“سایوں میں چھپا کھیل”

صبح کی نرم سنہری دھوپ میں نہائی ہوئی مرزا حویلی آج کچھ زیادہ ہی پرسکون لگ رہی تھی۔ ناشتے کی میز سمیٹی جا چکی تھی اور صحن میں ہلکی ہلکی ہوا درختوں کے پتوں سے کھیل رہی تھی۔

نورین اپنے بیگ کا اسٹرپ مضبوطی سے تھامے دروازے کے قریب کھڑی تھی، نظریں بار بار گیٹ کی طرف اٹھ جاتیں۔ اس کے چہرے پر بےچینی اور ہلکی سی جھنجھلاہٹ صاف جھلک رہی تھی۔

“اف اللہ… بھائی بھی نا! وقت کی پابندی ایسے کرتے ہیں جیسے کوئی فوجی مشن ہو…”

وہ زیرِلب بڑبڑائی، مگر اگلے ہی لمحے جیسے ہی اس کی نظر اذعان پر پڑی، اس کی بات وہیں رک گئی۔

اذعان اپنی مخصوص سنجیدگی اور وقار کے ساتھ باہر آ رہا تھا—چہرے پر وہی ٹھنڈا تاثر، قدم ناپ تول کر اٹھتے ہوئے، جیسے ہر لمحہ اس کے کنٹرول میں ہو۔انہیں سڑک کے کنارے ایک گاڑی نظر آئی جس کے ساتھ ایک پیاری سی لڑکی کھڑی تھی۔

—ہلکی ہوا میں اس کے بال لہرا رہے تھے اور چہرے پر بےساختہ سی پریشانی کے باوجود ایک عجیب سی معصومیت تھی۔

جیسے ہی اس کی نظر گاڑی میں بیٹھی نورین پر پڑی، اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

“نوووورین!!!”

وہ خوشی سے تقریباً چیختی ہوئی ان کی طرف دوڑی۔

گاڑی رکتے ہی وہ بنا کسی جھجھک کے نورین سے لپٹ گئی، جیسے برسوں بعد ملی ہو۔

“تمہیں اندازہ بھی ہے میں کتنی پریشان تھی؟!” وہ ایک ہی سانس میں بولی جا رہی تھی۔

نورین ہنستے ہوئے اس کے بازو تھام کر ذرا پیچھے ہٹی،

“ارے بس کرو فضا! کیا جان لینے کا ارادہ ہے؟ سانس تو لینے دو!”نورین نے آنکھیں گھمائیں، ““اوہ ہلو! ہم تمہیں لینے ہی تو آئے ہیں، ڈرامہ کوئین!”

اسی دوران اذعان، جو اب تک خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا، گاڑی کے اندر سے ہی ایک گہری نظر ان دونوں پر ڈالے ہوئے تھا—جیسے وہ اس اچانک آنے والی ہلچل کو خاموشی سے پرکھ رہا ہو۔

“ارے نہیں میری جان! ابھی تو ہم نے اٹلی بھی نہیں دیکھا…” فضا نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ نورین کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا، “چلو، اب کافی وقت ہو گیا ہے!”

نورین کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی،

“ہاں چلو… میں تو بہت پُرجوش ہوں، نورِ میری جان!”

دونوں کی ہنسی اور باتوں کے بیچ گاڑی اپنی منزل کی طرف بڑھتی رہی، جیسے وقت بھی ان کے ساتھ دوڑ رہا ہو۔

چند گھنٹوں کے سفر کے بعد آخرکار وہ اٹلی کے ایئرپورٹ پر پہنچ گئے۔ ہر طرف روشنیوں کی چمک، اجنبی چہروں کی بھیڑ اور نئے سفر کی خوشبو فضا میں گھلی ہوئی تھی۔

نورین نے اپنا سامان مضبوطی سے تھاما، مگر اس کے قدم ایک لمحے کو رک گئے۔ اس نے پلٹ کر اذعان کی طرف دیکھا۔

وہی مضبوط، سنجیدہ چہرہ… مگر آج جانے کیوں اس کی خاموشی کچھ زیادہ ہی بھاری لگ رہی تھی۔

نورین کے دل میں ایک انجانا سا خوف ابھرا—

کیا وہ واقعی واپس آ پائے گی…؟ یا یہ الوداع ہمیشہ کے لیے ہے…؟

اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی، جسے وہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔

“خدا حافظ، بھائی…” اس کی آواز ہلکی سی کانپ گئی۔

اذعان نے بس ایک گہری نظر اس پر ڈالی، جیسے بہت کچھ کہنا چاہتا ہو مگر الفاظ ساتھ نہ دے رہے ہوں۔

“اپنا خیال رکھنا، نورین…”

نورین نے بمشکل مسکرا کر سر ہلایا اور مڑ گئی۔

اذعان وہیں کھڑا رہا… تب تک، جب تک نورین کا وجود اس بھیڑ میں گم نہیں ہو گیا۔

اور پھر—

جب جہاز نے اڑان بھری، تو وہ خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھتا رہا… یہاں تک کہ وہ ایک چھوٹے سے نقطے

میں بدل کر نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

اس لمحے، جیسے صرف جہاز ہی نہیں… کچھ اور بھی اس سے دور جا چکا تھا۔

اٹلی — شہر سے دور، پہاڑیوں کے بیچ ایک پُراسرار ولا۔

“ہیل ولا…”

رات اپنے عروج پر تھی… اور اس ولا کے اندر، اندھیرا صرف روشنی کی کمی نہیں تھا—وہ خوف، ظلم اور رازوں سے بھرا ہوا تھا۔

ہال کے بیچوں بیچ، کرسی سے جکڑا ایک اطالوی شخص بری طرح کانپ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر پسینہ، آنکھوں میں خوف… جیسے اسے اپنے انجام کا اندازہ ہو چکا ہو۔

دروازہ آہستہ سے کھلا۔

“ٹک… ٹک… ٹک…”

جہاں زیب کے قدموں کی آواز پورے ہال میں گونج اٹھی۔

وہ بغیر جلدی کے، مکمل سکون کے ساتھ اس شخص کے سامنے آ کر رکا۔

چند لمحے… بس اسے دیکھتا رہا۔

اتنی خاموشی کہ اس شخص کی تیز سانسیں بھی شور لگنے لگیں۔

“دھوکہ…” جہاں زیب نے آہستہ سے لفظ کو کھینچتے ہوئے کہا،

“سب سے بڑی حماقت جانتے ہو کیا ہوتی ہے؟”

وہ اس کے قریب جھکا، نظریں سیدھی اس کی آنکھوں میں گاڑ دیں—

“یہ یقین… کہ تم مجھے بےوقوف بنا سکتے ہو…”

ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آئی، مگر آنکھیں بالکل سرد تھیں،

“اور جو یہ غلطی کرتا ہے… وہ اپنی قیمت خود طے کر لیتا ہے…”

اطالوی شخص نے ہمت کر کے کچھ کہنا چاہا،

“I swear… it wasn’t—”

“چُپ۔”

صرف ایک لفظ… مگر ایسا کہ فضا جم سی گئی۔

نوریز، جو سائے کی طرح پیچھے کھڑا تھا، فوراً سیدھا ہو گیا۔

جہاں زیب نے جیب سے ایک باریک سا دھاتی آلہ نکالا، اسے انگلیوں میں گھماتے ہوئے بولا،

“تمہیں پتہ ہے… مجھے چیخیں کیوں پسند ہیں؟”

وہ جھکا… اس کے بہت قریب،

“کیونکہ یہ سچ بولتی ہیں…”

اگلے ہی لمحے، اس شخص کی چیخ کمرے میں گونج اٹھی—تیز، بےقابو، اور خوف سے بھری ہوئی۔

نوریز نے نظریں جھکائیں، مگر اس کے چہرے پر کوئی حیرت نہیں تھی… جیسے یہ سب وہ کئی بار دیکھ چکا ہو۔

جہاں زیب سیدھا ہوا، اس کی سانس بھی معمول پر تھی—جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

“اب شاید… تمہیں یاد آ جائے گا کہ تم نے غلطی کہاں کی تھی…”

وہ آہستہ آہستہ اس کے گرد چلنے لگا، ہر قدم ناپ تول کر۔

“یہاں…” اس نے فرش پر ہلکا سا ٹھوکر ماری،

“میرے اصول چلتے ہیں۔ اور جو ان اصولوں کو توڑتا ہے—”

وہ رکا… اور نوریز کی طرف دیکھے بغیر بولا،

“—وہ زندہ نہیں رہتا۔”

کمرے میں پھر ایک خاموشی چھا گئی… مگر اس بار وہ خاموشی پہلے سے زیادہ بھاری تھی۔

کچھ لمحوں بعد—

جہان نے اپنی کلائی سیدھی کی، جیسے کوئی معمولی کام ختم کیا ہو۔

جہاں زیب مڑا، اور کھڑکی کے پاس جا کر رک گیا۔ باہر گہرا اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔

اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی—

“کھیل ابھی شروع ہوا ہے…”

اور واقعی… کہیں دور، کوئی انجانا کردار اس کھیل میں قدم رکھ چکا تھا—

مگر ابھی… کسی کو خبر نہیں تھی۔ ✨

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play