ہاں جیسے مجھے تو بہت شوق ہے یہاں رک کے تمہاری میٹھی میٹھی باتیں سننے کا ۔ وہ منہ بناتی وہاں سے چلی گئی تھی ۔
عجیب لڑکی ہے لیکن لڑائی کرنے میں میرے مقابلے کی ہے وہ اسے دور جاتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔
اس نے مر کر دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ اسے ادھر منہ کرنے کا اشارہ کر کے ٹرین میں داخل ہوگئی تھی وہ اب چائے کے اسٹال پر بیٹھ گیا تھا ۔
وہ اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گئی تھی ۔ امی نے اس سے پوچھا کہ اتنی دیر کیوں لگا دی زوہان کب سے تمہیں بلا رہا تھا ۔ بس وہ گجرے دیکھ رہی تھی لیکن کوئی اچھا ہی نہیں تھا سب ایک جیسے بنے ہوئے تھے ۔
اب بس بھی کرو تم تو تفتیش ہی کرنے لگ گئی ابو نے امی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔ ابھی ٹرین اسٹا رٹ ہو جائے گی کوئی چیز کھانی ہے تو بتا دو میں لے آتا ہو ابو نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔
نہیں بابا ابھی تو گول گپے کھائے ہیں اگلے اسٹیشن سے لیں لے گے جو بھی لینا ہوا ۔ زارا نے جواب دیا تھا ۔
ٹرین اسٹا رٹ ہو چکی تھیں سب مسافر ٹرین پر سوار ہو چکے تھے ۔ ابو اوپر کے برتھ پر لیٹ گئے تھے اب اگلا اسٹیشن ایک گھنٹے کے سفر کے بعد آئے گا میں ذرا سو رہا ہوں پھر مجھے اٹھانا میں کچھ کھانے کیلئے آپ سب کو لا دوں گا ۔ وہ سب لیز نمکو اور بسکٹ وغیرہ کھا رہے تھے جبکہ مہر سوچوں میں گم تھی ۔" کتنا پاگل انسان تھا ہر بات کا الٹا جواب دیتا تھا پر میں نے بھی کوئی کم نہیں کی میں نے بھی اسے صحیح سبق سکھایا ہے " ۔
" جھانسے کی رانی " وہ مسکرا رہی تھی اور اس کے ان الفاظ کو دہرا رہی تھی ۔ ویسے اتنا برا بھی نہیں تھا میں نے ویسے ہی اسے ڈانٹ دیا اب اگر ملا تو اس کا شکریہ ادا کر دوں گی اور سوری بھی کر لوں گی ۔
کیا سوچ رہی ہو مہر زارا آپی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔ کچھ نہیں بس ویسے ہی خاموش بیٹھی ہوں۔ یہ لیں آپی مہر اپنا موبائل زوہان نے اس کی طرف موبائل بڑھاتے ہوئے کہا تھا ۔یاد آگیا کہ یے میرا موبائل ہے اس نے زوہان سے موبائل پکڑنے ہوئے کہا تھا ۔
نہیں وہ نیٹ نہیں چل رہا یہاں ۔ اچھا یہ بات ہے میں بھی سمجھی یہ نظر کرم کیسے ہوگیا ۔
اب انہیں ٹرین میں بیٹھے کافی وقت ہو چکا تھا ۔ امی وہ یہاں نیٹ نہیں چل رہا میں نے مریم کو بتانا ہے کہ ہم گاؤں کے لئے روانہ ہو گئے ہیں تو میں زرہ دروازے کے پاس جا رہی ہوں چلی جاؤ ں امی ؟ اس نے امی سے اجازت لی تھی ۔
ہاں چلی جاؤ مگر جلدی آ جانا ۔ اوکے امی اس نے اٹھتے ہوئے کہا تھا ۔ پتہ نہیں وہ ٹرین میں سوار ہوا ہوگا یا وہ اسٹیشن گھومنے کیلئے آیا ہوا تھا ۔
وہ سوچو میں گم آگے جارہی تھی کہ اس کی کسی سے ٹکر لگی تھی میرا موبائل وہ جلدی سے اپنا موبائل اٹھانے کیلئے نیچے جھکی تھی ۔
" ایم سو سوری " دوسری جانب سے آواز ابھری تھی۔ "کوئی بات نہیں " وہ اوپر اٹھتے ہوئے بول رہی تھی ۔
" تم " وہ دونوں ایک ساتھ بولے تھے ۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ او مس یے ٹرین آپ کی نہیں ہے جس طرح آپ یہاں پر سفر کر رہی ہیں میں بھی ایسے ہی سفر کر رہا ہو ں ۔
"تمہیں پتا میں ابھی کیا سوچ رہی تھی ۔"
" نہیں " اس نے شانے آ چکائے تھے ۔ میں بھی کس پاگل کو سمجھا رہی ہوں " میں کتنے اچھے خیالات لے کے یہاں سے گزر رہی تھی کہ ،تم ملے تو تمہارا شکریہ ادا کرو گی ۔
مگر تمہیں دیکھتے ہی میرا " پارہ ہائی " ہو جاتا ہے میرا دل کرتا ہے کہ کوئی ہتھوڑا ہو اور وہ میں تمہارے سر پہ دے مارو ۔
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments