قسط 4: علم کی روشنی اور امتحان کی گھڑی

زمان کے ساتھ ہونے والی اس کشمکش نے مریم کے عزم کو اور بھی پختہ کر دیا تھا۔ اب بستی کے لوگ اسے ایک عام لڑکی نہیں، بلکہ ایک ایسی طاقت سمجھنے لگے تھے جس کے پاس علم کا ہتھیار تھا۔ لیکن مریم جانتی تھی کہ یہ لڑائی صرف زمان کے خلاف نہیں، بلکہ اس سوچ کے خلاف ہے جو کہتی ہے کہ لڑکیاں صرف گھر کے کاموں کے لیے بنی ہیں۔

کچھ دن گزرے تھے کہ بستی کے اسکول کے پرنسپل، جو کبھی مریم کی تعلیم کے خلاف تھے، خود مریم کے گھر آ گئے۔ پرنسپل صاحب کی آنکھوں میں آج ایک الگ چمک تھی۔ انہوں نے مریم کے ابا سے کہا، "ہم نے سنا ہے کہ مریم بستی کے بچوں کو بہت اچھی طرح پڑھا رہی ہے۔ ہمارے اسکول میں کچھ پرائمری کے بچے ہیں جو پڑھائی میں بہت کمزور ہیں، کیا مریم انہیں شام کو اسکول کی لائبریری میں بلا کر پڑھا سکتی ہے؟ ہم اسے اس کام کے عوض کچھ وظیفہ بھی دیں گے۔"

یہ مریم کے لیے کسی بڑی کامیابی سے کم نہیں تھا۔ وہ جو اب تک اپنے صحن میں مٹی پر بچوں کو پڑھا رہی تھی، اب اسے ایک باقاعدہ تعلیمی ادارے میں موقع مل رہا تھا۔ مریم کے دل میں شکر گزاری کا جذبہ جاگ اٹھا۔

مریم نے اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا۔ اب وہ دن میں خود اپنی پڑھائی کرتی اور شام کو اسکول کی لائبریری میں ان بچوں کو پڑھاتی جو سکول چھوڑ چکے تھے۔ مریم کا پڑھانے کا انداز اتنا منفرد تھا کہ بہت جلد دوسرے والدین بھی اپنے بچوں کو وہاں بھیجنے لگے۔

لیکن، خوشیاں ہمیشہ اکیلی نہیں آتیں۔ مریم کو جلد ہی اندازہ ہوا کہ اسکول کے کچھ اساتذہ کو یہ بات پسند نہیں آ رہی کہ ایک چھوٹی سی لڑکی ان کے کام کو بہتر طریقے سے کر رہی ہے۔ ایک دن، اسکول کی ایک پرانی استانی نے جان بوجھ کر مریم کا رجسٹر چھپا دیا تاکہ مریم کلاس نہ لے سکے۔ بچے کلاس میں بیٹھے مریم کا انتظار کر رہے تھے، اور مریم سارا وقت رجسٹر ڈھونڈنے میں ضائع کر رہی تھی۔

وہ وقت پر کلاس میں نہ پہنچ سکی، جس کی وجہ سے پرنسپل صاحب نے مریم کو طلب کر لیا۔ "مریم! تم نے کہا تھا کہ تم ذمہ دار ہو، پھر آج کلاس کیوں نہیں ہوئی؟" پرنسپل نے غصے سے پوچھا۔

مریم جانتی تھی کہ اگر وہ ان اساتذہ کا نام لے گی تو اسکول میں جھگڑا بڑھے گا، لیکن اگر وہ خاموش رہی تو اس کا کیریئر ختم ہو سکتا ہے۔ اس نے بڑے تحمل سے جواب دیا، "سر، میں اپنی ذمہ داری سے واقف ہوں۔ آج کچھ ایسا ہوا جس پر میرا بس نہیں تھا۔ میں آپ سے صرف اتنا چاہتی ہوں کہ مجھے اپنی کلاس خود منظم کرنے کا موقع دیں۔"

اس دن مریم نے سیکھا کہ کامیابی کی راہ میں رکاوٹیں باہر کے دشمن نہیں، بلکہ اپنے ہی ماحول کے لوگ بناتے ہیں۔ اس نے اس دن عہد کیا کہ وہ اپنی محنت سے ایسی ساکھ بنائے گی کہ کوئی اسے ہلا نہ سکے گا۔

رات کو مریم نے اپنی ڈائری میں لکھا:

"آج میرا پہلا اصل امتحان تھا۔ لوگوں کی مخالفت اور سازشیں تو آتی رہیں گی، لیکن میرا کام بولنا چاہیے۔ اگر میں حق پر ہوں، تو اللہ خود میرے لیے راستے صاف کرے گا۔ کل کا سورج ایک نئی امید لے کر طلوع ہوگا۔"

(جاری ہے...)

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play