نئی شروعات

نماز کے بعد کمرہ عجیب سی خاموشی میں ڈوب گیا تھا—وہ خاموشی جو تھکن کو بھی سہلا دیتی ہے اور دل کو بھی۔

فضا بیڈ پر گرتے ہی بولی،

“بس دو منٹ… اور میں گئی…

نورین نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا،

“دو منٹ نہیں… سیدھا صبح ہوگی تمہاری اب…”

اور واقعی، چند لمحوں میں فضا نیند کی آغوش میں جا چکی تھی۔

نورین آہستہ آہستہ اٹھ کر بالکنی کی طرف چلی گئی۔

رات اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ پھیلی ہوئی تھی—

نیچے روشنیوں کا سمندر، اوپر خاموش آسمان… اور درمیان میں وہ۔

پھر ایک لمحے بعد، وہ خود ہی ہلکا سا مسکرا دی—

“چلو… دیکھتے ہیں…”

وہ واپس اندر آئی۔ کمرے میں ہلکی روشنی، فضا کی پرسکون نیند، اور ہر چیز اپنی جگہ پر مکمل۔

نورین نے دروازہ چیک کیا، پردہ درست کیا… پھر ایک نظر پورے کمرے پر ڈالی۔

جیسے یقین کر رہی ہو—

سب کچھ ٹھیک ہے۔

وہ آہستہ سے بیڈ پر لیٹ گئی۔

آنکھیں بند کیں—

مگر نیند فوراً نہیں آئی۔

اس کے چہرے پر سکون تھا…

لیکن اس سکون کے پیچھے ایک خاموش سا شعور جاگ رہا تھا—

وہ صرف آئی نہیں تھی…

وہ تیار ہو کر آئی تھی… ✨

اگلی صبح — فجر کا وقت

کمرے میں ہلکی سی نیلاہٹ پھیل رہی تھی۔ باہر آسمان پر صبح کی پہلی روشنی ابھر رہی تھی، اور فضا میں ایک پُرسکون سی خاموشی تھی۔

نورین کی آنکھ خودبخود کھل گئی۔ اس نے گھڑی کی طرف دیکھا، پھر آہستہ سے اٹھ کر وضو کے لیے چلی گئی۔

چند لمحوں بعد جب وہ واپس آئی تو اس کی نظر سیدھی فضا پر پڑی—جو ہمیشہ کی طرح گہری نیند میں تھی، چادر میں سمٹی ہوئی۔

نورین اس کے قریب آئی اور نرم آواز میں پکارا،

“فضا… اٹھو، فجر کا وقت ہو گیا ہے…”

فضا نے ہلکی سی جنبش کی، مگر آنکھیں نہ کھولیں،

“پلیز… تھوڑی دیر اور…

نورین نے ہلکا سا سر ہلایا،

“تھوڑی دیر… یہی تو مسئلہ ہے تمہارا…”

اس نے اس بار ذرا مضبوطی سے اسے ہلایا،

“فضا، سنجیدہ ہو جاؤ۔ وقت نکل جائے گا…”

فضا نے آدھی آنکھ کھولی،

“تم پڑھ لو نا… میں بعد میں پڑھ لوں گی…”

نورین کا لہجہ اب نرم مگر مضبوط تھا،

“نہیں۔ کچھ چیزیں ‘بعد میں’ کے لیے نہیں ہوتیں…”

کوئی خاص اثر نہ ہوا تو نورین تھوڑی پیچھے ہٹی، پھر میز سے پانی کا جگ اٹھا لیا۔..

“آخری بار کہہ رہی ہوں…” اس نے سنجیدگی سے کہا،

“اگر تم نے ابھی آنکھیں نہ کھولیں، تو یہ پانی تمہارے اوپر ہوگا… اور اس بار میں مذاق نہیں کر رہی۔”

فضا کی آنکھیں فوراً کھل گئیں،

“اوکے اوکے! اٹھ گئی میں!

وہ جلدی سے بیٹھ گئی، بال بکھرے ہوئے اور چہرے پر نیند کا اثر۔

نورین کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی،

“گڈ۔ اب جاؤ، وضو کرو… میں انتظار کر رہی ہوں۔”

فضا اٹھتے ہوئے بڑبڑائی،

“صبح صبح تم سے زیادہ خطرناک کوئی نہیں…

نورین نے سکون سے جواب دیا،

“اور تم سے زیادہ سستی بھی کوئی نہیں…”

چند ہی لمحوں بعد دونوں جائے نماز پر کھڑی تھیں۔

باہر سورج کی پہلی کرنیں ابھر رہی تھیں…

اور اندر، ایک نیا دن خاموشی سے شروع ہو رہا تھا۔

نماز کے بعد کمرے میں ایک ہلکی سی تازگی پھیل گئی تھی۔نورین نے جائے نماز تہہ کی، پھر الماری کھول کر کپڑے نکالنے لگی۔ اس نے آج کے لیے ایک سادہ مگر خوبصورت لباس منتخب کیا—ہلکا آسمانی رنگ، جس پر سفید باریک ڈیزائن تھا۔

جب وہ تیار ہو کر باہر آئی تو فضا واقعی ایک لمحے کو اسے دیکھتی رہ گئی۔

نورین کے بال نرم انداز میں کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے، چہرے پر ہلکی سی تازگی… کوئی میک اپ نہیں، مگر پھر بھی ایک قدرتی خوبصورتی جو نظر کو روک لے۔

آنکھوں میں سادگی… اور چہرے پر ایک پرسکون سی سنجیدگی۔

“ماشاءاللّٰہ…” فضا کے منہ سے بےاختیار نکلا،

“تم تو آج بہت ہی پیاری لگ رہی ہو!”

نورین نے ہلکا سا مسکرا کر کہا،

“بس ٹھیک ہی ہوں…

نورین نے بیگ اٹھاتے ہوئے کہا،

“آج یونیورسٹی کا پہلا دن ہے، لیٹ نہیں ہونا۔ تم تیار ہو جاؤ، میں ناشتہ بناتی ہوں۔”

“جی ٹھیک ہے!” فضا نے سر ہلایا اور جلدی سے تیار ہونے چلی گئی۔

اگلے ہی لمحے فضا تیزی سے باہر آئی—

مکمل تیار، بال سلیقے سے سیٹ، چہرے پر اعتماد۔

“کیسی لگ رہی ہوں؟” اس نے ہلکے سے گھوم کر پوچھا۔

نورین نے ایک نظر دیکھا، پھر مسکرا کر بولی،

“اب لگ رہا ہے واقعی یونیورسٹی جا رہی ہو… ورنہ تو نیند میں ہی لگ رہی تھی!”

“Very funny…” فضا نے آنکھیں گھمائیں، اور دونوں ہنس پڑیں۔

دونوں نے جلدی جلدی ناشتہ کیا، بیگز اٹھائے اور دروازہ لاک کر کے باہر نکل آئیں۔

باہر صبح کی نرم دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ ہلکی ہوا، سڑکوں پر چلتی گاڑیاں… ایک نیا دن۔

ٹیکسی میں بیٹھتے ہوئے فضا نے مسکراتے ہوئے کہا،

“مجھے تو بہت excitement ہو رہی ہے!”

نورین نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا،

“ہاں… نیا دن ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔”

اس کے لہجے میں سکون تھا… نہ کوئی بناوٹ، نہ کوئی دکھاوا۔

چند دیر بعد ٹیکسی یونیورسٹی کے بڑے گیٹ کے سامنے رُکی۔

دونوں نیچے اتریں۔

فضا نے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا،

“واو… کتنی بڑی ہے!”

نورین نے بھی ایک نظر پورے کیمپس پر ڈالی—

اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، جیسے وہ اس نئے سفر کو دل سے قبول کر رہی ہو۔

“چلو؟” فضا نے پوچھا۔

نورین نے نرمی سے سر ہلایا،

“چلو…

اور یوں…

ایک سادہ، خوبصورت شروعات نے ان کی زندگی میں ایک نیا باب کھول دیا۔

یونیورسٹی کے اندر قدم رکھتے ہی فضا تو ہر چیز کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔

“یہ جگہ تو واقعی بہت خوبصورت ہے…” اس نے دھیرے سے کہا۔

نورین نے بھی ایک نظر اردگرد ڈالی—سبز لان، بلند عمارتیں، اور سکون کے ساتھ چلتے لوگ… سب کچھ منظم اور خوبصورت۔

وہ دونوں ابھی آگے بڑھی ہی تھیں کہ اچانک سامنے ایک بڑا نوٹس بورڈ نظر آیا، جس کے گرد کافی رش تھا۔

“چلو دیکھتے ہیں…” فضا نے فوراً کہا اور نورین کا ہاتھ پکڑ کر اسے بھی ساتھ لے گئی۔

دونوں مشکل سے رش میں جگہ بنا کر آگے پہنچیں۔

بورڈ پر کلاسز، سیکشنز اور طلبہ کے ناموں کی لسٹ لگی ہوئی تھی۔

فضا فوراً اپنے نام کی تلاش میں لگ گئی،

“کہاں ہے… کہاں ہے…”

“آرام سے دیکھو…” نورین نے نرمی سے کہا۔

چند لمحوں بعد—

“مل گیا!” فضا تقریباً خوشی سے چیخی،

“یہ دیکھو… میرا نام!”

پھر فوراً نورین کا نام ڈھونڈنے لگی،

“اور تم… تم کہاں ہو—”

نورین نے خود آگے بڑھ کر لسٹ پر نظر ڈالی۔

چند سیکنڈ…

پھر اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی،

“یہ رہا…

فضا نے فوراً دیکھا،

“اوہ… same class! yes!

اسی دوران پیچھے سے کسی نے ہلکا سا کہا،

“Excuse me… تھوڑا side مل سکتا ہے؟”

فضا فوراً ہٹی،

“اوہ sorry!”

کچھ اور لڑکیاں بھی لسٹ دیکھنے لگیں، ماحول میں ہلکی سی چہل پہل تھی۔

“چلو اب کلاس ڈھونڈتے ہیں…” فضا نے کہا۔

دونوں بورڈ سے ہٹ کر آگے بڑھیں۔

راستے میں لان کے کنارے سے گزرتے ہوئے نورین ایک لمحے کو رُکی—

ہلکی ہوا چلی، اس کے بالوں کو چھوتی ہوئی۔

اس نے ایک نظر پورے کیمپس پر ڈالی—

چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی…

سکون… اور ایک نئی شروعات کا احساس۔

“چلو نا!” فضا نے اسے کھینچا،

“پہلے دن ہی late نہیں ہونا مجھے!”

نورین نے ہلکا سا سر ہلایا،

“آ رہی ہوں…”

اور دونوں تیز قدموں سے کلاس کی طرف بڑھ گئیں—

جہاں… ان کی نئی زندگی کے پہلے سبق ان کا انتظار کر رہے تھے۔ ✨

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play