اگلی صبح جب مریم کی آنکھ کھلی تو گھر میں عجیب سی خاموشی تھی۔ ابا صحن میں سر جھکائے بیٹھے تھے اور امی کچن میں اداس کھڑی تھیں۔ مریم جانتی تھی کہ ابا کی نوکری چھوٹ جانے کی وجہ سے پورا گھر پریشان ہے۔ اس نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھے، چہرے پر ایک مصنوعی مسکراہٹ سجائی اور ابا کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔
"ابا، آپ نے ہی تو مجھے سکھایا ہے نا کہ صبح کی نئی کرن ہمیشہ اپنے ساتھ ایک نیا راستہ لاتی ہے؟ آپ ہمت کیوں ہار رہے ہیں؟" مریم نے ابا کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔
ابا نے مریم کی طرف دیکھا، ان کی آنکھوں میں بے بسی تھی، "میری بچی، میں ہمت نہیں ہار رہا، لیکن شہر کے حالات ایسے ہیں کہ آسانی سے مزدوری نہیں مل رہی۔ مجھے تمہاری پڑھائی کی فکر ہے، اگر اس مہینے فیس نہ دی تو وہ اسکول سے تمہارا نام کاٹ دیں گے۔"
مریم کا دل ایک لمحے کے لیے دھک سے رہ گیا، لیکن اس نے خود کو سنبھالا۔ "ابا، پڑھائی صرف اسکول کی چار دیواری میں نہیں ہوتی۔ اگر نیت سچی ہو تو انسان کہیں بھی سیکھ سکتا ہے۔ آپ فیس کی فکر نہ کریں، اللہ کوئی نہ کوئی سبب ضرور بنائے گا۔"
اسی دوپہر مریم نے ایک فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی بستی کا چکر لگایا۔ اس نے دیکھا کہ بستی کے بہت سے چھوٹے چھوٹے بچے گلیوں میں مٹی سے کھیل رہے تھے، کچھ آپس میں لڑ رہے تھے اور کچھ دکانوں پر بیٹھے فضول وقت ضائع کر رہے تھے۔ ان کے والدین کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ انہیں اسکول بھیج سکیں۔
مریم کے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا۔ اس نے سوچا، "کیوں نہ میں ان بچوں کو اپنے گھر کے صحن میں مفت پڑھانا شروع کر دوں؟ اس سے ان بچوں کا بھلا ہوگا، وہ بری عادتوں سے بچیں گے، اور میرے اپنے علم میں بھی اضافہ ہوگا۔"
وہ بستی کی کچھ ماؤں کے پاس گئی اور ان سے بات کی۔ پہلے تو سب نے اس کا مذاق اڑایا۔ ایک عورت نے طنز کرتے ہوئے کہا، "ارے مریم! تم خود ابھی چھوٹی ہو، تمہارے اپنے گھر کے لالے پڑے ہیں اور تم چلی ہو دوسروں کے بچوں کو سدھارنے؟"
لیکن مریم نے ہار نہیں مانی۔ اس نے بڑے ادب سے جواب دیا، "خالہ، علم بانٹنے سے گھر کا راشن کم نہیں ہوتا، بلکہ برکت آتی ہے۔ آپ اپنے بچوں کو روز شام کو صرف ایک گھنٹے کے لیے میرے پاس بھیجیں، اگر ان میں تبدیلی نہ آئے تو پھر روک لیجیے گا۔"
مریم کے مخلص لہجے کا اثر ہوا اور شام کو بستی کے پانچ چھوٹے بچے مریم کے صحن میں آ کر بیٹھ گئے۔ ان کے پاس نہ کتابیں تھیں نہ پنسلیں، بس وہ حیرت سے مریم کو دیکھ رہے تھے۔
مریم نے زمین پر لکڑی کی ایک چھوٹی سی ٹہنی سے مٹی پر الف، ب، ج لکھنا شروع کیا۔ وہ بچوں کو اتنے پیارے اور دلچسپ انداز میں کہانیاں سنا کر پڑھا رہی تھی کہ جو بچے پانچ منٹ ایک جگہ نہیں بیٹھتے تھے، وہ پورے ایک گھنٹے تک دھیان سے اس کی باتیں سنتے رہے۔
پڑھائی ختم ہوئی تو مریم نے ان سے کہا، "کل ہم ایک نئی کہانی سیکھیں گے، لیکن شرط یہ ہے کہ کل آپ سب صاف ستھرے ہو کر آئیں گے اور کسی سے لڑائی نہیں کریں گے۔" بچوں نے ہنستے ہوئے سر ہلایا اور اپنے گھروں کی طرف بھاگ گئے۔
دور کھڑے ابا یہ سب دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں فخر کے آنسو آ گئے۔ انہوں نے مریم کو اپنے پاس بلایا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے، "مریم، آج مجھے سمجھ آیا کہ تم غریب گھر میں پیدا ضرور ہوئی ہو، لیکن تمہاری سوچ کسی بادشاہ سے کم نہیں ہے۔ تم نے اندھیرے کا گلہ کرنے کے بجائے خود کو شمع بنا دیا ہے۔"
رات کو مریم نے اپنی ڈائری میں لکھا:
"آج میری بستی کے پانچ چراغ روشن ہوئے ہیں۔ راستہ مشکل ضرور ہے، لیکن جب ارادے نیک ہوں تو منزل خود بخود قریب آنے لگتی ہے۔ ابھی یہ شروعات ہے، مجھے اس پورے اندھیرے کو روشنی میں بدلنا ہے۔"
(جاری ہے...)
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments