کوڈنگ مقابلہ جیتنے کے بعد کالج میں علیشہ کی عزت بہت بڑھ گئی تھی۔ جو اسٹوڈنٹس پہلے اس سے بات کرنے میں ہچکچاتے تھے، اب وہ بھی اس سے مشورے مانگنے آتے تھے۔ یہاں تک کہ سارہ بھی اب اسے دیکھ کر اپنا راستہ بدل لیتی تھی۔ لیکن علیشہ کے مزاج میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی، وہ پہلے کی طرح ہی سادہ اور اپنے کام سے کام رکھنے والی لڑکی تھی۔
ایک دن پروفیسر صاحب نے علیشہ کو اسٹاف روم میں بلایا۔ ان کے چہرے پر ایک سنجیدہ مسکراہٹ تھی۔ انہوں نے کہا، "علیشہ، تم نے کالج کی سطح پر تو اپنی صلاحیت ثابت کر دی، لیکن اب ایک بڑا موقع آ رہا ہے۔ ہمارے شہر میں ایک بہت بڑی آئی ٹی کمپنی ایک 'ینگ ڈویلپرز انٹرنشنپ پروگرام' شروع کر رہی ہے۔ اس میں پورے شہر کے ٹاپ اسٹوڈنٹس حصہ لیں گے اور جو جیتا، اسے پڑھائی کے ساتھ ساتھ کمپنی میں کام کرنے اور ماہانہ وظیفہ (Stipend) ملنے کا موقع ملے گا۔"
علیشہ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ یہ تو وہی موقع تھا جس کا وہ ہمیشہ سے خواب دیکھ رہی تھی! اس سے وہ نہ صرف بہت کچھ سیکھ سکتی تھی بلکہ اپنے ابا کا مالی بوجھ بھی ہلکا کر سکتی تھی۔ اس نے فوراً کہا، "سر! میں اس چیلنج کے لیے بالکل تیار ہوں۔"
پروفیسر صاحب نے اسے ایک فارم دیا اور کہا، "یاد رکھنا علیشہ، اس بار مقابلہ آسان نہیں ہوگا۔ تمہیں ایک ایسا لائیو پروجیکٹ بنانا ہوگا جو عام لوگوں کی زندگی آسان بنا سکے۔ تمہارے پاس صرف دو ہفتے ہیں۔"
علیشہ فارم لے کر گھر آئی تو اس کا دماغ آئیڈیاز سوچنے میں مصروف تھا۔ رات کو صحن میں بیٹھ کر وہ سوچ رہی تھی کہ ایسا کیا بنایا جائے؟ تب ہی اس نے دیکھا کہ اس کا چھوٹا بھائی عایا موبائل پر اپنی پڑھائی کے لیے کچھ ڈھونڈ رہا تھا لیکن اسے صحیح معلومات نہیں مل رہی تھیں اور وہ پریشان ہو رہا تھا۔
علیشہ کے دماغ میں فوراً ایک زبردست آئیڈیا آیا۔ اس نے سوچا، کیوں نہ ایک ایسی موبائل ایپ بنائی جائے جو غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کو مفت اور آسان زبان میں پڑھائی کا مواد فراہم کرے، جہاں انہیں کسی مہنگی اکیڈمی کی ضرورت نہ پڑے۔
اس نے اپنے پرانے لیپ ٹاپ پر کام شروع کر دیا۔ وقت بہت کم تھا اور کام بہت زیادہ۔ وہ کالج سے آتی، گھر کے کاموں میں امی کا ہاتھ بٹاتی اور پھر رات دیر تک اس ایپ کو ڈیزائن کرنے میں لگ جاتی۔ کبھی کوڈنگ میں کوئی غلطی (Bug) آ جاتی تو وہ گھنٹوں اسے ٹھیک کرنے میں لگی رہتی۔ اس کی آنکھیں تھکن سے سرخ ہو جاتیں، لیکن ابا کا وہ تھکا ہوا چہرہ اسے دوبارہ ہمت دے دیتا۔
دو ہفتے کا وقت پر لگا کر گزر گیا اور فائنل پریزنٹیشن کا دن آ گیا۔ علیشہ اپنی ایپ تیار کر کے کمپنی کے بڑے آفس پہنچی، جہاں بڑے بڑے ججز سوٹ بوٹ پہنے بیٹھے تھے۔
جب علیشہ کا نام پکارا گیا، تو وہ اسٹیج پر آئی۔ اس کے ہاتھ تھوڑے سے کانپ رہے تھے، لیکن اس نے دل میں اللہ کا نام لیا اور اپنی پریزنٹیشن شروع کی... کیا علیشہ کا یہ پروجیکٹ ان ججز کو پسند آئے گا؟
(جاری ہے...)
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments