عشق یار ناول حصہ پنجم

وہ دروازے کے پاس جا کر دوسری طرف رخ کرکے باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی ۔ اس نے کسی کی آواز سنی تھی شاید کوئی موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا ۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسے وہ اپنے پیچھے کھڑا دکھائی دیا تھا ۔

تم میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ رہے اس نے اس کا مو بائل کھینچ کر کال  کٹ کر دی تھی ۔ میرا موبائل واپس کرو ۔

پکڑو اپنا موبائل ۔ " میرا موبائل واپس کرو " اس نے اس کی ایکٹنگ کی تھی ۔

وہ دل کھول کر اس کی اس حرکت پر ہنسا تھا ۔

تمہیں کوئی حق نہیں ہے مجھ پر ہنسنے کا ۔ سمجھے تم ! 

میں نے تو صرف تمہیں بچانے کے لیے تمہیں اپنی بیوی بولا تھا تم تو سچ میں مجھ پر حق جمانے لگی وہ ہنستے ہوئے بول رہا تھا ۔

تو تم میرے خواب میں کیا ' اس نے زبان دانتوں تلے دبا لی تھی ۔

کیا، کیا ،کیا کہا تم نے میں تمہارے خوابوں میں بھی آنے لگا ہوں اس نے فوراً اس کی بات پکڑی تھی ۔

ہاں نا تم میرے خواب میں آئے تھے ۔

اس کی بات سن کے اس نے اپنا کارلر سیدھا کرنے کی ایکٹنگ کی تھی ۔

خواب میں تم بالکل میرے سامنے کھڑے تھے اور میں تمہاری طرف دیکھ رہی تھی اور پھر میں نے تمہیں توپ سے اڑا دیا ۔

اس کے ہاتھ وہی رک گئے تھے ۔

کیسا لگا میرا خواب بتاؤ نا ،بولو نا ۔

ہاہاہا بہت اچھا خواب تھا چلو اب جاؤ یہاں سے۔

" ہوں جاؤ یہاں سے " میں ویسے بھی جارہی ہوں وہ ناک چراتے  ہوئے جاچکی تھی ۔

وہ بھی واپس جانے کے لیے مڑا تھا اسے زمین پر کوئی چیز گری ملی تھی ارے تمہارا بریسلیٹ اس نے بریسلیٹ اٹھاتے ہوئے بولا تھا ۔  رہنے دیتا ہوں واپس آگئی تو پھر کہے گی کی  اس سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہوں میں ، اس نے بریسلیٹ اپنی جیب میں ڈال لیا تھا اور وہ اپنی سیٹ کی طرف بڑھ گیا تھا ۔

وہ اب سو چکی تھی ۔ چلو اٹھ جاؤ اسٹیشن آگیا ہے ٹرین رک گئی تھی ابو سب کو اٹھا رہے تھے ۔

وہ سب اترنے کے لیے کھڑے ہو گئے تھے ۔ وہ اب بینچ پر بیٹھ گئے تھے اور اب انہیں چچا لوگو نے لینے آنا تھا ۔

وہ بھی ان کے ساتھ ہی اسٹیشن پر اترا  تھا ۔ او یہ   بھی ادھر ہی اترا ہے مطلب یہ اسی شہر میں  رہتا ہے وہ سوچ رہی تھی " ایک منٹ یہ ادھر ہی رہتا ہے اس بات سے مجھے اتنی خوشی کیو ہو رہی ہے " وہ اپنی سوچ پر حیران تھی۔

وہ اب بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی جو سامنے کے اسٹال سے پانی کی بوتل  خرید رہا تھے ۔ وہ اچانک سے مڑا تھا او یہ مجھے دیکھ رہی تھی ۔

وہ جلدی جلدی اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگ گئی تھی اس نے دیکھا تو نہیں کہ میں اسے دیکھ رہی تھی  وہ اب ہاتھوں کو مسلتے ہوئے سوچ رہی تھی ۔

ٹرین کی سیٹی کی آواز گونج رہی تھی ٹرین اب دوبارہ چلنے کے لیے تیار تھی سارے مسافر ٹرین پر سوار ہو چکے تھے۔

وہ ادھر کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ۔ وہ کسی کی نگاہوں کی تپش محسوس کر رہی تھی جیسے کوئی اسے بہت غور سے دیکھ رہا ہو ۔ وہ مجھے کیوں دیکھ رہا ہے ۔ وہ اسے دیکھ کر بول رہی تھی ٹرین آہستہ آہستہ چل رہی تھی ۔

وہ بھاگ کر ٹرین میں سوار ہو گیا تھا  وہ ابھی بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔

وہ ٹرین میں سوار کیوں ہوا وہ تو ادھر ہی اترا تھا وہ کیوں جارہا ہے اسے نہیں جانا چاہیے وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی وہ اسے روکنا چاہتی تھی مگر وہ اس سے دور جارہا  تھا بہت دور ۔

اس کی آنکھوں سے آنسوں گال کو چھو کر نیچے گر چکا تھا وہ اس سے کہنا چاہتا تھا کے ہم پھر ملیں گے پھر کسی موڑ پر کسی خاص جگہ کیا تم میرا انتظار کرو گی ؟ وہ اس سے پوچھنا چاہتا تھا مگر اب شاید بہت دیر ہو گئی تھی ۔

