فون بند ہو چکا تھا۔
لیکن آواز…
اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔
> "اگر ہمت ہے… تو آدھی رات کو پرانی حویلی کے پیچھے آ جاؤ۔"
میری انگلیاں اب بھی موبائل کو پکڑے ہوئے تھیں،
جیسے اس کی گرفت ڈھیلی ہوئی تو میں بکھر جاؤں گی۔
ایمان نے فوراً محسوس کر لیا کہ کچھ ہوا ہے۔
وہ میرے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
> "کس کا فون تھا؟"
میں نے ہونٹ بھینچ لیے۔
میرے پاس بولنے کے لیے کچھ تھا بھی نہیں۔
میں نے آہستہ کہا:
> "کسی نے کہا… کہ وہ جانتا ہے میں کیوں پیدا ہوئی تھی۔"
ایمان کے چہرے پر پہلے حیرت، پھر فکر اتر آئی۔
> "یہ مذاق بھی ہو سکتا ہے۔ یا… خطرہ بھی۔"
میں آہستہ سر ہلا دی۔
> "ہاں۔ ہو سکتا ہے۔
لیکن ایمان…
اگر میں نہیں گئی…
تو میں ساری زندگی… یہ سوال لیے جیتی رہوں گی۔"
ایمان نے میرا ہاتھ تھام لیا۔
اس کی انگلیاں گرم تھیں…
میرے ہاتھ ٹھنڈے۔
> "میں تمہیں اکیلی نہیں جانے دوں گی۔"
میں نے فوراً سر ہلایا۔
> "نہیں۔ یہ مجھے ہی جانا ہے۔
یہ جواب… میرے لیے ہے۔"
ایمان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
> "پھر کم از کم مجھے بتا کر جانا۔
چھپ کر مت جانا۔"
میں نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
> "وعدہ۔"
رات آہستہ آہستہ گہری ہونے لگی۔
گھر میں سب سو گئے تھے۔
پر میری آنکھوں میں نیند نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔
میں نے اپنا دوپٹہ لیا،
چپل پہنی،
آہستہ سے دروازہ کھولا…
اور چاندنی میں باہر قدم رکھا۔
سڑک خاموش تھی۔
ہوا میں عجیب سی خاموش سنسناہٹ تھی۔
جیسے دنیا بھی دیکھ رہی تھی کہ میں کیا کرنے جا رہی ہوں۔
پرانی حویلی گاؤں کے آخری کنارے پر تھی۔
وہ جگہ جس کے بارے میں لوگ کانوں میں کہانیاں کہہ کر ڈر جاتے تھے۔
میں ہر قدم پر دل کی دھڑکن سن سکتی تھی۔
جب میں حویلی کے سامنے پہنچی —
وہاں کوئی نہیں تھا۔
بس بوسیدہ دیواریں
اور ٹوٹی کھڑکیاں
اور ہوا کی گہری سی چیخ۔
میں نے گہرا سانس لیا۔
> "میں آگئی ہوں۔"
یہ کہتے ہی
حویلی کے پیچھے والے دروازے سے آہستہ… آہستہ… چرچراہٹ کی آواز آئی۔
دروازہ خود بخود کھلنے لگا۔
میرے قدم تھڑکے۔
میرا دل جیسے سینے سے باہر آ جائے گا۔
اسی لمحے —
میں نے پیچھے سے قدموں کی چاپ سنی۔
میں نے پلٹ کر دیکھا۔
اور سامنے تھا —
وہی لڑکا۔
وہی سفید کرتا۔
وہی خاموش آنکھیں۔
وہی… جس نے کہا تھا:
> “مجھے لڑکی کی کوئی پرواہ نہیں۔”
لیکن اس کی آنکھوں میں اب کچھ اور تھا۔ کچھ ایسا جس میں درد بھی تھا…
اور پہچان بھی۔
میں ٹھٹھک گئی۔
> "تم…؟"
وہ آہستہ سا بولا:
> "تمہیں یہاں اکیلے نہیں آنا چاہیے تھا۔"
میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:
> "مجھے اپنی وجہ جاننی ہے۔"
وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوا۔
پھر بولا:
> "تو پھر سچ سننے کے لیے تیار رہو۔
کیونکہ سچ… خوبصورت کبھی نہیں ہوتا۔"
اور اس نے حویلی کے اندر قدم رکھا۔
میں نے کچھ سوچا نہیں۔
میں اس کے پیچھے چل پڑی۔
اور اندر جاتے ہوئے میرے دل نے صرف ایک جملہ کہا:
“یہیں سے میری اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔”
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Updated 3 Episodes
Comments
Arsène Lupin III
Couldn't put it down!😍
2025-11-15
0