صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی علیشہ کی آنکھ کھل گئی۔ رات کو دیر تک جاگنے کے باوجود اس کے چہرے پر تھکن کا نام و نشان نہیں تھا، بلکہ ایک نئی امنگ تھی۔ آج اس کے نئے کالج کا پہلا دن تھا اور وہ کمپیوٹر سائنس کی کلاسز شروع کرنے کے لیے بہت پرجوش تھی۔
اس نے جلدی سے اپنا نیا یونیفارم پہنا، آئینے میں خود کو دیکھا اور دل ہی دل میں کہا، "علیشہ، آج سے تمہارے خوابوں کا باقاعدہ سفر شروع ہو رہا ہے۔"
جب وہ کمرے سے باہر آئی تو امی کچن میں ناشتہ بنا رہی تھیں اور ابا صحن میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ علیشہ کو دیکھ کر ابا نے اخبار ایک طرف رکھا اور مسکرا کر بولے، "ماشاء اللہ، میری بیٹی کالج کے یونیفارم میں بالکل ایک آفیسر لگ رہی ہے۔"
علیشہ نے ابا کے پاس جا کر ان کے گھٹنوں کو چھو کر دعا لی۔ ابا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور جیب سے کچھ پیسے نکال کر اس کے ہاتھ میں دیے، "یہ رکھو بیٹا، کالج کے پہلے دن کا خرچہ۔ بس دل لگا کر پڑھنا۔"
ناشتہ کرنے کے بعد علیشہ اپنا بیگ کندھے پر لٹکا کر کالج کی طرف روانہ ہوئی۔ کالج کی بڑی عمارت اور وہاں موجود اسٹوڈنٹس کا ہجوم دیکھ کر وہ ایک پل کے لیے گھبرا گئی، لیکن اس نے گہرا سانس لیا اور اپنے ابا کا مسکراتا ہوا چہرہ یاد کر کے آگے بڑھ گئی۔
نوٹس بورڈ پر دیکھ کر وہ اپنی کمپیوٹر لیب کی طرف بڑھی۔ جب وہ لیب میں داخل ہوئی تو وہاں قطار سے رکھے جدید کمپیوٹرز دیکھ کر اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ وہ ایک خالی کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ گئی۔ کچھ ہی دیر میں پروفیسر صاحب کلاس میں داخل ہوئے اور انہوں نے سب کا تعارف لیا۔
کلاس کے دوران پروفیسر صاحب نے کمپیوٹر پروگرامنگ کے بارے میں کچھ بنیادی سوالات پوچھے، جن کا جواب زیادہ تر اسٹوڈنٹس کو معلوم نہیں تھا۔ لیکن علیشہ، جو راتوں کو جاگ کر اپنے پرانے لیپ ٹاپ پر یہ سب پڑھ چکی تھی، نے فوراً اپنا ہاتھ اٹھایا اور بالکل صحیح جواب دیا۔
پروفیسر صاحب نے سب کے سامنے اس کی تعریف کی اور کہا، "بہت اچھے علیشہ! اگر تم اسی طرح محنت کرتی رہیں، تو تم کمپیوٹر سائنس کی فیلڈ میں بہت آگے جاؤ گی۔"
کلاس ختم ہونے کے بعد، جب علیشہ لیب سے باہر نکل رہی تھی، تو اس کی کلاس کی ایک لڑکی سارہ اس کے پاس آئی۔ سارہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور اس کا انداز تھوڑا مغرور تھا۔
سارہ نے علیشہ کے پرانے بیگ اور سادہ جوتوں کی طرف دیکھ کر مسکرا کر کہا، "جواب تو تم نے اچھا دیا علیشہ، لیکن اس کمپیوٹر فیلڈ میں آگے بڑھنے کے لیے صرف کتابی علم کافی نہیں ہوتا، ایک مہنگا لیپ ٹاپ اور آئی فون بھی چاہیے ہوتا ہے۔ کیا تمہارے پاس ہے؟"
سارہ کی بات سن کر علیشہ کا دل ایک لمحے کے لیے اداس ہوا، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے سارہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے اطمینان سے جواب دیا، "سارہ، کمپیوٹر مہنگا ہو یا پرانا، وہ صرف انسان کی کمانڈ (Command) پر چلتا ہے۔ دماغ اور محنت قیمتی ہونی چاہیے، چیزیں تو خود بخود بدل جاتی ہیں۔"
یہ کہہ کر علیشہ وہاں سے مسکرا کر آگے بڑھ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے پاس مہنگا لیپ ٹاپ نہیں ہے، لیکن اس کے پاس وہ سچی لگن ہے جو کسی بازار سے خریدی نہیں جا سکتی۔
جب وہ دوپہر کو گھر واپس آئی، تو وہ سیدھی اپنے کمرے میں گئی اور اپنا پرانا لیپ ٹاپ کھولا۔ سارہ کی باتوں نے اسے اداس کرنے کے بجائے اس کے اندر ایک نئی آگ جلا دی تھی۔ اس نے اپنے نوٹ بک پر لکھا:
"لوگ آپ کے وسائل دیکھتے ہیں، اور اللہ آپ کی نیت اور محنت۔ میں ثابت کروں گی کہ اڑان پروں سے نہیں، حوصلوں سے ہوتی ہے۔"
(جاری ہے...)
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments