شادی پکی ہونے کے بعد بھی گھر میں جشن سا ماحول تھا۔
ہنسی، باتیں، قہقے…
مگر میرے کانوں میں ہر آواز دھندلی لگ رہی تھی۔
امی ہر آتے جاتے سے کہہ رہی تھیں:
> "الحمدللہ رشتہ بہت اچھا ملا ہے۔
لڑکے والے بہت شریف ہیں۔"
لوگ تعریفیں کر رہے تھے۔
رشتے والے، محلے والے، دور کے رشتہ دار…
اور میں؟
جیسے اس گھر کی چیز ہوں۔
کوئی دکھایا جا رہا نمونہ…
جسے بس قبول کر لیا گیا ہو۔
میں نے خاموشی سے صحن کے کونے میں بیٹھ کر اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔
ان ہی ہاتھوں سے میں نے کتنے خواب چھوئے تھے…
جو اب اپنی موت مر چکے تھے۔
سامنے بیٹھے ابو کا چہرہ فخر میں کھلا ہوا تھا۔
شاید اسی دن کا انتظار تھا انہیں۔
بیٹی کو کسی اور کی چوکھٹ پر رکھنے کا دن۔
میں نے پہلی بار ابو کو غور سے دیکھا —
ان کی آنکھوں میں میری نہیں، اپنی جیت تھی۔
امی میرے پاس آ کر دھیرے سے بولیں:
> "خوش رہو تو گھر بھی خوش رہتا ہے۔
لڑکیاں ضد نہیں کرتیں۔"
میں نے انہیں دیکھا…
اور ان کی پلکوں میں ادھورا سا ڈر دیکھا۔
پتہ تھا… وہ بھی کبھی چلی گئی تھیں…
خاموش…
بغیر پوچھے…
شاید ہر عورت کی کہانی ایک سی ہوتی ہے۔
میرے اندر سے ایک آواز نے پھر زور سے پوچھا:
"اگر میرا فیصلہ میرا تھا ہی نہیں…
تو میں پیدا کیوں ہوئی تھی؟"
لیکن اس بار میں روئی نہیں۔
آنسو بھی تھک جاتے ہیں ایک وقت کے بعد۔
سارا گھر خوش تھا۔
بس میں اور میری سانسیں تنہا تھیں۔
انجان کال"
اسی رات، جب سارا گھر جشن میں ڈوبا ہوا تھا، میرا فون بجا۔
اسکرین پر نمبر نظر آیا: انجان نمبر۔
میں نے ہلکی سی ہچکچاہٹ کے ساتھ فون اٹھایا۔
"ہیلو…؟" میری آواز لرز رہی تھی۔
سناٹے میں سے ایک دھیمی، پراسرار آواز نے کہا:
> "تم جاننا چاہتی ہو کہ تم کیوں پیدا ہوئی ہو…؟
اگر ہمت ہے تو کل رات 12 بجے پرانی حویلی کے پیچھے آؤ۔ وہاں سب کچھ تمہارے سامنے آئے گا۔"
فون بند ہو گیا۔
میرا دل تیز دھڑکنے لگا، دماغ میں بے شمار سوالات۔
کیا یہ مذاق ہے؟ یا واقعی کسی کو میرے اندر چھپی حقیقت کا علم ہے؟
میں نے زینت کو یاد کیا، لیکن وہ سوتی ہوئی تھی۔
اب میں اکیلی تھی… اپنے خوف اور تجسس کے درمیان۔
میں نے سوچا:
"اگر میں نہیں جاؤں گی تو کبھی نہیں جان پاؤں گی کہ میرا وجود واقعی کیوں ہے…"
اور اسی لمحے، میرا فیصلہ بن گیا۔
کل رات… پرانی حویلی… راز میرے منتظر ہیں۔
رات کے بارہ بج رہے تھے۔
گھر میں سب سو گئے تھے۔
لیکن میری نیند… جیسے ہمیشہ کے لیے مجھ سے روٹھ گئی تھی۔
میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا،
نہ امی کو آواز دینا تھی،
نہ ابو سے اجازت مانگنی تھی۔
آج میرا سوال مجھے کھینچ کر لے جا رہا تھا۔
"میں کیوں پیدا ہوئی تھی؟"
یہ سوال اب صرف درد نہیں تھا —
ایک دروازہ تھا
جس کے پیچھے کچھ چھپا ہوا تھا۔
سڑک پر قدموں کی چاپ
رات کی ٹھنڈی ہوا
سنّاٹا
اور میرا دل —
ہر دھڑکن جیسے کہہ رہی تھی جا… آج سچ کے قریب۔
میں پرانی حویلی کے دروازے تک پہنچی۔
دروازہ پہلے سے کھلا تھا۔
میں ٹھہر گئی۔
کسی نے میرا انتظار کیا تھا۔
یا شاید… میرے سوال نے۔
اندر اندھیرا نہیں تھا —
بہت ہلکی سی موم بتی جل رہی تھی
جس کے سامنے ایک کرسی رکھی تھی۔
کرسی پر بیٹھا کوئی شخص۔
میں نے دھڑکتے سینے کے ساتھ کہا:
"تم کون ہو؟ اور تمہیں میرے بارے میں کیا پتا؟"
اس شخص نے سر نہیں اٹھایا۔
بس دھیرے سے بولا —
وہی آواز… وہی خاموش سرد لہجہ
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Updated 3 Episodes
Comments