خاموش فیصلہ

کلاس روم میں—

ہلکی ہلکی چہل پہل تھی۔ کچھ طلبہ اپنی سیٹیں ڈھونڈ رہے تھے، کچھ پہلے ہی بیٹھ کر آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ نئی جگہ، نئے چہرے… سب کے انداز میں تھوڑی سی جھجک اور تھوڑی سی excitement صاف نظر آ رہی تھی۔

نورین اور فضا بھی آہستہ سے اندر داخل ہوئیں اور درمیانی قطار میں جا کر بیٹھ گئیں۔

فضا نے فوراً اردگرد دیکھنا شروع کر دیا،

“مجھے تو ابھی تک یقین نہیں ہو رہا… ہم واقعی یونیورسٹی میں ہیں!

نورین نے بیگ سے اپنی کاپی نکالتے ہوئے نرمی سے کہا،

“عادت ہو جائے گی… بس چند دن کی بات ہے۔.

اتنے میں دروازہ کھلا—

اور ایک پروفیسر اندر داخل ہوئے۔

قد درمیانہ، چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں تجربے کی جھلک۔

انہوں نے بورڈ پر اپنا نام لکھا:

“Prof. Alessandro Ricci”

“Good morning everyone.” ان کی پُراعتماد آواز کمرے میں گونجی۔

“Good morning, sir…” پوری کلاس نے ایک ساتھ جواب دیا۔

“میں Alessandro Ricci ہوں… اور اس سبجیکٹ کے ساتھ، میں آپ سب سے محنت اور سنجیدگی کی توقع رکھتا ہوں۔

فضا آہستہ سے نورین کے قریب جھکی،

“یہ تو واقعی strict لگ رہے ہیں…”

نورین نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،

“اچھا ہے… کچھ سیکھنے کو ملے گا۔”

کچھ دیر بعد پروفیسر نے کہا،Now, I’d like to know you all. Everyone will introduce themselves.”

فضا نے فوراً آہستہ سے کہا،

“اوہ نہیں

نورین ہلکا سا مسکرا دی۔

ایک ایک کر کے سب اپنا تعارف دینے لگے—

جب فضا کی باری آئی تو وہ confidence سے بولی،

“Sir, I’m Fiza… اور مجھے نئی چیزیں سیکھنا اور لوگوں سے ملنا پسند ہے!”

“Good.” پروفیسر نے سر ہلایا۔

پھر نورین کی باری آئی۔

وہ آہستہ سے کھڑی ہوئی—

سادگی اس کے وجود میں تھی… اور ٹھہراؤ اس کے انداز میں۔

“I’m Noorain…” اس کی آواز نرم مگر واضح تھی،

“…اور میں یہاں صرف پڑھنے نہیں آئی—

بلکہ خود کو بہتر بنانے، سمجھنے… اور سیکھنے آئی ہوں کہ علم صرف کتابوں تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ انسان کو مکمل بناتا ہے…

کلاس میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔

اس کے الفاظ کم تھے… مگر گہرے۔

پروفیسر Ricci نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر ہلکا سا سر ہلایا،

“Interesting… have a seat.”

نورین خاموشی سے بیٹھ گئی۔

فضا نے فوراً سرگوشی کی،

“تم نے تو full impression ڈال دیا…

نورین نے ہلکی سی مسکراہٹ دی،

“میں نے بس سچ کہا ہے…

کلاس آہستہ آہستہ اپنی رفتار میں آ گئی۔

لیکچر شروع ہوا، نوٹس بننے لگے، اور پہلا دن واقعی سنجیدگی سے آگے بڑھنے لگا۔

کچھ دیر بعد—

بیل بجی۔

“Class dismissed.”

فضا نے فوراً لمبا سانس لیا،

“Finally! میں تو تھک گئی!”

نورین نے بیگ بند کرتے ہوئے نرمی سے کہا،

“پہلا دن ہمیشہ تھوڑا heavy ہوتا ہے…”

“چلو اب کیا کریں؟” فضا نے پوچھا۔

نورین کھڑی ہوئی،

“کیمپس دیکھتے ہیں… ابھی تو ہم نے کچھ دیکھا ہی نہیں…

فضا کی آنکھیں چمک اٹھیں،

“یہ ہوئی نا بات!

کلاس سے نکل کر دونوں کیمپس کی طرف بڑھیں۔

ہلکی دھوپ، سبز لان، اور ہر طرف چلتی باتیں—یونیورسٹی اب واقعی زندہ محسوس ہو رہی تھی۔

فضا نے خوشی سے چاروں طرف دیکھتے ہوئے کہا،

“نورِ دیکھو نا… کتنا خوبصورت ہے سب کچھ!”

نورین نے مسکرا کر سر ہلایا،

“ہاں… واقعی سکون ہے یہاں…”

وہ دونوں ابھی آگے بڑھ ہی رہی تھیں کہ اچانک—

ٹکر!

ایک لڑکا جلدی میں ان سے ٹکرا گیا—

اور اس کے ہاتھ میں موجود کافی کا کپ الٹ گیا۔

گرم کافی سیدھی فضا کی قمیض پر جا گری۔

“آہہ!” فضا چونک گئی، فوراً پیچھے ہٹی

“یہ کیا کیا تم نے؟!”

لڑکا خود بھی بری طرح گھبرا گیا“I'm so sorry! میں نے دیکھا نہیں… I swear, it was an accident!

فضا نے اپنی قمیض کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،

“نورِ دیکھو اس نے کیا کیا؟ میرا سارا پہلا دن خراب کر دیا!

نورین نے ایک نظر فضا پر ڈالی، پھر اس لڑکے کی طرف—

اس کی گھبراہٹ صاف نظر آ رہی تھی۔

نورین کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی،

“Relax فضا… accident ہے، جان بوجھ کر نہیں کیا انہوں نے…”

پھر اس نے نرمی سے لڑکے سے کہا،

“آپ ٹھیک ہیں؟”

لڑکا ایک لمحے کو چونکا، پھر جلدی سے بولا،

“جی… میں ٹھیک ہوں، but I’m really sorry… مجھے واقعی اندازہ نہیں تھا…

It's okay نورین نے سکون سے کہا،

بس اگلی بار تھوڑا دھیان رکھیں

فضا نے اب بھی ناراض ہو کر کہا،

“ہاں ہاں… بہت easy ہے کہنا!

لڑکے نے فوراً سنبھلتے ہوئے کہا،

“ایک منٹ… پلیز، مجھے آپ کی مدد کرنے دیں۔ سامنے washroom ہے، آپ وہاں جا کر صاف کر سکتی ہیں… اور اگر آپ کہیں تو میں فوراً آپ کے لیے نیا ٹاپ بھی arrange کروا دیتا ہوں۔ I really mean it, I’m very sorry…

نہیں! فضا نے فوراً کہا،

“اتنی بھی بڑی بات نہیں ہے…”

پھر آہستہ سے نورین کی طرف جھک کر بولی،

“بس تھوڑی سی ہے…

نورین ہلکا سا مسکرا دی۔

“By the way…” لڑکے نے ہلکا سا سنبھلتے ہوئے کہا،

“I’m Ayman…”

نورین نے نرمی سے جواب دیا،

“نورین… اور یہ فضا ہے…”

فضا نے ہلکی سی ناراض مسکراہٹ دی،

“ہاں… وہی جس پر کافی گرائی گئی ہے…”

ایمن ہنسنے سے خود کو روک نہ سکا،

“Again… I’m really sorry…”

نورین نے سکون سے کہا،

“کوئی بات نہیں… اب سب ٹھیک ہے۔.

چند لمحوں بعد—

ایمن وہاں سے چلا گیا، مگر جاتے جاتے ایک بار پلٹ کر دیکھا—

پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔

فضا نے فوراً کہا،

“ویسے… غلطی اس کی تھی، مگر تھا cute…

نورین نے اسے دیکھا،

“تم نہ کبھی serious نہیں ہو سکتی…”

“میں realistic ہوں! فضا نے فوراً جواب دیا۔

نورین ہنس دی—

اور دونوں دوبارہ کیمپس میں آگے بڑھنے لگیں۔.

اسی وقت—شہر کے ایک پُرسکون آفس میں

کمرے میں ہلکی سی خاموشی تھی۔ شیشے کی بڑی کھڑکی سے باہر شہر کی روشنیوں کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔

جہانزیب اپنی کرسی پر بیٹھا فائل دیکھ رہا تھا—چہرہ سنجیدہ، نظریں مرکوز۔

دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔

“Come in.”

نوریز اندر داخل ہوا، ہاتھ میں ایک فائل تھامے۔

“باس…” اس نے آہستہ سے کہا،

“جیسا آپ نے کہا تھا، سب arrange ہو گیا ہے۔

“باس…” اس نے آہستہ سے کہا،

“جیسا آپ نے کہا تھا، سب arrange ہو گیا ہے۔”

وہ آگے بڑھا اور فائل میز پر رکھ دی۔

جہانزیب نے بغیر جلدی کے فائل کھولی۔ اندر موجود کاغذات پر نظر ڈالی—

Joining letter۔

چند لمحوں کے لیے اس کی نظریں وہیں ٹھہری رہیں۔

“تو… آخرکار…” اس نے دھیرے سے کہا۔

نُورائز نے سر جھکاتے ہوئے جواب دیا،

“جی باس، اب آپ officially اس یونیورسٹی کا حصہ ہیں—بطور پروفیسر۔ سب کچھ صاف طریقے سے manage کیا گیا ہے، کسی کو کوئی شک نہیں ہوگا۔”

جہانزیب آہستہ سے کرسی سے اٹھا اور کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔

“کسی کو پتا نہیں چلنا چاہیے کہ میں وہاں کیوں جا رہا ہوں…” اس نے سنجیدگی سے کہا۔

جی باس، سب کچھ راز میں رکھا گیا ہے۔” نُورائز نے فوراً کہا۔

جہانزیب نے کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا—

بس ہلکے سے سر ہلا دیا۔

یونیورسٹی—کیمپس

فضا اور نورین لان کے کنارے آہستہ آہستہ چل رہی تھیں۔

فضا اب بھی اپنی قمیض کو دیکھ رہی تھی،

“سچ بتاؤں نورِ… پہلا دن اور یہ حال! میں تو سوچ رہی تھی سب کچھ perfect ہوگا…

نورین نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،

“ہر چیز perfect ہو جائے تو کہانی boring ہو جاتی ہے…”

فضا نے فوراً اسے دیکھا،

“واہ… آج تو بڑے فلسفے آ رہے ہیں!

نورین ہنس دی،

“چلو، پہلے اسے صاف کر لیتے ہیں… پھر کچھ کھا لیتے ہیں۔”

“ہاں… مجھے بھی بھوک لگ رہی ہے!” فضا فوراً مان گئی۔

کچھ دیر بعد—

دونوں کینٹین میں بیٹھی تھیں۔

کینٹین میں ہلکا سا شور، طلبہ کی ہنسی، اور کھانے کی خوشبو—

ماحول کافی زندہ لگ رہا تھا۔

فضا نے جوس کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا،

“ویسے… وہ لڑکا… ایمن…”

نورین نے اسے دیکھا،

“کیا؟”

“نہیں… بس ایسے ہی…” فضا نے مسکرا کر کہا،

“غلطی اس کی تھی… مگر manner اچھے تھے۔

نورین نے نرمی سے جواب دیا،

“ہاں… غلطی مان لینا ہی کافی ہوتا ہے۔”

اتنے میں—

کینٹین کے دروازے کی طرف اچانک سب کی نظریں اٹھ گئیں۔

چند لڑکیاں آہستہ آہستہ سرگوشی کرنے لگیں،

“وہ آ گئی…

فضا نے فوراً مڑ کر دیکھا،

“کون؟

صوفیہ۔

اعتماد اس کے انداز میں تھا… اور برتری اس کے لہجے میں۔

وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اندر آئی، جیسے ہر نظر کا اس پر ٹھہرنا ایک عام سی بات ہو۔

اس کے ساتھ والی لڑکی کچھ کہہ کر ہنسی، مگر صوفیہ نے بس ہلکی سی نظر اس پر ڈالی—

ایک ایسی نظر، جس میں اپنائیت کم… اور فوقیت زیادہ تھی۔

وہ اپنی جگہ پر بیٹھی، ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر،

“یہاں کی coffee ابھی تک ویسی ہی ہے… average.” اس نے بےدلی سے کہا۔.

ساتھ بیٹھی لڑکی فوراً بولی،

“تمہارے standards ہی بہت high ہیں…”

صوفیہ کے لبوں پر ہلکی سی، مگر معنی خیز مسکراہٹ آئی،

“Obviously.”

فضا نے آہستہ سے نورین کے کان میں کہا،

“یہ تو full attitude ہے…”

نورین نے بس ایک مختصر سی نظر اس طرف ڈالی، پھر سکون سے کہا،

“ہر کسی کا انداز مختلف ہوتا ہے…مگر حقیقت یہ تھی—

صوفیہ صرف الگ نہیں تھی…

وہ خود کو سب سے الگ سمجھتی تھی۔ ✨

کینٹین سے نکل کر دونوں corridor کی طرف بڑھ رہی تھیں۔

فضا اب بھی بولے جا رہی تھی،

“میں کہہ رہی ہوں نورِ… آج کا دن already dramatic ہو چکا ہے—کافی، attitude، سب کچھ!”

نورین نے ہلکی سی مسکراہٹ دی،

“اور دن ابھی ختم نہیں ہوا…”

وہ دونوں سیڑھیوں کی طرف مڑیں ہی تھیں کہ—

اچانک اوپر سے تیز آواز آئی،Side!

فضا نے چونک کر اوپر دیکھا،

اگلے ہی لمحے—

ایک لڑکی تیزی سے سیڑھیاں اترتی ہوئی تقریباً ان سے ٹکرا گئی۔

فضا کا بیلنس بگڑا—

“اوہ!

مگر گرنے سے پہلے ہی کسی نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

چند لمحے کے لیے سب رک سا گیا۔Careful…” ایک پرسکون مگر مضبوط آواز آئی۔

فضا نے حیرت سے اوپر دیکھا—

وہ صوفیہ تھی۔

اس کا ہاتھ ابھی تک فضا کے بازو کو تھامے ہوئے تھا۔

“دیکھ کر نہیں چل سکتیں؟” صوفیہ نے کہا—لہجہ سیدھا، مگر تیز۔

فضا فوراً سیدھی ہوئی،

“Excuse me?! آپ ہی تو—”

نورین نے فوراً فضا کو روکا،

“فضا…

“صوفیہ کی نظر اب نورین پر گئی۔

چند لمحے—

خاموشی۔

“تم لوگ نئے ہو…” اس نے بغیر سوال کے کہا۔

نورین نے سکون سے جواب دیا،

“ہاں…”

صوفیہ نے ایک نظر دونوں پر ڈالی،

“پھر دھیان سے چلو… یہاں ہر کوئی slow نہیں ہوتا…”

اس کے الفاظ سادہ تھے—مگر مطلب واضح۔

فضا کو پھر غصہ آیا،

“Attitude دیکھو اس کا—”

مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی—

صوفیہ نے مڑتے ہوئے کہا،

“اور ہاں…”

وہ رُکی نہیں، بس چلتے ہوئے بولی،

“گرنے سے پہلے سنبھل جانا… بہتر ہوتا ہے…”

اور وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے چلی گئی۔

وہ رُکی نہیں، بس چلتے ہوئے بولی،

“گرنے سے پہلے سنبھل جانا… بہتر ہوتا ہے…”

اور وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے چلی گئی

چند لمحے—

خاموشی۔

پھر فضا پھٹ پڑی،

“یہ لڑکی ہے یا warning sign؟!

نورین ہنس دی،

“تم ٹھیک ہو نا؟”

“ہاں… مگر ego کو تھوڑی سی چوٹ آئی ہے!

نورین نے سیڑھیوں کی طرف دیکھا—

جہاں صوفیہ غائب ہو چکی تھی۔

اس کی آنکھوں میں ہلکی سی سوچ ابھری—

“عجیب ہے…” اس نے آہستہ سے کہا۔..

فضا نے جلدی سے پوچھا،

“کیا ہوا؟”

نورین نے ہلکا سا سر ہلایا،

“کچھ نہیں…”

مگر حقیقت یہ تھی—

یہ ٹکراؤ صرف اتفاق نہیں تھا…

یہ کسی بڑی کہانی کا پہلا قدم تھا۔ ✨

دن کا پہلا حصہ ختم ہوا تو نورین اور فضا یونیورسٹی سے گھر واپس لوٹیں۔

گھر پہنچتے ہی فضا نے ہلکی سی آہ بھری،

“یار نورِ… آج کا دن واقعی تھکا دینے والا تھا!”

نورین نے ہنستے ہوئے کہا،

“ہاں… مگر ایسے دن بھی ضروری ہیں، تاکہ ہم سب کچھ محسوس کر سکیں۔”

کمرے میں داخل ہوتے ہی نورین نے اپنی بیگ unpack کی، اور فضا اپنے جوتے اتارتے ہوئے کہنے لگی،

“بس… میں ابھی صرف بستر پر گرنا چاہتی ہوں!”

نورین نے سر ہلایا اور مسکراتے ہوئے کہا،

“پہلے ہاتھ دھو لو، پھر آرام کرنے کا وقت ہے۔

فضا نے ناک سکوڑی

“ٹھیک ہے… مگر یاد رکھو، اگلے دن کے لیے energy جمع کرنی ہے!”

نورین نے بستر کے پاس کھڑے ہو کر سوچا،

“پہلا دن کیسا بھی رہا ہو، لیکن گھر واپس آ کر سب کچھ معمول کا لگتا ہے۔ بس، کچھ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو دل میں رہ جاتی ہیں…

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play