملی، مسکراتی ہوئی، جیسے انسان نہیں… فیصلے ہوں۔
اور وہ لڑکا —
سفید کرتا، بال سلیقے سے جمائے ہوئے،
بہت خاموش اور بہت سرد۔
اس نے میرے چہرے کی طرف نہیں دیکھا۔
ایک بار بھی نہیں۔
ابو نے پوچھا:
> "تو پھر… رشتہ پکا سمجھیں؟"
اور اس کے صرف ایک جملے نے میرا سارا جسم سُن کر دیا:
> "مجھے لڑکی کی کوئی پرواہ نہیں۔
شادی تو گھر والوں نے کرنی ہے۔"
میرے اندر کچھ ٹوٹا نہیں…
ڈھیر ہو گیا۔
میں نے بس اتنا چاہا کہ کوئی پوچھ لے:
> "تم کیا چاہتی ہولیکن شاید میری خواہشیں پیدا ہونے کے دن ہی مر گئی تھیں۔
شادی پکی ہونے کے بعد گھر میں جیسے بہار اتر آئی تھی۔
ہنسی کی آوازیں دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھیں۔
لوگ خوش تھے… فخر میں تھے… مصروف تھے۔
اور میں؟
اپنے ہی گھر میں اجنبی۔
امی کچن میں ہر کسی کو چائے دے رہی تھیں، ساتھ ساتھ وہی جملہ دہرایا جا رہا تھا:
> "لڑکا بہت شریف ہے۔ اللہ نے بڑی کرم کی ہے۔"
جس خوشی کو سب بانٹ رہے تھے،
وہ مجھ تک کیوں نہیں پہنچ رہی تھی؟
میرے سامنے صحن کے کونے میں پیلے گلابوں کا پودا تھا۔
ابو نے خود لگایا تھا۔
ہمیشہ کہتے تھے:
> "یہ پھول عورت جیسا ہوتا ہے…
دیکھ بھال نہ ہو تو مر جاتا ہے۔"
میں نے اس پودے کی طرف دیکھا —
اور عجیب بات یہ تھی کہ آج وہ مرجھایا ہوا تھا۔
کیا یہ بھی میری طرح تھا؟
زینب چچی میرے پاس آئیں، ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور بولیں:
> "بس اب تھوڑا سا صبر… لڑکی کا گھر تو سسرال ہی ہوتا ہے۔"
میں نے سر ہلا دیا۔
جیسے میں نے ساری زندگی یہی سیکھا ہو —
چپ رہنا۔
لیکن دل…
دل تو زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
کیا میں نے کبھی خواب مانگے نہیں تھے؟
کیا میرا دل صرف دکھ سنبھالنے کے لیے بنایا گیا تھا؟
ابو میرے پاس آئے۔
آواز مضبوط تھی — جیسے کوئی حکم سنایا جا رہا ہو۔
> "دیکھو بیٹا، یہ فیصلے بڑوں کے ہوتے ہیں۔
ہمیں پتا ہوتا ہے کہ کیا اچھا ہے۔"
میں نے پہلی بار ابو کی آنکھوں میں دیکھا —
وہ میری بیٹی نہیں، میری جیت تھے۔
اور تب دل نے ایک اور سوال کیا:
"اگر زندگی کے فیصلے ہمیشہ دوسروں نے ہی کرنے ہیں…
تو میں کیوں پیدا ہوئی تھی؟"
لیکن اس بار، میں ٹوٹی نہیں۔
میں خاموش، مضبوط اور درد میں سیدھی ہو گئی۔
اسی رات…
جب سب سو گئے تھے…
میری ڈائری کے آخری صفحے پر میں نے صرف ایک لائن لکھی:
> "میں اپنی کہانی کسی اور کے فیصلوں سے ختم نہیں ہونے دوں گی۔"
اور جیسے ہی قلم رکا—
میرا فون بجا۔
ایک انجان نمبر…
ایک انجان آواز…
اور ایک راز…
جو میری پوری زندگی بدلنے والا تھا۔
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Updated 3 Episodes
Comments