حصارِ وحشت
رات کی سیاہی میں ڈوبا ہوا شہر…
اور اس سنسان روڈ پر ایک ساتھ چلتی ہوئی کئی قیمتی گاڑیوں کا قافلہ—
ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی سلطنت کا بے رحم بادشاہ اپنے جاہ و جلال کے ساتھ گزر رہا ہو۔
ان گاڑیوں کے درمیان ایک بلیک کار ایسی بھی تھی،
جس کے اندر مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی…
سوائے اس آواز کے—
جو ایک لیپ ٹاپ کی بورڈ پر تیزی سے چلتی انگلیوں سے پیدا ہو رہی تھی۔
وہ شخص…
جس کے چہرے پر نہ کوئی تاثر تھا، نہ کوئی احساس—
صرف سرد مہری۔
اس نے بغیر نظر اٹھائے کہا،
“نوریز…”
“ج… جی بوس…”
“دبئی والی میٹنگ کا کیا ہوا؟”
نوریز کی آواز لڑکھڑا گئی،
“وہ… وہ بوس…”
اس شخص کی انگلیاں رک گئیں۔
فضا جیسے اچانک بھاری ہو گئی۔
“نوریز…”
اس کی آواز دھیمی مگر خطرناک تھی،
“کتنے عرصے سے تم میرے ساتھ کام کر رہے ہو؟
اور ابھی تک میرے سامنے سیدھا بولنا نہیں سیکھے؟”
“معاف کیجیے بوس… آئندہ ایسا نہیں ہوگا…”
“اب بولو۔”
“بوس… دبئی والی میٹنگ اگلے ہفتے رکھی گئی ہے…
ان کا کہنا ہے کہ وہ کچھ وقت اپنی بیگم کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں…”
چند لمحوں کی خاموشی…
پھر اچانک—
ایک یخ، بے رحم آواز فضا میں گونجی:
“مجھے عورتوں سے سخت نفرت ہے۔”
نوریز کا گلا خشک ہو گیا۔
اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے ابھر آئے۔
اسے بخوبی اندازہ تھا—
یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے…
لکھنؤ…
نوابوں کا شہر—
جہاں تہذیب بھی سانس لیتی ہے
اور غرور بھی۔
اسی شہر کے ایک پوش علاقے میں واقع تھی
بٹلر حویلی—
جہاں مرزا خاندان اپنی شان و شوکت کے ساتھ آباد تھا۔
آج حویلی کے اندر غیر معمولی سنجیدگی تھی۔
ڈرائنگ روم میں سب افراد کسی اہم فیصلے کے لیے جمع تھے۔
“کیا نورین کو اعلیٰ تعلیم کے لیے اٹلی بھیجا جائے؟”
یہ سوال فضا میں گونجا ہی تھا کہ—
“نہیں!”
ایک ممتا بھری مگر بے چین آواز ابھری۔
“میں اپنی نور کو خود سے دور نہیں جانے دوں گی!”
نازنین بیگم کی آنکھوں میں واضح خوف تھا۔
“اشعر… خاموش ہو جائیں، نازنین بیگم،”
ایک سنجیدہ اور پُراعتماد آواز آئی۔
“نورین خود باہر جا کر پڑھنا چاہتی ہے…
اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹی بہترین تعلیم حاصل کرے…”
اچانک فضا میں ایک رعب دار خاموشی چھا گئی—
پھر ایک بزرگ کی مضبوط آواز گونجی:
“نورین اٹلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جائے گی۔
یہی ہمارا حتمی فیصلہ ہے۔”
کمرے میں موجود ہر شخص خاموش ہو گیا۔
“امید ہے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔”
“جی بابا…”
اشعر نے سر جھکاتے ہوئے کہا،
“کسی کو کوئی اعتراض نہیں…
جیسا آپ کہیں گے، ویسا ہی ہوگا…”
نازنین بیگم نے خاموشی سے اپنی آنکھیں جھکا لیں۔
ان کے دل میں ایک انجانا خوف پل رہا تھا—
شاید جدائی کا… یا کسی آنے والے طوفان کا…
✿︎ آئیں، اب ان کرداروں کو قریب سے جانتے ہیں… ✿︎
عثمان ظفر مرزا
عمر: 67 سال
لکھنؤ کے جانے مانے نواب…
اور ایک وقت کے بااثر سیاسی شخصیت۔
وہ ایک ایسے انسان تھے
جو اپنے فیصلوں پر قائم رہنا جانتے تھے—
چاہے اس کے لیے انہیں کسی کی خواہش کو نظر انداز ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
وقت نے ان کے بالوں کو سفید ضرور کیا تھا،
مگر ان کی شخصیت کا رعب آج بھی ویسا ہی قائم تھا۔
اشعر مرزا
نورین کے والد—
پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر،
مگر دل کے معاملے میں ایک نرم انسان۔
وہ اپنی بیٹی سے بے حد محبت کرتے تھے،
مگر اپنے والد کے سامنے
ان کی آواز اکثر دب کر رہ جاتی تھی
آئیں، اب اس کہانی کے اہم کرداروں سے مکمل تعارف کرتے ہیں… ✿︎
نازنین اشعر مرزا—
نورین کی ماں۔
ایک نرم دل، محبت کرنے والی عورت،
جس کی دنیا اس کے بچوں کے گرد گھومتی تھی۔
وہ بظاہر ایک مضبوط خاتون تھیں،
مگر دل کے کسی کونے میں اپنی بیٹی سے دوری کا خوف
خاموشی سے پل رہا تھا۔
ان کے دو بچے تھے—
ایک بیٹی… اور ایک بیٹا
اذعان فارس مرزا—
مرزا خاندان کا بڑا بیٹا… اور نورین کا بڑا بھائی۔
عمر: 28 سال۔
گہری سیاہ آنکھیں…
جن میں عجیب سی ٹھنڈک بھی تھی اور خطرہ بھی۔
وہ بظاہر ایک کامیاب بزنس مین تھا،
مگر اس کے اندر چھپے راز
اس کی شخصیت کو مزید پراسرار بنا دیتے تھے۔
وہ اپنی فیملی کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا—
حتیٰ کہ…
جان دے بھی سکتا تھا، اور لے بھی سکتا تھا۔
لڑکیوں سے اسے ایک عجیب سی چڑ تھی،
وہ ان سے دور رہنا ہی بہتر سمجھتا تھا۔
مگر…
اپنی بہن نورین کے لیے
وہ حد سے زیادہ حساس اور محافظ تھا۔
کوئی اس کی بہن کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لے—
تو وہ برداشت نہیں کرتا تھا۔
وہ عام لڑکیوں جیسی نہیں تھی…
اور شاید اسی لیے، اس کی کہانی بھی عام نہیں ہونی تھی۔
نورین مرزا—
نام میں نرمی… مگر شخصیت میں عجیب سی ضد۔
وہ ہنستی تھی تو لگتا تھا جیسے کسی سنسان دل میں روشنی اتر آئی ہو،
اور جب خاموش ہوتی—
تو اس کی آنکھیں بہت کچھ کہہ جاتی تھیں۔
امبر رنگ آنکھیں…
جن میں صرف خواب نہیں،
بلکہ اپنے خواب پورے کرنے کی ہمت بھی تھی۔
وہ بظاہر نازک تھی—
کانچ کی گڑیا جیسی…
مگر حقیقت؟
وہ خود بھی شاید نہیں جانتی تھی
کہ اس کے اندر کتنی مضبوطی چھپی ہوئی ہے۔
وہ اپنی مرضی سے جینا چاہتی تھی،
اپنے فیصلے خود کرنا چاہتی تھی—
اور یہی بات اسے باقی سب سے مختلف بناتی تھی۔
نورین مرزا…
وہ لڑکی نہیں تھی جو حالات کے ساتھ بہہ جائے—
بلکہ…
وہ حالات کا رخ موڑنے والی تھی۔
اور شاید—
کسی ایسے انسان کی زندگی میں داخل ہونے والی تھی
جسے روشنی سے زیادہ
اندھیرا پسند تھا…
وقاص مرزا—
عثمان ظفر مرزا کے بڑے بیٹے۔
ایک سنجیدہ اور کم گو انسان،
جن کی زندگی ایک حادثے کے بعد بدل چکی تھی۔
ان کی بیوی ایک کار حادثے میں وفات پا چکی تھیں—
اور اس حادثے نے ان کے وجود سے مسکراہٹ چھین لی تھی۔
ان کے دو بچے تھے—
جڑواں…
عمر مرزا اور شارین مرزا۔
دونوں ہی نورین سے عمر میں بڑے تھے،
اور اس وقت اپنی تعلیم کے سلسلے میں ترکی میں مقیم تھے۔
گھر کی رونق کہیں نہ کہیں ان کے جانے سے کم ہو گئی تھی،
مگر وقت کے ساتھ سب نے اس خاموشی کو قبول کر لیا تھا۔
✿︎ تعارف کا سلسلہ یہاں ختم ہوتا ہے…
اور اب شروع ہوتی ہے اصل کہانی۔ ✿︎
“نورِ… بیٹا، جا کر اپنا ضروری سامان رکھ لو،
کل تمہاری فلائٹ ہے۔”
اشعر مرزا کی آواز میں نرمی بھی تھی
اور ایک انجانا سا بوجھ بھی۔
نورین نے ایک لمحے کے لیے اپنے بابا کو دیکھا—
پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی،
“جی بابا…”
وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر ہر اس چیز پر پڑی
جو اس کی یادوں سے جڑی ہوئی تھی—
جیسے کچھ ہونے والا ہو…
کچھ ایسا، جو اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔
✿︎ وہی دوسری طرف… اٹلی میں ☾︎❤︎
کار کے اندر فضا غیرمعمولی حد تک سرد تھی…
ایسا لگ رہا تھا جیسے ہوا بھی سانس لینے سے ڈر رہی ہو۔
جہان زیب کی نظریں سامنے جمی ہوئی تھیں، مگر آواز میں وہی خطرناک ٹھہراؤ تھا،
“نوریز… مسٹر بخشی سے کہو، ڈیل آج ہی فائنل ہوگی… ورنہ پھر کبھی نہیں۔”
نوریز کے حلق سے بمشکل سانس گزری۔
وہ دل ہی دل میں بڑبڑایا،
“یہ آدمی نہیں… ڈیول ہے۔ نہ احساس، نہ رحم… پتا نہیں اس کے ساتھ رہتے رہتے میں بھی ایسا نہ بن جاؤں۔ نہیں… مجھے اس سے دور رہنا ہوگا…”
اچانک—
وہی سرد، کاٹتی ہوئی آواز پھر گونجی،
“اگر تمہارا مجھے دل ہی دل میں کوسنا ختم ہو گیا ہو… تو مسٹر بخشی سے کال پر رابطہ کر لو، نوریز۔”
نوریز کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا۔
چہرے کا رنگ اڑ گیا، اور اس نے فوراً نظریں جھکا لیں،
“ن… نہیں بوس! ایسی کوئی بات نہیں ہے…”
جہان زیب خاموش رہا۔
لیکن اس کی خاموشی… کسی طوفان سے کم نہیں تھی۔
نوریز نے بےچینی سے ہونٹ کاٹے،
“یہ آدمی… صرف چہرے نہیں، دل بھی پڑھ لیتا ہے… اس کے قریب رہنا خطرناک ہے…”
کانپتے ہاتھوں سے اس نے فون نکالا،
اسکرین پر انگلیاں ہلکی سی لرزیں…
اور اس نے مسٹر بخشی کا نمبر ڈائل کر دیا۔
کال چند لمحوں بعد اٹھا لی گئی…
کار کے اندر پھر وہی خاموشی چھا گئی—
مگر اس بار… اس خاموشی میں خوف بول رہا تھا۔
السّلام علیکم…
“وعلیکم السّلام…”
دوسری طرف سے بھاری، سنجیدہ آواز آئی۔
نوریز نے لہجہ مضبوط رکھتے ہوئے کہا،
“مسٹر بخشی… دبئی والی ڈیل آج ہی فائنل ہوگی
یہ بوس کا حکم ہے…”
کچھ لمحے خاموشی رہی، پھر مسٹر بخشی نے پوچھا:
“لیکن… کیوں؟ اتنی جلدی؟”
نوریز نے مختصر، سخت لہجہ میں جواب دیا:
“زیادہ سوال مت کریں، مسٹر بخشی۔ Capito? (سمجھ گئے؟)
اگر ڈیل کرنی ہے تو… آج ہی ہوگی۔”
دوسری طرف ایک گہری سانس سنائی دی، جیسے وہ اپنی اندرونی ہچکچاہٹ چھپا رہے ہوں:
“ٹھیک ہے، مسٹر ملک… لیکن ڈیل کینسل نہیں ہونی چاہیے…”
نوریز نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“Non si preoccupi (فکر نہ کریں)… میں آپ کو میٹنگ کا ٹائم بتا دوں گا۔”
اتنا کہہ کر اس نے کال کاٹ دی۔
فون کی لائن پر خاموشی چھا گئی…
نوریز نے دل میں سوچا،
“بوس… وہ مان گئے ہیں…”
جہان زیب خاموشی سے اس کے ساتھ بیٹھا رہا،
نظریں آگے گاڑی کے سڑک پر جمی ہوئی تھیں،
جیسے سب کچھ پہلے سے جانتا ہو۔
کچھ ہی دیر میں ان کی گاڑی ایک شاندار ولا کے سامنے رکی—
یہ تھا “Villa Bellissimo”۔
اوپر سے سیاہ اور سفید تھیم میں ڈوبا ہوا یہ اٹالین ولا،
کسی خواب کی طرح شاندار… مگر اندر سے سرد اور خطرناک محسوس ہوتا تھا۔
سونے کے حروف میں ولا کے دروازے پر لکھا تھا:
“Benvenuti… (خوش آمدید)”
لیکن یہ خوش آمدید… ہر کسی کے لیے نہیں تھا۔
جہان زیب گاڑی سے باہر نکلا۔ اس کا چہرہ سپاٹ اور اورا تھوڑا سنجیدہ سا تھا۔
اس نے اردگرد دیکھا اور پھر اندر داخل ہوا۔
اندر آتے ہی سب ملازمین کھڑے ہو گئے اور اسے سلام کیا۔
تبھی ایک عورت کی آواز آئی:
"آ گئے تم، جہان بیٹا…"
جہان زیب نے سر ہلایا اور بولا:
"السلام علیکم، بڑی امّی…"
خاتون مسکرا کر بولیں:
"وعلیکم السلام بیٹا… کیسے ہو؟ اتنے دنوں بعد آئے ہو تم۔"
جہان زیب نے بےتاثر چہرے
کے ساتھ کہا:
"میں ٹھیک ہوں، بڑی امّی…"
خاتون نے نرمی سے کہا:
"بیٹا، میں نے کھانا لگایا ہے… فریش ہو کر آؤ۔"
جہان زیب نے ماحول پر نظر ڈالی، پھر سر ہلا کر بولا:
"ٹھیک ہے…"
پھر وہ خاموشی سے اندر بڑھ گیا۔
یہ مسز زہراء ارحم شیریاز تھیں، جہان زیب کی بڑی ماما۔
وہ جہان سے بہت محبت کرتی ہیں اور ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔
جہان کی ماں کا کسی بیماری کی وجہ سے انتقال ہوں گیا ۔۔ اور کچھ ریزن یہ بھی تھے ۔۔
جہان کے باپ کا کسی دوسری عورت سے تعلق تھا، جس کی وجہ سے جہان کے ماں اور باپ کے درمیان اکثر جھگڑے اور لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔
آخرکار ایک دن جہان کے باپ نے اپنی وائف کو طلاق دے دیا۔
یہ سب واقعات جہان کے دل میں ایک گہرا زخم چھوڑ گئے۔ وہ اپنی ماں کی موت کا ذمہ دار اپنے باپ اور اس عورت کو سمجھتا ہے۔
اسی وجہ سے جہان زیب عورتوں سے سخت نفرت کرتا ہے اور کسی پر بھروسہ کرنا اس کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔
جہان زیب – ایک نام جس کے ساتھ خوف اور عزت دونوں جڑے ہیں۔
وہ سیرئیس اٹلی کا مافیا ہے، Underworld کا Don، جس کے گہرے راز صرف چند لوگوں کو معلوم ہیں، اور ان میں سب سے خاص ہے نوریز۔
وہ میلان یونیورسٹی کے مالک اور پروفیسر بھی ہیں، لیکن یونیورسٹی میں ان کی اصل طاقت اور اثر کسی کو نہیں معلوم۔
ان کے اندر بہت سے راز چھپے ہیں، جو آگے کی کہانی میں آہستہ آہستہ ظاہر ہوں گے۔
جہان زیب کی ظاہری شکل بھی کسی کہانی کا حصہ لگتی ہے:
گورا رنگ
شارپ اور defined facial features
سبز آنکھیں جو ایک نظر میں سب کچھ پرکھ لیتی ہیں
گلابی لب
پرفیکٹ jawline
ڈارک براؤن بال
dominating اور controlling aura
جب وہ خاموشی سے چلتا ہے، ہر قدم کے ساتھ ایک خاص کشش اور خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
ان کی موجودگی میں ماحول خود بخود سنجیدہ اور suspense سے بھر جاتا ہے۔
جہان زیب… ایک نام، ایک راز، ایک طاقت۔
اور آج، یہ طاقت اور تاثیر اس کے اپنے روم میں بھی محسوس ہو رہی تھی۔
جہان زیب اپنے روم میں داخل ہوا۔
واشروم سے نکل کر سیدھا اپنی وارڈروب کی طرف بڑھا، ایک بلاک لوور اور ٹی شرٹ اٹھائی، پہن کر باہر نکلا۔
وہ کھانے کی میز کی طرف قدم بڑھاتا ہے، جہاں مسز زہراء بڑے روب میں بیٹھی ہیں۔
جہان زیب نے پرسکون انداز میں پوچھا:
"بڑی امّی، صوفیہ کہاں ہے؟"
مسز زہراء نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
"بیٹا، وہ اپنے دوست کے گھر گئی ہے۔
کہا ہے کہ سٹڈی کے معاملے میں کچھ بات کرنی ہیں، شام تک واپس آجائیگی۔"
جہان زیب نے سر ہلایا اور کہا:
"ہمم… ٹھیک ہے۔ لیکن یہ پڑھائی کے بجائے کہاں اور کس پر دھیان دے رہی ہیں؟ بہتر ہوگا، بڑی امّی، آپ تھوڑا سمجھا دیں۔"مسز زہراء نے نرم لہجے میں کہا:
"بیٹا، میں سمجھا دوں گی، آنے دو اسے۔"
جہان زیب نے تھوڑا سنجیدگی کے ساتھ کہا:
"اور ایک اور بات، بڑی امّی… وہ لیٹ نائٹ پارٹی میں نہیں جائیگی۔"
مسز زہراء خاموش رہی، اور جہان زیب اپنا کھانا کھانے لگ گیا۔
کچھ وقت بعد، کھانا ختم کر کے وہ سیدھا اپنے اسٹڈی روم کی طرف چلا گیا۔
اپنے روم میں بیٹھ کر وہ دفتر کے کام میں مصروف ہو گیا، ہر چیز میں مکمل توجہ دے رہا تھا۔
انڈیا، لکھنؤ
انڈیا اور لکھنؤ کے وقت میں صرف ساڑھے تین گھنٹے کا فرق تھا۔
مرزا حویلی میں سب کھانے کی میز پر کسی کے انتظار میں بیٹھے تھے۔
خاموشی چھائی ہوئی تھی، اور ہر چہرہ بے صبری سے دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا۔
تبھی ایک خوبصورت اور دراز قد نوجوان لڑکا اندر آیا، جس کے اطراف ایک سنجیدہ اور سرد فضا چھائی ہوئی تھی۔
وہ کھانے کی میز کی طرف آ کر سلام کرنے لگا:
"السلام علیکم۔"
سب نے ایک ساتھ اس کے سلام کا جواب دیا:
"وعلیکم السلام۔"
تبھی میز پر ایک سخت اور سنجیدہ آواز آئی:
"کھانا شروع کیا جائے۔"
وہ آواز عثمان مرزا کی تھی
سب نے کھانا کھانا شروع کر دیا۔
تبھی اشعر مرزا نے پوچھا:
"اذعان بیٹا، کل تمہاری مسٹر احمد کے ساتھ میٹنگ ہے نا؟"
اذعان نے جواب دیا:
"جی بابا۔"
اشعر مرزا نے کہا:
"کل آپ میٹنگ کے لیے بعد میں جائیں گے، پہلے اپنی بہن کو ائیرپورٹ پر چھوڑ کر آنا۔"
اذعان نے سر ہلایا:
"جیسا آپ کہیں، بابا۔"
اذعان نے نورین سے کہا:
"نورین! مجھے کھانے کے بعد اسٹڈی روم میں ملنا۔"
نورین نے جواب دیا:
"جی بھائی۔"
کچھ ہی دیر میں سب کا کھانا ختم ہو گیا اور سب اپنے اپنے کمروں کی طرف چلے گئے۔
نورین نے اسٹڈی روم کا دروازہ آہستہ سے کھٹکھٹایا۔
کچھ لمحے کے لیے وہ دروازے پر ٹھہری، سانس سنبھالی، اور پھر اندر قدم رکھا۔
اذعان نے اسے ایک نظر دیکھا، آنکھوں میں ایک ہلکی سختی اور طاقت کی جھلک تھی، پھر آہستہ آہستہ بولا:
"آ جاؤ، گڑیا…"
نورین نے تھوڑی دیر رکی، پھر نرم انداز میں کہا:
"جی بھائی…"
اذعان نے قدم بڑھایا، اسے قریب سے دیکھتے ہوئے، اور آہستہ مگر واضح لہجے میں کہا:
"سنو… وہاں پہنچ کر ہر چیز پر دھیان رکھنا۔
جو تمہیں نظر آئے وہ ہمیشہ ویسا نہیں ہوتا جیسا لگتا ہے۔
ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا، اور خود کو محفوظ رکھنا۔"
نورین نے سر ہلایا، تھوڑی شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
"جی بھائی، میں خیال رکھوں گی…"
اذعان نے پھر ہلکا سا سر ہلا کر کہا:
"ہمم… اور اپنی دوست کے ساتھ کوئی فضول شرارت مت کرنا۔
دنیا میں سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا دکھائی دیتا ہے۔ سمجھیں؟"
نورین نے ہنستے ہوئے جواب دیا:
"بھائی! ہم تو معصوم ہیں، شرارت کہاں کرتے ہیں…"
اذعان نے ایک لمحے کے لیے اسے غور سے دیکھا، پھر اپنی آنکھوں میں نرم محبت اور سنجیدگی کے ساتھ کہا:
"ٹھیک ہے… اب آرام کرو۔ صبح فلائٹ ہے۔ اور یاد رکھو، گڑیا… ہر قدم پر ہوشیار رہنا۔"
نورین خاموشی سے سر ہلا کر کمرے سے باہر گئی، لیکن اذعان کی سنجیدہ اور پر اثر نظروں کی گونج اس کے دماغ میں ابھی تک موجود تھی۔
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Updated 6 Episodes
Comments