او تو تم میرے بارے میں سوچنے بھی لگی ہو وہ اس کے کان میں بول رہا تھا ۔
جی نہیں تم کسی خوش فہمی میں مت رہنا ہٹو اب جانے دو مجھے میں زیادہ دیر یہاں رکنا نہیں چاہتی کیونکہ تم پھر کسی ریڈیو کی طرح چالو ہو جاؤ گے اور اپنی تعریفیں کر کر کے میرے کان پکا دو گے ۔
اب جاؤ بھی کھڑی کیوں ہو میں تو کب سے چپ کھڑا ہوں تمہارا ہی دل نہیں کر رہا جانے کا باتوں کے بہانے کھڑی ہو یہاں ۔
اب یے تم منہ میں کیا پڑھ رہی ہو جلدی بتاؤ کون سا منتر ہے یہ، وہ جلدی جلدی پوچھ رہا تھا ۔
اللہ کی پناہ مانگ رہی ہوں تم جیسے شیطان سے وہ اب جانے کے لیے مڑی تھی ۔
تم نے مجھے شیطان کہا رکو میری بات سنو وہ اس کے پیچھے چل رہا تھا ۔
اب دیکھ لو کون کس کا پیچھا کر رہا ہے وہ چلتے چلتے بول رہی تھی جبکہ وہ اس کی اس بات پر وہی رک گیا تھا ۔
مریم سے بات ہو گئی تمہاری اسے دیکھ کے امی نے پو چھا تھا ۔ جی ہوگئی ہے امی اس نے جواب دیا تھا ۔
باہر بادل آگئے ہیں مجھے لگتا ہے بارش ہونے والی ہے عنابیا نے باہر دیکھتے ہوئے بولا تھا ہاں مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے ابو نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی ۔ یہ سفر ہمیں ہمیشہ یاد رہے گا کتنا خوش گوار سفر ہے یہ ہلکی ہلکی ہوا کتنا خوبصورت احساس دلا رہی ہے ۔ وہ گویا اس موسم میں کہیں گم سی ہو گئی تھی اسے ہر طرف اس کے قہقہوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھی وہ خود بھی نہیں
جانتی تھی اس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے اس کے دماغ میں اسی کی باتیں گونج رہی تھی ۔ مجھے تو لگتا ہے میں پاگل ہو گئی ہوں یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ وہ بڑبڑائی تھی۔
کچھ کہا تم نے مہر امی نے اس سے پو چھا تھا ۔ میں نے نہیں تو میں نے تو کچھ نہیں کہا وہ ایک دم سے سنبھلی تھی۔
وہ آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا اچانک اس کی آنکھ کھلی تو وہ اس کے سامنے کھڑی اسے گھور رہی تھی تم پھر آگئی اب میں نے کیا ، کیا ہے ؟ مجھے غصے سے کیو دیکھ رہی ہو ۔ وہ وہاں سے غائب ہو گئی تھی ارے تم کہا گئ اس نے اپنی آنکھیں مسل کر دیکھا تھا یہاں تو کوئی بھی نہیں تھا تو پھر وہ مجھے نظر کیوں آئی تھی مجھے تو لگتا ہے کہ اس نے مجھ پہ جادو کر دیا ہے اس وقت وہ کون سا " منتر " پڑھ رہی تھی مجھے کیسے پتا چلے گا کہ اس نے مجھ پر جادو کیا ہے ۔
ٹرین اسٹیشن پر پہنچ چکی تھی وہ سب خوش گوار موسم سے لطف اٹھانے کا لیے باہر آگئے تھے ہلکی ہلکی بارش برس رہی تھی اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی رات ہو چکی تھی وہ اب ایک ریسٹورنٹ پر رات کا کھانا کھا رہے تھے وہاں بہت سے اور مسافر بھی تھے وہ شاید ادھر اُدھر اسے ہی تلاش کر رہی تھی مجھے ڈھونڈ رہی ہو اسے کسی کی آواز سنائی دی تھی مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا ۔ وہ اپنی اس حالت پر مسکرا رہی تھی ۔
کھانا تو بہت مزے کا تھا ان کا اس نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا کھانا واقعی مزے کا تھا زارا نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا تھا ۔
ابو بل ادا کرنے چلے گئے تھے جب کہ وہ سب ریسٹورنٹ سے باہر چلے گئے تھے وہ اب چائے کے اسٹال پر پہنچ گئے تھے ۔
چائے پینے کے بعد انہوں نے کچھ اسنیکس خریدے تھے اور اب وہ ٹرین میں سوار ہو چکے تھے ۔
وہ کھانا کھا کر اب وہیں اسٹیشن پر گھوم رہا تھا بارش برسنا بند ہو گئی تھی مگر موسم بے حد خوش گوار ہو گیا تھا ۔
ہر طرف ٹرین کی سیٹی کی آواز گونج رہی تھی سارے مسافر ٹرین میں سوار ہورہے تھے ۔ وہ سیاہ پینٹ شرٹ میں کسی ہیرو سے کم نہیں لگ رہا تھا اور اس کے گھنجرالے بال گیلے ہو کر اب اور بھی خوبصورت لگ رہے تھے وہ بھی ٹرین میں سوار ہو چکا تھا ۔
ابو اب اور کتنا سفر رہ گیا ہے؟ زوہان نے پو چھا تھا ۔
بس اگلے اسٹیشن پر ہم اتر جائیں گے اس سے آ گے پھر چاچو لوگ ہمیں آکر لے جائیں گے ابو نے جواب دیا تھا ۔
ٹرین آہستہ آہستہ چلنا شروع ہو گئی تھی وہ ٹرین کے دروازے کے پاس ہی کھڑا تھا ۔
وہ سب اب دوبارہ سے آرام کرنے کےلئے لیٹ گیے تھے وہ بھی ٹیک لگا کر سو گئی تھی ۔ اسے پھر سے اس کے قہقہوں کی آواز سنائی دے رہی تھی " اف خدایا " اب اس کی آوازیں مجھے سونے بھی نہیں دیں گی وہ ایک جھٹکے سے اٹھی تھی ۔ وہ سب سو چکے تھے ۔ امی مجھے نیند نہیں آ رہی میں تھوڑا چکر لگا کے آتی ہوں اس نے امی کو اٹھا کر بتایا تھا ۔
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments