قسط 3: مٹی کے چراغ اور حاسدوں کی دیوار

مریم کا چھوٹا سا صحن اب روز شام کو بچوں کی ہنسی اور پڑھائی کی آوازوں سے گونجنے لگا تھا۔ پانچ بچوں سے شروع ہونے والی اس کلاس میں اب بستی کے بارہ بچے آ چکے تھے۔ مریم ان کے لیے صرف ایک استانی نہیں تھی، بلکہ وہ ان کی سب سے اچھی دوست بن چکی تھی۔ وہ بچوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ بڑوں کا احترام کرنا، سچ بولنا اور صفائی ستھرائی رکھنا بھی سکھاتی تھی۔ بستی کے وہ بچے جو پہلے گلیوں میں لڑتے جھگڑتے تھے، اب ان کے اخلاق بدلنے لگے تھے۔

مریم کی یہ کامیابی بستی کے کچھ ان پڑھ اور حاسد لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ ان میں سب سے آگے بستی کا ایک دکاندار "زمان" تھا، جو بچوں سے اپنے ہوٹل پر سستا کام کرواتا تھا۔ جب سے بچوں نے مریم کے پاس پڑھنا شروع کیا تھا، انہوں نے ہوٹل پر کام کرنے سے منع کر دیا تھا۔

ایک شام، جب مریم بچوں کو مٹی پر لکڑی سے حساب کے سوال حل کرنا سکھا رہی تھی، زمان چند آدمیوں کے ساتھ مریم کے گھر کے باہر آ کر کھڑا ہو گیا اور اونچی آواز میں چلانے لگا۔

"او مریم کے ابا! باہر آؤ ذرا۔ دیکھو تمہاری بیٹی نے ہماری بستی کا ماحول خراب کر رکھا ہے۔ یہ لڑکیوں کا کام ہے بھلا؟ خود تو اسکول جا نہیں پا رہی اور یہاں بڑی پروفیسر بن کر ہمارے بچوں کو بہکا رہی ہے!" زمان نے بدتمیزی سے کہا۔

شور سن کر مریم کے ابا اور امی باہر آ گئے۔ ابا نے بڑے پیار سے کہا، "زمان بھائی، میری بیٹی تو بچوں کو اچھی باتیں سکھا رہی ہے، اس میں ماحول خراب کرنے والی کیا بات ہے؟"

"بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو بابو نہیں بنانا، انہیں کام دھندے پر لگانا ہے۔ کل سے اگر کوئی بچہ اس صحن میں نظر آیا، تو اچھا نہیں ہوگا،" زمان نے دھمکی دی اور وہاں سے چلا گیا۔

بچے ڈر گئے اور مریم کے والدین بھی پریشان ہو گئے۔ امی نے مریم سے کہا، "بیٹا، اب بس کر دو۔ ہم غریب لوگ ہیں، ان جھگڑوں کا سامنا نہیں کر سکتے۔"

مریم کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا، لیکن اس نے اپنی ہمت کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ اس نے بچوں سے کہا، "آپ سب کل اپنے وقت پر آئیں گے۔ جب تک ہمارے ارادے سچے ہیں، کوئی ہمارا راستہ نہیں روک سکتا۔"

اگلے دن، مریم نے ایک بڑا قدم اٹھایا۔ وہ بستی کے ان بچوں کے والدین کے پاس خود گئی جو اس کے پاس پڑھتے تھے۔ اس نے ماؤں کو سمجھایا کہ تعلیم کیوں ضروری ہے۔ اس نے کہا، "اگر آج آپ کے بچے پڑھ گئے، تو کل وہ زمان جیسے لوگوں کے محتاج نہیں رہیں گے اور آپ کا نام روشن کریں گے۔" مریم کی باتوں میں ایسا خلوص تھا کہ سب ماؤں نے مریم کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا۔

شام کو جب زمان دوبارہ اپنے آدمیوں کے ساتھ دھمکی دینے آیا، تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ مریم کے صحن میں صرف بچے ہی نہیں، بلکہ ان کی مائیں بھی لاٹھیاں اور جھاڑو لیے کھڑی تھیں۔

مریم نے آگے بڑھ کر بڑے حوصلے سے کہا، "زمان صاحب! اب میں اکیلی نہیں ہوں، اب پوری بستی کے بچے اور ان کی مائیں علم کی اس روشنی کے ساتھ کھڑی ہیں۔ اگر آپ نے اب کسی بچے کو پڑھنے سے روکا، تو ہم پولیس اسٹیشن جائیں گے۔"

مریم کا یہ روپ دیکھ کر زمان کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ خاموشی سے اپنے آدمیوں کے ساتھ پیچھے ہٹ گیا۔ مریم نے مٹی کے ان چراغوں کو حاسدوں کی آندھی سے بچا لیا تھا۔

رات کو مریم نے اپنی ڈائری میں لکھا:

"آج مجھے معلوم ہوا کہ جب آپ اکیلے سچائی کے راستے پر نکلتے ہیں، تو اللہ لوگوں کے دلوں میں آپ کے لیے محبت اور ہمت ڈال دیتا ہے۔ ابھی تو صرف ایک دکاندار ہارا ہے، مجھے اس بستی کی تقدیر بدلنی ہے۔"

(جاری ہے...)

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play