کیا ہم دوبارہ کبھی ملیں گے ؟ کیا یہ سفر ادھر ہی ختم ہو گیا؟ کیا لوگ مل کر ایسے ہی بچھڑ جاتے ہیں اس کی آنکھوں میں  آنسوں بھر آئے تھے مگر وہ خود پر ضبط کیے ہوئے تھی ۔ وہ غم سب سے شدید ہوتا ہے جب انسان کی آنکھیں نم ہوں مگر وہ کھل کر رو، نا پائے جب وہ اپنی قیمتی چیز کھو چکا ہو۔  ٹرین اب اسٹیشن کی روشنیوں سے دور  جارہی تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے 

 "تم اتر گئے"

تم اتر گئے کسی انجانی سی راہ پر،

میں سفر میں ہی تمہیں ڈھونڈتا رہا۔

ریل تو اپنی منزل کو چلتی رہی،

میرا دل مگر وہیں رکتا رہا۔

نہ الوداع کہا، نہ پلٹ کر دیکھا،

بس ایک لمحہ تھا... جو گزر گیا۔

کھڑکی سے آخری بار جو چہرہ دیکھا،

وہ بھی دھند میں کہیں بکھر گیا۔

شاید قسمت کو یہی منظور تھا،

ہم ملے بھی تو بچھڑنے کے لیے۔

ایک سفر نے عمر بھر کی یاد دے دی،

اور تم چلے گئے ہمیشہ کے لیے۔

اب جب بھی کسی اسٹیشن پر رکتا ہوں،

ہر چہرے میں تمہیں ڈھونڈ لیتا ہوں۔

لوگ کہتے ہیں وقت سب بدل دیتا ہے،

میں آج بھی وہیں تمہارا انتظار کرتا ہوں

وہ اب اپنی سیٹ کی طرف جا رہا تھا وہ چلتے چلتے رک گیا تھا وہ اس جگہ کھڑا تھا جہاں کچھ دیر پہلے وہ بیٹھی تھی ۔

یہ جگہ اب بھی یہی ہے... بس تم نہیں ہو۔

ہوا اب بھی چل رہی ہے، مگر اس میں تمہاری خوشبو کہیں کھو گئی ہے۔

عجیب بات ہے... لوگ کہتے ہیں سفر ختم ہو گیا، مگر میرا سفر تو تمہارے جانے کے بعد شروع ہواہے میرے دل کا سفر میری محبت کا سفر۔

اس خالی سی جگہ نے آج سکھایا، کبھی کبھی ایک شخص کے چلے جانے سے پوری دنیا خالی محسوس ہونے لگتی ہے۔

وہ اسی جگہ پر بیٹھ گیا تھا ۔

وہ اب اسٹیشن کے بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے چچا لوگ پہنچنے والے تھے وہ شاید ابھی بھی اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔ آپی مہر ٹرین کے سفر کرنے کا تو مزا ہی اور ہے آپ کو اچھا لگا ٹرین کا سفر؟ زوہان اس کے پاس بیٹھا پوچھ رہا تھا ۔ آنسوؤں کا گولا اس کے حلق میں بھر آیا تھا وہ کچھ بول نہیں پائی تھی بس سر ہلا کر جواب دے دیا تھا 

دل نے اک اجنبی کو اپنا کہہ دیا،عقل خاموش رہی، وقت جدا کر گیا۔

وہ ملا بھی تو بس اک سفر کی حد تک،پھر قسمت نے راستوں کو الگ کر دیا۔

انہیں گاؤں میں آئے ہوئے تین دن ہوگئے وہ سب بہن بھائی اور ان کے چچا زاد بہن بھائی کھیتوں میں جارہے تھے ۔

وہ سب کھیت میں گھوم رہے تھے مہر ٹیوب ویل کے پاس بیٹھی تھی ۔ ہر طرف ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی سبز کھیت ہوا کے ساتھ ہل رہے تھے ،ٹیوب ویل کا پانی بہت ٹھنڈا اور شفاف تھا ، وہ سب کھیتوں میں بھاگ رہے تھے پر مہر چپ چاپ بیٹھی تھی ۔

اسے دور کوئی کھڑا دکھائی دیا مجھے ڈھونڈ رہی ہو وہ یہ آواز سن کر بے سود اس کی طرف بھاگی تھی  "مجھے یقین تھا کے تم آؤ گے تم آگیے! " وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بول رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسوں زاروقطار جاری تھے اس نے  اپنی آنکھیں دوپٹے سے صاف کر کے کھولی تو وہاں کوئی نہیں تھا ۔ " تم کہا چلے گئے ؟ کہاں ہو تم ؟ وہ اسے ڈھونڈنے کے لیے ادھر اُدھر بھاگی تھی مگر اسے وہ کہیں نہیں ملا تھا 

کچھ لوگ راستوں میں یوں بچھڑ جاتے ہیں،

جیسے دعا لبوں سے نکل کر بھی قبول نہ ہو۔

ہم عمر بھر انہیں ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں،

اور وہ قسمت کی کتاب میں صرف ایک ادھورا باب بن جاتے ہیں۔

وہ چلا گیا تو یوں لگا،

جیسے دل کی دھڑکن بھی ساتھ لے گیا۔

ہجوم تو اب بھی وہی تھا،

مگر میری دنیا میں ہر طرف سناٹا رہ گیا۔

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play