سارہ کی کڑوی باتوں نے علیشہ کو مایوس نہیں کیا تھا، بلکہ اس کے ارادوں کو اور مضبوط کر دیا تھا۔ وہ روزانہ کالج سے آنے کے بعد اپنے پرانے لیپ ٹاپ پر گھنٹوں بیٹھ کر کوڈنگ کی پریکٹس کرتی۔ اس کی بڑی بہن، جسے وہ پیار سے "پیزا" کہتی تھی، اکثر اس کے لیے چائے بنا کر لاتی اور کہتی، "علیشہ، تم اتنی محنت کر رہی ہو، دیکھنا ایک دن تم بہت بڑی سافٹ ویئر انجینئر بنو گی۔" علیشہ اپنی بہن کی بات سن کر مسکرا دیتی اور اس کا حوصلہ اور بڑھ جاتا۔
کالج شروع ہوئے ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ ایک دن نوٹس بورڈ پر ایک بڑا اشتہار لگا، جس نے سب سٹوڈنٹس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ کالج میں ایک "آئی ٹی اور کوڈنگ مقتابلہ" (Coding Competition) ہونے جا رہا تھا، جس میں جیتنے والے کو نہ صرف ایک بہترین سرٹیفکیٹ ملنا تھا، بلکہ ایک انعام بھی دیا جانا تھا۔
علیشہ نے جیسے ہی یہ اشتہار دیکھا، اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ اس نے فوراً اپنا نام مقابلے کے لیے لکھوا دیا۔
جب سارہ کو معلوم ہوا کہ علیشہ نے بھی اس مقابلے میں حصہ لیا ہے، تو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ علیشہ کے پاس آئی اور طنز کرتے ہوئے بولی، "علیشہ، تم اس مقابلے میں حصہ لے رہی ہو؟ یہاں بڑے بڑے امیر گھرانوں کے لڑکے لڑکیاں اپنے مہنگے اور جدید لیپ ٹاپس کے ساتھ آئیں گے۔ تمہارا وہ پرانا اور آہستہ چلنے والا لیپ ٹاپ تو اس مقابلے کا سافٹ ویئر بھی لوڈ نہیں کر پائے گا۔"
علیشہ نے سارہ کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا، بس ایک پرسکون مسکراہٹ کے ساتھ وہاں سے چلی گئی۔ وہ جانتی تھی کہ مقابلہ لیپ ٹاپ کی قیمت کا نہیں، بلکہ دماغ کی صلاحیت کا ہے۔
مقابلے کا دن آ گیا۔ کالج کا بڑا ہال سٹوڈنٹس اور کمپیوٹرز سے بھرا ہوا تھا۔ علیشہ اپنے اسی پرانے لیپ ٹاپ کے ساتھ ایک میز پر بیٹھی تھی۔ سب کے پاس چمکتے ہوئے نئے کمپیوٹرز تھے، جبکہ علیشہ کا لیپ ٹاپ ان کے سامنے بہت معمولی لگ رہا تھا، لیکن علیشہ کا حوصلہ سب سے بلند تھا۔
پروفیسر صاحب نے مقابلے کا آغاز کیا اور سکرین پر ایک بہت مشکل ٹاسک (Task) دیا گیا۔ سب نے تیزی سے ٹائپنگ شروع کر دی۔ سارہ بھی اپنے مہنگے لیپ ٹاپ پر بہت فخر سے کام کر رہی تھی۔
وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد، اچانک ہال میں ایک شور مچا۔ سارہ کا کمپیوٹر ہینگ (Hang) ہو گیا تھا کیونکہ اس نے کوڈنگ میں ایک بہت بڑی غلطی کر دی تھی۔ وہ پریشان ہو گئی اور اس کا چہرہ اتر گیا۔
دوسری طرف، علیشہ بہت پرسکون انداز میں، ایک ایک لائن کو دھیان سے لکھ رہی تھی۔ اس کا پرانا لیپ ٹاپ تھوڑا آہستہ ضرور چل رہا تھا، لیکن علیشہ کا کوڈ بالکل درست تھا۔ اس نے راتوں کو جاگ کر جو محنت کی تھی، وہ آج اس کے کام آ رہی تھی۔
"وقت ختم!" پروفیسر صاحب نے اونچی آواز میں کہا۔ سب نے اپنے ہاتھ کی بورڈ سے ہٹا لیے۔
پروفیسر صاحب اور ججز نے سب کے کوڈز چیک کرنا شروع کیے۔ کچھ ہی دیر بعد، پروفیسر صاحب سٹیج پر آئے اور مائیک ہاتھ میں لے کر بولے، "آج کا یہ مقابلہ بہت سخت تھا، لیکن ایک سٹوڈنٹ نے ایسا زبردست اور پرفیکٹ کوڈ لکھا ہے جس کی ہمیں امید نہیں تھی۔ اس مقابلے کی فاتح ہیں... علیشہ!"
پورے ہال میں تالیوں کی گونج اٹھ گئی۔ علیشہ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ وہ سٹیج پر گئی اور پروفیسر صاحب سے اپنا انعام لیا۔ جب اس نے ہال میں دیکھا، تو سارہ شرمندگی سے نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔
شام کو جب علیشہ گھر پہنچی، تو اس نے اپنا انعام اور سرٹیفکیٹ اپنے ابا کے ہاتھوں میں رکھ دیا۔ ابا نے جب سرٹیفکیٹ دیکھا، تو ان کا سر فخر سے بلند ہو گیا اور ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ انہوں نے علیشہ کو گلے سے لگا لیا اور بولے، "مجھے تم پر فخر ہے میری بیٹی۔ تم نے ثابت کر دیا کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔"
رات کو علیشہ نے اپنے لیپ ٹاپ پر لکھا:
"آج پہلی جیت ملی ہے۔ راستے میں سارہ جیسے لوگ ملیں گے جو آپ کو کمزور سمجھیں گے، لیکن آپ کا جواب آپ کا کام ہونا چاہیے۔ سفر ابھی جاری ہے..."
(جاری ہے...)
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments