قسط 5: کامیابی کا نیا آسمان

کمپنی کا ہال جدید ٹیکنالوجی، چمکتی ہوئی اسکرینوں اور شہر کے ٹاپ اسٹوڈنٹس سے بھرا ہوا تھا۔ ہال میں موجود ہر شخص کے چہرے پر ایک عجیب سا تناؤ اور جوش تھا۔ ایک سے بڑھ کر ایک شاندار پروجیکٹ ججز کے سامنے پیش کیے جا رہے تھے۔ کسی نے آن لائن شاپنگ کی بہت مہنگی ایپ بنائی تھی، تو کسی نے جدید گرافکس والا گیمنگ سافٹ ویئر تیار کیا تھا۔ جب اسٹیج سے مائیک پر علیشہ کا نام پکارا گیا، تو اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اس کے ہاتھ تھوڑے سے کانپ رہے تھے اور دماغ میں ایک لمحے کے لیے سارہ کے وہ طنزیہ جملے گونج اٹھے، لیکن اس نے گہرا سانس لیا، دل ہی دل میں اللہ کا نام لیا اور پورے اعتماد کے ساتھ اسٹیج کی طرف بڑھی۔

علیشہ نے جیسے ہی اسٹیج پر جا کر پروجیکٹر آن کیا، سامنے لگی بڑی اسکرین پر اس کی بنائی ہوئی ایپ کا لوگو چمک اٹھا، جس کا نام اس نے رکھا تھا: "روشن مستقبل"۔

ہال میں بیٹھے ججز نے بہت غور اور حیرت سے اس کی پریزنٹیشن سننا شروع کی۔ علیشہ نے بڑی خوبصورتی سے سمجھایا، "سر! باقی سب نے جو ایپس بنائیں، ان سے امیر لوگ مزید آسانی سے خریداری یا تفریح کر سکتے ہیں۔ لیکن میری یہ ایپ ان غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کے لیے ہے جو مہنگی اکیڈمیز کی فیس نہیں دے سکتے۔ اس ایپ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ انٹرنیٹ کے بغیر بھی بنیادی کتابیں، نوٹس اور تعلیمی ویڈیوز بچوں تک پہنچا سکتی ہے تاکہ دیہات اور پسماندہ علاقوں کے بچے بھی پڑھ سکیں۔"

جب علیشہ کی بات ختم ہوئی، تو پورے ہال میں کچھ سیکنڈز کے لیے گہرا سناٹا چھا گیا۔ علیشہ کا دل ڈوبنے لگا کہ شاید ججز کو اس کا کام پسند نہیں آیا، لیکن اگلے ہی پل چیف جج اپنی کرسی سے کھڑے ہوئے اور انہوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا ہال تالیوں کی گونج سے لرز اٹھا۔ چیف جج نے مائیک ہاتھ میں لیا اور بولے، "علیشہ! باقی سب نے بزنس کے لیے کام کیا، لیکن تم نے معاشرے کے ایک بہت بڑے اور اہم مسئلے کو حل کرنے کا سوچا۔ تمہارا کوڈ جتنا سادہ اور پرفیکٹ ہے، تمہارا آئیڈیا اس سے کہیں زیادہ بڑا اور عظیم ہے۔"

جب نتائج کا اعلان ہوا، تو علیشہ کو اس سال کی بہترین "ینگ ڈویلپر" کے ایوارڈ سے نوازا گیا اور ساتھ ہی کمپنی کا آفیشل انٹرن شپ لیٹر بھی دیا گیا، جس کے تحت اسے پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہر مہینے ایک بہترین رقم ملنی تھی۔ علیشہ کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔ وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی جیت لے کر جب گھر پہنچی، تو اس کا پورا وجود خوشی سے جھوم رہا تھا۔

اس نے گھر داخل ہوتے ہی وہ لیٹر اور پہلی رقم کا چیک اپنے ابا کے ہاتھوں میں رکھ دیا۔ ابا نے جب وہ چیک اور اس پر علیشہ کا نام دیکھا، تو ان کے ہاتھ کانپنے لگے۔ انہوں نے علیشہ کو گلے سے لگا لیا اور ان کی آنکھوں سے فخر اور خوشی کے آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، "بیٹا! آج تم نے میری برسوں کی تھکن اتار دی۔ مجھے معلوم تھا کہ میری بیٹی کا حوصلہ عارضی نہیں ہے، تم نے میرا سر فخر سے بلند کر دیا۔" امی نے آگے بڑھ کر علیشہ کا چہرہ چوما اور بڑی بہن پیزا نے کچن سے سب کے لیے گرم گرم حلوہ بنا کر لایا۔ پورے گھر میں عید کا سماں تھا اور چھوٹا بھائی عایا بھی دور کھڑا مسکرا رہا تھا۔

رات کو جب بستی خاموش ہو گئی، تو علیشہ اپنے کمرے میں آئی اور اپنا پرانا لیپ ٹاپ کھولا۔ اس نے اپنی ڈیجیٹل ڈائری کا نیا صفحہ نکالا اور اس پر لکھا:

"آج میرے خوابوں کو واقعی اڑان مل گئی ہے۔ ابا کا فخر سے چمکتا ہوا چہرہ میری زندگی کی سب سے بڑی کمائی ہے جو کسی بازار سے نہیں مل سکتی۔ راستے میں سارہ جیسے لوگ بھی آئیں گے اور پرانے لیپ ٹاپ جیسے وسائل کی کمی بھی ہوگی، لیکن اگر نیت سچی ہو اور محنت میں ملاوٹ نہ ہو، تو اللہ ہر بند دروازہ کھول دیتا ہے۔ یہ سفر کا اختتام نہیں، بلکہ ایک نئے اور بڑے آسمان کی شروعات ہے جہاں مجھے ابھی بہت آگے جانا ہے۔"

(مکمل ہوئی)

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play