قسط 5: اندھیرے پر علم کی آخری فتح

اسکول کی لائبریری میں ہونے والی اس سازش نے مریم کو کچھ دیر کے لیے پریشان ضرور کیا تھا، لیکن وہ پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھی۔ اگلے ہی دن پرنسپل صاحب نے مریم کی کلاس کا خود معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مریم نے بڑے سکون اور اعتماد کے ساتھ بچوں کو پڑھانا شروع کیا۔ اس نے مشکل ترین سبق کو بھی ایک اتنی پیاری اور سبق آموز کہانی کی شکل میں سنایا کہ کلاس میں بیٹھے بچے تو ایک طرف، باہر کھڑے پرنسپل صاحب اور دوسرے اساتذہ بھی حیران رہ گئے۔ مریم کی پڑھانے کی لگن اور بچوں کی دلچسپی دیکھ کر پرنسپل صاحب کا سارا غصہ کافور ہو گیا اور انہوں نے مریم کے رجسٹر چھپانے والی استانی کو سب کے سامنے وارننگ دی۔

وقت گزرتا گیا اور مریم کی محنت رنگ لانے لگی۔ اس پسماندہ بستی کے وہ بچے جو کبھی گلیوں میں آوارہ گھومتے تھے، اب وہ شہر کے بڑے امتحانات میں ٹاپ کرنے لگے تھے۔ مریم نے نہ صرف ان بچوں کو پڑھایا بلکہ بستی کی خواتین کے لیے بھی ہفتے میں دو دن ایک خصوصی کلاس رکھنا شروع کی، جہاں وہ انہیں بنیادی حساب کتاب اور اپنے حقوق کے بارے میں بتاتی تھی۔ بستی کے وہ لوگ جو پہلے مریم کا مذاق اڑاتے تھے، اب وہ مریم کو اپنی بستی کی "روشنی" کہنے لگے تھے۔ زمان جیسے حاسد دکاندار اب خود مریم کے سامنے سر جھکا کر گزرتے تھے کیونکہ اب بستی کا کوئی بھی بچہ ان کے ہاتھوں مجبور ہو کر مزدوری کرنے کو تیار نہیں تھا۔

کچھ سالوں بعد، مریم کی اس چھوٹی سی کوشش کو حکومت کی سطح پر بھی سراہا گیا۔ ایک دن شہر کے بڑے ہال میں ایک تقریب منعقد ہوئی جہاں مریم کو اس کی بستی میں تعلیم عام کرنے کے مخلص مشن پر "صوبائی تعلیمی ایوارڈ" سے نوازا گیا۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے مریم کی بستی میں ایک بڑا، جدید اور مفت سرکاری اسکول بنانے کا اعلان کیا جس کی نگران مریم کو مقرر کیا گیا۔ تقریب کے ہال میں جب مریم کا نام پکارا گیا تو تالیوں کی گونج رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ مریم اسٹیج پر آئی، اس نے ایوارڈ اپنے ہاتھ میں لیا اور سامنے بیٹھے اپنے بوڑھے اور محنتی ابا کی طرف دیکھا، جن کی آنکھوں سے آج خوشی اور فخر کے آنسو بہہ رہے تھے۔ مریم نے مائیک پر کہا، "یہ ایوارڈ میرا نہیں، میرے ابا کے اس بھروسے کا ہے جس نے مجھے اندھیرے میں بھی مایوس ہونا نہیں سکھایا۔"

گھر واپسی پر پوری بستی نے مریم کا استقبال پھولوں کے ہاروں اور ڈھول کی تھاپ سے کیا۔ مریم نے اپنے اسی پرانے کچے صحن میں جا کر، جہاں اس نے مٹی پر لکڑی سے پہلا لفظ لکھا تھا، اپنے مٹی کے چراغ کو دیکھا جو اب ایک بہت بڑے اسکول کی شکل اختیار کرنے والا تھا۔ اس رات مریم نے اپنی ڈائری نکالی اور اس کے آخری صفحے پر مسکراتے ہوئے لکھا:

"آج اندھیرے پر علم کی آخری اور مکمل فتح ہو گئی ہے۔ میرا یہ سفر یہاں ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ تو اب ایک مستقل روشنی بن چکا ہے جو میری بستی کے ہر گھر کو ہمیشہ چمکاتی رہے گی۔ جب ارادے نیک اور سچے ہوں، تو مٹی پر لکھی ہوئی تحریر بھی تاریخ بدل دیتی ہے۔"

(مکمل ہوئی)

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play